42

“خفیہ تعلقات” بمقابلہ ” خفیہ شادی”-تحریر محمد عاصم حفیظ۔ شیخوپورہ

“خفیہ تعلقات” بمقابلہ ” خفیہ شادی”

( تحریر محمد عاصم حفیظ۔ شیخوپورہ )

لاہور کی عدالت نے دوسری شادی چھپانے پر شوہر کو گیارہ ماہ قید اور اڑھائی لاکھ جرمانہ کر دیا ۔ مقدمہ کرنیوالی پہلی بیوی کا شکوہ ہے کہ یہ “جرم کی نوعیت” کے حساب سے سزا کم سنائی گئی ہے ۔
یہ ہیں جی ارض پاک میں ناقابل معافی جرائم ۔۔ جن پر مغربی این جی اوز کی نظر ہو ۔ جو غیر ملکی ایجنڈے پر بنائے جائیں ۔۔
المیہ تو یہ بھی ہے کہ اگر وہ باقاعدہ شادی نہ کرتا اور صرف ” خفیہ تعلقات ” رکھتا تو ملک کا کوئی قانون اسکا کچھ نہ بگاڑ سکتا ۔۔ کیونکہ حدود آرڈیننس کے تحت یہ جرم نہیں رہا ۔۔ اس پر سزا سنانے کا طریقہ کار اتنا مشکل بنا دیا گیا ہے کہ ناممکن ہی ہے ۔
مطلب سیدھا سادا ہے کہ جو مغربی ایجنڈا ہے اس کے تحت “خفیہ تعلقات” رکھو لیکن دوسری شادی کی اجازت نہیں ۔ پہلی بیوی اجازت بھی دے تو مصالحتی کونسل کی اجازت کی شرط عائد ہے جو ملنا تقریبا ناممکن ہی سمجھیں ۔ اگر غلطی سے بغیر پوچھے شادی کر لی تو پھر قید اور بھاری جرمانہ ہے ۔
یہ ایک معاشرتی مسئلہ ہے ۔
یہ کیونکر سمجھ لیا گیا کہ مرد محض “عیاشی” کے لئے دوسری شادی کا سوچتے ہیں ۔ اگر انہیں عیاشی اور محض جنسی خواہش پوری کرنی ہو تو پھر تو بہت سے راہ مل جاتے ہیں ۔ کیا مرد کو کسی بھی قسم کا حق حاصل نہیں ۔
لیکن اگر غور کیا جائے تو بعض صورتوں میں یہ مرد کی ضرورت بن جاتی ہے ۔ مثلا بیوی کی معذوری ۔ کوئی لمبا عرصہ چلنے والی بیماری ۔ کوئی ایسی بیماری کہ جس کے بعد باہمی تعلقات رکھنا ہی ناممکن ہو ۔ بعض اوقات بیوی کا ناراض ہو کر سالوں تک میکے رہنا ۔ بے اولادی کا روگ جب کوئی صورت ہی نہ رہے ۔ بہت سی ایسی وجوہات بن جاتی ہیں ۔
ایسی صورتوں میں مرد کے لئے کیا کوئی صورت نکلتی ہے ؟؟ دوسری جانب طلاق کو تو جیسے پروموٹ کیا جا رہا ہے ۔ اگر کسی بھی صورت میں دوسری شادی کی اجازت نہ رہے تو اسکا نتیجہ پھر طلاق میں اضافہ ہی نکلے گا اور یہی ہو رہا ہے ۔ طلاق کی شرح بڑھ رہی ہے ۔ جب پہلی بیوی اجازت نہ دے ۔ مصالحتی کونسل کو منانا مشکل ہو تو پھر مرد کو طلاق پر اکسایا جا رہا ہے ۔ اسی طرح اگر بغیر بتائے کر لی ۔ پہلی بیوی نے جیل کرادی لاکھوں کا جرمانہ کرا دیا تو کیا وہ اپنی شادی بچا پائے گی ۔ کیا وہ شوہر کیساتھ باقی زندگی گزار سکے گی ۔ ظاہر ہے ایسا ناممکن نظر آتا ہے اور نتیجہ طلاق کی صورت میں نکلے گا ۔۔
کیا مغربی ایجنڈے پر قانون سازی کرنیوالے اور فارن پریشر پر تیزترین عمل کرنیوالوں کو حقیقی معاشرتی مسائل کا ادراک ہے ؟ کیا انہیں شادی کے انتظار میں بیٹھی بوڑھی ہوتی لڑکیوں کا تھوڑا سا بھی احساس ہے ۔ ان کی زندگی ۔ نفساتی مسائل کی مشکلات کا اندازہ ہے ؟؟
کیا یہ المیہ نہیں کہ اگر انہیں کسی کی جانب سے شادی کے بندھن کا تحفظ مل جائے تو ریاست روک دیتی ہے ۔ دوسری جانب حکومت ۔ اہل اقتدار سمیت کسی کو بھی ان کی عذاب بنتی زندگیوں کا تھوڑا سا بھی احساس ہے ۔ اس مسئلے کو ہمیشہ ہی ایک منفی رخ سے دیکھا جاتا ہے ۔ ایسا تصور پیش کیا جاتا ہے کہ جیسے اس سے بڑی برائی ہی کیوں نہ ہو حالانکہ حقیقت یہی ہے کہ محض دس فیصد مرد بھی دوسری شادی کے بارے بھی نہیں سوچتے ۔۔؟؟ جو اگر کسی وجہ سے اس بارے سوچتے بھی ہیں تو ان کے مسائل سننے کی ضرورت ہے نہ کہ اس پر سخت پابندیاں لگا کر معاشرے میں عجیب و غریب فضا پیدا کرنا ۔ دوسری شادی فرض نہیں ۔ نہ ہی ہر کوئی کوشش کرتا ہے اور نہ ہی ہر کسی کا یہ مسئلہ ہے ۔ مانا کہ اسے بہت زیادہ پروموٹ بھی نہیں ہونا چاہیے اگر دوسری شادی کرنی بھی ہے تو اسلام نے سخت فرائض عائد کئے ہیں ۔ جو کرنا چاہتا ہے اسے یقینا مسائل کا بھی علم ہوتا ہے لیکن اگر اس کے باوجود کوئی کسی ضرورت کے تحت کرنا چاہتا ہے تو اس پر اتنی سخت قانون سازی مناسب نہیں بلکہ اسے تو ایک مربوط نظام میں لاکر شادی کے انتظار میں بیٹھی لڑکیوں کے فائدے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ ریاست نگران بن سکتی ہے ۔ حقوق کا خیال رکھ سکتی ہے اور بہت سے اقدامات ہو سکتے ہیں لیکن اس پر سخت پابندیاں لگا کر ناممکن بنا دینا معاشرے میں شدید قسم کے مسائل پیدا کر دے گا ۔ اہل دانش اور سنجیدہ حلقوں کو اس بارے سوچنا چاہیے ۔۔ اس مسئلے کو غیر ملکی ایجنڈے اور این جی اوز کی نظر سے دیکھنے کی بجائے حقیقی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں