15

کاروبار ٹھپ ہوں گے تو ٹیکس کیسا!-انصار عباسی

عمران خان کی حکومت کی کوشش ہے کہ کسی طرح پاکستان کے ٹیکس نیٹ کو بڑھایا جائے تاکہ حکومت اپنے وسائل میں خاطر خواہ اضافہ کرے اور اس طرح حکومت کی آمدن اور اخراجات میں ایک توازن قائم ہو سکے اور ہم ہر گزرتے دن کے ساتھ قرضوں میں اضافہ کرنے کے بجائے اس جن کو بوتل میں بند کر سکیں۔ اسی مقصد کے لیے حکومت نے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا بھی اعلان کیا جس کی آخری تاریخ 30جون تھی مگر اب اس میں تین جولائی تک کی توسیع کر دی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق کافی بڑی تعداد میں لوگوں نے اس ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اُٹھایا ہے اور بہت سے لوگ اس انتظار میں تھے کہ حکومت آخری تاریخ میں توسیع کا اعلان کرے تاکہ وہ بھی اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے اثاثوں کو ظاہر کرکے ٹیکس نیٹ میں شامل ہو جائیں۔ گزشتہ رات میری چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی سے بات ہوئی تو اُن کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال کی ایمنسٹی کے مقابلہ میں اس سال زیادہ لوگوں نے اس سہولت سے استفادہ کیا ہے۔ آخری تاریخ کی توسیع کے بارے میں اُن کا کہنا تھا کہ وہ ابھی اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ اس معاملے کا آئی ایم ایف سے بھی تعلق ہے جس سے کچھ حکومتی اہلکاروں کی بات ہو رہی ہے۔

انکم ٹیکس کے محکمہ سے تعلق رکھنے والے ایک دوست کے مطابق اس اسکیم کے نتیجہ میں بڑی تعدار میں نئے افراد کا ٹیکس نیٹ میں شامل ہونے کا امکان ہے جو ایک خوش آئند بات ہے۔ میں نے ایک ٹی وی ٹاک شو میں حکومت کو تجویز دی اور گزشتہ رات شبر زیدی صاحب سے بھی درخواست کی کہ اگر حکومت ایمنسٹی اسکیم میں توسیع کرنا چاہتی ہے تو یہ توسیع کم از کم چھ ماہ کے لیے ہونی چاہئے اور اس عرصہ میں حکومت ایمنسٹی کے لیے مقرر شرح میں کچھ اضافہ کرتے ہوئے ایسے تمام افراد کو نوٹسز جاری کرے جن کے بارے میں حکومت کے پاس معلومات ہیں کہ اُن کے کون کون سے اثاثہ ڈکلیئر نہیں یا بے نامی ہیں۔ ایسے افراد کو ایف بی آر کے نوٹس کے باوجود یہ سہولت دیں کہ وہ ایمنسٹی سے فائدہ اٹھائیں۔ اس عمل سے یہ فائدہ ہوگا کہ ایف بی آر بہت بڑی تعداد میں بے نامی اور چھپائے گئے اثاثہ جات کے مالکان کے ساتھ مقدمہ بازی سے بچتے ہوئے اُنہیں ٹیکس نیٹ میں شامل کرلے گا اور ایسے اثاثہ جات کو ڈاکیومنٹڈ بھی کر دیا جائے گا۔ ایسے افراد لاکھوں کی تعداد میں ہے اور اتنی بڑی تعداد میں مقدمہ بازی میں پڑنا نہ حکومت کے فائدہ میں ہے اور نہ ہی ایف بی آر اتنی بڑی تعداد میں مقدمہ بازی کرنے کی سکت رکھتا ہے بلکہ اس سے محکمہ میں بہت بڑی کرپشن کے دروازے کھل جائیں گے۔ اس ایمنسٹی اور اس میں توسیع کا مقصد ٹیکس نیٹ بڑھانا اور پاکستان کی معیشت کو ڈاکیومنٹ (دستاویزی) کرنا ہونا چاہئے۔ اس ایمنسٹی اسکیم کا کامیاب ہونا پاکستان جیسے ملک کے لیے بہت فائدہ مند ہو سکتا ہے لیکن اس اسکیم کے ساتھ ساتھ حکومت کو جس طرف توجہ دینا چاہئے وہ ایسے اقدامات ہیں جن کی وجہ سے پاکستان میں کاروباری ماحول بہت خراب ہو چکا ہے اور ہر کوئی کہتا ہے کہ اُس کا کاروبار ٹھپ ہو چکا ہے۔ جس بزنس مین چاہے وہ عام کاروباری ہو یا صنعتکار، سے بات کریں وہ پریشان دکھائی دیتا ہے ۔ لوگوں کے کاروبار بند ہو رہے ہیں، صنعتوں کو تالے لگ رہے ہیں، رئیل اسٹیٹ سے جڑے افراد تو رو رہے ہیں۔ یہ صورت حال بہت خطرناک ہے۔ اس سے پاکستان کی معیشت کو خطرہ لاحق ہونے کے ساتھ ساتھ بے روزگاری اور غربت میں بے پناہ اضافہ بھی ہو گا اور جرائم کی شرح بھی بڑھے گی۔ اس صورتحال کو اگر فوری نہ کنٹرول کیا گیا تو ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے جڑے فوائد بھی حاصل نہیں ہو سکتے کیونکہ ٹیکس کا تعلق کاروبار سے ہے اور اگر کاروبار بند ہوں گے اور لوگوں کے پیسہ کمانے کے مواقع بڑھنے کے بجائے کم کر دیئے جائیں گے تو ٹیکس بھی کم اکٹھا ہوگا۔ میری حکومت سے درخواست ہے کہ کاروباری طبقہ کے جائز مطالبات کو فوری تسلیم کیا جائے تاکہ پاکستان میں کاروبار بڑھے، صنعت کا پہیہ چلے بلکہ تیز دوڑے، لوگ خوشحال ہوں، زیادہ کمائیں، نوکریوں کے کثیر مواقع پیدا ہوں اور زیادہ ٹیکس اکٹھا ہو ۔ موجودہ صورتحال مگر اس کے برعکس ہے جو حکومت کے لیے لمحہ فکریہ ہونا چاہئے تاکہ اس کا فوری توڑ تلاش کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں