15

ہماری صحافت کا ’’امام رازی‘‘- مجیب الرحمان شامی (جلسہ عام)

جمعہ 14 جون کو رات کے کوئی دس بجے ہوں گے اور مَیں اور عزیزم عثمان شامی معروف صنعتکار میاں محمد حنیف کی نوبیاہتا بیٹی عزیزہ فضیٰ امین اور داماد محمد ابوبکر کے اعزاز میں دیئے گئے عشایے میں شرکت کرکے فیصل آباد کے سوک کنونشن سنٹر سے باہر نکل رہے تھے کہ رحمت علی رازی اور ان کے بیٹے سے ملاقات ہو گئی۔ چند پُرلطف جملوں کا تبادلہ ہوا کہ ان سے جب بھی ملنا ہوتا مسکراہٹیں بکھر جاتیں۔ وہ مجھ سے چند سال چھوٹے تھے، لیکن مَیں انہیں ”انکل‘‘ کہہ کر مخاطب ہوتا اور وہ جواب میں مجھے ”بھتیجا‘‘ بنا لیتے۔ رحمت علی رازی ہماری صحافت کی ایک منفرد شخصیت تھے، محنت کے بل پر آگے بڑھے، ایک رپورٹر اور کالم نگار کے طور پر اپنا نقش جمایا۔ اے پی این ایس سے سات سال تک تحقیقی رپورٹنگ کا ایوارڈ حاصل کیا۔ مختلف اخبارات میں ان کے کالم چھپ کر داد حاصل کرتے رہے۔ بیوروکریسی کے معاملات ان کا خاص موضوع تھے۔ اس حوالے سے ان کی معلومات اور اثرورسوخ حیران کن تھا۔ ایک قصباتی پس منظر کا رپورٹر نخوت کے مارے بیوروکریٹس کے احوال سے اس قدر آگاہ ہو سکتا ہے، اگر رحمت علی رازی سے ملاقات نہ ہوتی تو کوئی اس پر یقین نہیں کر سکتا تھا۔ وہ ایک چلتا پھرتا سکینر تھے، اور یہی ان کی ”طاقت‘‘ کا راز تھا۔ بڑے بڑے نخریلے افسر ان کے سامنے بچھ بچھ جاتے تھے، اور ان کے کھردرے الفاظ کو بھی روح افزا سمجھ کر پی جاتے تھے۔ ایک زمانے میں ان کا ہفتہ واری کالم سول سیکرٹریٹ کے جملہ امور کا انسائیکلوپیڈیا سمجھا جاتا تھا، اسے پڑھ کر بے مزہ ہونے والے تو چند ہی ہوں گے، لیکن دوسروں کی بدمزگی سے لطف اٹھانے والوں کی تعداد کم نہیں تھی۔ ویسے بھی ”اندر کی بات‘‘ سے ہمارے معاشرے میں خاص دلچسپی پائی جاتی ہے، اور ہر شخص اسے جاننے اور ماننے پر اپنے آپ کو آمادہ رکھتا ہے۔ بہت کم ہیں جو کسی الزام کی تحقیق کی ضرورت محسوس کرتے ہیں، اسے آگے بڑھانے اور پھیلانے کو البتہ قومی فریضہ سمجھا جاتا ہے۔ رحمت علی رازی کے کالم میں ہوائی شاید ہی اڑائی جاتی ہو، لیکن بہت سوں کی ہوائیاں اس سے اُڑ اُڑ جاتی تھیں۔ رحمت علی رازی نے اپنا ہفت روزہ شروع کیا، پھر اُردو اور انگریزی اخبارات کا تانتا باندھ دیا۔ مختلف مقامات سے ایڈیشن نکالے اور اپنی شخصیت کو منواتے چلے گئے۔ اب وہ ایک رپورٹر اور کالم نگار سے زیادہ ایڈیٹر اور اس سے بھی زیادہ پبلشر تھے۔ اے پی این ایس اور سی پی این ای کے مالکان اور مدیران‘ اخبارات کی تنظیمیں، ان کے وجود کا اعتراف کیے بغیر نہ رہ سکتی تھیں۔ یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا کہ انہیں صحافت کا ”امام رازی‘‘ برادرم جمیل اطہر کی صحبت نے بنایا۔ انہی سے انہوں نے ادارہ سازی کا ”ڈھنگ‘‘ سیکھا، اور اس میں کمال کر دکھایا۔ روزنامہ ”وفاق‘‘ سے شروع ہونے والا کیریئر کئی روزناموں سے ہوتا ہوا اپنے ہفت روزہ ”عزم‘‘، روزنامہ ”طاقت‘‘ اور انگریزی روزنامہ ”بزنس ورلڈ‘‘ تک پہنچا۔ گاڑی فراٹے بھرتی جا رہی تھی کہ جھٹکے سے ٹھہرنا پڑ گیا۔
انکل ”رازی‘‘ نے عزیزم عثمان کو سفید کپڑوں میں ملبوس دیکھ کر بہت خوشی کا اظہار کیا کہ وہ عام طور پر کالے یا گہرے نیلے کپڑوں میں پائے جاتے ہیں، یہی ان کے پسندیدہ رنگ ہیں۔ کہنے لگے: عمران خان کی طرح تم نے پتہ نہیں کالا رنگ کیوں اوڑھ لیا ہے۔ یہ سفید کپڑے بہت اچھے لگ رہے ہیں، آئندہ یہی پہنا کرو۔ اس کے بعد ہم اپنی اپنی گاڑی میں سوار ہو گئے۔ سب کی منزل لاہور تھی۔ موٹروے نے فیصل آباد اور لاہور کو ایک دوسرے سے ایسے ملایا ہے کہ پلک جھپکنے میں دو گھنٹے ختم ہو جاتے، اور ایک شہر کے باسیوں کو دوسرے شہر پہنچا دیتے ہیں۔ بارہ بجے کے قریب لاہور پہنچے اور نیند کی چادر اوڑھ لی… صبح نماز کیلئے اٹھا، تو تازہ خبروں پر نظر ڈالنے کے لیے فون بھی اٹھا لیا۔ ایک واٹس ایپ گروپ پر فیصل آباد کے ممتاز اخبار نویس ذکرالحسینی کے ان الفاظ نے چکرا کر رکھ دیا: سینئر صحافی،کالم نگارمحترم رحمت علی رازی کا انتقال ہو گیا ہے‘‘… معلوم ہوا کہ وہ فیصل آباد سے لاہور تو روانہ ہوئے، لیکن انہیں یہاں پہنچنا نصیب نہیں ہوا۔ سکھیکی کے قریب دِل کا دورہ پڑا، اور آناً فاناً وہاں جا پہنچے جہاں اپنی مرضی سے کوئی نہیں پہنچ سکتا؎
عشق کی اک جست نے طے کر دیا قصہ تمام
اس زمین و آسماں کو بے کراں سمجھا تھا مَیں
اس کے بعد ان کے بھتیجے اور بہادر اخبار نویس احمد نورانی کا ٹویٹ دیکھا جس نے المیے کی تصدیق کر دی۔ عمر چیمہ نے اسے ری ٹویٹ بھی کر رکھا تھا۔ رحمت علی رازی یوں ایک دم دُنیا سے منہ موڑ لیں گے۔ ان جیسا دبنگ اخبار نویس یوں چپ چاپ موت کے فرشتے کی انگلی پکڑ لے گا، اس کا کبھی تصور تک نہ کیا تھا۔ وہ دوستوں کے درمیان چہک رہے ہوتے، یا مخالفوں کو للکار رہے ہوتے، ان کا لہجہ منفرد ہوتا۔ ان کی چہکار میں بھی ایک للکار تھی، اور ان کی للکار بھی چہکار سے خالی نہیں ہوتی تھی۔ بڑی سے بڑی مجلس میں بھی وہ بلا تکلف پنجابی میں اظہارِ خیال کرتے۔ لگی لپٹی کے قائل نہیں تھے۔ اپنا مافی الضمیر ڈنکے کی چوٹ بیان کرتے، اور جوابی چوٹ کیلئے بھی تیار رہتے۔ یہ اور بات کہ چوٹ کھا کر رہ جانا ان کے بس میں نہیں تھا۔ دیسی کھانے انہیں پسند تھے، دیسی مرغی دیسی گھی میں بنواتے، دستر خوان وسیع تھا۔ مجلسی شخص تھے، حلقۂ تعارف لا محدود تھا، لیکن جس طرح رختِ سفر باندھا ہے، اس کا تصور آتے ہی پسینے چھوٹ جاتے ہیں۔ دُنیا کی زندگی کس قدر عارضی ہے، اور ہمارا اختیار کس قدر محدود ہے، اس کی وہ ایسی شہادت دے گئے ہیں کہ مدتوں یاد آتی اور اداسی پھیلاتی رہے گی۔
ڈرنا اور جھجکنا ان کی سرشت میں نہیں تھا۔ حسین حقانی وزیر اعلیٰ پنجاب کے مشیر اطلاعات تھے تو ایک وفد کے ہمراہ ان سے ملنے پہنچے۔ بتایا گیا کہ ”خلوت‘‘ میں ہیں۔ پائوں کی ٹھوکر سے دروازہ کھولا، اور ان کی خلوت کو جلوت بنا دیا۔ سینکڑوں کیا، ہزاروں کے کام آئے ہوں گے۔ بہت سوں کو روزگار دلایا۔ طمع اور ہوس کے بغیر دوستوں کے کام آتے، اور ہر جگہ ہاتھوں ہاتھ لیے جاتے۔ کچھ عرصہ پہلے شاید تین یا چار سٹنٹ دِل میں پڑے تھے، سنا ہے کہ اب بھی چیک اَپ جاری تھا، ٹیسٹ ہو رہے تھے لیکن آرام سے بیٹھنا ان کو نہیں آتا تھا۔ دوستوں کی غمی خوشی میں شرکت اپنے لئے لازم کر رکھی تھی۔ میڈیا جس معاشی دبائو میں ہے، اس کے اثرات ان پر بھی ہوں گے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملنے کیلئے تشکیل پانے والے ایک میڈیائی وفد میں پیش پیش تھے، ان سے دو دو ہاتھ کرنے کے لیے آستینیں چڑھا لی تھیں۔ لیکن اس کی نوبت نہ آ سکی۔ حال دِل وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو سنانے سے پہلے ہی اُس دربار میں جا پہنچے جہاں سب کی سنی جاتی ہے۔
پاکستان کے اہلِ صحافت، اہلِ سیاست اور وہ بھی جو مذہب کا جھنڈا اٹھائے پھرتے ہیں، ذرا اس پر بھی تو غور کریں کہ وہ ایک دوسرے کے لیے اس دُنیا کو جہنم بنانے پر کیوں تلے رہتے ہیں۔ ایک دوسرے کے لیے گڑھے کھودنے پر کیوں بضد ہیں۔ رحمت علی رازی ان کی توجہ جس حقیقت کی طرف دِلا گئے ہیں، اگر وہ اس حقیقت کو پیش نظر رکھیں تو ان کی ترجیحات اور معیارات بدل سکتے ہیں۔ رازی مرحوم نے یہ حقیقت ایجاد نہیں کی، اس کا ایک ڈرامائی اظہار ان کے ذریعے ہوا ہے۔ اہلِ پاکستان نے کئی حکمران چکھے، اور کئی سیاست دان دیکھے ہیں، کئی جرنیلوں کو بھی آزمایا ہے۔ آج یہ سب کہاں ہیں؟ وہ جو اپنے آپ کو لافانی سمجھتے تھے، اپنے سامنے کسی کو چوں کرنے کی اجازت دینے پر تیار نہ تھے۔ وہ جو اپنی ذات کو ریاست قرار دیتے تھے، اپنے سے اختلاف کو وطن دشمنی کا نام دیتے تھے، اب مٹی کے ڈھیروں تلے بے حس و حرکت پڑے ہیں۔ ایسے بھی ہیں جنہیں وطن کی مٹی بھی نصیب نہیں ہوئی، دو گز زمین تک یہاں میسر نہیں آ سکی۔ ایک دوسرے پر زمین تنگ کرنے والو، چھپ چھپ کر سازشیں کرنے والو، اداروں کا مذاق اڑانے والو، گھاتیں لگانے اور اپنے آپ کو ناقابلِ تسخیر سمجھنے والو… ہمارے امام رازی کا پیغام اچھی طرح سن لو، بلکہ از بر کر لو ؎
قبر کے چوکھٹے خالی ہیں، انہیں مت بھولو
جانے کب کون سی تصویر لگا دی جائے؟
(یہ کالم روزنامہ ”دُنیا‘‘ اور روزنامہ ”پاکستان‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)
بشکریہ روزنامہ دنیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں