17

مشورہ اور استخارہ علامہ ابتسام الہٰی ظہیر (دین سے دنیا تک )

انسان کی زندگی مختلف ادوار سے گزرتی ہے اور اس دوران انسان کو بہت سے اہم فیصلے بھی کرنے پڑتے ہیں۔ ان فیصلوں سے قبل انسان؛ اگرچہ غوروفکرکرتا ہے اور اپنی بساط کے مطابق‘ بہترین فیصلہ کرنے کی کوشش کرتا ہے‘ لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ انسان کے بہت سے فیصلوں کے نتائج مثبت نہیں نکلتے۔ مثبت فیصلوں کے زندگی پر نہایت خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں‘ جب کہ منفی فیصلوں کے نتیجے میں انسان کو کئی مرتبہ نقصان اور پشیمانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کتاب و سنت کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انسان کو زندگی کے کسی بھی موڑ پر اہم فیصلہ کرنے سے قبل مشاورت اور استخارہ ضرور کرنا چاہیے۔ مشاورت کی اہمیت کو واضح کرنے کے لیے اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ شوریٰ کی آیت نمبر38 میں ارشاد فرماتے ہیں: ”اور (وہ لوگ) جنہوں نے اپنے رب کا حکم مانا اور ا نہوں نے نماز قائم کی ‘ اور ان کا کام آپس میں مشورہ کرنا ہے اور (اس) میں سے جو ہم نے انہیں رزق دیا ہے‘ وہ خرچ کرتے ہیں۔‘‘اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو اپنے امور میں ایک دوسرے کے ساتھ مشاورت کرنی چاہیے۔ مشاورت کے نتیجے انسان کو دوسرے انسانوں کی مجموعی عقل سے استفادہ کرنے کا موقع ملتا ہے ‘نتیجتاً انسان کے فیصلوں میں خطا کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔
نبی کریمﷺ کی حیات ِمبارکہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اپنے معاملات میں نبی کریمﷺ سے مشاورت کیا کرتے تھے۔اس حوالے سے دو اہم احادیث درج ذیل ہیں:
1۔ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓسے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خیبر میں ایک قطعہ زمین ملی تو آپ رسول کریمﷺکی خدمت میں مشورہ کیلئے حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے خیبر میں ایک زمین کا ٹکڑا ملا ہے‘ اس سے بہتر مال مجھے اب تک کبھی نہیں ملا تھا ‘ آپ اس کے متعلق کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر جی چاہے تو اصل زمین اپنے ملکیت میں باقی رکھ اور پیداوار صدقہ کر دے۔ ابن ِعمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو اس شرط کے ساتھ صدقہ کر دیا کہ نہ اسے بیچا جائے گا ‘ نہ اس کا ہبہ کیا جائے گا اور نہ اس میں وراثت چلے گی۔ اسے آپ نے محتاجوں کے لیے ‘ رشتہ داروں کے لیے اور غلام آزاد کرانے کے لیے ‘ اللہ کے دین کی تبلیغ اور اشاعت کے لیے اور مہمانوں کیلئے صدقہ ( وقف ) کر دیا اور یہ کہ اس کا متولی ؛اگر دستور کے مطابق ‘اس میں سے اپنی ضرورت کے مطابق ‘وصول کر لے یا کسی محتاج کو دے تو اس پر کوئی الزام نہیں۔
2۔سنن سنائی میں حدیث ہے کہ جاہمہ رضی اللہ عنہ ‘نبی اکرمﷺکے پاس آئے‘ اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں جہاد کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں‘ اور آپ کے پاس آپ سے مشورہ لینے کے لیے حاضر ہوا ہوں‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ان سے) پوچھا: کیا تمہاری ماں موجود ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں‘ آپ نے فرمایا: “انہیں کی خدمت میں لگے رہو۔‘‘
نبی کریم ﷺ کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد بھی مسلمان اہم معاملات میں باہم مشاورت کرتے رہے۔
1۔ صحیح مسلم میں سعید بن ابوسعید نے مہری کے آزاد کردہ غلام ابو سعید سے روایت کی وہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس حرہ کی راتوں میں آئے (یعنی جن دنوں مدینہ طیبہ پر حملہ کیا گیا) اور ان سے مشورہ کیا کہ مدینہ سے کہیں اور چلے جائیں اور ان سے وہاں کی گرانی نرخ ( مہنگائی ) اور کثرت عیال کی شکایت کی اور خبر دی کہ مجھے مدینہ کی محنت اور بھوک پر صبر نہیں آ سکتا۔ تو سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تیری خرابی ہو‘ میں تجھے اس کا مشورہ نہیں دوں گا ( کیونکہ ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ وہ فرماتے تھے: ” کہ کوئی شخص یہاں کی تکلیفوں پر صبر نہیں کرتا اور پھر مر جاتا ہے ‘ مگر یہ کہ میں قیامت کے دن اس کا شفیع یا گواہ ہوں گا‘ اگر وہ مسلمان ہو ۔ ‘‘
2۔صحیح مسلم میں مسور بن مخرمہ ؓسے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓنے لوگوں سے عورت کے پیٹ کا بچہ ضائع کرنے (کی دیت ) کے بارے میں مشورہ کیا تو حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓنے کہا : میں نبی ﷺکے پاس حاضر تھا ‘ آپ نے اس میں ایک غلام ‘ مرد یا عورت دینے کا فیصلہ فرمایا تھا ۔ کہا : تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا :میرے پاس ایسا آدمی لاؤ ‘جو تمہارے ساتھ ( اس بات کی ) گواہی دے ۔ کہا : تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے گواہی دی۔
ان احادیث مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کسی بھی اہم معاملے میںکوئی قدم اُٹھانے سے قبل مشورہ کیا کرتے تھے‘ اسی طرح احادیث مبارکہ سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ جس سے مشورہ کیا جائے‘ اس کو امانت دارہونا چاہیے۔ بدنیت اور حاسد سے مشاورت کرنے سے اعراض کرنا چاہیے۔ یہ بات خوابوں کے حوالے سے بھی اہمیت کی حامل ہے کہ خواب ایسے شخص کو بتانا چاہیے جو خیر خواہ ہو؛ چنانچہ قرآن مجید کے مطالعے سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ جب حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے خواب کو اپنے بابا حضرت یعقوب علیہ السلام کے سامنے پیش کیا تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے یہ بات کہی تھی کہ اے میرے بیٹے ! اپنے خواب کا تذکرہ اپنے بھائیوں کے ساتھ نہ کرنا؛ چنانچہ انسان کو کوئی بھی قدم اُٹھانے سے پہلے سمجھ دار لوگوں سے مشورہ کر لینا چاہیے‘ تاکہ مثبت نتیجے تک پہنچا جا سکے۔
مشورہ کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تبارک وتعالیٰ سے استخارہ کرنا‘ یعنی اس سے خیر کو طلب کرنا بھی‘ انسان کے لیے انتہائی مفید ہے۔ استخارے کے حوالے سے ایک اہم حدیث مبارکہ درج ذیل ہے :
”صحیح بخاری میں حضرت جابر بن عبداللہ سلمیٰ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺاپنے صحابہ کو ہر کام میں استخارہ کرنا سکھاتے تھے ‘جس طرح آپﷺ قرآن کی سورت سکھاتے تھے۔ آپﷺفرماتے کہ جب تم میں سے کوئی کسی کام کا مقصد کرے تو اسے چاہیے کہ فرض کے سوا دو رکعت نفل نماز پڑھے‘ پھر سلام کے بعد یہ دعاکرے اے اللہ میں تیرے علم کے طفیل اس کام میں خیر طلب کرتا ہوں ‘کیونکہ تجھے قدرت ہے اور مجھے نہیں ‘ تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا اور تو غیوب کا جاننے والا ہے۔ اے اللہ! پس؛ اگر تو یہ بات جانتا ہے (اس وقت استخارہ کرنے والے کو اس کام کا نام لینا چاہیے) کہ اس کام میں میرے دین اور گزران میں اور میرے ہر انجام کے اعتبار سے بھلائی ہے تو اس پر مجھے قادر بنا دے اور میرے لیے اسے آسان کر دے‘ پھر اس میں میرے لیے برکت عطا فرما دے۔ اے اللہ! اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے برا ہے۔ میرے دین یاگزران اور انجام کے اعتبار سے‘ تو مجھے اس کام سے دور کر دے اور میرے لیے بھلائی مقدر کر دے‘ جہاں بھی وہ ہو اور پھر مجھے اس پر راضی اور خوش رکھ۔‘‘
استخارہ کے حوالے سے اس بات کو مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ استخارہ حلال وحرام کے تعین یا فرائض کو ساقط کرنے یا کسی گناہ کے کام کے بارے میں فیصلہ کرنے کے حوالے سے نہیں ہوتا ہے‘ بلکہ استخارہ ان دنیاوی امور میں ہوتا ہے‘ جن کا تعلق انسان کی روزمرہ کی زندگی کے ساتھ ہوتا ہے اور انسان دو راستوں میں سے ایک راستے کو ترجیح دینا چاہتا ہے یا اپنے مستقبل کے حوالے سے رہنمائی کا طلب گار ہوتا ہے۔ حلال وحرام اور ارکان دین کے بارے میں وضاحت یا رہنمائی حاصل کرنے کے لیے ہمیں استخارہ کی بجائے کتاب وسنت کی طرف رجوع کرنا چاہیے ‘ جب کہ روزمرہ زندگی کے معاملات مثلاً کاروبار‘ شادی بیاہ یا تعلیم کے حوالے سے مشورے اور استخارے کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
استخارہ کرنے کے نتیجے میں انسان کے قلبی رجحانات کو اللہ تعالیٰ خیر کی طرف مائل فرما دیتے ہیں۔ بعض لوگ استخارہ کو خواب کے ساتھ مشروط کرتے ہیں۔ یہ بات درست نہیں ‘ استخارہ خواب کے ساتھ مشروط نہیں ہے‘ تاہم ؛اگر استخارہ کرنے والے کو استخارہ کے بعد کوئی واضح خواب آ جائے تو اُس پر عمل کیا جا سکتا ہے‘ اس لیے کہ مومن ومسلمان کا خواب بھی وحی کا چھیالیسواں حصہ ہوتا ہے اور خواب میں کسی خیر کا اشارہ مل جانا اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات سے بعید نہیں ہے۔ انسان اپنی زندگی میں بہت سے معاملات میں گو مگوں کا شکار رہتا ہے۔ ان معاملات میں تشویش سے نکلنے کے لیے مشورے اور استخارے کا راستہ بہترین راستہ ہے۔ اگر‘ انسان اس راستے پر عمل پیرا ہو جائے تو اس کو فیصلہ کرنے میں آسانی ہو سکتی ہے اور کتاب وسنت پر عمل پیرا ہونے کا موقع بھی مل سکتا ہے۔ بعض لوگ اپنی زندگی کے بڑے بڑے فیصلوں میں عجلت اور جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور مشاورت اور استخارہ کیے بغیر کام کر گزرتے ہیں ‘جس کی وجہ سے بعد ازاں کسی بڑے نقصان یا شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انسان کو اپنی زندگی کے بڑے فیصلے صبر اور تحمل سے کرنے چاہئیں اور ان فیصلوں کو کرنے سے قبل مشورہ اور استخارہ کا راستہ اختیار کرنا چاہیے‘ تاکہ درست نتیجے پر پہنچا جا سکے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو زندگی کے تمام معاملات میں درست فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں