14

کشمیری کھڑے رہیں گے- یوسف سراج

آزادی کشمیریوں کا حق ہے ، دنیا کی کوئی طاقت یہ حق ان سے چھین نہیں سکتی۔آزادی کی مشعل پر نسلوں کا خون پروانہ وار انھوں نے نچوڑا ہے ، بالآخر آزادی انھیں مل کے رہے گی۔ گو راہ کٹھن اور رات تاریک تر ہو چکی ، آزادی کا سویرا طلوع ہونا بھی مگر اتنا ہی یقینی۔ ہر چیز کی طرح آزادی کی بھی ایک قیمت ہے، بڑی بھاری قیمت۔ کشمیری یہ قیمت بخوبی ادا کر چکے ، ادا کر بھی چکے، پیہم ادا کر بھی رہے ہیں اور حریت کی خاطر بازارِ آزادی میں کھڑے وہ ہر قیمت چکانے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں۔ بزدل آدمی کی سٹی گم ہو جائے ، خدا کی پناہ ایسی دلاور قوم ، ایسی فولادی خواتین، چناروں کے پالے ایسے آہنی بوڑھے، فولاد کے ڈھالے ایسے چٹانی جوان، ایسے نڈر بچے! حیرت سے آدمی سوچتا ہے، کیا چیز ہے آزادی اور کیا لوگ ہیں یہ آزادی کے طلبگار! چار ہفتوں سے زائد کرفیو سہتے یہ لوگ، نوے لاکھ لوگوں کو جس نے وقت کے کربلا میں لا پھینکا ہے، کرفیو کہ جس نے ان کا نوالہ چھین لیا ، پیاروں سے رابطہ چھین لیا، سانس لینے کا ہر ضابطہ اور جینے کا ہر لازمہ چھین لیا ،زندگی کا ہر گزارہ اور مادیت کا ہر سہارا چھین لیا ، لیکن اگر وہ نہیں چھین سکا، تو کشمیری قوم کے لبوں سے آزادی کا نعرہ نہیں چھین سکا! کیسے بے حمیت اور بزدل دور میں کس بہادری سے محاذ پر ڈٹ کے کھڑی ہے یہ کشمیری قوم۔ بخدا کشمیری اس عہد کا استثنا ہیں، کشمیری ظلمتِ شب کا ٹمٹماتا نادر چراغ ہیں۔ انھی سے آج حریت کی راہیں روشن ہیں ، انھی سے آج بہادری کو معانی ملتے ہیں، انھی سے آج عزم کی رگوں میں لہو دوڑتاہے۔ یا خدا! عالمی ضمیر نے جب آنکھوں پر پٹی باندھ لی اور چھپن سے زائد اسلامی ملکوں نے جب ہاتھوں میں بے حمیتی کی چوڑیاں پہن لیں اور تن پر کمینے مفاد کی بزدلانہ عبائیں اوڑھ لیں، ایسے کڑے دور میں بھی یہ قوم یوں تن کے کھڑی ہے، جیسے وقت کے بدر و احد کی آبرو انھی کے کندھوں پر آن پڑی ہو۔ ایٹمی طاقت ہونا کسے کہتے ہیں؟ ان دنوں یہ مجھے معلوم نہیں، ایٹمی قوم مگر کسے کہتے ہیں، اس کا میں بتا سکتا ہوں، کہ میں کشمیری قوم کی ہر ادا کو بخوبی پہچانتا اور ان کے عزم کی اہمیت کو جانتا ہوں۔
خوفزدہ، طاقت زدہ اور بد نہاد انڈیا اگر یہ سمجھتا ہے کہ ایسی قوم کو وہ غلامی کی دلدل میں تا دیر دھکیلے رکھ سکتا ہے تو یہ اس کی بھول ہے۔ خوف اور لالچ دو چیزیں انسانوں کو غلامی پر قانع کرتی ہیں، یہ دونوں چیزیں اسلامی دنیا کو بانٹ کے کشمیری کب کے دامن سے یہ دھبے دھو چکے۔ خوف اب کسی ایٹمی قوت کو ہو گا، اور معاشی لالچ اب عربوں کو عزیز ہو گا، بے خوف کشمیری تو اک ایسے لاوے میں ڈھل چکے، پتھر چیر کے جو اپنا راستہ خود بناتا ہے اور اپنی راہ میں آنے والی ہر چیز کو جلا کر راکھ کر ڈالتا ہے۔ دنیا بیٹھ جائے، کشمیری کھڑے رہیں گے، یہ آج سے نہیں کھڑے ، کشمیریوں نے اپنی شناخت پر ایسا اصرار کیا ، جیسا کم ہی قومیں کر پاتی ہیں۔ چودھویں صدی میں سید بلبل شاہ نامی عرب مسافر کے ذریعے یہاں اسلام آیا ، ہندو راجہ رام چند مسلمان ہوا، صدرالدین اس نے اپنا اسلامی نام رکھا، سری نگر میں مسجد تعمیر کی۔ اور تب سے اہلِ کشمیر نے اپنی زندگی مدینے والے کی چوکھٹ پر جھکا دی۔ یہاں ایرانی تہذیب نے اپنا اثر ڈالا۔ پندرھویں صدی میں یہاں زین العابدین کا دور دورہ ہوا، اس کے عدل نے کشمیریوں کے دل جیتے، وہ بڈ شاہ یعنی بڑا بادشاہ کہلایا، سولہویں صدی میں کشمیر مغل بادشاہ جلال الدین اکبر کے زیر نگیں آگیا۔ 1753میں کشمیر پر افغان برسرِ اقتدار آئے۔ 1819 میں مہاراجہ پنجاب رنجیت سنگھ کے لشکر نے راجوری کے رستے سے جا کر کشمیر قبضے میں کر لیا۔ یہیں سے کشمیریوں پر عذاب کا دہانہ کھلا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اپنے دو ڈوگرہ درباری گلاب سنگھ اور دھیان سنگھ کو کشمیریوں پر مسلط کر دیا، انھوں نے کشمیریوں پر زندگی کا دائرہ تنگ کر دیا۔ تفصیل جسکی اذیتناک ہے۔ اسی دورِ ستم کی تاب نہ لاتے ہوئے بہت سے کشمیری پنجاب کے دوسرے شہروں میں ہجرت کر آئے۔ سکھ اقتدار کے زوال کے بعد 1846ء میں پنجاب انگریز کے تسلط میں آ گیا، کشمیر کے مہاراجہ گلاب سنگھ نے سکھ قوم سے بے وفائی کر کے انگریز کا ساتھ دیا، چنانچہ انگریز نے ’معاہدہ امرتسر‘ کے نام سے پچھتر لاکھ میں کشمیر گلاب سنگھ کے ہاتھوں بیچ ڈالا، اس معاہدے کے تحت ہر کشمیری اپنی جان و مال اور جائداد سمیت کوئی ساڑھے تین روپے میں بکا۔ اس کا قلق اقبال کو بہت ہوا، قومے فروختند و چہ ارزاں فروختند۔ 1947ء میں کشمیر پر آزادی کی راہ کھلی تو مہاراجہ ہری سنگھ نے ان شرائط پر انڈیا کے ساتھ الحاق کر لیا، جو آج انڈیا نے ہوا میں اڑا ڈالی ہیں۔ 1948ء میں قبائلیوں نے کشمیر پر یلغار کی تو جواہر لال نہرو اقوامِ متحدہ دوڑ گئے، جنگ بندی ہوئی، طے پایا کشمیریوں سے پوچھ کے ان کی قسمت کا فیصلہ کیا جائے گا۔ کشمیریوں سے کیا مودی کو آج اپنی کانگرس سے پوچھنا بھی گوارہ نہیں۔
صورتحال یہ ہے کہ ہٹلر کے اس پیروکار اور اوتار پر دنیا اعزاز لٹا رہی ہے، کشمیر پر مودی کی تازہ یلغار سے خوش ہو کر یو اے ای نے مودی کو امارات کا سب سے بڑا سول اعزاز دے ڈالا ہے۔ پہلے سے ہی طے ہوگا، دینے کی ٹائمنگ مگر بے حمیتی کے سو اکچھ نہیں۔ کچھ دوسرے عرب یہ ’کارِ خیر‘ پہلے ہی سرانجام دے چکے۔ یہ وہی لوگ ہیں ، سود اور مفاد کو دفن کر کے جہاں سے رسولِ عربیؐ نے اخوت اور انسانیت کا جھنڈا بلند کیا تھا، جہاں سودی معیشت کو نابود کر کے رسول ِ امتؐ نے حمیت کا علم بلند کیا تھا۔ جہاں شعبِ ابی طالب میں بھوک سہہ کے اپنے موقف کا پالن کیا تھا۔ یہ البتہ پرانی باتیں ہیں، دنیا اب موقف اور نظریے کی دنیا نہیں ، یہ اب درہم و دینار کی دنیا ہے۔ اس سارے سیناریو میں کشمیری مگر ڈٹ کے کھڑے ہیں،ان کی آواز ، ان کے قدم اور ان کے عزم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ان کے ولولے نے ہر مجبوری ، ہر معذوری اور ہر خوف کو پاش پاش کر ڈالا ہے، ان بے نواؤں کی ہیبت کا عالم یہ ہے ایک قانون بدلنے کی خاطر مودی کو پورے کشمیر پر کرفیو لگانا پڑتا ہے، نہتوں کی ایسی ہیبت کہ بہادر کے بچے کو ابھی تک کرفیو اٹھانے کی جرات نہیں ہو رہی۔ تو ایسی تاریکی میں اگر چراغ کی طرح کچھ جگمگا رہا ہے تو وہ کشمیریوں کا اپنا عزم ہے۔ 1819سے 2019 آگیا۔کشمیری موجود ہیں ، ان کا موقف موجودہے ، ان کی جدوجہد موجود ہے۔ کشمیریوں کا کیا ہے، کشمیری اپنے موقف کے ساتھ کھڑے ہیں، ایک صدی سے کھڑے وہ مزید بھی کھڑے رہ لیں گے۔ اب کے یہ آزمائش مگر دنیا کے ضمیر اور اسلامی دنیا کے خمیر پر اتری ہے اور دراصل کشمیریوں نے دنیا ننگی کر کے رکھ دی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں