21

بصر وبصیرت کی روشنی-خطبہ جمعہ بیت اللہ

خطبہ جمعۃ المبارک 18 شوال 1440ھ بمطابق 21 جون 2019ء
مسجد حرام کے امام وخطیب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیصل بن جمیل غزاوی
عنوان: بصر وبصیرت کی روشنی۔
خطبے کے اہم نکات
1/ بصر وبصیرت میں فرق۔ 2/ نگاہ کی حفاظت کرنی چاہیے ، اس کے معاملے میں اللہ سے ڈرنا چاہیے۔ 3/ بصیرت کا خاتمہ ہی حقیقی مصیبت ہے۔ 4/ بصیرت کے درجات اور ان کا مفہوم۔ 5/ بصیرت حاصل کرنے کے ذرائع۔
اقتباس
چنیدہ لوگ اور اولاد آدم کے افضل ترین لوگ وہی ہیں جو کامل بصیرت رکھنے والے ہیں۔ جو حق کو اس کے دلائل کے ساتھ جانتے ہیں۔ جو حق کو صحیح طرح پہچان لیتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو شبہات کے حملوں اور فتنوں کے وقت ثابت قدم رہتے ہیں۔ کیونکہ وہ مکمل ایمان والے ہوتے ہیں، جس کی بدولت وہ اس وقت ثابت قدم رہ پاتے ہیں
پہلا خطبہ
ہر طرح کی حمد وثنا اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے۔ ہم اللہ کی حمد وثنا بیان کرتے ہیں، اسی پر بھروسہ اور اعتماد کرتے ہیں اور اسی سے معافی مانگتے ہیں۔ اپنے نفس کے شر سے اور اپنے برے اعمال سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں۔ جسے اللہ تعالیٰ ہدایت عطا فرما دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ کی رحمتیں اور بہت سلامتی ہوآپ ﷺ پر، اہل بیت پر اور صحابہ کرام پر۔
بعدازاں! اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو! پرہیزگاری ہی حقیقی نور اور بہتر ہدایت ہے۔ اسی میں نجات اور کامیابی ہے۔ (اے ایمان لانے والو، اگر تم خدا ترسی اختیار کرو گے تو اللہ تمہارے لیے کسوٹی بہم پہنچا دے گا اور تمہاری بُرائیوں کو تم سے دُور کر دے گا، اور تمہارے قصور معاف کر دے گا اللہ بڑا فضل فرمانے والا ہے) [الانفال: 29]
اے مسلمانو! ہر مسلمان جو صاحب بصیرت بھی ہو، وہ خوب جانتا ہے کہ بصر اور بصیرت میں فرق ہے۔ بصر سے انسان چیزوں کا ظاہر دیکھتا ہے، جبکہ بصیرت سے انسان چیزوں کی حقیقت کو پہچانتا ہے۔ اللہ کے بندو! بصر آنکھ سے دیکھنے کی صلاحیت کو کہتے ہیں اور اس سے انسان چیزوں کو ظاہری طور پر دیکھتا ہے ۔ جبکہ بصیرت ایسا نور ہے جو اللہ تعالیٰ انسان کے دل میں ڈال دیتا ہے، جس سے انسان ہدایت حاصل کرتا ہے، اپنے رب کو صحیح طرح پہچانتا ہے، حق اور باطل میں فرق کرتا ہے، حق اور ہدایت کا راستہ پہچانتا ہے، دارِ آخرت کا احساس کرتا ہے جس کی طرف سب چل رہے ہیں۔ بصر اور بصیرت میں یہی فرق ہے۔ بصیرت صرف مؤمن ہی کے پاس ہوتی ہے، غیر مؤمن کے پاس بصیرت نہیں ہوتی، یہی وجہ ہے کہ اس کےلیے چیزیں واضح نہیں ہوتیں۔ وہ چیزوں کی حقیقت جاننے سے قاصر ہوتے ہیں اور درست اور غلط میں فرق نہیں کر پاتے۔ چیزوں کی تہہ تک نہیں پہنچ پاتے اور ان کی حقیقت سے ناواقف رہتے ہیں۔
اے مسلمانو! دیکھنے کی نعمت اللہ کی عظیم نعمت ہے جس کی حفاظت اور نگہداشت ضروری ہے۔ قرآن وحدیث میں ان چیزوں سے نگاہیں بچانے کا حکم دیا گیا ہے جن سے اللہ نے منع فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (اے نبی ﷺ، مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ اُن کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے، جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ اُس سے باخبر رہتا ہے (30) اور اے نبی ﷺ، مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں) [النور: 30 -31]، اسی طر نبی اکرم ﷺ نے سیدنا علی کو نصیحت کی۔ فرمایا: ’’اے علی! کسی غیر محرم پر نگاہ پڑ جائے تو اس کی طرف دوبارہ نہ دیکھنا۔ پہلی نگاہ تو تمہارے لیے جائز ہے اور دوسری ناجائز ہے‘‘ (اسے امام احمد، امام ابو داؤد اور امام ترمذی نے روایت کیا ہے) ۔
اگر حرام چیزوں سے نگاہ کو محفوظ رکھا جائے تو دل میں بصیرت اور حقیقی دور اندیشی پیدا ہو جاتی ہے۔ ایک بزرگ فرماتے ہیں: ’’جو حرام چیزوں سے اپنی نگاہ بچا کر رکھتا ہے، اپنے نفس کو خواہشات کی پیروی سے محفوظ رکھتا ہے، اللہ کی یاد سے اپنے داخل کو معمور کر لیتا ہے، اپنے ظاہر کو سنت کے مطابق کر لے، اور خود کو حلال کھانے کا عادی بنا لے تو اس کی فراست کبھی غلط نہیں ہوتی‘‘، اسی لیے کہا جاتا ہے: ’’جب انسان کی نگاہ فتنے میں مبتلا ہو جاتی ہے تو اس کے دل کی بصیرت اندھی ہو جاتی ہے‘‘، اللہ تعالیٰ نے لوط کا واقعہ بیان فرمایا اور ان کی آزمائش کا ذکر کیا۔ پھر فرمایا: (اِس واقعے میں بڑی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو صاحب فراست ہیں) [الحجرات: 75]، یعنی ایسے اصحاب فراست جو حرام چیزوں کی طرف نگاہیں نہیں اٹھاتے اور بدکاری سے بچتے ہیں۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں: ’’اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو اس کے اعمال کے مطابق ہی جزا دیتا ہے۔ جو حرام چیزوں سے اپنی نگاہ کی حفاظت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اس عمل کے عین مطابق جزا دیتے ہوئے، اسے آنکھوں کا نعم البدل عطا فرما دیتا ہے، اسے نور بصیرت سے نواز دیتا ہے اور اس کے لیے نیکی اور معرفت کے دروازے کھول دیتا ہے۔
اے مسلمانو! غور کیا جائے تو بہت سے ایسے آنکھوں والے نظر آئیں گے جن کے دل اندھے اور تاریک ہو چکے ہیں، جنہیں آنکھوں کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا، کیونکہ وہ بصیرت سے محروم ہوتے ہیں۔ بہت سے ایسے نا بینا بھی نظر آئیں گے جو آنکھوں کے نور سے تو محروم ہیں مگر وہ بڑے صاحب بصیرت ہیں۔ انہیں بینائی سے محرومی کا کوئی نقصان نہیں ہوتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں آنکھوں کے نور کی جگہ دل کا نور عطا فرمایا ہوتا ہے۔ جب ابن عباس کی آنکھوں کا نور ختم ہو گیا تو انہوں نے کہا: ’’اگر اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور لے لیا ہے، تو میری زبان میں بھی نور ہے اور میرے دل میں بھی نور ہے‘‘۔
بینائی کا ختم ہو جانا اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے کے لیے آزمائش ہے۔ مگر ایسے شخص سے بہترین وعدہ کیا گیا ہے۔ اگر وہ صبر کرے تو اللہ تعالیٰ اسے بہترین بدلہ عطا فرمائے گا۔ انس بن مالک بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ’’اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں اپنے جس بندے کو اس کی محبوب ترین دو آنکھوں کی آزمائش میں ڈالتا ہوں تو اسے بدلے میں جنت دیتا ہوں‘‘ محبوب ترین دو چیزوں سے مراد آنکھیں ہی ہیں۔ (اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے)۔ ۔
آنکھوں کی بینائی ختم ہو جانا بڑی مصیبت نہیں ہے۔ بڑی مصیبت تو بصیرت کا ختم ہو جانا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں مگر وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں) [الحج: 46]، حقیقی اندھا پن بصیرت کا اندھا پن ہے۔ اور جو شخص بصیرت کا اندھا ہو وہ اللہ کے ذکر سے غافل رہتا ہے۔ ایسے شخص کی سزا بھی بڑی سخت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے: (جو میرے ذِکرسے منہ موڑے گا اُس کے لیے دنیا میں تنگ زندگی ہو گی اور قیامت کے روز ہم اسے اندھا اٹھائیں گے) [طٰهٰ: 124]بصیرت کے بغیر انسان کی کوئی قدر وقیمت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (یہ حقیقت ہے کہ بہت سے جن اور انسان ایسے ہیں جن کو ہم نے جہنم ہی کے لیے پیدا کیا ہے ان کے پاس دل ہیں مگر وہ ان سے سوچتے نہیں ان کے پاس آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں ان کے پاس کان ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں ) [الاعراف: 179]، بصیرت کے بغیر انسان گمراہی میں بھٹکتا رہتا ہے۔ اندھوں کی طرح چلتا ہے، نہ اسے راستہ نظر آتا ہے نہ جہت ہی معلوم ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (بھلا سوچو، جو شخص منہ اوندھائے چل رہا ہو وہ زیادہ صحیح راہ پانے والا ہے یا وہ جو سر اٹھائے سیدھا ایک ہموار سڑک پر چل رہا ہو؟) [الملک: 22]۔
اے مسلمانو! بصیرت کے تین درجے ہوتے ہیں۔ جو انہیں حاصل کر لیتا ہے، وہ مکمل بصیرت حاصل کر لیتا ہے۔ اللہ کے ناموں اور صفات کے بارے میں بصیرت، حرام اور حلال کے بارے میں بصیرت اور جزا وسزا کے بارے میں بصیرت۔
اللہ کے ناموں اور صفات کے بارے میں بصیرت یہ ہے کہ انسان اپنے پروردگار کو اس کے ناموں اور صفات کے ساتھ مکمل طور پر پہچانے۔ اس طرح وہ اللہ کے درست راستے پر آ جاتا ہے۔ اللہ ہی وہ پروردگار ہے جس کے تمام الفاظ سچے اور عدل پر مبنی ہیں۔ اس کی صفات مخلوق کی صفات کی مشابہت یا ان پر جانچے جانے سے بالا تر ہے۔ اللہ کی ذات کسی اور کی مشابہت سے بالا تر ہے۔ اس کا عدل، حکمت، رحمت، احسان اور کرم نوازی ساری مخلوق پر غالب ہے۔ مخلوق بھی اسی کی ہے اور حکم بھی اسی کا چلتا ہے۔ نعمت بھی اسی کی ہے اور کرم نوازی بھی وہی کرتا ہے۔ بادشاہت بھی اسی کی ہے اور تعریف بھی اسی کی ہے۔ وہی قابل تعریف ہے اور وہی سب سے بلند ہے۔ سب سے پہلا ہے، اس سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی۔ وہ آخر ہے۔ اس کے بعد کچھ نہیں۔ وہ سب سے بلند ہے، اس سے بلند کوئی چیز نہیں ہے۔ وہ باریک بین ہے۔ اس سے کوئی شے مخفی نہیں۔ اس کے سارے نام تعریف، حمد وثنا اور شان کی بلندی پر دلالت کرتے ہیں۔ اس کی تمام صفات صفاتِ کمال ہیں۔ اس کی ہر خوبی جلالت والی خوبی ہے۔ اس کا ہر کام حکمت اور رحمت پر مبنی ہے۔ مصلحت اور دلیل پر مبنی ہے۔ اس کی ساری مخلوقات اسی کی دلالت کرتی ہیں۔ جو بصیرت کی آنکھ سے اس کی طرف جانا چاہتا ہے، وہ اس کی رہنمائی ضرور کرتا ہے۔ جب عبادت کرنے والا انسان اپنے پروردگار کو پہچان لیتا ہے تو اس سے ڈرنے لگتا ہے اور اسی سے امیدیں باندھنے لگتا ہے۔ اسی کی عبادت کرتا اور اسی کی تعظیم کرتا ہے۔ وہ مخلوق کی اتنی تعظیم نہیں کرتا کہ اللہ سے زیادہ اسے یاد رکھنے لگے، یا اس سے اللہ سے بھی زیادہ ڈرنے لگے۔ اللہ کی طرف سفر کرنے والے بہت سے لوگوں کو جن مسائل، پریشانیوں اور آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ اسی لیے کرنا پڑتا ہے کہ وہ اللہ کو ویسے پہچان ہی نہیں پاتے جیسے پہچاننے کا حق ہے۔ وہ اس پر جرات کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ نا مناسب تعامل کرنے لگتے ہیں۔
حلال وحرام میں بصیرت یہ ہے کہ اللہ کی مراد جانی جائے۔ اس کی حدود جانی جائیں اور ان کے اندر اندر رہا جائے۔ اس سے انسان صراط مستقیم اور پرہیزگاری کی راہ پر قائم رہتا ہے، اس طرح وہ صحیح انداز میں اللہ کی بندگی کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ اس کے دل میں اللہ کے احکام کے خلاف ذرہ برابر بھی اعتراض نہیں رہتا۔ اسی طرح وہ اللہ کے فیصلوں اور تقدیر پر بھی مکمل طور پر راضی ہو جاتا ہے۔ حکم الٰہی کے سامنے مکمل طور پر سر تسلیم خم کر دیتا ہے۔ اللہ کے کائناتی اور شرعی فیصلوں کو بھی تسلیم کر لیتا ہے۔
رہی بات جزا وسزا کے بارے میں بصیرت کی، تو وہ یہ ہے کہ انسان یہ گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ انسان کی پرانی اور بعد میں ہونے والی نیکیوں اور کوتاہیوں کو خوب جانتا ہے۔ دنیا میں بھی وہ ان سے خوب واقف ہے اور آخرت میں بھی اسے خوب یاد ہوں گی۔ اس کے اس علم کا تقاضا یہی ہے کہ اسے ہی الٰہ اور پروردگار مانا جائے۔ جب یہ چیز دل میں بیٹھ جاتی ہے تو اس کے دل میں آخرت کا مکمل تصور قائم ہو جاتا ہے۔ گویا کہ وہ اسے دیکھ رہا ہو یا وہ اس کے سامنے ہو۔ پھر وہ اپنے علم اور اپنی بصیرت سے حاصل ہونے والے نور کی بدولت اپنے راستے کو پہچان لیتا ہے اور آخرت کے احوال سے بھی واقف ہو جاتا ہے۔ پھر وہ اس کے لیے عمل کرنے لگتا ہے اور اللہ کی ملاقات کے لیے سامان تیار کرنے لگتا ہے۔
اللہ کے بندو! ایمانی بصیرت انسان کو اور اس کی زندگی کو مکمل طور پر بدل ڈالتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (اب کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا اور وہ اپنے رب کی طرف سے ایک روشنی پر چل رہا ہے (اُس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جس نے اِن باتوں سے کوئی سبق نہ لیا؟) تباہی ہے اُن لوگوں کے لیے جن کے دل اللہ کی نصیحت سے اور زیادہ سخت ہو گئے) [الزمر: 22]اسی طرح فرمانِ الٰہی ہے: (کیا وہ شخص جو پہلے مُردہ تھا پھر ہم نے اسے زندگی بخشی اور اس کو وہ روشنی عطا کی جس کے اجالے میں وہ لوگوں کے درمیان زندگی کی راہ طے کرتا ہے اُس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہوا ہو اور کسی طرح اُن سے نہ نکلتا ہو؟) [الانعام: 122]۔
ایمانی بھائیو! جس شخص کو ایمانی بصیرت مل جائے، وہ سعادت بھری زندگی گزارتا ہے۔ اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے۔ اس کی مدد پر یقین رکھتا ہے۔ اس کی رحمت پر بھروسہ رکھتا ہے۔ اس کی توفیق پر اعتماد رکھتا ہے۔ اس کے عدل پر مطمئن ہوتا ہے۔ اسی فکر میں رہتا ہے کہ وہ سیدھے راستے کی طرف آ جائے۔ صراط مستقیم کو پا لے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں اپنے بعض چنیدہ بندوں کی تعریف فرمائی ہے، جنہیں اس نے بصیرت عطا فرمائی تھی اور جنہوں نے اسی کے مطابق اپنی زندگی گزاری تھی۔ صاحب عزت پروردگار کا فرمان ہے: (ہمارے بندوں، ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کا ذکر کرو بڑی قوت عمل رکھنے والے اور دیدہ ور لوگ تھے) [صٰ: 45]، یعنی دین الٰہی کو خوب سمجھنے والے تھے۔ اسی بصیرت سے حق کو پہچانا جا سکتا ہے۔
میں اپنی بات اسی پر ختم کرتا ہوں۔ اپنے لیے اور آپ کے لیے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتا ہوں۔ یقینًا! وہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

دوسرا خطبہ
ہر طرح کی تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے۔ اسی نے ایمان کے ذریعے اپنے ولیوں کے دل روشن کیے ہیں۔ تقویٰ سے اپنے چنیدہ بندوں کو نور بصیرت سے نوازا ہے۔ میں اللہ کی شان کی بلندی بیان کرتے ہوئے گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد ﷺ اللہ کے بندے، رسول اور اس کی خوشنودی کی طرف بلانے والے ہیں۔ اللہ کی رحمتیں ہوں آپ ﷺ پر، اہل بیت پر، تمام صحابہ کرام پر اور ان کے مدد گاروں پر۔ اے اللہ! ان سب پر سلامتی بھی نازل فرما!
بعدازاں! اے مسلمانو! چنیدہ لوگ اور اولاد آدم کے افضل ترین لوگ وہی ہیں جو کامل بصیرت رکھنے والے ہیں۔ جو حق کو اس کے دلائل کے ساتھ جانتے ہیں۔ جو حق کو صحیح طرح پہچان لیتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو شبہات کے حملوں اور فتنوں کے وقت ثابت قدم رہتے ہیں۔ چاہے خواہشات نفس کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہوں یا خواہش پرستی کتنی عام کیوں نہ ہو گئی ہو۔ کیونکہ وہ مکمل ایمان والے ہوتے ہیں، جس کی بدولت وہ اس وقت ثابت قدم رہ پاتے ہیں، جب ایسے فتنے برپا ہوتے ہیں جو بہت سے لوگوں کے قدم پھسلا دیتے ہیں۔ رہی بات بصیرت کے اندھوں کی، تو وہ حق کو اپنے سامنے دیکھ بھی لیں، تو بھی اس پر ایمان نہیں لاتے۔ اس پر عمل نہیں کرتے۔ بلکہ باطل کی پیروی میں جلدی کرتے ہیں۔ اس کے مطابق چلنے کا پورا زور لگاتے ہیں۔ دن رات اسی کی طرف بلاتے ہیں۔ یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے۔ کیونکہ ایسے لوگوں کا معاملہ بگڑ چکا ہوتا ہے، اس کے احوال خراب ہو چکے ہوتے ہیں۔ وہ مصلحت کو فساد سے الگ ہی نہیں کر پاتے، برائی کو اچھائی سے الگ ہی نہیں کر پاتے۔ وہ شریعت اسلامیہ کے مطابق فیصلے نہیں کرتے۔ بلکہ اس کے جذبات اور خواہشات اس سے کھیلتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿کبھی تم نے اُس شخص کے حال پر غور کیا ہے، جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا ہو؟ کیا تم ایسے شخص کو راہِ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہو؟﴾ [الجاثیۃ: 23]۔
اللہ کے بندو! دینی بصیرت کی اہمیت ذکر کرنے کی بڑی ضرورت ہے، خاص طور اس وقت کہ جب فتنے اور آزمائشیں بہت زیادہ ہو گئی ہیں۔ جب کہ بہت سے ایسےقدم بھی پھسل گئے ہیں جو پہلے راہ راست پر تھے، وہ ثابت قدمی سے محروم ہو گئے ہیں، بہت سے لوگ خواہشات اور جذبات میں جکڑے ہوئے ہیں اور ان سے چھٹکارے کا کوئی راستہ نہیں پا رہے۔ اس لیے جو بھی اپنے لیے خیر کا طالب ہے، اسے بصیرت حاصل کرنے کے لیے اس کے اسباب اپنانے چاہیں اور اسے ختم کرنے والے عوامل سے بچنا چاہیے۔ بصیرت حاصل کرنے کا عظیم ترین ذریعہ یہ ہے کہ
پوشیدہ اور علانیہ کاموں میں پرہیزگاری اختیار کی جائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (اے ایمان لانے والو، اگر تم خدا ترسی اختیار کرو گے تو اللہ تمہارے لیے کسوٹی بہم پہنچا دے گا) [الانفال: 29]، جو پرہیز گاری اپناتا ہے، اسے حق کو باطل سے الگ کرنے کی توفیق مل جاتی ہے۔ اس طرح وہ کامیابی اور نجات پا لیتا ہے۔ دنیا کے مسائل سے آزاد ہو جاتا ہے۔ روز جزا سعادت مندوں میں شامل ہو جاتا ہے اور اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
پرہیزگاری کے بر عکس گناہ کرتے رہنا، اللہ تعالیٰ کے بارے میں جرات کرنا۔ گناہ کر کے اسے للکارنا۔ اور اس سے حیا نہ کرنا۔ یہ سب چیزیں نور بصیرت کو تاریک کر دیتی ہیں۔
اسی طرح بصیرت کمانے کا ایک ذریعہ یہ بھی ہے کہ مستقل مزاجی کے ساتھ اللہ کا ذکر کیا جائے، کیونکہ ذکرِ الٰہی سے دلوں کو زندگی ملتی ہے، افضل ترین ذکر تلاوت قرآن مجید ہے، اسے سمجھنا اور اس میں تدبر کرنا بہترین عبادت ہے۔ انسان قرآن کریم سے جتنا تعلق مضبوط رکھے گا، اسے اتنی ہی بصیرت ملے گی۔
اسی طرح بصیرت ختم ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ اللہ کے ذکر سے غفلت برتی جائے، اس سے معاملات بگڑ جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (کسی ایسے شخص کی اطاعت نہ کرو جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے اور جس نے اپنی خواہش نفس کی پیروی اختیار کر لی ہے اور جس کا طریق کار افراط و تفریط پر مبنی ہے) [الکہف: 28]۔
اسی طرح بصیرت کمانے کا ایک ذریعہ یہ بھی ہے کہ اللہ کی حرام کردہ چیزوں پر عمل ہوتا نظر آئے تو انسان کی غیرت جاگ اٹھے۔ اسی طرح اس کے دین اور اس کی شریعت کے بارے میں بھی غیرت مندی اپنائی جائے۔ اللہ کے حقوق ضائع ہوتے دیکھ کر ماتھے پر بل نہ آنا، اور حرمتیں پامال ہوتے دیکھ کر غیرت نہ جاگنا بصیرت کے خاتمے کا سبب ہے۔ ان سارے اسباب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی توفیق ہے، اس کی ہدایت اور کرم نوازی ہے۔ وہ اگر حق کا نور دل میں ڈال دے تو سب معاملات درست ہو جاتے ہیں۔ یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے، عطا فرماتا ہے۔ اسی طرح اللہ سے بصیرت، پرہیزگاری، ثابت قدمی اور ہدایت کا سوال کرنا، اور بار بار سوال کرنا بصیرت اور ہدایت کا اہم ترین ذریعہ ہے۔
اللہ آپ پر رحم فرمائے! درود وسلام بھیجو نبی مصطفیٰ ﷺ پر، رسول مجتبیٰ ﷺ پر، آپ کے پروردگار نے آپ کو یہی حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمانِ عظیم ہے: ﴿اللہ اور اس کے ملائکہ نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو﴾ [الاحزاب: 56]۔
اے اللہ! رحمتیں نازل فرما! محمد ﷺ پراور آپ ﷺ کی آل پر، آپ ﷺ کی بیویوں اور آپ ﷺ کی نسل پر، جس طرح تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر رحمتیں نازل فرمائی تھیں۔ اسی طرح برکتیں نازل فرما، محمد ﷺ پر اور آپ ﷺ کی بیویوں اور آپ ﷺ کی نسل پر، جس طرح تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر برکتیں نازل فرمائی تھی۔ یقینًا! توبڑا قابل تعریف اور پاکیزگی والا ہے۔
اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! اے اللہ! اے پروردگار عالم! کفر اور کافروں، شرک اور مشرکوں کو ذلیل ورسوا فرما! اپنے موحد بندوں کی نصرت فرما! اپنے اور دین کے دشمنوں کو تباہ وبرباد فرما! اے اللہ! جو ہمارے ملک کا برا چاہے، اسے خود ہی میں مصروف فرما دے، اس کی چال اسی پر لوٹا دے۔ اے دعا سننے والے!اسی کی چال میں اسے ہلاک فرما دے۔ اے اللہ! سرزمین حرمین کی حفاظت فرما۔ مسلمانوں کی مقدسات کی ، برے لوگوں کی برائی سے اور چالبازوں کی چالوں سے حفاظت فرما! اسے کھیلنےوالوں کی کھیل سے، چال بازوں کی چالوں سے، زیادتی کرنے والوں کی زیادتی سے محفوظ فرما! اے اللہ! ہمارے اس ملک کو پر امن اور پر سکون بنا۔ اور سارے مسلمان ملکوں کو امن وسکون نصیب فرما!۔
اے اللہ! ہمیں ہمارے ملکوں میں اور ہمارے گھروں میں امن نصیب فرما! ہمارے حکمرانوں اور اماموں کی اصلاح فرما! اے پروردگار عالم! ہماری حکمرانی ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں دے جو تجھ سے ڈرنے والے اور پرہیز گار ہوں اور اے پروردگار عالم! جو تیری خوشنوی کے طالب ہوں۔
اے اللہ! اے زندہ وجاوید! ہمارے حکمران کو ان باتوں اور کاموں کی توفیق عطا فرما جن سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے۔ اے زندہ وجاوید! اسے نیکی اور پرہیزگاری کی طرف لا۔ اے اللہ! ہمارے ان کمزور بھائیوں کی مدد فرما اور ان بھائیوں کی مدد فرما جو تیری راہ میں جہاد کر رہے ہیں اور سرحدوں کی پہرہ داری کرتے ہیں۔ جو سرحدوں کی حفاظت کر رہے ہیں: اے اللہ!تو ان کا معین اور مددگار بن جا۔ ان کی تائید کرنے والا اور نگہبان بن جا۔ اے اللہ! ہمیں دین میں بصیرت نصیب فرما! ہمیں اپنے پرہیز گار بندوں میں شامل فرما! اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! نماز کےلیے صفیں درست کر لو۔
ترجمہ: محمد عاطف الیاس
بشکریہ پیغام ٹی وی ریسرچ ڈیپارٹمنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں