54

وفاق ہاے مدارس سے حكومت کے تازہ مطالبے ٹکڑاؤ کے بجائے مفاہمت اور آئینی پیش قدمی

وفاق ہاے مدارس سے حكومت کے تازہ مطالبے ٹکڑاؤ کے بجائے مفاہمت اور آئینی پیش قدمی
ڈاکٹر حافظ حسن مدنی (مدیر التعلیم جامعہ لاہور الاسلامیہ)
چند ماہ سے مدارسِ دینیہ اور ان کی اَسناد ورجسٹریشن کے بارے میں کئی خبریں گردش میں ہیں۔ اتحاد تنظیماتِ مدارس دینیہ کے نمائندہ وفد کی یکم اپریل 2019ء کو آرمی چیف پاکستان اور 2؍ اپریل کو وزیر اعظم پاکستان سے ملاقاتوں سے یہ سلسلہ شروع ہوا۔ پھر وفاقی وزارتِ تعلیم اور وفاق ہائے مدارس کے مابین 6 ؍مئی 2019ء کو ایک اہم میٹنگ ہوئی جس کی رپورٹ قومی اخبارات میں یوں چھپی:
’’حکومت اور دینی مدارس کے درمیان مدارس کی رجسٹریشن،رجسٹریشن کے لیے مراکز کے قیام اور مدارس کے اعدادو شمار تک رسائی سمیت متعدد اُمور پر اتفاقِ رائے ہو گیا ہے ۔
وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود کی زیر صدارت دینی مدارس کے حوالے سے ایک اہم اجلاس وزارت کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا ۔ جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں اتحاد تنظیماتِ مدارس پاکستان کے سربراہان اور دیگر ذمہ داران نے شرکت کی ۔اجلاس کی کاروائی خوش اُسلوبی کے ساتھ اور خوش گوار ماحول میں مکمل ہوئی۔ تفصیلی گفت و شنید کے بعد اتفاقِ رائے سے فیصلہ کیا گیا کہ
(1) آئندہ تمام دینی مدارس و جامعات، اتحادِ تنظیماتِ مدارس پاکستان کے ساتھ طے شدہ رجسٹریشن فارم کے مطابق وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے ساتھ رجسٹریشن کرانے کے پابند ہوں گے۔
(2) اس مقصد کے لئے وفاقی وزارتِ تعلیم وپیشہ ورانہ تربیت پورے ملک میں10؍ریجنل دفاتر رجسٹریشن کے لئے قائم کرے گی۔
(3) وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت مدارس و جامعات کے اعداد و شمار اکٹھے کرنے کی واحدمجاز اتھارٹی ہو گی۔
(4) وہ مدارس و جامعات جو وفاقی وزارتِ تعلیم وپیشہ ورانہ تربیت کے ساتھ رجسٹرڈ نہ ہوں گے، وفاتی حکومت اُنہیں بند کرنے کی مجاز ہو گی۔
(5) جو مدارس و جامعات رجسٹریشن کے قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کریں گے ، اُن کی رجسٹریشن منسوخ کر دی جائے گی۔
(6) تمام مدارس و جامعات جو وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے ساتھ رجسٹرڈ ہوں گے، اُنہیں شیڈول بینکوں میں اکاؤنٹ کھولنے کے لئے وفاقی وزارتِ تعلیم معاونت کرے گی۔
(7) اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے ساتھ رجسٹرڈ مدارس وجامعات غیر ملکی طلبہ کو تعلیم کی سہولت مہیا کر سکیں گے ۔ اس سلسلے میں وزاتِ تعلیم کی سفارش پر ان طلبہ کو اُن کی مدتِ تعلیم (جو زیادہ سے زیادہ 9 سال ہوگی) اور حکومتی قواعد وضوابط کے مطابق ان کے لئے ویزا کے اجرا میں معاونت کرے گی۔
(8) ٹیکنیکل اور ووکیشنل تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے لئے وزارت کے ساتھ رجسٹرڈ مدارس وجامعات میٹرک اور ایف اے کے بعد فنی تعلیمی بورڈ کے ساتھ الحاق کر سکیں گے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود، نائب صدر’وفاق المدارس العربیہ، پاکستان‘ مُفتی محمد رفیع عثمانی ،صدر ’تنظیم المدارس اہل سُنّت، پاکستان‘ مفتی مُنیب الرحمٰن،ناظمِ اعلی ’وفاق المدارسُ العربیہ، پاکستان‘ مولانا محمد حنیف جالندھری ،جنرل سیکرٹری ’وفاق المدارس السّلفیہ، پاکستان ‘مولانا محمد یٰسین ظفر ،نائب صدر’ وفاق المدارس الشیعہ، پاکستان‘ سیّد قاضی نیاز حسن نقوی، جنرل سیکرٹری، رابطۃ المدارس الاسلامیہ،پاکستان‘ ڈاکٹر عطاء الرحمٰن ،جنرل سیکریٹری’وفاق المدارس الشیعہ ، پاکستان‘ مولانا محمد افضل حیدری اور وزارت کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔‘‘ (روزنامہ نوائے وقت : 7 ؍ مئی 2019ء)
چند روز قبل اسی فیصلہ کی بازگشت دوبارہ یوں سنی گئی:
’’وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود (پاکستان تحریک ِانصاف کے وفاقی وزیر تعلیم جناب شفقت محمود کے دینی ومذہبی رجحانات جاننے کے لئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر شدہ مقدمہ ختم نبوت 3862؍ 2017ء كا فیصلہ ملاحظہ کریں ۔جس مقدمہ میں اسلام آباد میں مشہور دھرنا کیس کے دوران قادیانیت کے بارے میں ناروا آئینی ترمیم کی تحقیق کے لئے سینیٹر راجہ ظفر الحق کی قيادت میں قائم کمیٹی کا فیصلہ ، نکتہ نمبر 74 کے تحت یوں درج کیا گیا ہے: ’’راجہ ظفر الحق رپورٹ کا نکتہ ح:24؍مئی 2017ء کو منعقدہ اپنے 19ویں اجلاس میں ذیلی کمیٹی نے الیکشن بل کے مسودہ پر غور کیا۔ فارم نمبر XXIII، XXVIIاور XXVIICجنھیں ممبر قومی اسمبلی انوشہ رحمٰن اور شفقت محمود نے دوبارہ سے مسودہ تیار کیا تھااور یہ فیصلہ کیا تھا کہ سب کمیٹی کے اگلے اجلاس میں سٹیٹ منسٹر انوشہ رحمٰن فارمز کا ازسرنو جائزہ اور دوبارہ سے اس کا مسودہ تیارکر سکتی ہیں ۔‘‘ … اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلہ کا یہ حصہ قادیانیت نواز ترمیم کے اصل کرداروں سے پردہ اُٹھاتا ہے كہ جس آئینی فرض کو نبھانے میں ناکامی پر وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے استعفیٰ دیا تھا اور بعد میں پارلیمنٹ کو اسے واپس لینا پڑا، اس قادیانیت نواز ترمیم کی ڈرافٹنگ ن لیگ کی انوشہ رحمٰن کے ساتھ ، پی ٹی آئی کے شفقت محمود نے بھی کی تھی۔ یہ موقف سینیٹر راجہ ظفرالحق کی تحقیقی رپورٹ میں پیش کیا گیا ہے اور اسے ہی اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحقیق کے بعد اپنے فیصلہ میں درج کیا ہے۔) نے کہا ہے کہ مدارس کی رجسٹریشن کے لیے ملک بھر میں 12؍ مراکز کھولے جائیں گے اور مدارس کے مسائل کا حل وزارتِ تعلیم مقامی انتظامیہ سے مل کر نکالے گی۔ اُنہوں نے بتایا کہ حکومت تعلیمی اصلاحات لا رہی ہے ۔ ’ایک قوم ایک تعلیم ‘ہمارا ہدف ہے۔ مدارس کی رجسٹریشن کا فیصلہ مستحسن ہے جس کے تحت نہ صرف مدارس کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جا سکے گی بلکہ اس سے یکساں تعلیمی نصاب رائج کرنے میں بھی آسانی ہو گی۔‘‘ (روزنامہ نوائے وقت : 27 ؍ جولائی 2019ء)
مذاکرات کے دوسرے دور میں 16 ؍ جولائی کو آرمی چیف سے ملاقات، پھر17 جولائی 2019ء کو ہونے والی اسی نوعیت کی ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں انہی سابقہ فیصلوں کی توثیق کی گئی اور اس میں طلبہ مدارس کی میٹرک اور ایف کی اسناد کے لئے وفاق ہاے مدارس کو یہ ہدایت کی گئی کہ ان کے جملہ امتحانات وفاقی ثانوی تعلیم بورڈ (فیڈرل بورڈآف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشنFBISE) کے تحت منعقد کروائے جائیں گے۔ اس کے لئے اساتذہ اور ممتحن حضرات کی خصوصی تربیت کی جائے گی ۔ تاہم وفاقاتِ مدارس کے اتفاق نہ کرنے پر، حکومت کی طرف سے ان امتحانات کو صرف اُن پرچوں تک محدود کرنے کا مطالبہ کیا گیا، جو حکومت کی طرف بطورِ لازمی مضمون پڑھائے جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں وفاق ہاے مدارس کو تلقین کی گئی کہ وہ اپنی مجلس شوریٰ اور عاملہ سے آخری نکتہ کے بارے میں منظور ی حاصل کریں۔ مدارس دینیہ سے حکومت کے مذاکرات کا تیسرا دور 19؍اگست 2019ء کی میٹنگ سے شروع ہوگا، جس میں ان نکات پر مدارس اپنا موقف پیش کریں گے۔
حكومت كے ان مطالبات کی روشنی میں دیگر وفاق ہائے مدارس کی طرح وفاق المدارس السّلفیہ نے اپنے سے ملحق مدارس کا ملک گیر اجلاس 28؍ جولائی 2019ء کو مرکزی جمعیت اہل حدیث کے دفتر 106؍ راوی روڈ ، لاہور میں طلب کیا۔ جس میں ہزار کے قریب مدارس کے مہتمم اور ذمہ داران نے شرکت کی۔ وفاق المدارس السّلفیہ کے صدر پروفیسر ساجد میر، ناظم اعلیٰ مولانا یاسین ظفر، اور وفاق کی مجلس عاملہ وشوریٰ کے ساتھ ناظمین مدارس کا بھرپور اجلاس ہوا۔ جس میں ’’وفاقی تعلیمی بورڈ سے الحاق اور عصری مضامین میٹرک ، ایف اے کے امتحانات اور طریقہ کار ‘‘ کا ایجنڈا زیر بحث تھا۔
موضوع کی وضاحت
یہ اجلاس انٹربورڈ کی اسناد(یعنی میٹرک اور ایف اے ) کے بارے میں تھا، جس کا اس قبل مدارس کےلئے کوئی طے شدہ طریقہ کار موجود نہیں ہے۔ مدارس کی ایم اے کی سند تو صدر ضیاء الحق مرحوم کے دور1982ءمیں منظور ہوئی، جس میں ایم اے کو تمام میدانوں کے لئے جامع تر کرنے اور اس کی بنا پر بی اے کرنے کا طریقہ بھی طے کیا گیا تھا۔ پھر جنرل مشرف کے دور میں اس پر کچھ پابندیاں اور شرائط عائد کی گئی۔ حال ہی میں ہائر ایجوکیشن کمیشن HECنے بی اے کی سند کے بارے بھی ایک نوٹی فکیشن 2017ء (HEC کی ’اسناد کو مساوی اور معتبر قرار دینے والی کمیٹی‘ (Equivalence and Accreditation Committee) نے اپنے چھٹے اجلاس منعقدہ 2؍فروری 2017ء میں اس کے بارے میں فیصلہ کیا، اور اس فیصلہ کو نوٹیفکیشن نمبر 8(61)/A&A/2017/HEC مؤرخہ 13؍ اکتوبر 2017ء كو جاری کیا۔ مزید تفصیل کے لئے: ’محدث ‘اکتوبر 2017ء ،ص 17) جاری کیا ہے۔ اُصولاً تو 1982ء میں ایم اے معادلہ Equivalence کے فوری بعد ہی مدارس کے باقی ؍سابقہ تعلیمی مراحل کی اسناد منظوری کی طرف پیش قدمی ہونا چاہیے تھی، لیکن 37 برس گزر جانے کے بعد بھی پاکستان میں مدارس کے میٹرک اور ایف اے کی سند کے اعتراف کا کوئی باضابطہ نظام تاحال نہیں بن سکا۔
میٹرک اور ایف اے کی اسناد کی منظوری اور ان کے طریقہ کار کی غیرمعمولی اہمیت اس بنا پر ہے کہ مشرف دور کے جاری کردہ نوٹی فکیشن 2005ء کے مطابق وفاق المدارس کی ایم اے کی سند کا معادلہ انہی کو ملتا ہے، جن کے پاس مدارس کی میٹرک، ایف اے اور بی اے مراحل کی سند موجود ہو۔ اگر پہلی دو اسناد کے لئے کوئی مخصوص طریقہ متعین کردیا جاتا ہے تو اگلی اسناد کا انحصار انہی پر ہے۔ اور اگر ان اسناد پر کوئی سخت پابندی لگا دی جاتی ہے، تو باقی اسناد (بی اے اورایم اے یعنی الشهادة العالمية) کا مرحلہ آنے کی نوبت ہی نہیں آتی۔ اس بنا پر حالیہ اجلاس بھی اعلیٰ تعلیمی کمیشن HECکی بجائے، فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے حوالے سے ہی تھا۔ اسی طرح اگر مدارس کی ابتدائی اسناد کے ساتھ ان کی رجسٹریشن بھی وزراتِ تعلیم کے ساتھ ہوجائے تو وفاقہاے مدارس کے پورے 37 سالہ نظام کا ہی بوریا بستر لپیٹا جاسکتا ہے۔
ناظمین مدارس ’وفاق المدارس السّلفیہ‘کے اجلاس میں پیش کردہ ایجنڈے پر تبصرہ وتجزیہ کے دو پہلو ہیں:
اُصولی اور مستقل لائحۂ عمل
a امتیازی سلوک: قومی نظام تعلیم کی دو صورتیں ہیں: پبلک یونیورسٹیاں اور پرائیویٹ یونیورسٹیاں ، اور دونوں ہی قومی نصابی پالیسی کے تقاضوں کو پورا کرتے ہیں۔ دونوں کو حکومتی گرانٹس بھی ملتی ہیں۔ اور یہی دونوں ادارے اپنے منظور شدہ نظام تعلیم کے ساتھ باقی کالجوں کو بھی ملحق Affiliateکرسکتے ہیں۔
جب کہ دینی مدارس پر پاکستانی حکومت عمارتوں، یوٹیلٹی بلز، اساتذہ وعملہ کی تنخواہوں اور نصابی کتب کی مد میں کچھ خرچ نہیں کرتی۔ ان کی مثال ایسے ہی ہے جیسا کہ پاکستان میں برطانوی نظام کے مطابق میٹرک کے مساوی او۔لیول اور ایف کے مساوی اے۔لیو ل کی تعلیم جاری ہے۔ اسی طرح فرانس وغیرہ میں مروّجہ آئی بی Inter Bachelorette کا انٹر میڈیٹ کورس بھی پاکستان میں کرایا جاتا ہے۔ اسی طرح پاکستان میں چارٹرڈ اکاؤنٹس کے انٹر اور بی اے مرحلے کے کورسز اور ڈپلومے بھی کرائے جاتے ہیں۔ اور حکومتِ پاکستان ان کورسز میں درکار تعلیمی دورانیہ اور نصاب کی نوعیت دیکھ کر نہ صرف ان کو پاکستان میں تعلیمی ادارے قائم کرنے کی اجازت دیتی بلکہ ان کی عطا کردہ اسناد کو بھی منظور کرتی ہے، پھر انہی اسناد کی بنا پر اُنہیں قومی جامعات میں داخلہ اور ملازمت کی سہولت بھی دیتی ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ ایف کے ان مراحل مثلاً اے لیول اور آئی بی کی انٹرڈگریوں میں قومی نظام تعلیم کے تقاضوں کی پاسداری بھی نہیں کی جاتی اور ان میں لازمی مضامین: اُردو، اسلامیات اور مطالعہ پاکستان سمیت انگریزی زبان کی لازمی تعلیم بھی نہیں دی جاتی۔
اس بنا پر ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر دینی مدارس پر قومی وسائل کا کوئی حصہ صرف نہیں کئے جاتا تو پھر ان پر ملک میں جاری دیگر نظاموں کی طرح قومی نصابِ تعلیم کے لازمی تقاضے عائد نہ کئے جائیں۔ ’یکساں قومی نصاب سے استثنا‘ کی جو رعایت برطانیہ، فرانس، اور کامرس کے عالمی اداروں کو حاصل ہے، اس میں مدارسِ دینیہ سے امتیازی سلوک نہ کیا جائے۔ کیا وجہ ہے کہ صرف دینی مدارس کو ہی قومی نصاب تعلیم کا پابند کیا جاتا ہے؟ ایسے متوازی تعلیمی نظاموں پرکل یہ تقاضا عائد ہوتا ہے کہ وہاں ملک ومعاشرہ کے خلاف تعلیم نہ دی جائے ۔ جبکہ دینی مدارس ایک طرف مسلم معاشرے پر عائد لازمی دینی تعلیم کے فریضے کی تکمیل میں مدد کررہے ہیں جو دراصل پاکستان جیسے اسلام کےلئے حاصل کردہ ملک کا بنیادی تقاضا ہے، بلکہ یہ مدارس پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے بھی محافظ ہیں جس پر ان کی تاریخ شاہد ہے اور ان کے فضلا کی قومی خدمات مسلّمہ ہیں۔ اس بنا پر حکومت کا یہ مطالبہ اساس سے ہی درست نہیں کہ باقی نظام ہائے تعلیم کو چھوڑ کر، صرف مدارس کو قومی تعلیمی نظام کا پابند کیا جائے۔ اور اُنہیں کہا جائے کہ میٹرک اور ایف اے کے امتحان میں لازمی مضامین: انگریزی ، اُردواور اسلامیات ومطالعہ پاکستان کا ضرور امتحان دیا جائے۔
b عصری مضامین سے مراد: حکومت اگر اپنے اسی تقاضے پر اصرار جاری رکھتی ہے تو یہ واضح رہنا چاہیے کہ یہ صرف دو عصری مضامین کی بات نہیں ہے بلکہ میٹرک کے لازمی مضامین میں مذکورہ بالا چار لازمی مضامین کے ساتھ سائنس وریاضی (یعنی کل چھ مضامین) کا امتحان ضروری ہے۔ (یاد رہے کہ16؍ اگست 2005ء کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس محمد افتخار چودھری نے فل بنچ کے سربراہ کے طور پر قرار دیا کہ ’’ صرف انہی دینی مدرسوں کی سندیں قابل قبول ہوں گی جو ہائر ایجوکیشن کمیشن HECسے منظور شدہ ہوں اور یہ سندیں میٹرک کے مساوی اس وقت سمجھی جائیں گی جب طالب علم نے کسی بورڈ سے انگلش، اُردو اور مطالعہ پاکستان کے لازمی مضامین پاس کیے ہوں۔‘‘) جیساکہ وفاق المدارس العربیہ کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد حنیف جالندھری اسی حوالے سے اپنے تازہ مضمون میں لکھتے ہیں:
’’ عصری مضامین یعنی میٹرک میں انگریزی، ریاضی، اُردو اور مطالعہ پاکستان جبکہ انٹرمیڈیٹ میں انگریزی، اُردو اور مطالعہ پاکستان کا امتحان فیڈرل بورڈ لے اور دینی مضامین کے نمبروں کو شامل کرکے نتیجہ اور ڈگری جاری کرے۔ ‘‘ (ماہنامہ وفاق المدارس ، ملتان ، اگست 2019ء)
اس کے بعد آپ خود فیصلہ کرسکتے ہیں کہ مدارس میں پڑھائے جانے والے بھاری بھرکم 8، 9 مضامین کا وزن کیا رہا؟ (ماضی میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا درسِ نظامی گروپ اسی بنا پر زیادہ پذیرائی حاصل نہ کرسکا کیونکہ اس میں بھی مڈل سے لے کر ایم اے تک کے نصاب میں دینی علوم کے ساتھ ساتھ میٹرک ، ایف اے اور بی اے میں بھاری جدید نصاب رکھا گیا تھا، جیسا کہ مولانا زاہد الراشد ی نے اپنے ایک مضمون میں درس نظامی گروپ کو جاری کرنے والے ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی کی زبانی اس کی تفصیلات پیش کی تھیں: ’’قرآن، حدیث، فقہ، عربی، اور دیگر ضروری دینی علوم کے ساتھ میٹرک میں اُردو، انگریزی، مطالعہ پاکستان، جنرل ریاضی، اور جنرل سائنس کے مضامین کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ جبکہ میٹرک کے بعد صرف اردو، انگریزی، اور مطالعہ پاکستان لازمی مضامین کا امتحان دے کر دو سال میں آٹھ مضامین مکمل کرنے کے بعد میٹرک کی طرح ایف اے اور بی اے کی سند حاصل کر سکتا ہے۔ اس پروگرام کے تحت بی اے تک دورۂ حدیث سے پہلے تک کے نصاب کو سمو دیا گیا ہے جسے دینی مدارس کی اصطلاح میں موقوف علیہ کہتے ہیں۔ اس کے بعد طالب علم کی مرضی ہے، چاہے تو کسی دینی مدرسہ میں دورۂ حدیث میں شریک ہو جائے یا چاہے تو کسی مضمون میں کسی بھی یونیورسٹی سے ایم اے کر لے۔‘‘ (’درسِ نظامی کا دینی نصاب‘: روزنامہ اوصاف: 29؍جولائی 1998ء))پھر اس امر کی کیا ضمانت ہے کہ فیڈرل انٹر بورڈ اپنے اصل مطالبہ کو سامنے رکھتے ہوئے… جیسا کہ اجلاس میں بتایا گیا … ملحق ہوجانے کے بعد اس امتحان کو مستقبل قریب میں اپنے معروف طریقہ کار کے مطابق باقی تمام مضامین تک وسیع نہ کر دے ۔ مولانا جالندھری کے الفاظ سے بھی پتہ چلتا ہے کہ فی الوقت فیڈرل بورڈ نے ہی لازمی عصری مضامین کے ساتھ وفاق کے امتحانات پر انحصار واعتماد کرتے ہوئے دینی مضامین کی سند جاری کرنا ہے۔ اور دینی مدارس کے طلبہ کو اُردو اور اسلامیات کے لازمی پرچوں کی رعایت دی جارہی ہے۔
c فیڈرل بورڈ کے امتحان لینے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے وہ تعلیمی ادارہ؍ مدرسہ اُن کے پا س رجسٹرڈ ہو تاکہ وہ اسے اپنے ساتھ ملحق Affiliateکرسکے۔جب مدارسِ دینیہ کی بنیادی اسانید کی منظوری ہی اس پر موقوف ہوگئی کہ فیڈرل بورڈا ن کے بنیادی لازمی مضامین کا مستند امتحان لے کر سند جاری کرے ، توپھر وفاق کے آئندہ اعلیٰ امتحان بھی گویا فیڈر ل انٹر بور ڈ کے رحم وکرم پر ہوگئے، اور اس طرح ان اعلیٰ اسناد کی مستقل حیثیت پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا۔
d دائرہ کار سے تجاوز:ایک طرف حکومت کا موقف کوئی معقولیت نہیں رکھتا، کیونکہ اس میں مدارس کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جارہا ہے جیساکہ اوپر ذکر ہوا۔ تو دوسری طرف اس سلسلے میں ’اداروں ‘کا کردار آئینی لحاظ سے اپنے دائرہ عمل سے تجاوز کے زمرے میں آتا ہے، کیونکہ سیکورٹی فورسز کی شاندار خدمات کے اعتراف کے ساتھ ، پاکستانی آئین ان کو تعلیمی وسیاسی اُمور کی بجائے صرف دفاع وتحفظ تک محدود کرتا ہے۔ جب ملکی دفاع کا کوئی فریضہ کسی وزارت ِ تعلیم یا وزراتِ مذہبی اُمور کا دائرۂ عمل نہیں، توپھر حکومتی سیاسی فرائض میں ایسے ’اداروں‘ کی شرکت کا کیا مطلب ہے؟
e یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ موجودہ آئینی اصلاحات کی رو سے وفاقی وزارت ِ تعلیم کا بھی پاکستان بھر کے مدارس کے معاملات کو طے کرنا، ان کے آئینی کردار سے تجاوز ہے۔ کیونکہ اٹھارویں ترمیم کے بعد تعلیم ، وفاق کی بجائے صوبوں کے دائرۂ عمل میں جا چکی ہے۔ اور اب اپنے اپنے تعلیمی معاملات کی نگرانی ہر صوبائی حکومت خود کرتی ہے۔ جیساکہ HEC کا دائرہ عمل اور اس سلسلے میں قانونی مباحثے اور کیسز عدالتوں میں جاری ہیں۔
f ٹھوس آئینی پیش قدمی ؛ قانونی مدارس بورڈ اور چارٹریونیورسٹی کا قیام : موجودہ صورتحال میں ایک طرف حکومتی دباؤ کی نا معقولیت کو واضح کرنا چاہیے تو دوسری طرف وفاق ہائے مدارس کو اس باضابطہ آئینی طریقہ کار کی طرف بڑھنا چاہیے۔ اور اس سلسلے میں ماضی قریب میں تنظیماتِ وفاق نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ بلکہ معاہدہ (مسلم لیگ ن کی حکومت میں وزیر مملکت (برائے وفاقی وزارتِ تعلیم وپیشہ وارانہ تربیت) انجنیئر بلیغ الرحمٰن کا اتحادِ تنظیماتِ مدارسِ دینیہ کے ساتھ ایک معاہدہ طے پایا جو جولائی 2016ء کو قومی اخبارات میں رپورٹ ہوا۔ اس کی رو سے مدارس کے طلبا کو مختلف مراحل میں جدید سائنسی مضامین، انگلش اور مطالعہ پاکستان کے مضامین پڑھائے جائیں گے۔ اس کے بدلے میں حکومت ان طلبا کے امتحانات کے بعد اُنہیں سرکاری تعلیمی اداروں کی تعلیم کے مساوی تسلیم کرے گی۔ وہ حکومت کی تسلیم شدہ اسناد حاصل کر سکیں گے۔ مدارس کی تعلیم کو ’ایکٹ آف پارلیمنٹ‘ کے تحت تسلیم کیا جائے گا۔ ملک بھر کے 35 ہزار مدارس کو اس نظام میں لایا جائے گا۔ (تفصیل: محدث، اکتوبر 2017ء: ص 16) واضح رہے کہ اس معاہدہ میں سرکاری بورڈز کی بجائے مدارس کی تعلیم کو ایکٹ آف پارلیمنٹ کے تحت قانونی بنانے اور ان کے اپنے بورڈ ز کی منظوری کا معاہدہ کیا گیا تھا، جس سے موجودہ حکومت منحرف ہوگئی۔)بھی کررکھا ہے کہ حکومت کی سطح پر ایسا آئینی بورڈ منظور کیا جائے گا، جس حکومت سے منظور شدہ بورڈ کے تحت تما م مسالک کے مدارس اپنی اسناد کے امتحان لیں گے۔ ماضی میں تنظیماتِ مدارس حکومت سے اس کا مطالبہ (وزیر مملکت انجنیئر بلیغ الرحمٰن نے کہا کہ ’’اس سلسلے میں امتحانی بور ڈز کے ڈھانچے کو پورا کرنا ہو گا، ان کی وزارت اور وہ ذاتی طور پر اتحادِ تنظیمات مدارس کے بورڈز کو قانونی شکل دینے کے بارے میں ضروری مراحل طے کرنے کے لیے مکمل تعاون کریں گے، اس میں غیر ضروری تا خیر نہیں کی جائے گی۔‘‘ ( روزنامہ نوائے وقت: 14؍ جولائی 2016ء)) کرتی رہیں، لیکن حکومت نے ان کے مطالبوں پر کان نہ دھرا۔
موجودہ حالات میں ضرورت اس امر کی ہےکہ پہلے مرحلہ پر تمام وفاق ہائے مدارس مل کر، حکومت میں جملہ لوازمات کے ساتھ آئینی بورڈ اور یونیورسٹی کی درخواست جمع کرائیں ، اس کے جملہ رسمی تقاضے پورے کریں۔ اور پہلے ایک بورڈ ، اور اس کے تحت جملہ مسالک کے خصوصی نصابات کو تحفظ دیا جائے، پھر تدریجاً اپنے اپنے مستقل بورڈ ز کی طرف پیش قدمی کی جائے۔
جب پاکستان میں نسبتاً کم وسائل والے ادارے 100 کے لگ بھگ پرائیویٹ یونیورسٹیاں منظور کراسکتے ہیں تو 35 ہزار سے زائد ، ملک بھر میں پھیلے مدارسِ دینیہ کو اس کی طرف پیش قدمی میں کیا رکاوٹ ہے؟ بالخصوص جبکہ تمام مدارسِ دینیہ اور ان سے وابستہ علماے کرام، سرکاری طور پر منظور شدہ وفاق المدارس جیسی اسناد حاصل کرنے پر متفق ویکسو ہیں۔ اور اس طرح قومی دھارے سے علیحدگی کی بجائے تعمیر معاشرہ میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ اس کا باضابطہ طریقہ ہی اس مسئلہ کا اصل ، دائمی اور آئینی حل ہے!!
مدارس کے اپنے مستقل بورڈز اور اعلیٰ تعلیمی چارٹر کی ضرورت اس لئے بھی روز افزوں ہے کہ ایف اے کے بعد ، بی اے اور ایم اے کی روایتی تعلیم کا نظام بھی سوالیہ نشان ہے اور قومی یونیورسٹیاں اس پر ہائر ایجوکیشن کمیشن سے مزاحمت کررہی ہیں۔ بظاہر یہی نظر آتا ہے کہ روایتی بی اے اور ایم اے کا مستقبل( جو پرائیویٹ امتحان کی سہولت بھی دیتا ہے) پاکستان میں مخدوش ہے۔ یاد رہے کہ خلیجی ممالک سمیت بہت سی حکومتوں نے پاکستان کی ’پرائیویٹ طور پر ملنے والی حکومتی اسناد‘ کو چند سالوں سے مسترد کردیا ہوا ہے۔
g عوامی رابطہ مہم : حکومت کے موقف میں غلطی کو سمجھنے او ر درست سمت میں آئینی پیش قدمی کے ساتھ ساتھ ،معاشرے میں اپنے جائز موقف کو پھیلانے ، مدارس کے طلبہ، اساتذہ اور انتظامیہ کو باخبر کرنے کے لئے قومی اور صوبائی سطح پر مدارس کے مسلسل کنونشن منعقد کئے جائیں جس سے رائے عامہ میں اتفاق اور یک جہتی پیدا ہو۔اس سے مدارس کا تشخص بحال ہونے کے ساتھ ان کی آواز اور موقف میں بھی وزن اور تاثیر پیدا ہوگی۔
ان کنونشنز میں حکومت سے تکرار اور اصرا ر کےساتھ یہ مطالبہ بھی کیا جائے کہ مدارسِ دینیہ کو قومی نصابِ تعلیم کے نام پر علوم نبوت کی مہارت سے دور کرنے ، اور ان علوم کی ناقدری کرنے کی بجائے، نظریۂ پاکستان اور آئین پاکستان کے آرٹیکل 31 (دستور ِپاکستان 1973ء کا ’’آرٹیکل نمبر 31 (1) : پاکستان کے مسلمانوں کو، انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی زندگی اسلام کے بنیادی اُصولوں اور اساسی تصورات کے مطابق مرتب کرنے کے قابل بنانے کے لئے اور انہیں ایسی سہولتیں مہیا کرنے کے لئےاقدامات کئے جائیں گے، جن کی مدد سے وہ قرآن پاک اور سنت کے مطابق زندگی کا مفہوم سمجھ سکیں۔
(2) پاکستان کے مسلمانوں کے بارے میں مملکت مندرجہ ذیل کے لئے کوشش کرے گی:
الف. قرآن پاک اور اسلامیات کی تعلیم کو لازمی قرار دینا، عربی زبان سیکھنے کی حوصلہ افزائی کرنا، اور اس کے لئے سہولت
بہم پہنچانا، اور قرآن پاک کی صحیح اور من وعن طباعت اور اشاعت کا اہتمام کرنا۔
ب. اتحاد اور اسلامی اخلاقی معیاروں کی پابندی کو فروغ دینا ۔ اور ج. زکوٰۃ، عشر ، اوقاف اور مساجد کی باقاعدہ تنظیم کا اہتمام کرنا۔‘‘) کے مطابق قومی نظام تعلیم میں بھی اسلامی علوم کو بھرپور حیثیت دی جائے۔ تاکہ حکومت کے اعلیٰ عہدوں پر براجمان شخصیات کم ازکم سورۂ اخلاص اور آیت الکرسی کو صحیح پڑھ سکیں۔ نظریاتی مملکت کا وزیر اعظم صحابہ کرام جیسی ہستیوں کے کے حقیقی مقام سے نا آشنا نہ ہو، اور ’خاتم النّبیین‘ جیسی ایمان کی بنیادی اساسات پر اس کی زبان نہ لڑکھڑائے۔ ’ریاستِ مدینہ‘ کا دعویٰ قرآن وسنت کی مستند اور معیاری تعلیم کے فروغ اور اس پر مربوط عمل سے ہی پورا ہوسکتاہے۔
موجودہ حکومتی مطالبوں کے لئے وقتی اور فوری حکمتِ عملی
بظاہر حکومت سے اپنے مطالبات تسلیم کروانے کی جدوجہد ، اور امتحانی بورڈ ز کو آئینی طور پر منظور کروانے میں امکانی تاخیر کو سامنے رکھتے ہوئے، حکومت سے جاری مکالمہ میں یہ پہلو بھی پیش نظر رکھے جائیں:
a کامِل الحاق سے گریز: اجلاس کے ایجنڈے میں ’فیڈرل بورڈ سے الحاق‘ کی بات کی گئی ہے تو یہ واضح رہنا چاہیے کہ مدارس کی رجسٹریشن کی ایک صورت تو یہ ہے کہ کسی تعلیمی بورڈ سے ان کا باقاعدہ الحاق کیا جائے جیساکہ پاکستان میں تمام سرکاری سکولز ، اِنہی بورڈز سے منسلک ہوکر بطورِ ریگولر طالبعلم میٹرک اور ایف اے کا امتحان دیتے ہیں۔ جب کو ئی تعلیمی ادارہ؍ مدرسہ، کسی بورڈ سے الحاق کرتا ہے ، تو سرکاری روایت یہ ہے کہ بورڈز ان پر اپنے قوانین لاگو کرتے اور ایسی بے رحمی سے اپنے اختیار کو استعمال کرتے ہیں کہ ملحقہ ادارے بلبلا اٹھتے ہیں۔ سکول یا مدارس تو ادنیٰ تعلیمی ادارے ہیں، بڑی بڑی پبلک یا پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے سامنے جب ایچ ای سی اپنے آئے روز بدلنے والے قوانین کو نافذ کرتی ہے ، تو ان اربوں کے بجٹ والی یونیورسٹیوں کی حالت دیدنی ہوتی ہے۔ پھر یہ سرکاری بورڈ اور کمیشن ملحقہ ادارے کے ملازمین کے کوائف، بنکوں میں دیے مشاہرے، اساتذہ اور طلبہ سے دوٹوک انٹرویو، عمارت کی انسپکشن، ہرسال کی تجدید اور گاہے بگاہے اداروں کے محاسبے جیسے قوانین لے کر آتے رہتے ہیں۔ الحاق کی صورت میں تمام پرچوں کے امتحانات، ان کے شیڈولز، پیپرز اور ان کی چیکنگ اصل بورڈز کے افسران کرتے ہیں۔ اور اگر کسی مرحلہ پر ادارے کی بلڈنگ میں کوئی اور کام، طلبہ کی تعداد میں کوئی اضافہ یا کسی ضابطے میں کوئی کوتاہی ہوجائے، تو ایسے تعلیمی بورڈز نئے داخلوں پر بندش سے لے کر سند جاری کرنے کی رکاوٹ تک کے تمام قانونی اقدامات کرتے ہیں۔ اس لئے مدارسِ دینیہ کو مکمل طور پر کسی سرکاری بورڈ سے یوں ملحق ہونا کہ ان کے طلبہ بطور ریگولر طالبِ علم میٹرک ، اور ایف اے کے امتحان میں شریک ہوں، گویا اپنے خود مختاری گروی رکھنے کے مترادف ہے، اس سے ہر صورت گریز کرنا چاہیے۔قومی نظام تعلیم اور اس کے ادارے، اس وقت خالصتاً مادی تعلیم پر یکسو ہیں اور اس کی پیروی اختیار کرنے والے اداروں میں علومِ نبوت کا علم و عمل کے نقطہ نظر سے پنپنا بڑا مشکل کام ہے،جس سے سرکاری اداروں سے تعلق رکھنے والوں کو آئے روز واسطہ پیش آتا ہے۔
b پرائیویٹ میٹرک اور پرائیویٹ ایف اے کی ترویج اور وفاق کی ثانویہ اسناد کی بے وقعتی: پاکستان کے اکثر دینی مدارس میں فی الوقت دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ، عصر کے بعد یعنی سیکنڈ شفٹ میں مستقل اساتذہ کے ذریعے مڈل، میٹرک، ایف اے اور بی اے کی تیاری کرائی جاتی ہے۔ اور یہ طلبہ کسی بورڈ میں پرائیویٹ اُمیدوار کے طورپر تمام پرچوں کا امتحان دیتے ہیں۔ یہ معمول اس وقت ملک بھر میں بڑے پیمانے پر جاری ہے۔ اس وقت تک دینی مدارس کے طالبعلم کے لئے قومی نظام تعلیم سے سند حاصل کرنے کا یہی بہترین طریقہ رہا ہے ۔
یوں بھی وفاق المدارس کے تحت میٹرک ، ایف اے اور بی اے میں حکومت نے طلبہ مدارس کے لئے جتنے بنیادی مضامین لازمی کر دیے ہیں، یعنی:
میٹرک میں چھ : انگریزی، اُردو، جنرل ریاضی، جنرل سائنس، مطالعہ پاکستان اور اسلامیات
ایف اے میں چار : انگریزی، اُردو، مطالعہ پاکستان اور اسلامیات
اور بی اے میں چھ: انگریزی، اُردو، مطالعہ پاکستان اور اسلامیات، سماجیات کے دو مضامین (2017ء میں جاری کردہ ہائر ایجوکیشن کمیشن HECکے تازہ نوٹی فکیشن كی رو سے ۔)
اس کے بعد باقی رہ جانے والے مضامین وہی ہیں (جیسے عربی اور اسلامیات اختیاری وغیرہ) جن کے ذریعے دینی مدارس کے طلبہ اپنے کل نمبراور پوزیشن کو بہتر کرسکتے ہیں۔ ان دو مضامین کو چھوڑنے کا نتیجہ ایک طرف ٹوٹل نمبر کم ملنے میں نکلتا ہے تو دوسری طرف ہمیشہ کے لئے مدارس کی سند کا تشخص اور اس کی پابندیاں بھی ساتھ لگی رہتی ہیں۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ حکومت نے مدارس کے بھاری اور معیاری نصاب کو (جو اصل العِلم کا مصداق ہے) کس قدر کم وقعت دی ہے تو ان تمام سرکاری امتحانات کو جزوی طور پر مختلف ایام میں دینا بھی طالبعلم کے لئے پریشانی پیدا کرتا ہے۔ دینی مدرسہ کا طالب علم مدرسہ کے داخلی امتحان، وفاق کے امتحان کے ساتھ ، تیسرا سرکاری تکمیلی امتحان بھی دے تو یہ چیز اس کے لئے مشکل تر ہوجاتی ہے۔ چنانچہ جزوی امتحان کے بہت سے مسائل ہیں۔
اس لئے پرائیویٹ سطح کے ان جزوی کے بجائے کلی سرکاری پرائیویٹ امتحانات کو اس وقت تک بہر طور ترک نہیں کرنا چاہیے، جب تک حکومت پرائیویٹ امتحانات پر کوئی پابندی نہیں لگاتی۔ اور میٹرک ، ایف اے کی حد تک ابھی پرائیویٹ امتحان کی سہولت باقی ہے۔ تاہم اس طریقہ کار پر بڑے پیمانے پر پابندی سے عمل کرنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وفاق ہائے مدارس کی ثانویہ عامہ وخاصہ اور عالیہ کی اسناد کا نظام مزید بے وزن ہوجائے گا، کیونکہ طالبعلم اپنی متوازی بہتر اسناد کے لئے میٹرک ،ایف اے اور بی اے کے پرائیویٹ امتحان پر ہی پورا انحصار کرلے گا، اور بی اے کے بعد پرائیویٹ ایم اے کرلینا بھی چنداں مشکل نہیں ہے۔
بی اے اور ایم اے کا پرائیویٹ امتحان
ایک حالیہ حکومتی نوٹی فکیشن میں ایف اے کے بعد مزید تعلیمی مراحل میں تمام قومی یونیورسٹیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ دسمبر 2018ء کے بعد اُصولی طور پر بی اے کو ہی ختم اور اس کی جگہ (1) ریگولر طلبہ کے لئے (2) سمیسٹر سسٹم پر مشتمل دو سالہ ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام ADP جار ی کریں، جس میں (3) سابقہ چار لازمی مضامین کے ساتھ (4) مغربی سماجی علوم کا ایک بڑا حصہ بھی لازماً شامل ہونا چاہیے۔ جیساکہ قومی اخبارات میں تین ماہ قبل یہ خبر چھپی:
’’ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ڈائریکٹر اکیڈمک سلمان احمد کے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں ملک بھر کی جامعات کے وائس چانسلرز سے کہا گیا ہے کہ 31؍دسمبر 2018ء کے بعد سے کئے جانے والے بی اے اور بی ایس سی انرولمنٹ اور رجسٹریشن کو ہائر ایجوکیشن کمیشن تسلیم نہیں کرے گا جبکہ 2020ء میں ایم اے اور ایم ایس سی پروگرام بھی ختم کر دیا جائے گا۔ آئندہ چند روز میں باقاعدہ ایک اور نوٹیفکیشن جاری کردیا جائے گا جس میں کہا جائے گا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن 31؍دسمبر 2018ء کے بعد کئے جانے والے بی اے اور بی ایس سی انرولمنٹ اور رجسٹریشن کی سند (ڈگری) کی تصدیق نہیں کرے گا۔‘‘ (روزنامہ جنگ : 25 ؍اپریل 2019ء)
اس کے بعد دوبارہ 17 ؍ جولائی 2019ء کو ایچ ای سی کی طرف سے ایک حتمی نوٹس جاری کیا گیا:
’’کمیشن برائے اعلیٰ تعلیم HEC نے ملک کی تمام سرکاری اور نجی جامعات اور ان سے منسلک کالجز کو آئندہ تعلیمی سال سے دو سالہ گریجویٹ پروگرام (بی اے ؍بی ایس سی) ختم اور ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام ADPشروع کرنے کے لیے حتمی نوٹس جاری کردیا۔
HECکے حکم نامے کے مطابق بی اے اور بی ایس سی پروگرامز میں 31؍ دسمبر 2018ء سے قبل داخلہ لینے والے طلبہ کو 31؍دسمبر 2020ء تک اپنی ڈگری مکمل کرنے کی اجازت ہوگی۔ تاہم جو طالبعلم اس میں ناکام رہے اُنہیں ڈگری دینے والے کالجز اور جامعات کی شرائط پر پوا اترنے کے بعد ایسو سی ایٹ ڈگری تفویض کی جائے گی۔چنانچہ جو طالبعلم ایسوسی ایٹ ڈگری مکمل کریں گے وہ 4 سمسٹرز کے برابر ہوگی تاہم وہ 4 مزید سمسٹرز مکمل کر کے بی ایس کی ڈگری حاصل کرسکیں گے۔‘‘ (ڈان نیوز: 17؍ جولائی 2019ء)
ایچ ای سی کے اس اقدام پر صوبائی وزارت تعلیم کے علاوہ یونیورسٹیوں کو شدید تحفظات ہیں، جیسا کہ
’’ ایڈیشنل سیکرٹری اکیڈمک پنجاب ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹHED طارق حمید بھٹی نے کہا کہ ایچ ای سی نے بی اے ؍بی ایس 2 سالہ ڈگری پروگرام پر پابندی عائد کرنے کے حوالے سے مشاورت نہیں کی۔ ایچ ای سی کے فیصلے کے حوالے سے لائحہ عمل تیار کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے کوئی بھی اقدام مشاورت کے بعد کریں گے۔ اعلیٰ تعلیمی کمیشن HECپنجاب نے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹHED سے مشاورت کیے بغیر ہی بی اے بی ایس ڈگری پروگرام پر پابندی لگا دی۔ صوبائی اعلیٰ تعلیم کے محکمہ کا کہنا ہے کہ مشاورت کے بعد فیصلے کے حوالے سے جواب دیں گے۔‘‘ (روزنامہ دنیا: 27 ؍اپریل 2019ء)
ایک او رخبر کے مطابق
’’ملک کی مختلف سرکاری جامعات وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن HECکے بی اے؍بی ایس سی سے متعلق اس فیصلے کے خلاف مزاحمت کا ارادہ کررہی ہیں، جو لاکھوں طلبا کو بطور پرائیویٹ اُمیدوار ڈگری کے حصول سے دور کردے گا۔
ڈان اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق ایچ ای سی کی جانب سے تمام سرکاری اور نجی جامعات اور منسلک کالجز کو حتمی ہدایت جاری کی گئی تھی کہ وہ 2 سالہ بی اے؍بی ایس سی پروگرام کو ختم کردیں اور آئندہ تعلیمی سال سے ایسوسی ایٹ پروگرامز ADPشروع کریں۔ساتھ ہی یہ سرکاری و نجی جامعات کو یہ بھی ہدایت کی گئی تھی کہ 2020 کے بعد ایم اے؍ایم ایس سی پروگرامز کی آفر نہیں کرسکتیں۔
جامعات اور کالجز کے پاس یہ صلاحیت بھی نہیں تھی کہ وہ سمسٹرز سسٹم کی ضروریات کو پورا کرسکیں اور ابھی بھی مختلف تعلیمی ادارے مطلوبہ ضروری صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے سمسٹر سسٹم پر عمل درآمد کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ایسے فیصلے راتوں رات نہیں لیے جاتے اور نہ ہی بنیادی ضروریات کو پورا کیے بغیر ان پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔
دوسری جانب ذرائع کا کہنا تھا کہ پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے تمام ہائر ایجوکیشن انسٹی ٹیوشنز کے وائس چانسلرز نے ایچ ایس سی کے چیئرمین طارق بانوری کے ساتھ ملاقات میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
اس حوالے سے کچھ شیخ الجامعات نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈان نیوز کو بتایا کہ وہ ایچ ای سی کو بی اے؍بی ایس سی اور ایم اے؍ایم ایس سی پروگرامز کو مکمل طور پر ختم کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کے لیے تحریری طور پر لکھیں گے۔
اُنہوں نے کہا کہ ایچ ای سی کے چیئرمین کو بتایا گیا کہ یہ ان کے لیے ممکن نہیں ہے کہ وہ ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرامز کو شروع کریں کیونکہ ان کے پاس اس مقصد کے لیے مطلوب وسائل نہیں ہیں۔‘‘ (ڈان نیوز: 29 ؍جولائی 2019ء)
مذکورہ بالا تفصیل سے علم ہوتا ہے کہ ایف اے کے بعد ہونے والے بی اے اور ایم اے کے نظام تعلیم اور سطح کے پرائیویٹ امتحانات پر اس وقت شدید مباحثہ جاری ہے۔بعض غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق بی اے کے امتحان پر بندش میں ایچ ای سی نے دوسال کی توسیع کردی ہے۔پاکستان کی قدیم و اہم ترین جامعہ ، پنجاب یونیورسٹی کے 9؍اگست 2019ء کو جاری کردہ نوٹی فکیشن میں یہ قرار دیا گیا ہے کہ
’’بی اے ، بی ایس سی اور بی کام کی دو سالہ ڈگری میں کسی بھی قانونی ونصابی نوعیت کی تبدیلی کے بغیر، اس کا نام ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام ADP کرکے اسے جاری کردیاگیا ہے۔ اس کے سالانہ اور ضمنی امتحانات میں ماضی کی طرح ریگولر وپرائیویٹ اُمیدوار شریک ہوسکتے ہیں۔ مستقبل میں یونیورسٹی کی قائم کردہ کمیٹی اس میں ضروری اصلاحات کی ضرورت اور مطالبوں کا جائزہ لیتی رہے گی۔ ‘‘ (پنجاب یونیورسٹی نوٹی فکیشن نمبریD/612/R مجریہ 9؍اگست 2019ء)
ناظمین مدارس کے اجلاس کے دوران علم ہوا ہے کہ طلبہ مدارس کے بی اے اور ایم اے کی سند کے سلسلے میں جب چیئرمین ایچ ای سی سے بات چیت کی گئی تو اُنہوں نے ذمہ داران وفاقات کو مدارس کا ایف اے کے بعد بی ایس ماڈل پر (عالیہ اور عالمیہ پر مشتمل ) چار سالہ کورس تشکیل دینے کو کہا ہے جس کے بعد اس کی منظوری کا جائزہ لیا جائے گا۔ گویا ایچ ای سی کے نئے نظام کے بعد جس طرح قومی یونیورسٹیوں میں بی اے ،ایم اے کا منظرنامہ تبدیل ہورہا ہے، اسی طرح طلبہ مدارس کی بی اے اور ایم اے اسناد کا اُصولی فیصلہ ہونا بھی باقی ہے۔
c سرکاری بورڈز کے تحت وفاقات کے سرکاری مضامین کے لئے تجاویز: موجودہ اجلاس کا اصل ایجنڈا تو ’’وفاقی تعلیمی بورڈ سے الحاق اور عصری مضامین میٹرک ، ایف اے کے امتحانات اور طریقہ کار ‘‘تھا۔ ایک مثالی صورتحال اور اس کے خاکے کی نشاندہی کے بعد، اور دونوں عبوری صورتوں کی مشکلات اور فوائد کے تجزیے کے بعد آخری مرحلے کے طور پر وفاق ہاے مدارس کو اس سلسلے میں بھی حکومت کے سامنے درج ذیل تجاویز کو زیر بحث لانا چاہیے ، کیونکہ موجودہ صورتحال میں یہ حکومتی اقدام ناقابل قبول ہے:
i. ایسے امتحانات کے پرچوں کو بنانے، چیکنگ اور نگرانی کاکام ایک ایسی کمیٹی کے سپرد ہو، جس میں چاروں وفاقات کے نمائندے موجود ہوں۔
ii. یہ امتحانات فیڈرل بورڈ کی بجائے، صوبائی سطح پر ایک،ایک بورڈ کے تحت لئے جائیں۔ تاکہ طلبہ کے لئے اپنے اپنے صوبوں میں آمد ورفت آسان ہوسکے۔
iii. ان امتحانات کا شیڈول مدارس کے وفاقات کی منظوری سے طے کیا جائے اور اُنہیں ایسے ایام میں رکھا جائے جب طلبہ مدارس کے لئے ان میں شریک ہونا آسان ہو۔
iv. فیڈرل بورڈ کا نظام، فیسیں، کتب کی قیمت اور نصاب بھی تمام دیگر انٹربورڈز کی نسبت مشکل تر ہے، طلبہ مدارس کو اس مشکل سے بچانا چاہیے۔
v. یہ امتحانات اُردو زبان میں منعقد کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔
vi. عصری مضامین کو کم ازکم 10 سال کے لئے دو پرچوں تک محدود کیا جائے، اور وفاقات کے نصاب میں عصری مضامین سے مراد معاشیات وسیاسیات لئے جاتے ہیں، انکو بورڈ کے رحم وکرم پر نہ چھوڑا جائے جو اگر اسے 4 ،5 مضامین تک لے گئے تو دینی مدارس کا باقی نصاب ہی بے وزن ہوجائے گا۔
vii. ایف اے کے بعد بی ایس سطح پر ایچ ای سی کے چندسال قبل تجویز کردہ چار سالہ تعلیمی پروگرام میں بھی دینی مدارس کے لئے خصوصی اقدامات کئے جائیں، تاکہ دینی مدارس کے لئے قومی نظام تعلیم سے ہم آہنگ ہونا ممکن ہو۔ جیسے مغربی سماجی علوم کی ایک تہائی لازمی شرح کو کم کرتے ہوئے مزید معیاری اسلامی کورسز کا اضافہ، اس بی ایس میں داخلہ کے لئے ثانویہ خاصہ (ایف اے) کی اُصولی رعایت دینا اور امتحانی پرچے بنانے والی کمیٹی میں علما کے نمائندوں کی شمولیت وغیرہ۔
وفاق المدارس السّلفیہ کے اجلاس کا فیصلہ
وفاق المدارس السّلفیہ کے اس نمائندہ اجلاس میں بہت سے ناظمین مدارس اور ماہرین تعلیم نے انگریزی اور سماجی علوم کی اہمیت ، طریقہ تدریس اور امکانات پر بھی قیمتی اظہار خیال کیا۔ حالانکہ پیش نظر مسئلہ بعض علوم کی اہمیت یا اس کے ممکنہ طریقہ کار کا نہیں اوریوں بھی انگریزی وسماجی علوم اکثر سلفی مدارس میں پڑھائے جاتے ہیں۔ اصل سوال تو بعض غیر ملکی نظاموں کو ملنے والی سہولت اور مدارسِ دینیہ سے امتیازی سلوک کا ہے۔اور مدارس کی منظوری کو قابل عمل اور وسیع کرنے کی بجائے ، ان پر پابندی اور سرکاری کنٹرول کا ہے، حالانکہ حکومت مدارس کو قومی تعلیمی بجٹ سے پھوٹی کوڑی بھی نہیں دیتی جو اس کا آئینی فریضہ ہے۔ اگر حکومت نے مدارس کو وزارتِ تعلیم کے ساتھ ملحق کرنے کا سوچ ہی لیا ہے تو دیگر سہولیات کے ساتھ کم ازکم قومی تعلیمی بجٹ میں ان کا بھی حصہ مقرر کرنے سے آغاز کرے۔ (جیساکہ اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ نے حکومت سے مئی 2019ء میں ہونے والے اجلاس میں مدارس ومساجد کے یوٹیلٹی بلز کی معافی یا چھوٹ کا متفقہ مطالبہ کیا ، جسے مسترد کردیا گیا۔ (ماہنامہ وفاق المدارس، ملتان، مئی 2019ء، ص 6))
ناظمین مدارس کے اجلاس میں اتفاقِ رائے سے یہ طے پایا کہ
’’حکومت کے ان نئے اقدامات کی بجائے، اُنہیں سابقہ معاہدوں کی طرف متوجہ کیا جائے ۔ نئے آئینی راستے اختیار کئے جائیں اور اپنے جائز مقاصد کے لئے دباؤ میں اضافہ کیا جائے۔ اور یہ کام تمام وفاقات کی مشاورت اور پوری تائید سے مل کر کیا جائے۔
اگر حکومت سے کوئی مفاہمت ممکن نہ ہو تو اصلاحات کے مکمل نفاذ کے لئے حکومت سے چند سال کا وقت لیا جائے۔ اورمدارس کو فیڈرل بور ڈ کی بجائے، علاقائی بورڈ ز کے ذریعے سرکاری امتحانات دینے کی طرف متوجہ کیا جائے۔ اور اس سلسلے میں مذکورہ بالا نکات پر گفتگو کی جائے۔ ‘‘
جامعہ لاہور الاسلامیہ (رحمانیہ) میں جاری تعلیمی تجربہ
اوپر درج کردہ تجاویز اور مسائل صرف نظریاتی باتیں نہیں بلکہ ان پر برسہا برس لگانے کے بعد اس سلسلے میں درپیش مشکلات کا جائزہ لیا گیا اور امکانی اقدامات کو عملاً اختیار بھی کیا گیا ، جس کی مختصر تفصیل یہ ہے کہ
عالم اسلام بالخصوص سعودی عرب، ایران، مصر اور ملائیشیا وغیرہ میں عالم دین بنانے کے لئے فی زمانہ مروّجہ طریقہ یہ ہے کہ ایف اے مرحلہ کے بعد، دیگر سائنسی وسماجی علوم کی طرح چار سالہ کورس میں قرآن وحدیث، فقہ وعقائد، اور ان کے اُصول وعلوم، عربی زبان اور شرعی عمرانی علوم پر مشتمل ایک جامع کورس پڑھنے والے کو علوم شریعت کا ماہر قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد مزید مہارت کے لئے قاضی، مفتی، داعی اورمحقق وغیرہ کے ڈپلومے اور بعض اوقات ایم فل اور پی ایچ ڈی کی مزید اعلیٰ تحقیق بھی کرائی جاتی ہے۔
لاہور میں 50 برس سے قائم مرکزی درسگاہ جامعہ لاہور الاسلامیہ (رحمانیہ) میں برصغیر میں روایتی درسِ نظامی لمبا عرصہ جاری ہے جس میں والد گرامی مولانا ڈاکٹر حافظ عبد الرحمٰن مدنی ﷾ (رئیس الجامعہ )کی قیادت میں یوں ترامیم کی گئیں کہ عالم اسلام کی ممتاز جامعات اور پاکستان کی HECکے مجوزہ چار سالہ کورس میں برصغیر کی دینی روایت ’درسِ نظامی‘ کو سمو دیا گیا۔
جدید نظام تعلیم کے طور پر، آٹھ برس قبل ، سالانہ کی بجائے’سمیسٹر سسٹم ‘اختیار کیا گیا۔ تمام جامعات میں رائج نصابی کتب اور کورسز کے تدریسی مراجع لمبی جدوجہد کے بعد جامعہ کی لائبریری میں جمع کئے گئے۔ ایسے نامور اساتذہ کرام میسر کئے گئے جو درس نظامی کے ساتھ ساتھ ، عالم اسلام کی ممتاز اسلامی جامعات سے نمایاں پوزیشن کے ساتھ سندِ فضیلت لے چکے ہوں۔پھر ان اساتذہ کرام کو ایک ایک جامعہ ؍ نصاب تعلیم کا نمائندہ بنا کر، ہر ہر کورس کے بارے ہفتوں مشاورت کرکے، ایک ایسا مثالی نصاب تشکیل دیا گیا جس میں ان تمام اسلامی جامعات کا تعلیمی تجربہ ملحوظ رہے۔ راقم 2011 ۔ 2012ء کے مسلسل دو سال جاری رہنے والے ان تعلیمی اجلاسوں میں سیکرٹری کے فرائض انجام دیتا رہا ہے۔ اب یہ سمیسٹر سسٹم پر مشتمل چار سالہ عالم دین کورس جو درس نظامی اور جدید تعلیمی روایات اور تقاضوں کا حسین مرقع ہے، گذشتہ چھ برس سے جامعہ ہذا میں بڑی کامیابی سے جاری وساری ہے۔
اس چار سالہ عالم کورس میں داخلہ کے لئے یوں تو ایف اے کی اہلیت درکار ہے، لیکن علوم اسلامیہ میں وسیع تر مہارت کی ضرورت کی بنا پر ، جس طرح سائنسی میدانوں میں اعلیٰ تعلیم کے لئے مڈل کے بعد سے طلبہ کا سائنس گروپ علیحدہ کردیا جاتا ہے، اسی طرح جامعہ ہذا میں ایف اے کرکے آنے والوں کو دوسالہ تمہیدیہ ؍ فاؤنڈیشن کورس بھی کرایا جاتا ہے۔اور بوقتِ ضرورت اس میں میٹرک پاس طلبہ کوبھی داخل کرلیا جاتا ہے تاکہ دو سال میں ایسے طلبہ علوم اسلامیہ میں بنیادی اہلیت پید اکرنے کےساتھ ایف اے کی تعلیم بھی پوری کرلیں۔ پھر چار سالہ ایسا عالم دین کورس مکمل کریں جو درسِ نظامی کے ساتھ ساتھ ، عالم اسلام میں مروّجہ تعلیمی ماڈل اور جدید عصری تقاضوں سے بھی ہم آہنگ ہے۔ طلبہ کے خالص تعلیمی تقاضوں کو پورا کرنے اور ان میں دینی رجحانات کی آبیاری کے لئے، اس چار سالہ کورس میں تعلیم اور قیام وطعام کو بالکل مفت مہیا کیا گیا ہے۔ عالم اسلام کی جامعات ومدارس میں مروّج بہت سی کتب ایسی ہیں جو بازار میں دستیاب نہیں ، چنانچہ ایسے طلبہ کو نصابی کتب یا ان کی فوٹوکاپی بھی ایک چوتھائی قیمت پر مہیا کی جاتی ہے۔
جہاں تک ان طلبہ کی منظور شدہ اسناد کی بات ہے، تو جامعہ ہذا کے اس نظام ونصاب تعلیم کو سرکاری محکموں اور جامعات سے منظوری مل جانے کے باوجود، ابھی تک کامل سرکاری نظام کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ کیونکہ سرکاری نظام میں بعض ایسی پیچیدگیاں ابھی موجود ہیں جو طلبہ کے عالم دین بننے کی منزل کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرتی ہیں۔ تاہم اسی تعلیمی تجربے کی بنا پر جامعہ ہذا کو پاکستان کے اس واحد دینی جامعہ کا اعزاز حاصل ہے جہاں سرکاری سطح پر بی ایس سے اگلے مرحلہ کے ایم فل کی باقاعدہ منظورشدہ اسناد عطا کی جاتی ہیں، اور جامعہ کے درجنوں طلبہ یہ تعلیمی مراحل پورے کرچکے ہیں۔ ضرورت پڑنے پر ہفتہ بھر کے نوٹس پر جامعہ میں جاری اس نئے نظام تعلیم کو HECکے منظور شدہ سرکاری چار سالہ بی ایس ماڈ ل میں منتقل کیا جاسکتا ہے۔
فی الوقت ان طلبہ کے پاس سرکاری اسناد حاصل کرنے کا آسان طریقہ یہی ہے کہ ایف اے مرحلہ کے بعد چار سالہ ’عالم دین کورس‘ کرنے والے طلبہ، شام کے اوقات میں میٹرک، ایف اے اور بی اے کے پرائیویٹ امتحانات کی تیاری کرتے ہیں، اور بطورِ پرائیویٹ اُمیدوار ہی سرکاری امتحان میں شریک ہوتے ہیں۔ اس سارے مجوزہ نظام تعلیم کی منزل یہ ہے کہ اگر پاکستانی حکومت ، ایف اے اور بی ایس کے چار سالہ نصاب میں چند سہولتیں میسر کردے تو مدارس کے روایتی نظام تعلیم کو بڑی حد تک قومی نظام تعلیم سے ہم آہنگ کیا جاسکتا ہے۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ جامعہ لاہور الاسلامیہ میں جاری اس تجربے سے تاحال طلبہ کے عالم دین بننے کے معیار میں واضح بہتری دیکھنے میں آئی ہے اور جامعہ ہذا میں طلبہ کا دینی وعصری تعلیم وتربیت کا معیار بلند ہوا ہے ۔ اللّٰہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ خالص اپنے دین کے فروغ کے لئے کی جانے والی ان کوششوں کو بامراد فرمائے اور اُنہیں شرفِ قبولیت عطا کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں