18

ٹک ٹاک کی “نئی دنیا” اور جھومتی گاتی “اک نسل” ( محمد عاصم حفیظ شیخوپورہ )

ٹک ٹاک کی “نئی دنیا” اور جھومتی گاتی “اک نسل”
ٹک ٹاک کی ایک الگ دنیا ہے ۔ اگر آپ اس موبائل اپلیکیشن کے یوزر نہیں تو شائد آپ اندازہ بھی نہیں کر سکتے کہ اس “نئی دنیا” نے کتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو اپنا باسی بنا لیا ہے ۔ اس کے اپنے ہیروز اور آئیڈیل ہیں ۔ ٹک ٹاک کی محفلیں اب شہر شہر جم رہی ہیں جو کہ تیزی سے نوجوان نسل کو متاثر کرتی ہیں ۔ آپ یقین نہیں کریں گے لیکن یہ حقیقت ہے کہ نوجوان نسل کی تفریحی پسند اب فیس بک یا یو ٹیوب نہیں بلکہ ٹک ٹاک ہے ۔ دراصل اس میں بھرپور اپنائیت اور حقیقت کا عنصر ہے ۔ وہ ایسے کہ اس پر ہر ویڈیو ہی اوریجنل ہے اور کسی اداکار کی بجائے معاشرے سے کسی لڑکے لڑکی نے بنائی ہے ۔ انسانی فطرت ہے کہ اسے اوریجنل پرفارمینس زیادہ متاثر کرتی ہے ۔ ٹک ٹاک نے اچھے خاصے گھرانوں کے نوجوان لڑکے لڑکیوں کو لائیکس اور شئیرز کی خاطر اوٹ پٹانگ حرکتوں ۔ اداکاری کے جوہر ۔ رقص اور دیگر سرگرمیوں پر مجبور کر دیا ہے ۔ فالورز بڑھانے اور لائیکس و شئیرز کا نشہ کچھ ایسا ہے کہ سٹیج ڈراموں کی گھٹیا ترین جگتوں اور فحش ترین جملوں تک کو دھرا لیا جاتا ہےان پر رقص ہوتا ہے ۔ اخلاقیات کا بے لگام تفریح سے کیا تعلق ۔ سب چلتا ہے ۔ اس پر لائیو کی سہولت بھی ہے اور رات بھر کی محفل سجانے کے چکر میں رومانوی و فحش گفتگو کا سہارا لیا جاتا ہے ۔
سکرین تک تو یہ چلتا رہا لیکن اب ٹک ٹاک محفلیں سجانے لگی ہے ۔ جی ہاں بڑے شہروں میں آئے روز ایسی تقریبات منعقد ہو رہی ہیں جن کا اعلان صرف ٹک ٹاک پر ہوتا ہے ۔ فالورز جمع ہوتے ہیں اور ٹک ٹاک سٹارز کیساتھ وقت گزارتے ہیں ۔ دراصل یہ کھیل اب ایڈورٹائزنگ کمپنیوں اور فیشن پراڈکٹس بنانے والی فرمز کے ہاتھ آ گیا ہے ۔ اس ایک محفل سے لاکھوں کمائے جاتے ہیں ۔ چند زیادہ فالورز رکھنے والے ٹک ٹاک سٹارز لڑکے لڑکیوں کو ہائیر کیا جاتا ہے وہ اپنے اکاؤنٹس پر اعلانات کرتے ہیں ۔ اس تقریب میں شرکت کی باقاعدہ ٹکٹ رکھی جاتی ہے ۔ اشتہارات والی کمپنیاں اس کو سپانسر کرتی ہیں ۔ فیشن پراڈکٹس کی مشہوری ہوتی ہے اور ٹکٹوں سے لاکھوں کی آمدنی ۔ ٹک ٹاک کی دوستیوں کے ذریعے ایسی تقریںات میں سینکڑوں نوجوان لڑکے لڑکیاں شریک ہوتے ہیں ۔ ایک دوسرا پہلو ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے کے لیے نوجوان گروپوں کا اکھٹا ہونا ہے ۔ عام طور پر لڑکا لڑکی کی جوڑی کی صورت میں بنائی گئی ویڈیوز ہی ہٹ ہوتی ہیں اور گروپس پر فارمینس اس سے بھی زیادہ۔ اس لئے فالورز لائیکس اور شئیرز کے چکر میں یہ سب تو کرنا پڑتا ہے ۔ ٹک ٹاک پر مشہور ہونے کے لئے کوئی دلچسپ جملہ چاہیے یا پھر کوئی منفرد حرکت ۔ اس کی خاطر ہی باہمی رشتوں کا مذاق ہو یا فحش و گھٹیا جگت بازی سب کچھ بول دیا جاتا ہے ۔ اسی طرح گانوں کی پرفارمینس ۔ فلموں اور ڈراموں کے ڈائیلاگز میں ہیرو ہیروئن کی حرکات کو دھرایا جاتا ہے ۔ جی ہاں یہ سب کوئی شوبز سے منسلک پروفیشنل افراد نہیں بلکہ عام گھرانوں کے نوجوان لڑکے لڑکیاں کر رہے ہوتے ہیں۔ ٹک ٹاک پر فحاشی اور جھومتی و تھرکتی نوجوان نسل کو بربادی سے بچانے کےلئے گزشتہ دنوں لاہور ہائیکورٹ میں اس پر پابندی کی رٹ بھی کی گئی تھی لیکن موبائل کمپنیوں کے اس بڑے ذریعہ آمدن کو کون روک سکتا ہے جی ۔ یہ تو معاشرے کے سنجیدہ حلقوں کو سوچنا ہے کہ کیا اپنی نوجوان نسل کو اس نئی دنیا میں گمنام ہو جانے کےلئے چھوڑ دینا ہے یا کوئی اس بے راہ روی اور آوارگی کی حد بھی ہے کہ جہاں سے آگے جانے سے روک دیا جائے۔ والدین کو بھی سوچنا ہے اگر آپ کی اولادوں کے سمارٹ فون میں یہ ایپ موجود ہے تو ضرور پریشانی کی بات ہے ۔ کاش حکومت اور ارباب اختیار اگر اپنے بکھیڑوں سے فرصت ملے تو معاشرتی بگاڑ کی اس بڑھتی وجہ اور آوارگی کی گہری کھائی میں گرتی نوجوان نسل کو بچا لیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں