22

بسلسلہ :کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو ہوا تھا (دوسرا حصہ )-ابوبکر قدوسی

بسلسلہ :کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو ہوا تھا (دوسرا حصہ )
..
کیا آپ ، رجل مسحور تھے ؟
..ازقلم ، ابوبکر قدوسی
………
منکرین حدیث کا ایک وار یہ ہوتا ہے کہ اگر نبی کریم پر جادو تسلیم کر لیا جائے تو یہ خلاف قرآن ہی نہیں بلکہ کفار جو ان پر طنز بو تشنیع کرتے تھے اس کو ایک مضبوط جواز مل جائے گا – یہ محض دھوکا ہے جو یہ احباب دیتے ہیں …اور اپنی اس دھوکہ دہی کا ان کو بھی معلوم ہوتا ہے لیکن ان کا مقصد نبی کریم کی ذات پر لگنے والے کسی الزام کی تطہیر نہیں ہوتی بخاری کا مذاق بنانا ہوتا ہے ..سو بار بار گرتے ہیں , منہ کی کھاتے ہیں لیکن ایسے “مستقل مزاج ہیں کہ
“بے مزہ نہیں ہوتے “-
مکے کے کفار کو جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت توحید دی تو ان کو حیرت بھی ہوئی اور اپنے معبودان باطلہ کی تکذیب کا دکھ بھی – سو اس دکھ میں اور آپ کے دلائل کا جواب نہ پتے ہووے انہوں نے آپ کو مسحور کہنا شروع کر دیا یعنی آپ پر کسی نے جادو کیا ہوا ہے ، کبھی آپ کو مجنوں کہتے اور کبھی یہ کہ نبی ہوتے تو ہماری طرح عام انسان ہی ہوتے – اس کی نفی میں اللہ نے قران کی آیات نازل فرمائیں -سورہ بنی اسرائیل میں ہے :
نَّحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَسْتَمِعُوْنَ بِهٓ ٖ اِذْ يَسْتَمِعُوْنَ اِلَيْكَ وَاِذْ هُـمْ نَجْوٰٓى اِذْ يَقُوْلُ الظَّالِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا (47)
ہم خوب جانتے ہیں جس غرض سے یہ سنتے ہیں جب یہ لوگ تیری طرف کان لگاتے ہیں اور جس وقت آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں جب یہ ظالم کہتے ہیں کہ تم محض ایسے شخص کا ساتھ دیتے ہو جس پر جادو کیا گیا ہے۔
کفار مکہ کے حوالے سے بیان کردہ اس موقف میں اللہ رب العزت ان کی نفی کر رہے ہیں ، لیکن اس سے یہ بات تو صاف ہو جاتی ہے کہ جو دعوت توحید آپ دیتے تھے وہ کسی سحر کے زیر اثر نہ تھی لیکن اس سے یہ کہاں ثابت ہوجاتا ہے کہ ایسا کبھی ہو بھی نہیں سکتا تھا – اگر ایسا ہوتا تو اللہ کو یہ کہنا کیا مشکل تھا کہ نبی پر جادو کا صدور ممکن ہی نہیں …اگر قران میں ایسا لکھا جاتا تو خود قران میں تضاد پیدا ہو جانا تھا ..جو ہم پیچھے لکھ آئے ہیں – تضاد یہ ہوتا کہ جب ایک جلیل القدر نبی موسی علیہ السلام پر جادو ہو سکتا ہے گو لمحے بھر کےلیے ہی کیوں نہ ہو ، تو نبی کریم پر کیوں ممکن نہیں ؟
سو اللہ نے اس بات کی تو نفی فرمائی کہ آپ “نبی مسحور ” تھے لیکن یہ نہ کہا کہ ایسا کبھی مستقبل میں بھی ممکن نہیں –
کفار مکہ نے جب آپ کو مجنون اور مسحور کہا تو آپ کو اس بات کا غم تھا ، خود اللہ تعالی کو اس بات پر ایسا غصہ آیا کہ آسمان سے نداء آ گئی
“وَمَا صَاحِبُكُم بِمَجْنُونٍ ” اور یہ صفائی پیش بھی اس سورہ میں کی گئی جس میں اللہ کا غضب اور جلال اپنے عروج پر ہے ، اپ قران اٹھا لیجئے ایسا انداز اور غضب آپ کو کہیں اور نہیں ملے گا ..لیکن اس مجنون اور مسحور کے الزام میں ایسے غضب کے اظھار کے باوجود اللہ نے اس بات کی نفی نہیں کی کہ ایسا ہونا ممکن نہیں –
مع5+مولی سا غور کیجئے تو اندازہ ہو جایے گا کہ اس امکان کے باقی رہنے کا سبب محض یہ ہے کہ جادو صرف ایک بیماری ہے اور بس …. سو جو انسان ہوتا ہے وہ بیمار ہو سکتا ہے ..فرض صرف یہی ہے کہ یہ بیماری کسی نہ کسی کی دشمنی کے سبب ہوتی ہے – رہے اس بیماری کے اثرات تو وہ بس اتنے تھے کہ آپ کے معمولات زندگی متاثر ہووے …جہاں تک دینی امور کا تعلق ہے کہ تو اسس کی حفاظت اللہ کے ذمے تھی ، سو ان معاملات میں ایسی کوئی خرابی نہ آئی – اور یہی بات تمام کتب حدیث اور تفاسیر میں مذکور ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں