51

کلبھوشن کیس کے فیصلے کی آسان الفاظ میں وضاحت – ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

بھارت اور پاکستانی میڈیا کی چیخ و پکار سے پریشان کئی لوگ پوچھ رہے ہیں کہ فیصلے کا مطلب کیا ہوا؟ کون جیتا؟ کون ہارا؟ جو لوگ قانونی پیچیدگیوں میں پڑے بغیر اس فیصلے کو سمجھنا چاہتے ہیں، ان کےلیے چند نکات پیشِ خدمت ہیں:

1۔ پاکستان کا مؤقف تھا کہ عدالت کے پاس اختیارِ سماعت نہیں ہے۔ عدالت نے یہ مؤقف مسترد کردیا۔ یہ پوائنٹ بھارت کو مل گیا۔ (واضح رہے کہ عدالت کے اختیارِ سماعت پر اعتراض مدعا علیہ ویسے ہی کرتا ہے چاہے اسے یقین ہو کہ عدالت اسے نہیں مانے گی۔)

2۔ بھارت کا پہلا مطالبہ یہ تھا کہ عدالت کلبھوشن کو رہا کرنے کا حکم دے۔ عدالت نے یہ مطالبہ مسترد کر دیا۔ یہ پوائنٹ پاکستان کو مل گیا۔ واضح رہے کہ بھارت کو بھی اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ مطالبہ ماننا قانوناً عدالت کے اختیار میں ہی نہیں ہے، اور اس پر میں دو سال قبل تفصیل سے لکھ چکا ہوں جسے اس لنک پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے

3۔ تو دونوں فریقوں کے “خواہ مخواہ کے مطالبات” عدالت نے مسترد کر دیے اور یہاں تک سکور برابر رہا۔

4۔ بھارت کا دوسرا مطالبہ یہ تھا کہ عدالت قرار دے کہ کلبھوشن کو قونصلر رسائی نہ دے کر پاکستان نے ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کی ہے۔ عدالت نے یہ مطالبہ تسلیم کرلیا۔ یہ پوائنٹ بھارت کو مل گیا۔

5۔ بھارت کا تیسرا مطالبہ یہ تھا کہ عدالت قرار دے کہ قونصلر رسائی نے دینے کی بنا پر کبھوشن کو دی گئی سزا کو ختم کردے۔ عدالت نے یہ مطالبہ مسترد کردیا۔ یہ پوائنٹ پاکستان کو مل گیا اور یہ بہت اہم پوائنٹ ہے۔

6۔ پاکستان کا مؤقف تھا کہ کلبھوشن کے پاس رحم کی اپیل کا راستہ بھی موجود ہے اور ہائی کورٹ و سپریم کورٹ کے فورمز بھی دستیاب ہیں۔ عدالت نے اسے ناکافی قرار دیا اور قرار دیا کہ کلبھوشن کو قونصلر رسائی دے اور اس کے بعد اس فیصلے پر مناسب نظر ثانی کرے۔ یہ پوائنٹ بھارت کو مل گیا لیکن اس سے وہ کوئی خاص فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں: 22 ۔ جولائی کی عمران، ٹرمپ ملاقات – نصرت جاوید
7۔ یہ نظرثانی کیسے کی جائے؟ اس کے لیے عدالت نے کوئی خاص طریقہ مقرر نہیں کیا بلکہ معاملہ پاکستان پر چھوڑ دیا۔ یہ پوائنٹ پھر پاکستان کو مل گیا اور اس نے توازن کو مکمل طور پر پاکستان کے حق میں کردیا۔

8۔ نتیجہ کیا ہوا؟ چار نکات نوٹ کرلیں: الف۔ کلبھوشن بدستور پاکستان کے پاس رہے گا۔ ب۔ بھارت کو قونصلر کو کلبھوشن تک رسائی دی جائے گی۔ ج۔ فیصلے پر نظرثانی کی جائے گی جس کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ کیس نئے سرے سے شروع سے سنا جائے۔ د۔ تاہم اگر نئے سرے سے شروع سے بھی سنا جائے تو کلبھوشن کے خلاف دستیاب شواہد کی بنا پر مجھے امید نہیں کہ قونصلر رسائی اور نظرثانی کے بعد فیصلہ تبدیل ہوسکے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں