37

اب نہیں لوٹ کے آنے والامحمد بلال- عمرفاروق

اب نہیں لوٹ کے آنے والا

محمد بلال ایک متحرک اور باصلاحیت نوجوان تھا اس کے دل میں کچھ نہیں بھت کچھ کرنے کاجذبہ تھااسلام ابادمیں رہتے ھوئے بلال شہیدسے چندملاقاتیں تھیں اس کی تحریرمیں اگرچہ بہت تلخی تھی مگر اس کی زبان میں اتنی ھی زیادہ مٹھاس بھی تھی میری اس سے آخری ملاقات کوئٹہ ھوٹل ابپارہ میں ھوئی تھی
بلا کی چمک اس کے چہرہ پہ تھی
مجھے کیا خبر تھی کہ مر جائے گا
ظاہری حُسن اور خوبصورتی نہیں،دیدہ زیب خدوخال نہیں بلکہ وہ خوبیاں جو انسان کے عمل سے ظاہر ہوتی ہیں، شخصیت کی اصل خوبصورتی ہیں۔ انہی خوبیوں کاوہ پیکرتھا۔بلال شہیدحسن سلوک کردار اور حسنِ عمل جو دوسرے انسانوں کو متاثر کرتا ہے، شخصیت کا حقیقی حصہ ہوتا ہے۔کامالک تھا
دوسروں کو خوش رکھنا، دوسروں کی خدمت کرنا، دوسروں کے ساتھ بہتر سلوک کرنا، دوسروں کو حوصلہ دینا، دوسروں کے کام آنا اور دوسروں پر اپنے سلوک و عمل سے اچھا تاثر ڈالنا ہی اصل شخصیت ہے۔اورانہی صفات کاوہ مالک تھا
میں اس وقت اپنے گاؤں میں جہاں مواصلاتی رابطوں میں مشکلات رھتی ھیں صبح فون ان کیاتوبلال کی شہادت کی خبر پڑھ کافی دیرتک موبائل چھانتارھاکہ یہ خبرغلط ھومگربلال واقعی یہ دنیاچھوڑکرچلاگیااوریہ پیغام دے گیا
کون جینے کے لئے مرتارھے
لو!سنبھالواپنی دنیاھم چلے
بلال کی زندگی کاتجزیہ کیاجائے تو وہ ملنسار اور منکسرالمزاج شخصیت کا مالک تھا جولوگ زندگی کے اس راز کو سمجھتے ہیں وہ دنیا سے الگ تھلگ نہیں رہتے۔ وہ ہم آہنگی سے لطف اندوز ہوتے ھیں اوربلال نے چندروزہ زندگی میں یہ رازپالیاتھاوہ لوگوں کے دکھ درد بانٹتے تھے اور ان کی مسرتوں میں شریک ہوتے تھے اس طرح ان کی شخصیت میں ایک ایسی کشش اور دلکشی کہ جوان کوایک بارملتاتھاانہیں کاھوکررہے جاتاتھا
ہاں اے فلک پیرجواں تھاابھی بلال
کیاتیرابگڑتاجونہ مرتاکوئی دن اور
مذھبی ایشوزپروہ سخت مزاج تھادائیں بازوں سے تعلق رکھنے والوںکانڈرسپاھی تھاسیکولرلابی کے لئے سیف بے نیام تھااین جی اومافیانے اسے گھیرنے کی بھت کوشش کی مگرمیری انکھوں نے دیکھاکہ وہ ان محفلوں میں جاکربھی برملااپنے مئوقف کااظھارکرتاناموس رسالت وصحابہ کے معاملے پرکوئی سمجھوتہ نہیں کرتاتھاان معاملات میں وہ علماء کی صف سے بھی اگے کھڑاھوتاتھا۔موٹوگینگ کامیں نے اپریشن شروع کیاتوبلال نے اس کے بخیے ادھیڑدئے ۔ھمیشہ اھل حق کے ساتھ ڈٹ کرکھڑارھا۔مذھبی سوچ رکھنے والے طلباء اورکارکنوں کواس نے سوشل میڈیاپرمتحرک کیااورمیرے خیال میں یہی اس کاسب سے بڑاجرم تھاعمرمیں چھوٹاتھامگردماغ کے اعتبارسے بھت بڑاانسان تھا
کاش کہ وہ زندہ رھتاوہ اکیلاھی پوری تحریک تھااس کی ایک اوازپرلاکھوں نوجوان بیدارھوجاتے تھے۔اس کاموقف ھمیشہ ٹھوس ھوتاتھاوہ اپنے نظریات میں پختہ تھامگروہ ھمیں چھوڑکرچلاگیا
اب نہیں لوٹ کے انے والا
گھرکھلاچھوڑکرجانے والا
عمرفاروق

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں