34

کس کس نے جج ارشد ملک پر مبینہ طور پر دباؤ ڈالا-انصار عباسی

وڈیو اسکینڈل سپریم کورٹ پہنچ چکا اور چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں قائم تین رکنی بنچ نے اس کیس کو گزشتہ روز سننا بھی شروع کر دیا۔ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ وڈیو اسکینڈل غیر معمولی واقعہ ہے، وڈیوز درست ہیں یا نہیں اس بات کا تعین ہونا چاہئے، سپریم کورٹ نے (اس معاملہ) میں فیصلہ دے دیا تو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چلنے والے کیس کا کیا ہوگا؟ اب ذمہ داری ڈالی گئی ہے تو فیصلہ دیں گے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کیس میں پہلا سوال عدلیہ کی ساکھ، دوسرا سوال فیصلہ (جس کے تحت نواز شریف کو سزا دی گئی) کے درست ہونے یا نہ ہونے اور تیسرا سوال جج کے کنڈکٹ کا ہے۔ اس موقع پر عدالت نے یہ بھی کہا کہ آڈیو اور وڈیو کے قابلِ قبول شواہد ہونے پر عدالتی فیصلے موجود ہیں، پہلے تعین ہونا چاہئے کہ وڈیو قابلِ قبول ہیں یا نہیں، وڈیو تصدیق کے بعد ہی بطور شواہد لائی جا سکتی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے یہ بھی کہا کہ نواز شریف کا کیس اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی زیر سماعت ہے، اب کیس سماعت کے لیے مقرر ہوا ہے تو کچھ نہ کچھ فیصلہ تو دیں گے۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کا اس معاملہ میں موقف سننے کے لیے سماعت 23 جولائی تک ملتوی کر دی۔ یعنی وڈیو اسکینڈل اب اُس اعلیٰ ترین عدالتی فورم پر پہنچ چکا جس کا مطالبہ کیا جا رہا تھا اور جہاں اُس کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ ہو سکتا ہے۔

یہ بھی درست ہے کہ العزیزیہ کیس میں میاں نواز شریف کو دی جانے والی سزا مشکوک ہو چکی لیکن اس کے باوجود وہ اب بھی جیل میں پڑے ہیں۔ اسلام ہائیکورٹ نواز شریف کے کیس کو سالانہ چھٹیوں کے بعد ستمبر کے وسط میں سنے گی، جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر سپریم کورٹ اس معاملہ میں کچھ نہیں کرتی تو نواز شریف فیصلہ کے مشکوک ہونے کے باوجود ابھی جیل ہی میں رہیں گے۔ ہو سکتا ہے کہ وڈیو اسکینڈل کیس کی آئندہ سماعتوں میں سپریم کورٹ اس بارے میں کوئی ہدایت یا حکم نامہ جاری کرے لیکن اب جبکہ عدالت عظمیٰ کی طرف یہ کہہ دیا گیا ہے کہ وہ وڈیو اسکینڈل کے معاملہ پر کچھ نہ کچھ فیصلہ ضرور دے گی تو ضرورت اس امر کی ہے کہ عدالت نون لیگ اور مریم نواز صاحبہ کو طلب کرکے تمام وڈیوز کو اس کیس کا حصہ بنائے۔ یہ کام اس لیے ضروری ہے کیونکہ مریم نواز کے مطابق اُن وڈیوز جن کو ابھی پبلک نہیں کیا گیا، میں احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے کچھ ایسے افراد کے نام لیے ہیں جو مبینہ طور پر اُن پر دبائو ڈال رہے تھے کہ نواز شریف کے خلاف فیصلہ دو۔ جج ارشد ملک نے مِس کنڈکٹ کیا یا نہیں، یہ معاملہ میری نظر میں اُس الزام سے بہت چھوٹا ہے جس کے مطابق چند اہم ترین افراد نے نواز شریف کے خلاف فیصلہ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

یہ سپریم کورٹ کی صوابدید ہے کہ ابھی تک پبلک نہ ہونے والی وڈیوز کی رازداری کو قائم رکھا جائے یا اُنہیں اوپن عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے لیکن میرے ذرائع کے مطابق جو نام ان وڈیوز میں لیے گئے ہیں اور جس نوعیت کے اُن پر الزامات لگائے گئے ہیں، وہ انتہائی سنگین نوعیت کے ہیں، جسے عدالت عظمیٰ کو ہر حال میں دیکھنا چاہئے۔ اگر جج ارشد ملک سے متعلق یہ ثابت ہوتا ہے کہ اُنہوں نے دبائو میں آ کر نواز شریف کو سزا دی تو پھر اصل سچ تو یہ سامنے آنا چاہئے کہ وہ کون کون افراد تھے اور اُن کا کن کن اداروں سے تعلق تھا جنہوں نے اپنی مرضی کا فیصلہ کروانے کے لیے یہ سارا کھیل کھیلا۔ جو نام مبینہ طور پر ابھی تک پبلک نہ ہونے والی وڈیوز میں لیے گئے وہ میری معلومات کے مطابق بہت اہم ہیں اور اُن کا تعلق ایک قومی آئینی ادارہ سے ہے۔ اگر دبائو کا الزام ثابت ہو جاتا ہے تو اصل چیلنج اُن افراد کو سزا دینا ہوگا جنہوں نے مبینہ طور پر جج ارشد ملک پر دبائو ڈال کر اپنی مرضی کا فیصلہ کروایا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں