43

بلال تم جیت گئے ہو-اشفاق احمد

“بلال تم جیت گئے ہو”

مجھے ہمیشہ اس نوجوان پہ رشک آتا۔۔کن صلاحیتوں کا مالک تھا یہ۔۔۔22 سال کی عمر پائی۔۔اور کیا زندگی جی لی۔۔۔
اس جتنی عمر میں تو نوجوانوں کو اپنے ذاتی کاموں کی بھی پرواہ نہیں ہوتی، مگر یہ کیسے نوجوان تھا جس کے سینے میں پوری امت کا درد بسا ہوا تھا۔۔۔۔ ناموس رسالت کی جنگ ہو یا ناموس صحابہ کا دفاع، مظلوموں کا درد ہو یا بے کسوں اور لاچاروں کی دادرسی۔۔۔۔ہر جگہ اس نوخیز بلاخیز کا کاٹ دار قلم اور اس کی مسکت زبان مخالفین کے سامنے سد سکندری بن کر کلمہ حق کی ترجمانی کرتی رہی۔۔
ہم آج کل اس خواہش اور طلب میں ہے کہ امت مسلمہ کو محمد بن قاسم،موسی بن نصیر، صلاح الدین ایوبی، محمود غزنوی اور علامہ اقبال جیسے فرزند ملنا کیوں بند ہوگئے ہیں؟؟؟
مگر شاید ہم ہیرے تراشنے اور انہیں پہچان کر ان کی حوصلہ افزائی کرنے کے وصف کو بہت پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔۔
بلال خان بھی تو ایسا ہی ایک ہیرا تھا۔۔۔جو اس بانکی عمر میں بھی دشمن کی آنکھ میں شہتیر کی طرح چبا تھا۔۔۔جسے نہایت بے دردی سے ہمیشہ کیلئے خاموش کردیا گیا۔۔۔

مگر میرے بلال!!!! تم ہارے نہیں۔۔۔۔سرخرو ہوئے ہو۔۔۔تم “من المؤمنین رجال صدقوا ما عاہدوا اللہ علیہ فمنھم من قضی نحبہ”(القرآن) کی عملی تفسیر بن گئے ہو۔۔۔۔اور ہم جیسے نوجوانوں کو ایک راستہ دکھا کر “ومنھم من ینتظر” کی صف میں کھڑا کرگئے ہو۔۔۔تم خاموش نہیں ہوئے۔۔۔۔بلکہ ایک جماعت کو زبان دے گئے ہو۔۔۔۔تم جیت گئے ہو بلال۔۔۔۔۔

“تم جیت گئے ہو”

(اشفاق احمد)

#Justiceformuhammadbilalkhan

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں