21

واہ بلال خان………تجھے سلام۔ نیر قلب:- از محمد ابرارظہیر

واہ بلال خان………تجھے سلام۔
نیر قلب:- از محمد ابرارظہیر
تیرا انعام تجھے مل گیا۔ تو نے اصحاب محمدﷺ اور ناموس محمدﷺ پر جان لٹا دی۔ تو یہی چاہتا تھا۔ تجھے تیری منزل مل گئی۔ تو نے کل ہی تو کہا تھا کہ “اس سے بڑا اعزاز کیا ہوگا کہ ہم روز حشر صحابہؓ کے قدموں میں اٹھیں گے” اور ان شاءاللہ تو اِس منزل سے اُس منزل کی طرف چل پڑا۔ اللہ تیری مغفرت(بفضلہٖ وبرحمتہٖ) فرما چکاہوگا۔ ان شاءاللہ۔ تجھے صحابہ کے قدموں میں بٹھا چکا ہو گا۔ تیری وہی دھیمی مسکراہٹ اب قہقہہ بن چکی ہوگی۔ تو خوش ہوگا۔ ناموس رسالتﷺ کے دفاع کا صلہ ان شاء اللہ جنتوں کی صورت پا چکا ہوگا۔ اللہ تیرے درجات اور زیادہ بلند کرے کہ لاکھوں لوگ ۔نوجوان۔ علمائے کرام اور نہ جانے کون کون تیرے لئے ہاتھ اٹھائے بیٹھے ہیں۔ آنسؤوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ سمجھ نہیں آرہی کہ تیری جدائ پہ تیرے اعزاء واقارب سے تعزیت کریں یا ان کو تیری عظیم خواہش شہادت کی عظیم سعادت پر مبارک پیش کریں۔ تو عظیم ماں کا بیٹا اور عظیم باپ کا نشان تھا۔
لیکن! !!!!! بلال خان…………………
تیری جدائ کبھی بھولے گی نہیں۔ تیرے ساتھ میری ایک بھی ملاقات نہیں مگر مجھے ایسا لگا جیسے میرا کوئ اپنا۔ میرا کوئ عزیز بلکہ اگر یہ کہوں کہ میرا بیٹا مجھ سے جدا ہوگیا ہے۔ میرا حقیقی بھائ مجھ سے بچھڑ گیا ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ ابھی رمضان کی ایک صبح میں نے آپ کو میسیج کیا تھا کہ پیغام ٹی وی کے ایک پروگرام کے لئےماں جی سیدہ خدیجہؓ اور ماں جی سیدہ عائشہ ؓ کی منقبت لکھ بھیجیں۔ لیکن اپ شائد ساری رات جاگتے رہے تھے لہٰذاآرام فرما تھے۔ اور جب جاگے تو پروگرام ریکارڈ ہو چکا تھا۔ پھر بھی آپ نے منقبت بھیجی اور افسوس کا اظہار کیا کہ “آپ کے حکم کی بروقت تعمیل نہ کرسکا”آپ کے جملوں کا نشہ مجھے آج اور زیادہ چڑھا ہے۔ کیا محبت تھی اور کیا الفت کا اظہار تھا۔ اور ہاں مجھے یاد آیا کہ چار اپریل کو جب فیس بک نے میرے برتھ ڈے کی یاد دہانی کروائ تو آپ کا مبارکبادی پیغام سب سے جدا تھا آپ نے لکھا تھا”ایک نیم وہابی کی طرف سے کٹر وہابی کو سالگرہ مبارک” واہ یارا تو ہر اس شخص کو اپنا سمجھتا تھا جو دین کے راستے کا راہی تھا۔
تو نے ثابت کردکھایا کہ تو واقعی بلال تھا۔ بلالؓ کا دیوانہ تھا۔ وقت کے “اُمَیَّاؤں” کو تو نے اپنے “فکری عصا” سے ٹھوک رکھا تھا۔ میری تجھ سے ملاقات نہیں تھی مگرعزم ضرور تھا کہ جب بھی اسلام آباد جانا ہوا تیری زیارت ضرور کرنی ہے۔ مگر تو تو اصحاب رسولﷺ کی زیارت کو جلدی چل پڑا۔ اللہ تیری قربانی قبول فرمائے۔
(پس تحریر)
قارئین کرام ! محمد بلال خان محض ایک نوجوان ہی نہیں تھا۔ وہ پاکستان کی نظریاتی شناخت کا محافظ تھا۔ وہ دفاع صحابہؓ کے محاذ کا جرنیل تھا۔ وہ ناموس رسالتﷺ کے تحفظ کی تحریک کا سپہ سالار تھا۔ وہ بے غرض تھا۔ بے باک تھا۔ خوبصورت ہی نہیں خوب سیرت بھی تھا۔ اس نے تھوڑی سی زندگی میں بہت سا کام کیا اور اپنی زندگی کو بامقصد بنایا۔ اس کی شہادت نے دل غمزدہ کردیا ہے آنکھیں ہیں کتنی ہی دیر سے آنسؤوں سے بھری ہیں۔ ہمارا اس سے صرف نظریاتی تعلق تھا۔ وہ چلتا پھرتا پاکستان تھا۔ وہ آئین پاکستان کا محافظ تھا۔ اس کی شہادت ہم سب کےلئے پیغام ہے۔ ہمیں اپنے حصے کے کام کرلینے چاھئیں۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین
محترم المقام ابرارظهير صاحب كى وال سے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں