52

اللہ کے متعلق جاننا سب سے افضل اور نفع بخش ترین علم ہے-خطبہ جمعہ بیت اللہ

خطبہ جمعۃ المبارک 9 ذو القعدہ 1440ھ بمطابق 12 جولائی2019ء
مسجد حرام کے امام وخطیب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیصل بن جمیل غزاوی
عنوان: اللہ کے متعلق جاننا سب سے افضل اور نفع بخش ترین علم ہے۔
خطبے کے اہم نکات
1/ نفع بخش علم وہ اہم چیز ہے جسے ہر مسلمان حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ 2/ اللہ کے متعلق جاننا افضل ترین علم ہے۔ 3/ انسان جتنا اللہ کو جانے گا، اتنا ہی اس کا ایمان مضبوط ہو گا۔ 4/ اللہ کے متعلق جہالت مسلمان کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ چیز ہے۔ 5/ الحاد اور دینیت کا راستہ بند کرنے کی ضرورت۔ 6/ مادیت پرستی میں پریشانیاں ہی ہوتی ہیں۔ 7/ حرام مہینوں کی حرمت۔
اقتباس
یہ بات تو طے ہے کہ اللہ تعالیٰ کے متعلق معلومات رکھنا انتہائی اہم ہے اور اس سے حاصل ہونے والے ثمرات انتہائی شان دار ہیں، مگر ذہن میں اٹھنے والا اہم سوال جس میں ہمیں ہر وقت مصروف رہنا چاہیے، وہ یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے متعلق علم کس طرح حاصل کریں؟ اس سوال کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم کی آیات پر تدبر کیا جائے، اس کے ناموں اور اس کی صفات پر غور کیا جائے،
پہلا خطبہ
ہر طرح کی تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے۔ وہی صفات کمال والا ہے۔ وہی واحد ہے جو تمام جلال وجمال کی صفات سے متصف ہے۔ میں اللہ پاک کی ایسی حمد وثنا بیان کرتا ہوں جو اس کے چہرۂ اقدس اور عظیم سلطنت کے شایان شان ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کی الوہیت میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس کی ربوبیت میں اس کا کوئی مد مقابل نہیں۔ اس کی اسماء وصفات میں اس کا کوئی ہم پلہ نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ کو سب سے زیادہ جاننے والے تھے۔ اللہ کے حق کو سب سے بڑھ کر پہچانتے تھے۔ اللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہو آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل پر اور صحابہ کرام پر، آپ ﷺ کے بتائے ہوئے راہِ ہدایت پر چلنے والوں پر اور قیامت تک آپ ﷺ کے طریقہ پر عمل کرنے والوں پر۔
بعدازاں! اللہ کے بندو! اللہ سے یوں ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے! اس کی عبادت یوں کرو جیسے تم اس کو دیکھ رہے ہو۔ بہترین طریقے سے اس کی عبادت کرو۔ کبھی اپنی عاقبت اور آخرت کو نہ بھولو۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو، اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اُس نے کل کے لیے کیا سامان کیا ہے اللہ سے ڈرتے رہو، اللہ یقیناً تمہارے اُن سب اعمال سے باخبر ہے، جو تم کرتے ہو﴾ [الحشر: 18]۔
اے مسلمانو! اہل ایمان جن چیزوں کے طالب ہوتے ہیں، ان میں اولین چیز علم نافع ہے۔ نبی اکرم ﷺ بھی اللہ تعالیٰ سے علم کا سوال کرتے تھے، دعا کرتے تھے: ’’اے اللہ! میں تجھ سے نفع بخش علم کا سوال کرتا ہوں‘‘، اسی طرح یہ دعا بھی کرتے: ’’اے اللہ! جو علم تو نے مجھے دیا، مجھے اس سے فائدہ پہنچا‘‘ مجھے ایسا علم سکھا جو مجھے فائدہ پہنچائے اور مجھے مزید علم عطا فرما!‘‘، ان دونوں حدیثوں سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ صرف نفع بخش علم ہی کا سوال کرنا چاہیے۔ ان میں امت کو یہ سبق بھی سکھایا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ایسے علم کا سوال کریں جو انہیں فائدہ بھی پہنچائے، بلکہ ایک حدیث صریح الفاظ میں بھی یہ حکم دیا گیا ہے۔ فرمایا: ’’اللہ سے نفع بخش علم کا سوال کیا کرو‘‘مؤمن کو نفع بخش علم کی دعا پر اکتفا نہیں کرنی چاہیے، بلکہ علم میں اضافے کا سوال کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (اور دُعا کرو کہ اے پروردگار مجھے مزید علم عطا کر) [طٰهٰ: 114]یعنی: اے میرے پروردگار! میرے موجودہ علم کے ساتھ مجھے مزید علم عطا فرما! یہاں اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو یہ حکم کہ وہ اللہ تعالیٰ علم کہ وہ علم کے وہ فائدے سکھائے جو انہیں معلوم نہیں۔ علم کے علاوہ کسی اور چیز میں اضافے کی دعا کرنے کا حکم نہیں دیا۔ یہ علم کی فضیلت کی واضح دلیل ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ علم حاصل کرنا افضل ترین عبادت ہے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ اپنے آخری دن تک علم میں اضافے کے طالب رہے۔
اے مسلمانو! افضل ترین علم اللہ کے متعلق جاننا ہے۔ ابن رجب ﷫ فرماتے ہیں: ’’افضل ترین علم، اللہ کے متعلق جاننا ہے، اللہ کے متعلق جاننے سے مراد یہ ہے کہ اس کے نام جانے جائیں، اس کی صفات اور اس کے کام جانے جائیں۔ ان کے جاننےسے انسان اللہ کو پہچان لیتا ہے، اس سے ڈرنے لگتا ہے، اس سے محبت کرنے لگتا ہے، اس کا احترام کرنے لگتا ہے، اس کا اجلال اور اس کی تعظیم کرنے لگتا ہے، اس کے سامنے عاجزی ظاہر کرنے لگتا ہے اور اسی پر توکل کرنے گلتا ہے، اس سے راضی ہو جاتا ہے، مخلوق سے بے نیاز ہو کر اللہ کے ساتھ لگ جاتا ہے‘‘، ابن تیمیہ ﷫ فرماتے ہیں: ’’اللہ کے متعلق جاننے سے دو قسم کے علم مراد ہیں: ایک یہ کہ اس کی ذات کے متعلق جاننا۔ یعنی: جلالت اور عظمت کی صفات جانی جائیں جس سے وہ متصف ہے۔ اس کے پیارے ناموں کے معانی بھی جانے جائیں۔ جب یہ علم دل میں راسخ ہو جاتا ہے تو یقینی طور پر دل میں خشیتِ الٰہی آ جاتی ہے۔ اس علم کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کو یقین ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرمان برداری پر ثواب دیتا ہے، اور نافرمانی پر سزا بھی دیتا ہے۔ دسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ کے شرعی احکام کو جانا جائے، یہ جانا جائے کہ اس سے کس چیز کا حکم دیا ہے، کس چیز سے منع کیا ہے، کیا حلال کیا ہے اور کیا حرام کیا ہے‘‘، ابن القيم ﷫ فرماتے ہیں: ’’اللہ کے متعلق جاننا، ہر علم کی جڑھ ہے، سعادت کی راہ معلوم کرنے کی بنیاد ہے، دنیا وآخرت میں کامیابی کا ذریعہ معلوم کرنے کا راستہ ہے، اگر اللہ کے متعلق علم نہ ہو، تو انسان نہ خود کو بھی نہیں پہچان پاتا، اپنی مصلحت اور بہتری کا راستہ بھی نہیں جان پاتا، اپنے نفس کے تزکیے اور کامیابی سے بھی غافل رہتا ہے۔ علم ہی میں انسان کی سعادت ہے، جبکہ جہالت ہی میں انسان کی بدبختی ہے۔ لوگوں کو کامیابی، سعادت اور نعمتیں کبھی نہیں مل سکتیں، جب تک وہ اپنے پروردگار کو پہچان نہ لیں، اسی کی خوشنودی ان کا بقصد نہ بن جائے، اسے پہچاننا ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک نہ بن جائے۔ اگر یہ صفات لوگوں میں نہ آ سکیں، تو وہ جانوروں سے بھی بد تر بن جاتے ہیں، اور جانور دنیا کی زندگی میں بھی ان سے بہتر ہوں گے اور عاقبت کے لحاظ سے بھی کامیاب ہوں گے‘‘۔
اے مسلمانو! انسان کا ایمان بھی اتنا ہی ہو گا جتنا وہ اللہ کو پہچانے گا۔ جتنا وہ اپنے پروردگار کو پہچانے گا، اتنا اس کا ایمان بڑھ جائے گا۔ جتنی پہچان کم ہو گی، ایمان بھی اتنا ہی کم ہو گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’سب سے زیادہ پرہیزگار اور اللہ کو سب سے زیادہ پہچاننے والا میں ہی ہوں‘‘، اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان اللہ کو جتنا زیادہ پہچاننے والا ہو گا، اتنا ہی اس کا دین مضبوط ہو گا۔ نبی اکرم ﷺ سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کو پہچاننے والے تھے، اللہ کے متعلق ان کا علم سب سے بہتر تھا۔ آپ ﷺ کا علم بھی اسمائے الٰہی اور صفات باری تعالیٰ کی تفصیلات جاننے سے ہی ہوا تھا۔ آپ ﷺ نے اللہ کے کاموں اور اس کے احکام کو خوب جانا تھا۔ اس کی عظمت اور اس کی کبریائی کو جانا تھا۔ آپ کو معلوم تھا کہ وہ کتنے اجلال، احترام اور اکرام کا حقدار ہے۔ نبی اکرم ﷺ کا علم یقین پر مبنی تھا، جب آپ ﷺ نے اپنے پروردگار کو خوب پہچان لیا تو آپ ﷺ کی خشیت اور پرہیزگاری مزید بڑھ گئی، کیونکہ جب علم کامل ہو جاتا ہے تو خشیت خود بہ خود آ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (اللہ کے بندوں میں سے صرف علم رکھنے والے لوگ ہی اُس سے ڈرتے ہیں) [فاطر: 28]، احمد انطاکی ﷫ کہتے تھے: ’’جو اللہ کو زیادہ جانتا ہے، وہ اس سے زیادہ ڈرتا ہے‘‘، تو جو شخص اللہ کے ناموں، اس کی صفات، اس کے کاموں اور اس کے احکام کو خوب جانتا ہے، وہ اس سے مزید ڈرتا ہے اور مزید پرہیزگار بن جاتا ہے۔ انسان جتنا اللہ سے ناواقف ہوتا ہے، اتنا ہی اس کی خشیت اور پرہیزگاری میں کمی ہوتی ہے۔
اے مسلمانو! اللہ کے بارے میں علم رکھنا اور اس کی عبادت کرنا دو لازم ومتلازم چیزیں ہیں۔ دونوں ایک دوسرے سے کبھی علیحدہ نہیں ہوتیں، یہ دونوں چیزیں بذات خود قابل طلب ہیں، یہ دونوں خود ہی بہترین زندگی کا مقصد ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک دوسرے کی جگہ نہیں لے سکتا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (پس اے نبیؐ، خوب جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے، اور معافی مانگو اپنے قصور کے لیے) [محمد: 19]، فرمایا: خوب جان لو، یعنی یہاں علم حاصل کرنے کا حکم دیا، معافی مانگو، یہاں عمل کرنے کا حکم دیا۔
اللہ کے حکم کو جاننے کا معنیٰ یہ ہے کہ اس کے حدود، اس کی شریعت کے احکام اور حلال وحرام کو جانا جائے اور یہ چیزیں جاننے کے لیے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کے متعلق علم حاصل کرنے کی تڑپ موجود ہو۔ کیونکہ جب بندہ اللہ تعالیٰ کو جان لیتا ہے، تو وہ اسے راضی کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کے احکام پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے احکام کو جاننے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اس کی فرمان برداری کرے اور اسے ناراض کرنے والی چیزوں سے بچے۔ اس طرح اللہ کے احکام کو جاننے سے اللہ تعالیٰ کو بھی جانا جا سکتا ہے۔ اگر یہی علم اللہ کے لیے نہیں، بلکہ کسی دنیاوی مفاد کے لیے حاصل کیا جائے تو یقینًا یہ علم وبال بن جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو کوئی ایسا علم دنیا کا مفاد حاصل کرنے کے لیے سیکھتا ہے جسے سیکھنے کا مقصد اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہونا چاہیے، تو وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو تک نہ پا سکے گا‘‘ (اسے امام ابو داؤد، امام ابن ماجہ اور امام احمد نے روایت کیا ہے)۔
امام اوزاعی ﷫ فرماتے ہیں: ’’ایک شخص نے سیدنا ابن مسعود سے پوچھا: ’’کون سا عمل افضل ہے؟ انہوں نے کہا: علم حاصل کرنا۔ اس شخص یہ سوال تین مرتبہ کیا مگر انہوں نے یہی جواب دیا کہ علم حاصل کرنا۔ پھر انہوں نے کہا: تجھ پر افسوس ہے! اللہ کو پہچان لو گے کے تو عمل تھوڑا ہو یا زیادہ، وہ تیرے کام ضرور آئے گا۔ اللہ کو پہچان ہی نہ پائے تو عمل تھوڑا کرو یا زیادہ، تجھے اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا‘‘۔
اللہ کے بندو! سب سے بہتر علم، جو انسان کو دنیا وآخرت میں فائدہ پہنچاتا ہے، وہ اللہ کے متعلق جاننا ہے، اسی طرح جہالت کی بد ترین شکل، اللہ سے اور اللہ کے اس دین سے ناواقفیت ہے جو اس نے اپنے بندوں کے لیے پسند فرمایا ہے۔ جو دین درست کرنے والی اور رب کی عبادت سکھانے والی شرعی علوم کو سیکھنے میں اپنی عقل کو نہیں لگاتا، وہ تو بہت بڑا جاہل ہے چاہے وہ دنیاوی علوم میں سب سے آگے کیوں نہ ہو۔ کیونکہ لوگوں کے لیے سب سے زیادہ نقصان دے چیز یہ ہے کہ انہیں یہی معلوم نہ ہو کہ کونسی چیز ان کے لیے فائدہ مند ہے، کون سی نقصان دے ہے، اور کون سی چیز انہیں اللہ تعالیٰ کے قریب کرتی ہے۔ یقینًا! ایمان، فرمان برداری اور رسولوں کی اتباع ہی لوگوں کو اللہ کے قریب کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ علم اور اہل کی تعریف فرمائی اور جہالت اصحاب جہالت کی مذمت کی۔ بتایا کہ اہل علم اور جہل کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔ فرمایا: (اِن سے پوچھو، کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے دونوں کبھی یکساں ہو سکتے ہیں؟ نصیحت تو عقل رکھنے والے ہی قبول کرتے ہیں) [الزمر: 9]۔
اللہ کے بارے میں کچھ نہ جاننا، اس کے دین کو نہ جاننا، قیامت کے دن ہونے والے حساب کتاب سے ناواقف ہونا تو ایسی مصیبتیں ہیں جو انسان کو حق کی پیروی سے روکتی ہیں، حرام چیزوں اور گناہوں کی دھکیلتی ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ کما حقہ پہچان لیتا ہے، اس کی کامل صفات اور مکمل قدرت پر یقین کر لیتا ہے اسے اللہ تعالیٰ عبادت کے شرک سے محفوظ فرما لیتا ہے، کیونکہ اس شرک میں وہی مبتلا ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو کما حقہ پہچان ہی نہیں پاتا۔ اللہ تعالیٰ ان اپنے ایسے بندوں کی مذمت کی ہے جو اس کی قدر نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (اِن لوگوں نے اللہ کی قدر ہی نہ پہچانی جیسا کہ اس کے پہچاننے کا حق ہے واقعہ یہ ہے کہ قوت اور عزت والا تو اللہ ہی ہے) [الحج: 74]مشرکین اللہ کی قدرت پر ایمان ہی نہیں رکھتے تھے، اسی لیے انہیوں اللہ صحیح انداز میں قدر ہی نہیں کی۔
اے مسلمانو! لا دینیت کی لہر دنیا میں پھیل گئی ہے- اس عقیدے نے بہت سے مددگار پا لیے یہاں تک کہ یہ مسلمانوں کے ملکوں میں بھی داخل ہو گیا۔ یہ بالخصوص نوجوانوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ ایسے دلوں پراثر انداز ہو رہا ہے جو اللہ کے متعلق نہیں جانتے۔ ایسے نفوس پر حملہ کر رہا ہے جن میں اللہ کی پہچان ابھی نہیں بیٹھی۔ یہ عقیدہ ایسے لوگون کی عقلوں اور فکروں میں داخل ہو گیا ہے اور وہ پریشانی اور حیرت میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ بلکہ ان میں سے بعض نے تو پروردگار کا انکار ہی کر دیا اور عبادات چھوڑ دی ہیں۔ مسلمان معاشرے سے کٹ گئے ہیں۔ اغیار کی ثقافت اپنا چکے ہیں، جو بذات خود شک کی بنیاد پر قائم ہے اور اسلامی ثقافت کی دشمن ہے۔ اس لہر کے پھیلنے سے اہل علم کے سر پر ایک عظیم ذمہ داری آئی ہے کہ وہ امت کو نصیحت کریں اور حق کی نصرت کریں۔ اس لہر کا مقابلہ کرنے میں اپنا فرض ادا کریں، تاکہ اس فکر کا نام لینے والوں کی کوششیں راکھ میں مل جائیں، ان کی حقیقت کھل جائے۔ یہ لا دینیت اور الحاد پھیلانے والے نوجوان بچوں اور بچیوں اور اپنا ہدف بناتے ہیں، ہمیں ڈر ہے کہ ہمارے نوجوان ان کے فتنے میں مبتلا نہ ہو جائیں، ان کا خطرہ دوسرے اہل باطل کے خطرے سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ لوگ الحاد پھیلانے کے لیے لیے تمام حربے استعمال کرنے میں کوئی تامل نہیں کرتے اپنے مذموم مقصد کے لیے مختلف طریقے اپناتے ہیں۔ اس لیے ان کا نقصان زیادہ ہے، ان کی تاثیر زیادہ ہے۔
یہاں یہ بات کرنا بھی مناسب ہے کہ الحاد کی افکار اپنانے سے انسان اپنی فطرت اور دینداری سے الگ ہو جاتا ہے، منہج حق سے بھی دور ہو جاتا ہے جس کے لیے پروردگار نے ہمیں پیدا فرمایا ہے۔ ہر مسلمان کو اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ وہ توحید کی بنیادیں اپنے دل میں راسخ کر لے۔ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے متعلق جاننے کی بہترین شکل ہے، بلکہ یہ دین کی بنیاد ہے۔ توحید ربوبیت کے کئی مسائل سے ہمارے بہت سے مسلمان بھائی نا واقف ہیں۔
اسلامی بھائیو! جن لوگوں نے اسلامی عقیدہ نہیں سیکھا، اس اصول اچھی طرح نہیں جانے اور جن کے دلوں میں اللہ کی تعظیم کم ہے، انہیں آج لا دینیت کی خطرناک موجوں کا سامنا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اپنے آپ کو، اپنے معاشرے کو اور اپنے نوجوانوں کو اس عظیم خطرے سے بچائیں۔ کفر سے محفوظ رکھیں۔ عقیدے کے مسائل دلوں میں راسخ کریں۔ توحید ربوبیت کے دلائل تفصیل کے ساتھ جانیں۔ اللہ کے وجود کے دلائل جان لیں۔ لوگوں کے لیے یہ مسائل آسان زبان میں بیان کریں، تمام لوگوں کو یہ اصول سکھائیں۔ تاکہ لوگوں کے دل شرک اور شک سے محفوظ ہو جائیں۔ گمراہ کرنے والوں کے شکوک وشبہات ان پر اثر انداز نہ ہوں۔ اصلاح کرنے والوں کی ذمہ داری یہ ہے کہ جب ایسی آیات پڑھیں جن میں اللہ کا ذکر ہو اور اس کی عظمت کا بیان ہو، تو وہ ان کے ذریعے دلوں پر رقت طاری کریں۔ توحید ربوبیت کو مناسب اہمیت نہ دینے سے لا دینیت کی لہر زور پکڑ سکتی ہے اور لوگ وجود باری تعالیٰ کا انکار کر سکتے ہیں۔
میں اپنی بات اسی پر ختم کرتا ہوں۔ اپنے لیے اور آپ کے لیے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتا ہوں۔ یقینًا! وہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

دوسرا خطبہ
ہر طرح کی تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے۔ وہی زندہ وجاوید ہے۔ اس نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا۔ اس کی بادشاہت میں کوئی شریک نہیں ہے۔ وہ عاجز نہیں ہے کہ اسے کسی مددگار کی ضرورت ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ بہترین ناموں والا ہے، صفات عالیہ سے متصف ہے۔ وہم وخیال بھی اس تک نہیں پہنچ سکتا، وہ تمام خیالات سے بالا تر ہے۔ اس کا مشابہ نہیں۔ وہ ظالموں کی باتوں سے بہت بلند ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ مخلوق میں افضل ترین ہیں۔ سب سے بڑھ کر اللہ سے ڈرنے والے اور پرہیز گار ہیں۔ اللہ کی رحمتیں ہوں آپ ﷺ پر، اہل بیت پر اور صحابہ کرام پر۔ ایسی رحمتیں اور سلامتیاں جو قیامت تک دائم رہنے والی ہوں۔
بعدازاں! اللہ کے بندو! جو اللہ کو جان لیتا ہے، تو کیا کوئی ایسی چیز ہے جس سے وہ بھی ناواقف ہو؟ اور جو اللہ کو بھی نہیں جانتا، وہ کسی چیز کو کیا جانے گا؟ ابن القيم ﷫ فرماتے ہیں: ’’جو اللہ اور اس کے رسولوں کو نہیں جانتا، وہ کسی اور چیز کو کیا جانے گا؟ جس سے یہ حقیقت بھی مخفی رہ جائے، وہ اور کس حقیقت کو جانے گا؟ جو اللہ کے متعلق علم رکھنے اور اس کی خوشنودی کے لیے عمل کرنے سے محروم رہ گیا، وہ کیا رکھے گا اور کیا عمل کرے گا؟ جو اس کی طرف جانے والے راستے سے ناواقف رہا، وہ کس راستے سے واقف ہو گا؟ اور جو آخرت سے بے خبر رہا اسے کس چیز کی خبر ہو گی؟
اگر لوگوں کے دل اللہ کی معرفت اور اس کی تعظیم سے متحرک نہ ہوں، تو فساد ان پر غالب آ جائے گا اور گندگی انہیں اپنی لپیٹ میں لے لے کی۔ جو دل اللہ کو نہیں پہچانتا، وہ دل کس چیز کا ارادہ رکھے گا؟
جب انسان مادیت پرستی میں مبتلا ہو جاتا ہے، اپنے نفس کو اللہ کی یاد نہیں دلاتا، تو یقینًا! وہ ہم، غم اور پریشانیوں میں مبتلا ہو جائے گا اور توفیق سے دور ہو جائے گا، بلکہ زندگی کی لذت سے محروم ہو جائے گا۔ اس زندگی میں کیا لذت ہو گی جس میں اللہ کا نام نہ ہو؟ جس میں اللہ کی طرف جانے والے راستوں سے غفلت ہو۔
یہ بات تو طے ہے کہ اللہ تعالیٰ کے متعلق معلومات رکھنا انتہائی اہم ہے اور اس سے حاصل ہونے والے ثمرات انتہائی شان دار ہیں، مگر ذہن میں اٹھنے والا اہم سوال جس میں ہمیں ہر وقت مصروف رہنا چاہیے، وہ یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے متعلق علم کس طرح حاصل کریں؟ اس سوال کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم کی آیات پر تدبر کیا جائے، اس کے ناموں اور اس کی صفات پر غور کیا جائے، انہیں سیکھا جائے، ان کے معانی پر غور وفکر کیا جائے اور اسمائے حسنیٰ اور صفات عالیہ کے ثمرات کو جانا جائے، اسی طرح کثرت سے عبادت کی جائے، بالخصوص تدبر کی عبادت کی جائے اور مختلف عبادتوں کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔
اللہ کے بندو! ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ کے متعلق جاننا اور اس کی عبادت کرنا، وہ بڑے مقاصد ہیں کہ جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ میں اپنا گھر بنایا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (خدا نے عزت کے گھر (یعنی) کعبے کو لوگوں کے لیے موجب امن مقرر فرمایا ہے اور عزت کے مہینوں کو اور قربانی کو اور ان جانوروں کو جن کے گلے میں پٹے بندھے ہوں یہ اس لیے کہ تم جان لو کہ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے خدا سب کو جانتا ہے اور یہ کہ خدا کو ہر چیز کا علم ہے) [المائدہ: 97]، یہاں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ اس نے مخلوق کو پیدا کیا، اپنا گھر تعمیر کیا، محترم مہینے بنائے، قربانی کی عبادت سکھائی اور جانوروں کے گردنوں کے پٹے بنائے، تاکہ لوگ جان لیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ فرمایا: (خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ایسی ہی زمینیں۔ ان میں (خدا کے) حکم اُترتے رہتے ہیں تاکہ تم لوگ جان لو کہ خدا چیز پر قادر ہے۔ اور یہ کہ خدا اپنے علم سے ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے) [الطلاق: 12]اس سے معلوم ہوا کہ مخلوق ‎پیدا کرنے اور احکام نازل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ بندے اپنے پروردگار کو اس کی صفات کے ساتھ جان لیں۔
جو اللہ تعالیٰ کو ٹھیک طرح پہچان لیتا ہے وہ اس کی قدر بھی کرتا ہے، اس کی تعظیم بھی کرتا ہے اور ان چیزوں کی تعظیم بھی کرتا جنہیں اللہ تعالیٰ نے محترم ٹھہرایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (اور جو شخص ادب کی چیزوں کی جو خدا نے مقرر کی ہیں عظمت رکھے تو یہ (فعل) دلوں کی پرہیزگاری میں سے ہے) [الحج: 32]، جو ایسی چیزوں کی تعظیم کرتا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے محترم ٹھہرایا ہے، تو اس کا یہ عمل اس کی پرہیزگاری اور ایمان کی درستی کی دلیل ہے۔ کیونکہ ان کی تعظیم اللہ تعظیم واجلال کا حصہ ہے۔
اللہ کے بندو! جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے چنا ہے اور جنہیں فضیلت عطا فرمائی ہے، جن کی تعظیم ہے اور جنہیں دوسروں اسے بہتر قرار دیا ہے، ان میں محترم مہینے بھی شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (خدا کے نزدیک مہینے گنتی میں (بارہ ہیں یعنی) اس روز (سے) کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ کتاب خدا میں (برس کے) بارہ مہینے (لکھے ہوئے) ہیں۔ ان میں سے چار مہینے ادب کے ہیں۔ یہی دین (کا) سیدھا راستہ ہے۔ تو ان (مہینوں) میں (قتال ناحق سے) اپنے آپ پر ظلم نہ کرنا۔) [التوبہ: 36]حرام مہینے چار ہیں: ذو القعدہ،، ذو الحجہ، محرم اور رجب۔ ابن عباس اللہ کے فرمان کے بارے میں کہتے ہیں: (تو ان (مہینوں) میں (قتال ناحق سے) اپنے آپ پر ظلم نہ کرنا) [التوبہ: 36]: یعنی سال کے سارے ہی مہینوں میں، پھر خاص طور پر چار مہینوں کا ذکر کیا، اور انہیں محترم قرار دیا۔ ان کی حرمت کو بہت عظیم بنایا ۔ ان میں گناہ کو بھی زیادہ سنگین قرار دیا ان میں نیک عمل کا اجر بڑھا دیا، چنانچہ اللہ کو پہچاننے والے کو یہی زیب دیتا ہے کہ وہ اللہ کی کما حقہ تعظیم کرے۔ علاقہ اور وقت کی قدسیت کو مد نظر رکھے۔ اللہ کی حدود سے تجاوز نہ کرے۔ حرام کاموں سے دور رہے۔
اللہ آپ پر رحم فرمائے! درود وسلام بھیجو نبی رحمت بنا کر بھیجے جانے والے رسول، نعمت بنا کر مبعوث کیے جانے والے بنی پر کہ جنہوں نے ہمیں اللہ سے متعارف کرایا اور ہمیں ہمارے دین سکھایا۔ ﴿اللہ اور اس کے ملائکہ نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو﴾ [الاحزاب: 56]، اے اللہ! رحمتیں نازل فرما! محمد ﷺ پر اور آپ ﷺ کی آل پر، آپ ﷺ کی بیویوں اور آپ ﷺ کی نسل پر، جس طرح تو نے آل ابراہیم پر رحمتیں نازل فرمائی تھیں۔ اسی طرح برکتیں نازل فرما، محمد ﷺ پر اور آپ ﷺ کی بیویوں اور آپ ﷺ کی نسل پر، جس طرح تو نے آل ابراہیم پر برکتیں نازل فرمائی تھی۔ یقینًا! تو پڑا قابل تعریف اور پاکیزگی والا ہے۔
اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! کفر اور کافروں کو رسوا فرما! اے اللہ! اپنے موحد بندوں کی نصرت فرما! اپنے اور دین کے دشمنوں کو تباہ وبرباد فرما! اے اللہ! جو ہمارے ملک کا برا چاہے، اسے خود ہی میں مصروف فرما دے، اس کی چال اسی پر لوٹا دے۔ اے دعا سننے والے!اسی کی چال میں اسے ہلاک فرما دے۔ اے اللہ! سرزمین حرمین کی حفاظت فرما۔ مسلمانوں کی مقدسات کی ، برے لوگوں کی برائی سے اور چالبازوں کی چالوں سے حفاظت فرما! اسے کھیلنےوالوں کی کھیل سے، چال بازوں کی چالوں سے، زیادتی کرنے والوں کی زیادتی سے محفوظ فرما!
اے اللہ! اس ملک کو اور تمام مسلمان ممالک کو امن وسلامتی اور سکون وچین نصیب فرما! اے اللہ! ہمیں ہمارے ملکوں میں اور ہمارے گھروں میں امن نصیب فرما! ہمارے حکمرانوں اور اماموں کی اصلاح فرما! اے پروردگار عالم! ہماری حکمرانی ان لوگوں کے ہاتھوں میں دے جو تجھ سے ڈرنے والے، پرہیزگاری اپنانے والے اور تیری خوشنودی کے طالب ہوں۔
اے اللہ! ہمارے حکمران کو ان باتوں اور کاموں کی توفیق عطا فرما جن سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے۔ اے زندہ وجاوید! اسے نیکی اور پرہیزگاری کی طرف لا۔ اے اللہ! ہمارے ان کمزور بھائیوں کی مدد فرما جو تیری راہ میں جہاد کرتے ہیں اور سرحدوں کی پہرہ داری کرتے ہیں۔ اے اللہ!تو ان کا مدد گار، معین اور نصرت کرنے والا بن جا۔ اے اللہ! ہمیں ایسا علم سکھا جو ہمارے لیے فائدہ مند ہو۔ جو علم تو نے ہمیں سکھایا ہے، اس سے ہمیں فائدہ پہنچا۔ ہمیں بہترین اقوال واعمال کی توفیق عطا فرما! ہر طرح کی تعریف اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہی ہے۔
ترجمہ: محمد عاطف الیاس (پیغام ٹی وی ریسرچ ڈیپارٹمنٹ)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں