44

،فلم ’’دنگل‘‘ سے شہرت حاصل کرنے والی نامور اداکارہ زائرہ وسیم نے بالی ووڈ چھوڑنے کا اعلان کردیا۔

،فلم ’’دنگل‘‘ سے شہرت حاصل کرنے والی نامور اداکارہ زائرہ وسیم نے بالی ووڈ چھوڑنے کا اعلان کردیا۔

اپنی پہلی ہی فلم سے بالی ووڈ میں مقام بنانے والی نیشنل ایوارڈ یافتہ اداکارہ زائرہ وسیم نے اچانک بالی ووڈ چھوڑنے کا اعلان کرکے سب کو حیران کردیا زائرہ کا کہنا ہے کہ بالی ووڈ میں کام کرنے کی وجہ سے ان کا ایمان خطرے میں پڑرہا ہے۔

زائرہ وسیم نے فیس بک پر ایک طویل پوسٹ میں بالی ووڈ سے قطع تعلق کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا 5 سال پہلے میں نے بالی ووڈ میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا جس نے میری زندگی کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا، مجھے بے تحاشا مقبولیت حاصل ہوئی اور مجھے نوجوانوں کے لیے رول ماڈل قرار دیا جانے لگا۔ آج جب میں نے بالی ووڈ میں 5 سال مکمل کرلیے ہیں تو میں یہ اقرار کرنا چاہتی ہوں کہ میں اپنی اس شناخت سے خوش نہیں ہوں۔ جب میں نے چیزوں کو سمجھنا شروع کیا تو مجھے محسوس ہوا کہ میں یہاں فٹ ہوگئی ہوں لیکن میرا تعلق یہاں سے نہیں۔
زائرہ وسیم نے کہا کہ اس شعبے نے مجھے بے پناہ پیار دیا، میری حمایت کی اور میری کارکردگی کو سراہا لیکن اس شعبے کے ذریعے میں جہالت کی طرف جارہی تھی اور بہت خاموشی اور بے خبری سے میں اپنے ایمان سے دور ہورہی تھی۔ اس فیلڈ میں کام کرنے کی وجہ سے یہاں کا ماحول مسلسل میرے ایمان میں دخل انداز ہورہا تھا اور میرا میرے مذہب سے تعلق خطرے میں پڑرہا تھا۔ میں نے خود کو یقین دلانے کی بہت کوشش کی کہ میں جو کررہی ہوں ٹھیک ہے اور یہ مجھ پراثر انداز نہیں ہورہا لیکن میں اپنی زندگی سے برکت کھونے لگی تھی۔

دنگل گرل نے کہا کہ لفظ برکت کا مطلب صرف خوشی اور دعا تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ مستقل مزاجی اور استحکام بھی ہے جس کے لیے میں نے بڑی جدوجہد کی ہے۔ میں مسلسل اپنی روح سے لڑرہی تھی تاکہ میرے ایمان کی مستحکم تصویر کو ٹھیک کرنے کے لیے اپنے جذبات اور اپنی سوچ کو سمیٹ سکوں لیکن میں بری طرح ناکام ہوگئی، صرف ایک بار نہیں بلکہ 100 بار۔ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اپنے فیصلے کو مضبوط کرنے کے لیے میں نے کتنی کوشش کی ہے۔

زائرہ نے کہا میں جو کچھ کررہی تھی مجھے محسوس ہورہا تھا یہ صحیح نہیں ہے، میں نے خود کو اس طرح کی صورتحال میں ڈال دیا تھا کہ میرا ایمان اور اللہ کے ساتھ میرے رشتے کو نقصان پہنچ رہاتھا۔ میں نے مشاہدہ کرنا اور اپنے خیالات کو بدلناجاری رکھا ۔ جب تک کہ میں نے اپنی کمزوری کا سامنا کرنے کا فیصلہ نہیں کیا اور اللہ کے الفاظوں کے ساتھ اپنے دل کو جوڑ کر اپنی معلومات اور سمجھ کی کمی کو دور کرنےکی کوشش شروع کی اور میں نے امن کو تلاش کرلیا۔ بے شک دلوں کو سکون ملتا ہے جب اسے اپنے خالق، اس کی شرائط اور اس کی رحمت کا علم حاصل ہوتا ہے۔

زائرہ وسیم نے کہا ہماری خواہشیں ہماری اخلاقیات اور اقدار پر اثر انداز ہوتی ہیں اسی طرح قرآن اور سنت سے ہمارارشتہ اللہ اورہمارے مذہب سے رشتے کو بیان کرتاہے، ہمارے مقاصد اور زندگی کے مقصد کو بیان کرتا ہے۔ میں نے خود سے سوال کیا کہ میری زندگی کا مقصد کیا ہے، ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہماری تخلیق کا مقصد کیا ہے۔

زائرہ نے آخر میں کہا اللہ ہمیں ہمارے ایمان کو مضبوطی سے قائم رکھنے والا بنائےاور ہمیں ان لوگوں جیسا بنائے جو اس کی یاد میں مصروف رہتے ہیں۔ اللہ ہمیں اسے سمجھنے کی توفیق دے، اللہ ہمارے دلوں کو تکبر، منافقت اور جہالت سے پاک کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں