19

دل جلائیں گے ، روشنی ہوگی!! عدیل احمد آزاد

محبت لفظوں کی محتاج نہیں ہوتی، بات مگر لگن کی ہوتی ہے ۔ میری محبت میری منزل ہے ۔ گاؤں کی بارش ، مٹی کے کچے گھر، دیے کی سانولی روشنی پہ جان وارتے پتنگے۔اردو کے باپ نے کہا تھا ”آہ کو چاہیےاک عمراثر ہونے تک“۔ قطرۂ نیساں کوآغوشِ صدف نصیب ہوجائےتو موتی، نہ ملے تو بے شمار پانی۔محبت اورمحنت ساتھ ساتھ سفر کریں تو شاہکار تخلیق ہوتے ہیں۔ ضرورت سب کو ہوتی ہے ، کیا امیر اور کیا غریب۔ بیتابی لازم ہےکہ دیوانےہی نام پاتے ہیں۔ محتاط اکثر محتاج رہتے ہیں۔

ہزار کوشش کے باوجود مجھے اس عظیم انسان کی تلاش میں نا کامی ہے جو ناممکن سے ممکن ، مایوسی سے امید اور اندھیرے سے روشنی اخذ کر لیتا ہو۔ جو لکھے بغیر پڑھ لیتا ہو اور بولےبغیر سمجھ لیتا ہو۔گرجتے برستے کوئی شیخ الاسلام ہوں یا مذہب گریز دانشور۔ کسی حد تک رسم و راہ رکھتے ہیں پھر وہی ناوکِ دشنام اور طرزِ ملامت۔

انگریزی کا مقولہ ہے ’’In giving we that receive‘‘کائنات کے خالق کا ازل سے طریق ہے جو دیتا ہے وہی پاتا ہے۔ ہم فی زمانہ بہت محروم لوگ ہیں ۔ چند لفظوں پر قانع قیامت کے ادیب۔ اپنا وجود قائم رکھنے کے لیےدوسروں کا راستہ روکنے والے۔مزاج آشناہی سوہانِ روح ہوتےہیں۔بقول شخصے:تمہارے بد ترین دشمن، تمہارے بہترین دوست ہوتے ہیں۔

آرنلڈ جے ٹائن بی مشہور برطانوی رائٹر ہیں۔ 1886 کو لندن میں پیداہوئے”A Study of History”کےنام سےبارہ جلدوں میں شہرہ آفاق کتاب لکھی۔ اس کتاب کی پہلی 1934 میں چھپی اور آخری جلد 1961 میں طبع ہوئی ۔ یہ کتاب عالم اسلام کی سب سے قدیم یونیورسٹی جامعہ الازہر کے شعبہ فلسفہ میں پڑھائی جاتی ہے۔قریب دودرجن مختلف تہذیبوں کا تقابلی جائزہ اس کتاب کا موضوع ہے۔ نتیجتاً لکھا ’’کسی قوم یا فرد کامنصہ شہود پرآنا اعلیٰ نسل یا بہترین جغرافیے پر منحصر نہیں، بلکہ اس کا انحصار اس صلاحیت پر ہے جو پیش آمدہ چیلنج سے یکایک نپٹنے کی تدبیر کرتی ہے‘‘۔

یہی وہ اہم بات ہے جو ہمارے شعور سے لگا نہیں کھاتی۔ ہم تدبیر،توفیق،تحریک، تحقیق،ترتیب، ترکیب، تہذیب، تحصیل، تکمیل، تحسین، تلقین،تعظیم، تعلیم،تعمیر اورتوقیر سے عاری قوم ہیں۔تحمل،تدبر،تغیر،تعلق،تلمذ، تنوع، تبحر، توجہ، توسل، توکل اورتہورسےمحروم و بے نیازلوگ ہیں۔ نتیجہ؟ ڈھاک کے وہی تین پات۔

کہا گیا ہم غریب ہیں۔ مگر غربت میں تو زندگی بسر ہوجاتی ہے۔ کچھ تنگی ترشی ممکن ہے تاہم آدمی ہو یا قوم چادر کے مطابق پائوں پھیلائیں تو ایسی مشکل بھی نہیں رہتی۔ بس حرص و ہوس سے دور رہنا پڑتا ہے، اگر بندہ صابر و شاکر ہو تو توفیق بھی مل جاتی ہے۔ اغیار کی دیکھا دیکھی ہم اپنے دین ، جمہور، اور کلچر سے کتنے دور جاچکے ہیں؟ ترقی کے نام پر اخلاقیات بدل ڈالیں۔ فیض واقبال کے نام لیوائوں کو ’’ پاک سرزمین شاد باد ‘‘ بھی دوسری زبان لگتی ہے ۔ سرے محل سے پاناما لیکس تک کی داستان ہماری ’’غربت‘‘ کے منہ پر زنّاٹے کی ’’چماٹ‘‘ ہے ۔ فرد کی ذلّت فرد کی ہوتی ہے لیڈر کا منہ کالاہوتو بدکاری کی تہمت قوم پرلگتی ہے۔عزت کمائی جاتی ہے، خریدی نہیں جاتی۔ احترام کے ترازو میں تُلنے والے ہر صاحبِ دستار کا وزن الگ ہوتا ہے۔ ٹیچرز، علماء، صحافی، اور لیڈرز اگر فرض شناس ہوں تو بہت عزت پاتے ہیں۔

میرے اساتذہ سیکڑوں میں ہیں، اور میں سب کا ممنون اور سب کے لیےدعاگو ہوں،مگرچند اساتذہ ایسے ہیں جو دل سے نکلتے ہی نہیں، کیوں؟

بہت چھوٹا تھا جب والدمحترم اورچچا جی کے ہاں سیاسی ڈیرے لگتے تھے ”آیا آیا شیر آیا ۔ گیا گیا تیر گیا“ کی آوازیں سْن سْن کےکان پَک گئےتھے، مگردل کادروازہ قاہرہ کے تحریر سکوائر میں محمد مرسی کے متوالوں نے کھٹکھٹایا ۔ کیوں؟

لائیو شوز کی بھرمار۔بریکنگ نیوز اور چیخم دھاڑ۔ ہر بیانیے کے لیے الگ الگ اینکرز۔ مگر خبر کی تلاش میں آج بھی وہی آواز سننےکو جی چاہتا ہےجو کبھی بابا جی کے پُرانے، کپڑے کی لیروں میں لپٹے،تھپڑوں سےچلنے والے ریڈیو سےرات آٹھ بجے اُبھرتی تھی “بی بی سی اردو کے پروگرام سیربین میں خوش آمدید ہمارے لندن اسٹوڈیو سے میں ہوں’’ شفیع نقی جامعی‘‘۔۔۔ کیوں؟

کیونکہ زندگی اور تاریخ انہی کوعزت عطا کرتی ہے، جو اس کے مستحق ہوتے ہیں ۔بڑے بڑے عہدوں پر متمکن افسران وقت کےدریا میں یوں بہہ جاتےہیں جیسےخس وخشاک۔ یاد کرنے اور یاد دلانے پر بھی دماغ سے’’ فوت ‘‘ہی رہتے ہیں۔یہ لمحاتی، بناوٹی، سطحی اور جعلی عزت ہوتی ہے جو ہر ناپسندیدہ شخص کو حاصل رہتی ہے۔

عزت دوسری شےکانام ہے۔محمد علی جناح عظیم تھا۔ نیلسن منڈیلاعظیم تھا۔ذوالفقار علی بھٹو عظیم تھا۔شاہ فہد عظیم تھا۔محمد بن سلمان عظیم ہے۔ لندن کا صادق خان عظیم ہے۔نواز شریف عظیم ہے ۔ جنرل راحیل شریف عظیم ہے ۔ میرے وطن کا ہر فوجی، ہر محافظ عظیم ہے ۔ اور بھی بہت لوگ عظیم ہوں گے۔ ہر کسی کے ہاں عظمت کا معیار الگ ہوتا ہے ۔ لیکن کچھ لوگ (خصیہ بردار) کبھی اور کسی کے ہاں عظیم نہیں ہو سکتےکہ عزت کمائی جاتی ہے خریدی یاچرائی نہیں جاتی۔ہوس سےبھرا دل عزت سے محروم رہتا ہے۔ عظیم وہی ہوتا ہے جس کی لوگ دل سے عزت کریں۔ غیرموجودگی میں بھی اس کا نام احترام سے لیں ۔ دل کو ہوس سے خالی کرنا ملکوں اور سلطنتوں کو فتح کرنے سے زیادہ مشکل ہے ۔ اس کےلیےدل جلانا پڑتا ہے، تب روشنی ہوتی ہے اس روشنی میں قوموں کے عروج کے فیصلے ہوتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں