15

ہر جنگ لڑنے کے قابل نہیں ہوتی! مہر بخاری (مہر نامہ)

جس کسی نے بھی The Art of War پڑھ رکھی ہے‘ وہ بخوبی سمجھتا ہے کہ اپنی جنگوں کا انتخاب کیسے کیا جاتا ہے۔ ہر جنگ لڑنے کے قابل نہیں ہوتی‘ مگر جب کوئی ہو تو اس میں ٹائمنگ اور سٹریٹیجی ہی سب کچھ ہوتے ہیں۔ بظاہر کوئی بڑی حکمتِ عملی نظر نہیں آتی مگر ایک واضح مورچہ بندی ہو چکی ہے۔ حکومت اسے اپنا اصولی مؤقف قرار دیتی ہے کہ احتساب سب کے لئے۔ گزشتہ ہفتے وفاقی کابینہ نے سب کے لئے یکساں انصاف اور ”کسی شعبے میں کوئی مقدس گائے نہیں‘‘ کے دعوے کے ساتھ ہر طرح کی تنقید کو یکسر مسترد کر دیا تھا۔ حزبِ اختلاف کو دال میں کچھ کالا نظر آتا ہے یا پھر وہ بھی وہی کچھ کر رہی ہے جو وزیر اعظم اپوزیشن میں رہتے ہوئے کرتے رہے۔ (پاکستانی جمہوریت میں) جہاں تک سرکار کی پسندیدہ اصطلاح ”بلا تفریق‘‘ کی بات ہے‘ تو اگرچہ پاکستان اور برطانیہ کے مابین مجرموں کے تبادلے کا کوئی باقاعدہ معاہدہ موجود نہیں‘ لیکن ایسے ایم او یوز پر دستخط کئے جا رہے ہیں جن سے اسحق ڈار کو واپس لانے کی راہ ہموار ہو سکے‘ مگر دبئی میں مقیم سابق صدر مزے میں ہیں اور کسی میں انہیں چھونے کی جرأت نہیں۔ وزیر اعظم نے خود ہمیں بتایا کہ انہیں واپس لانا ہماری ترجیح نہیں ہے۔
واضح رہے کہ کچھ گائیں یہاں ہیں اور کچھ گائیں وہاں ہیں۔ ان میں سے کچھ مقدس تر ہیں تو کچھ دوسروں کے مقابلے میں مقدس ترین۔ جس طر ح یہ ضروری نہیں کہ ”یونیفارم‘‘ اور ”جسٹس فار آل‘‘ کا مطلب ”سب کے لئے یکساں انصاف‘‘ ہو۔
کسی بھی حکومت کے ابتدائی چند مہینے سخت اقدامات اور ایسے سخت فیصلے کرنے کے لئے بہترین سمجھے جاتے ہیں‘ جو غلط سمت کی درستی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے لئے آئیڈیل ہوتے ہیں‘ جبکہ حکومت ابھی عوامی مقبولیت کے گھوڑے پر سوار نظر آتی ہے؛ تاہم بہت جلد عوامی مقبولیت کے بجائے کارکردگی معیار بن جاتی ہے یا ہمارا تخیلاتی فریب نظر کسی صورت میں متشکل ہونا شروع ہو جاتا ہے یا وہ حقیقت کا روپ دھارنے لگتا ہے۔ ہم یہ خواہش تو کر سکتے ہیں کہ کاش ماضی میں اداروں کے باہمی تصادم اور ٹکرائو کا سارا بوجھ ہمارے سر سے اتر جائے‘ مگر افسوس صد افسوس کہ اگر خواہشات گھوڑے ہوتیں تو بھکاری ہر وقت ان پر سوار رہتے۔ لہٰذا ہمیں ماضی کی غلطیاں دہرانے سے اجتناب برتنا چاہئے۔
صد حیف کہ شکستہ حال نظام عدل کے خاتمے، عدالتی اصلاحات متعارف کرانے، اداروں کو مستحکم کرنے، ہر سطح پر انصاف کی تیز رفتار فراہمی سے پہلے انصاف کی علمبرداری پر فخر کرنے والی تحریک‘ مفادات کی بے سود جنگوں میں الجھتی نظر آ رہی ہے۔
پاکستان میں اصولوں اور سیاست کے نام پر بہت شور شرابا کیا جاتا ہے‘ مگر کبھی اصولی سیاست کی بات نہیں کی جاتی۔ افسوس کہ ہمارے ہاں اس کا ہمیشہ فقدان نظر آتا ہے۔ حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ کے ایک اعلیٰ جج کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے واقعے کو ہی لے لیجئے۔ اصولی طور پر کسی بھی شخص اور خصوصاً انصاف کے ایوانوں میں بیٹھنے والوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کرنے کے لئے سرچ وارنٹ جاری کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔ انہیں تو ہر وقت‘ اور خاص طور پر جب ان سے تقاضا کیا جائے‘ یہ چاہئے کہ نہ صرف شفافیت کے اعلیٰ ترین معیار قائم کریں بلکہ ہر لحاظ سے اس پر پورا اتریں۔
لہٰذا کسی بھی حاضر سروس جج کے خلاف ریفرنس بھیجنا یا ان کے اپنے ہی ساتھی ججز پر مشتمل سپریم جوڈیشل کونسل کا سماعت کے بعد اس کا فیصلہ کرنا کسی طور کوئی غیر معقول روایت ہے‘ نہ اس میں کسی تعصب یا جانبداری کی جھلک نظر آتی ہے‘ اور خصوصاً موجودہ بینچ کی موجودگی میں جس میں اتنے اونچے قد کاٹھ اور اعلیٰ ترین ساکھ کے حامل ججز بیٹھے ہوں۔
یہاں مسئلہ اصولوں کا نہیں پس پردہ کارفرما سیاست کا ہے۔ حزبِ اختلاف اور وکلا برادری کی طرف سے اس ریفرنس کو بدنیتی پر مبنی قرار دیا جا رہا ہے جس کا مقصد عدلیہ کو سرنگوں کرنا ہے تاکہ وہاں موجود اختلاف کرنے والی آوازوں کا گلا گھونٹا جا سکے۔ سرکار اس وقت طرح طرح کے الزامات کے گرداب میں پھنسی نظر آتی ہے کہ شاید وہ ریفرنس زدہ ججز سے چھٹکارہ حاصل کرنا چاہتی ہے، عدلیہ کو حراساںکرنا چاہتی ہے، ان کی دیانت داری پر انگلی اٹھا کر ان کے دیئے گئے فیصلوں کی ساکھ مشکوک بنانا چاہتی ہے، کسی معزز جج کے عدلیہ کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز ہونے کی راہ میں روڑے اٹکا رہی ہے۔ کیا یہ تمام الزامات بے بنیاد اور محض مفروضوں پر مبنی ہیں؟
بعض حلقوں کی جانب سے یہ گمان کیا جا رہا ہے کہ موجودہ ریفرنس صرف ان حاضر سروس ججز کے خلاف دائر کئے گئے ہیں‘ جن کے فیصلے سب کے لئے قابل قبول ہو سکتے ہیں یا نہیں ہو سکتے‘ اس طرح ان کی آزادانہ اور منصفانہ عدل فراہم کرنے کی اہلیت متاثر ہوئی ہے اور ریفرنسز کے پس پردہ محرکات کے بارے میں شکوک و شبہات کو تقویت ملتی ہے۔
حقیقت اور قانون‘ دونوں کے تناظر میں دیکھنے سے یہ لگتا ہے کہ عدالت عظمیٰ کے ریفرنس والے جج نے بعض ایسے اہم فیصلے دیئے‘ جن سے کچھ حلقے خوش نہیں‘ خواہ یہ حدیبیہ پیپر ملز کیس کی بندش ہو جس سے شریف فیملی کو فائدہ ہوا یا فیض آباد دھرنے کا اہم فیصلہ ہو۔ مزید یہ کہ ایسے وقت میں جب دیگر کئی سنگین چیلنجز سے جنگی بنیادوں پر نمٹنے کی ضرورت تھی‘ اس بے وقتی محاذ آرائی سے گریز کیا جا سکتا تھا یا اس مسئلے کو کسی اور انداز میں بھی حل کیا جا سکتا تھا۔
تاہم ایک کمزور سمجھے جانے والے ریفرنس کے باوجود وکلا برادری کو اس بات کا ادراک ضرور کر لینا چاہئے کہ یہ محض ایک بے بنیاد ریفرنس نہیں ہے۔ بظاہر اس کے کچھ ایسے پہلو ضرور ہیں جو مزید وضاحت اور تحقیقات کے متقاضی ہیں۔ اس پر بے جا شور شرابا کرنے یا 2007ء جیسی وکلا تحریک شروع کرنے کی باتیں کرنے کے بجائے وکلا برادری کو چاہئے کہ وہ اعلیٰ سطح پر شفافیت کے مطالبے کی حمایت کریں اور انہیں اطمینان ہونا چاہیے کہ معزز جج کی قسمت کا فیصلہ کوئی من پسند کمیشن نہیں بلکہ انتہائی نیک نام اور دیانت دارانہ ساکھ کے حامل محترم جج صاحبان ہی کریں گے۔ اس موقع پر وکلا برادری کی طرف سے احتجاج کو ایک غیر جانبدار عدلیہ کے خلاف عدم اعتماد سمجھا جائے گا۔ ان حضرات کو چاہئے کہ عدالتی غیر جانبداری کی عمدہ روایت کو نقصان پہنچا کر اس منظم معاشرے کی بنیادیں ہلانے سے اجتناب کریں‘ ورنہ اس عدالتی روایت کو بحال کرنے میں پھر کئی سال لگ سکتے ہیں۔ اور یہ کسی طور عوام کی خدمت نہیں ہو گی۔
یہ بات اپوزیشن کے حق میں جاتی ہے کہ وہ اس کیس کو عدالت کی ساکھ اور آزادی کے لئے ایک چیلنج بنانے کی کوشش کرے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ راتوں رات عدلیہ کی محافظ بننے والی ان جماعتوں نے ماضی میں اس کی تحقیر کرنے‘ حتیٰ کہ اس پر حملہ آور ہونے سے بھی گریز نہیں کیا۔
عدلیہ بحالی کی تحریک چلانے کے باوجود مسلم لیگ نون آج جن ججز کو تحفظ دینے کی آرزو مند ہے‘ اس نے انہی ججز کی تضحیک اور تحقیر کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا تھا۔ اس نے اپنے اقتدار کے آخری دو برسوں کے دوران کوئی شرمندگی محسوس کئے بغیر عدلیہ کی جانبداری کا ہنگامہ برپا کئے رکھا تھا۔ اس کا ماضی بھی اتنا خوبصورت نہیں ہے۔ بقول گوہر ایوب، نواز شریف جسٹس سجاد علی شاہ کو جیل میں ڈالنا چاہتے تھے‘ خواہ ایک رات کے لئے ہی کیوں نہ ڈالیں۔(باقی صفحہ 11 پر)
اگر عدلیہ پر واقعی کوئی حملہ ہوا ہوتا تو یقینا اپوزیشن سے توقع ہوتی کہ وہ عدلیہ کے وقار کے لئے اٹھ کھڑی ہو اور اس اقدام کو پسند بھی کیا جاتا۔ اگر اس کیس میں کوئی جان نہیں ہے اور یہ محض مذکورہ جج صاحب کی ذاتی شہرت کو داغدار کرنے کی کوشش ہے تو سپریم جوڈیشل کونسل میں بیٹھے ان کے معزز رفقا انہیں اس کیس سے کلیئر کرتے وقت اس امر کا ضرور ذکر کریں۔ دریں اثنا اپوزیشن اور وکلا برادری کو ہر لحاظ سے تحمل اور برداشت کا مظاہر ہ کرنا چاہئے اور ریاستی اداروں کی فالٹ لائن سے چھیڑ چھاڑ نہیں کرنی چاہئے‘ نہ ہی ریاست اور اس کے عوام کے درمیان کسی قسم کی دوری اور اجنبیت پیدا کرنی چاہئے۔
سب سے زیادہ ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ عدلیہ کی آزادی کو تحفظ فراہم کرے، ارکان اسمبلی کو سختی سے منع کرے کہ وہ رمز و کنایہ میں یا آدھا سچ بول کر کسی کو تنقید کا نشانہ بنانے سے گریز کریں‘ کیونکہ اس طرح یہ امر ہمارے ہاں سیاسی انتشار میں مزید اضافے اور انجام کار اداروں میں تصادم کا سبب بن سکتا ہے‘ یا ان کے درمیان باہمی عدم اعتماد پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ کوئی چھوٹا مسئلہ نہیں ہے‘ اور اس کے ساتھ اسی صورت نبرد آزما ہوا جا سکتا ہے کہ حکومت اس کے تمام تر مضمرات پر پیشگی غور و خوض کرے اور پوری جاں فشانی کو یقینی بنائے۔ اس معاملے سے نمٹنے کے لئے کئی راستے اختیار کئے جا سکتے تھے۔ معاملے کی حساسیت کے پیش نظر ریفرنس دائر کرنے سے پیشتر عدالت عظمیٰ کے اس سینئر جج سے نجی سطح پر ملاقات کرکے ان سے وضاحت لی جا سکتی تھی۔ اگر ان کا جواب تسلی بخش نہ ہوتا یا وہ تعاون کرنے سے انکار کر دیتے تو سرکار کے پاس ضابطے کی روایتی کارروائی کے سوا اور کوئی آپشن نہ بچتا۔ اگر کابینہ کو اس معاملے میں اعتماد میں لے لیا جاتا، حکومت نے دانش مندی، احتیاط اور صراحت کا مظاہرہ کیا ہوتا، ریفرنس کو لیک نہ کیا ہوتا‘ اور اس مسئلے پر اتنا ہنگامہ نہ بر پا کیا جاتا تو اتنی افسوسناک صورت حال سے بچا جا سکتا تھا یا کم از کم سازشی تھیوریز کو یوں سر اٹھانے کا موقع نہ ملتا۔
اس معاملے کے درست ادراک، عملیت پسندی اور تدبر کے فقدان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کی گرفتاری کے بعد اپوزیشن اور بھی بپھر چکی ہے۔ اس سال کے معاشی اہداف حاصل کرنے میں ناکامی، معاشی شرح نمو میں کمی، روزگار کے مواقع میں گراوٹ اور بڑھتے ہوئے افراطِ زر سے اپوزیشن کے ہاتھ حکومت مخالف تحریک شروع کرنے کا جواز آ گیا ہے۔ نقصانات میں کمی کرنے اور بجٹ کو آسانی سے پاس کرانے کو یقینی بنانے کے بجائے حکومت نے وکلا برادری کے ساتھ بھی محاذ آرائی شروع کر کے بیک وقت اتنے محاذ کھول لئے ہیں کہ خود ہی بہت سے خطرات میں گھر گئی ہے۔
آنے والے دنوں میں مزید سیاسی گرفتاریوں سے اور ایک وفاقی وزیر کی زبان سے مسلم لیگ نون کے موجودہ سینئر نائب صدر کی متوقع گرفتاری کے سر عام اعلان سے تحریک انصاف کو ایسا کوئی سیاسی فائدہ حاصل نہیں ہو گا‘ جس کی وہ توقع لگائے بیٹھی ہے۔ نصف شب کو قوم سے خطاب میں وزیر اعظم نے ایک بار پھر ”نہیں چھوڑوں گا‘‘ کی رٹ لگائے رکھی اور ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کرتے رہے کہ نیب ایک خود مختار ادارہ ہے۔ اس طرح کے متضاد بیانات سے حکومت کو بجائے فائدے کے الٹا نقصان ہو رہا ہے۔ اگر اپوزیشن نے حکومت مخالف تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا تو ساتھ ہی وکلا برادری میں پائی جانے والی بے چینی سے صورت حال چشم زدن میں دگرگوں ہو سکتی ہے۔
پی ٹی آئی کو ملنے والی عوامی مقبولیت اور خصوصی نظرِ عنایت کی بدولت یقینا وہ اپنی مدتِ اقتدار پوری کرے گی‘ اور اس کی کارکردگی سے ہی اگلے الیکشن میں اس کے مستقبل کا فیصلہ ہو گا۔
جناب وزیر اعظم اپنی جنگوں اور پی ایس کا انتخاب سوچ سمجھ کر کیجئے یا کم از کم اس امر کو یقینی بنائیے کہ آپ تاریخ کی درست سمت پر کھڑے ہوں۔
بشکریہ روزنامہ دنیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں