43

رمضان کے بعد نیکیوں پر قائم رہنے کی اہمیت-خطبہ جمعہ بیت اللہ

خطبہ جمعۃ المبارک 4 شوال 1440ھ بمطابق 07 جون 2019ء
مسجد حرام کے امام وخطیب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر سعود بن ابراہیم الشریم
عنوان: رمضان کے بعد نیکیوں پر قائم رہنے کی اہمیت
ترجمہ: محمد عاطف الیاس
خطبے کے اہم نکات
1/ وقت کی تیزی قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔ 2/ رمضان کے بعد گناہوں کی طرف لوٹنا اتنہائی برا ہے۔ 3/ صاحب توفیق وہی ہے جو عبادت پر مستقل مزاجی کے ساتھ قائم رہتا ہے۔ 4/ شوال کی چند فضیلتیں۔ 5/ ثابت قدمی اور نیکیوں پر قائم رہنے کی نصیحت۔
اقتباس
سنو! اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! اللہ سے ڈرو۔ یاد رکھو کہ جو رمضان کی عبادت کرتا تھا، تو رمضان تو گزر گیا اور ختم ہو گیا۔ اور جو اللہ کی عبادت کرتا ہے، تو اللہ تو زندہ وجاوید ہے، اسے کبھی موت نہیں آتی۔ عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کو قابو میں کر لے اور بعد از موت زندگی کے لیے تیاری کر لے، جبکہ ناسمجھ وہ ہے نفس کو خواہشات کی پیروی پر لگائے بھی رکھتا ہے اور اللہ سے امیدیں بھی باندھے رکھتا ہے‘‘
پہلا خطبہ
ہر طرح کی تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے۔ وہ یکتائے جلالت ہے، مکمل خوبصورتی کا مالک ہے۔ قابل تعظیم ہے اور اس کی بڑائی قابل بیان ہے۔ وہی اکیلا سارے معاملات اجمالی طور پر اور ہر شے کی باریک بینوں کے ساتھ چلاتا ہے۔ وہی ہر چیز کی تقدیر لکھتا ہے اور وہی ہر چیز کا بندوبست کرتا ہے۔ وہ اپنی عظمت اور شان میں انتہائی بلند ہے۔ اسی نے اپنے بندے پر کتاب فرقان نازل فرمائی تاکہ وہ لوگوں کے لیے خبردار کرنے اور ڈرانے والا بن جائیں۔ اور اللہ کے حکم سے اس کی طرف بلائیں۔ یوں آپ ﷺ اللہ کی طرف سے روشن چراغ بنا دیے گئے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ روشن چہرے والے ہیں۔ اور چمکتی پیشانی والی ہیں۔ رسولوں کے سردار ہیں۔ روشن پیشانیوں والوں کے قائد ہیں۔ اللہ کی افضل ترین رحمتیں اور پاکیزہ ترین سلامتیاں ہوں آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کے پاکیزہ اور نیک اہل بیت پر، آپ ﷺ کی بیویوں، امہات المؤمنین پر، روشن پیشانیوں والے اور نیک صحابہ کرام پر، تابعین پر اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر۔ اے اللہ! ان سب پر سلامتی بھی نازل فرما!
بعدازاں! اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو! جب تک مہلت کے دن باقی ہیں، اللہ سے ڈرتے رہو، کیونکہ زمانہ بڑی تیزی سے گزرنے والا، اور کبھی نہ لوٹنے والا ہے۔ یہ دنیائے فانی آپ کو ہمیشہ کی زندگی سے غافل نہ کر دے۔ کیونکہ جو آپ کے پاس ہے، وہ تو ختم ہو جاتا ہے، اور جو اللہ کے پاس ہے، وہ ہمیشہ باقی رہنے والا ہے۔ اور عاقبت اہل تقویٰ کے لیے ہے۔
اللہ کے بندو! رات اور دن کے گزرتے جانے میں اس چیز کی تاکید ہوتی ہے کہ زمانہ مختصر اور تیز رفتار ہو گیا ہے۔ وقت بادلوں کی طرح گزرنے لگا ہے۔ وقت کی تیزی ہمیں یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ مہینہ ہفتے کے برابر ہو گیا ہے، ہفتہ دن کے برابر ہو کیا ہے اور سال مہینے کے برابر ہو گیا ہے۔ ہم اپنے دین کی بدولت یہ جانتے ہیں کہ زمانے کی یہ تیزی قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔ جیسا کہ اللہ کی گواہی کے مطابق سچے رسول ﷺ کی پیش گوئی میں ہے۔ اللہ کے بندو! سمجھدار اور دانشمند لوگوں کے لیے یہ بھی ایک شاندار موقع ہے، کہ وہ بیدار ہو جائیں، نیکی کی طرف آ جائیں، سچی توبہ کر لیں، دوسروں کی مدد کریں اور بری سمجھی جانے والی چیزوں سے رک جائیں۔ (وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کا جانشین بنایا، ہر اس شخص کے لیے جو سبق لینا چاہے، یا شکر گزار ہونا چاہے) [الفرقان: 62]۔
اللہ کے بندو! اگرچہ گناہ کرنا ویسے بھی برا ہے، مگر نیکی کے بعد گناہ کرنا تو انتہائی برا ہے۔ اگر نیکیوں سے گناہ مٹتے ہیں تو نیکیوں کے بعد گناہوں کی طرف لوٹنے سے نیکیوں کی عمدگی کو کم ہو جاتی ہے بلکہ ان کی جگہ کم ہو جاتی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے نیکی میں آگے بڑھ جانے کے بعد برائی کی طرف پلٹنے سے پناہ مانگے ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (تمہاری حالت اُس عورت کی سی نہ ہو جائے جس نے آپ ہی محنت سے سوت کاتا اور پھر آپ ہی اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا) [النحل: 92]، چنانچہ، اللہ کے بندو! جو کمال حاصل کرنے کے بعد کوتاہی کی پلٹ جاتا ہے، یا گناہوں سے جان چھڑانے کے بعد پھر گناہ اس پر غالب آ جاتے ہیں، وہ تو اپنے آپ کو نیکی کی کامیابی سے محروم کرنے والا ہے۔ چاہے ایسا شخص اپنے آپ کو ہلکی پھلکی موسمی عبادتوں کے ذریعے دہوکہ ہی کیوں نہ دیتا رہے۔ ایسی عبادات کا اس کی زندگی پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ بلکہ اکثر اوقات تو وہ ان عبادات کی ادائیگی کے وقت بھی گریہ زاری کی لذت اور عبادت کے مزے سے محروم رہتا ہے، کیونکہ اس کے دل یہ ارادہ موجود ہوتا ہے کہ وہ ان عبادات کے بعد پھر پہلی زندگی کی طرف لوٹ جائے گا۔ تو اے اللہ کے بندے! غور کر! رمضان میں عبادت کی تھوڑی بہت لذت تو نے حاصل کی ہے، اب اس لذت کو عبات کے منافی کاموں سے ضائع نہ کرنا۔ مستقل مزاجی اپنا، چاہے عبادت کم ہو جائے۔ نیکی کی مقدار اہم نہیں ہے، بلکہ نیکی عمدگی زیادہ اہم ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے) [الملک: 2]، یہ نہیں کہا کہ زیادہ عمل کرنے والا ہے۔ مستقل مزاجی سے عبادت کی جائے تو اللہ کے حکم سے توانائی کے بعد سستی نہیں آتی۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: ’’اتنی نیکی کیا کرو جتنی کر سکو، کیونکہ اللہ تو نیکی سے نہیں اکتاتا، تم ہی اکتا جاتے ہو‘‘، ’’آپ ﷺ کو وہ نیکی زیادہ پسند تھی جس پر مستقل مزاجی کے ساتھ عمل کیا جائے‘‘(اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے)۔
اللہ کے بندو! صاحب توفیق وہی ہے جو کسی حال میں بھی نیکی سے پیچھے نہیں ہٹتا۔ کھڑا بھی اللہ کی عبادت کرتا رہتا ہے۔ چلتا پھرتا بھی، بیٹھا بھی اور لیٹا بھی۔ اپنے پروردگار کو ہر حال میں یاد رکھتا ہے۔ رمضان میں بھی، شوال میں بھی اور سال کے دوسرے مہینوں میں بھی۔ یہ سارے مہینے سال اور وقت کا حصہ ہیں، جن کے متعلق بلا تفریق انسان کو سوال کیا جائے گا۔ سارے مہینے انسان کی گزرتی ہوئی عمر کا حصہ ہیں۔ انسان کو زندگی کے ہر لمحے کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ اس میں تو کوئی شک کی گنجائش نہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی سچائی پر اللہ نے گواہی دی ہے اور آپ ﷺ فرماتے ہیں: ’’روز قیامت کوئی شخص ایک قدم بھی اگے بڑھا سکے گا جب تک اس سے چار چیزوں کے بارے میں پوچھ نہ لیا جائے: ان میں ایک یہ ہے کہ اس نے اپنی عمر کن چیزوں میں گزاری ہے‘‘(اسے امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے)۔ صاحب توفیق انسان وہی ہے جو عبادت کے لیے کوئی ایک خاص مہینہ نہیں رکھتا، کیونکہ وہ جانتا ہے، کہ رمضان کا پروردگار بھی وہی ہے جو دوسرے مہینوں کا پروردگار ہے۔
اللہ کے بندو! ایسا شخص یہ بھی خوب جانتا ہے نیکی کے مواقع ایک دوسرے کے بعد آتے رہتے ہیں اور یہ مواقع ایک دوسرے سے بہتر اور افضل بھی ہوتے ہیں مگر کوئی وقت عبادت سے خالی نہیں ہوتا۔ بعض نا سمجھ لوگ اپنی دہری جہالت کی بنیاد پر یہ سمجھتے ہیں کہ ماہِ رمضان ایک غیر معمولی مہینہ ہے جو اس سے پہلے اور اس کے بعد کے گناہوں میں ایک وقفے کا کام کرتا ہے۔ اللہ کی قسم! یہ سوچ جہالت، گمراہی اور نہ سمجھی کا نتیجہ ہے۔ صاحب توفیق انسان یہ بھی خوب جانتا ہے کہ جس طرح روزے رکھ کر بھوکے رہنا عبادت ہے، بالکل اسی طرح عید کے دن خوشی منانا بھی عبادت ہے۔ اور اگر رمضان میں عبادت کی مختلف شکلیں اکٹھی ہو جاتی ہیں اور تطہیر کے ساتھ ساتھ تعمیر کا کام بھی جاری رہتا ہے، تو انسان ان ہی عبادات کو سال کے بقیہ دنوں میں موجود پائے گا۔ تو بھلا شوال کے دوران پیر اور جمعرات کے روزے رکھنے میں کیا رکاوٹ ہے؟ ایام البیض کے روزے رکھنے میں کیا رکاوٹ ہے؟ صدقہ اور تلاوت قرآن میں کیا رکاوٹ ہے؟ بقیہ مہینوں میں یہ ساری چیزیں ممکن ہیں۔ مگر رسول اللہ ﷺ نے ماہ شوال میں چھ روزوں کی فضیلت الگ سے بیان فرمائی ہے۔ فرمایا: ’’جو رمضان کے روزے رکھنے کے بعد ماہِ شوال میں چھ روزے رکھتا ہے، تو گویا کہ اس نے سارا سال روزے رکھے‘‘(اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے)۔
اللہ کے بندو! وہ اس طرح کہ ایک نیکی دس نیکیوں کے برابر ہوتی ہے۔ تو ماہ رمضان کے روزے دس مہینوں کے برابر ہوئے، اور شوال کے چھ روزے ساٹھ دنوں کے روزں کے برابر ہوئے۔ اس طرح تعداد مکمل بارہ مہینے کی ہو گئی۔ یعنی پورا ایک سال۔ دہر سال ہی کو کہتے ہیں۔
یہ بھی اللہ کی رحمت ہے کہ جب اس نے سارا سال روزے رکھنے سے منع فرما دیا، جیسا کہ صحیح حدیث میں ثابت ہے، تو انہیں رمضان کے مکمل اور ماہ شوال کے چھ روزوں میں پورے سال کے روزوں کا اجر دے دیا، تاکہ انہیں حکم کی خلاف ورزی بھی نہ کرنا پڑے اور مطلوبہ اجر بھی مل جائے۔ یہ اللہ کا فضل، وہ جسے چاہے، عطا فرمائے۔ وہ فضلِ عظیم والا ہے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے شوال میں کچھ ایسی خاصیتیں رکھی ہیں جو سال کے دوسرے مہینوں میں نہیں رکھیں۔ یہ حج کے مہینوں میں سے پہلا مہینہ ہے۔ حج کے مہینے: شوال، ذو القعدہ، اور ذو الحجہ کے پہلے دس دن ہیں۔ اسی طرح شوال کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ اس میں عید الفطر آتی ہے۔ اسی طرح اس میں چھ روزے رکھنے کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اللہ کے بندو! حاصل کلام یہ ہے کہ مسلمان ہر وقت اور ہر حال میں اللہ کی عبادت کرتا ہے۔ جو نوالہ وہ اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتا ہے، اسے اس کا اجر بھی ملتا ہے۔ گناہ مٹانے میں خالص توحید جیسی کوئی چیز نہیں ہے، پھر یہ کہ کثیر تعداد کی نیکیاں جو انسان کے نامۂ اعمال میں شامل کر دی جائیں۔ (دیکھو، نماز قائم کرو دن کے دونوں سروں پر اور کچھ رات گزرنے پر درحقیقت نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں، یہ ایک یاد دہانی ہے ان لوگوں کے لیے جو خدا کو یاد رکھنے والے ہیں) [ہود: 114]۔
اللہ مجھے اور آپ کو قرآن عظیم سے برکت عطا فرمائے! اس میں آنے والی آیات اور ذکر حکیم سے فائدہ حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے! میں اپنی بات کو یہیں ختم کرتا ہوں۔ اللہ عظیم وجلیل سے اپنے لیے، آپ کے لیے اور تمام مسلمان مردوں اور عورتوں کے لیے ہر گناہ اور غلطی کی معافی مانگتا ہوں۔ آپ سب اسی سے معافی مانگو اور اسی کی طرف رجوع کرو۔ یقینًا! میرا رب معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
دوسرا خطبہ
ہر طرح کی تعریف اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہی ہے۔ رحمتیں اور سلامتیاں ہوں نبیوں اور رسولوں بلند ترین مرتبہ رکھنے والوں پر۔
بعدازاں! بہترین کلام اللہ کی کتاب ہے۔ بہترین طریقہ نبی اکرم ﷺ کا طریقہ ہے۔ ایجاد کردہ عبادتیں بد ترین کام ہیں۔ ہر ایجاد کردہ عبادت بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ مسلمان جماعت کے ساتھ جڑے رہو۔ کیونکہ اللہ کے ہاتھ جماعت کے ساتھ ہے۔ جو اس سے الگ ہوتا ہے وہ جہم میں جا گرتا ہے۔
سنو! اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو۔ یاد رکھو کہ جو رمضان کی عبادت کرتا تھا، تو رمضان تو گزر گیا اور ختم ہو گیا۔ اور جو اللہ کی عبادت کرتا ہے، تو اللہ تو زندہ وجاوید ہے، اسے کبھی موت نہیں آتی۔ عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کو قابو میں کر لے اور بعد از موت زندگی کے لیے تیاری کر لے، جبکہ ناسمجھ وہ ہے نفس کو خواہشات کی پیروی کرتا رہے اور اللہ سے امیدیں بھی باندھے رکھے‘‘
سنو! کوئی شخص اپنی عمر کو ان کاموں میں ضائع نہ کرے جو اللہ کو ناراض کرنے والے ہوں۔ بابرکت مہینوں میں نیکی کے مواقع کوئی نہ کنوائے۔ ہر ایک اللہ کی مدد کا سوال کرے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ اپنی مشہور ومعروف دعا میں کیا کرتے تھے: ’’زندگی کو نیکیوں میں اضافے کا ذریعہ بنا‘‘ آپ ﷺ نے نیکی کو رمضان تک محدود نہیں رکھا، بلکہ ہر زمانے میں اسے ضروری قرار دیا۔ ہر وقت اس پر قائم رہنے کی تلقین کی۔ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر عمل کرتے کہ (اُس آخری گھڑی تک اپنے رب کی بندگی کرتے رہو جس کا آنا یقینی ہے) [الحجرات: 99]، اللہ کی عبادت کا اور نیکی کا وقت موت پر ہی ختم ہوتا ہے۔
اللہ کے بندو! نیکی کرتے رہنے اور رضائے الٰہی کی تلاش پر ثابت قدمی کی بھر پور کوشش کرو۔ نیکی، بھلائی اور احسان کے راستے پر چلنے سے سستی اور کاہلی سے بچو۔ اسی راستے پر قائم رہنے کی کوشش کرو۔ صبر کرو، (صبر کرنے والوں کو تو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا) [الزمر: 10]جب تک آپ کو مہلت ملی ہوئی ہے، اللہ کو راضی کرنے کی کوشش میں کبھی کوتاہی مت کرو۔ آپ کے مال، آپ کی اولاد اور آپ کی عیدیں اللہ کی فرمان برداری سے غافل نہ کر دیں۔ کیونکہ موت اچانک آ جاتی ہے اور اس کے بعد کا حساب کتاب بہت سخت ہوتا ہے، پھر بہت سخت ندامت ہوتی ہے، اور اس وقت ندامت کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ (اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تم کو اللہ کی یاد سے غافل نہ کر دیں جو لوگ ایسا کریں وہی خسارے میں رہنے والے ہیں (9) جو رزق ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرو قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جائے اور اُس وقت وہ کہے کہ “اے میرے رب، کیوں نہ تو نے مجھے تھوڑی سی مہلت اور دے دی کہ میں صدقہ دیتا اور صالح لوگوں میں شامل ہو جاتا” (10) حالانکہ جب کسی کی مہلت عمل پوری ہونے کا وقت آ جاتا ہے تو اللہ اُس کو ہرگز مزید مہلت نہیں دیتا، اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس سے باخبر ہے) [المنافقون: 9 -11]۔
اللہ آپ پر رحم فرما! درود وسلام بھیجو مخلوقات کی افضل ترین ہستی، پاکیزہ ترین ہستی، حوض کوثر والے اور شفاعت کرنے والے محمد بن عبد اللہ ﷺپر۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ایسا حکم دیا ہے، جس میں پہلے اس نے اپنا ذکر کیا ہے۔ پھر اپنی تعریف کی تسبیح کرنے والے فرشتوں کا ذکر کیا ہے، پھر آپ کو اے مؤمنو! کہہ کر مخاطب کیا۔ اللہ پاک کا فرمان ہے: ﴿اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو﴾ [الاحزاب: 56]۔
اے اللہ! رحمتیں، برکتیں اور مزید سلامتیاں نازل فرما، اپنے بندے اور رسول، محمد ﷺ پر جو کہ روشن چہرے والے اور چمکتی پیشانی والی ہیں۔ اے اللہ! چاروں خلفائے راشدین سے راضی ہو جا! ابو بکر، عمر، عثمان اور علی سے، نبی اکرم ﷺ کے تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا! تابعین عظام سے بھی راضی ہو جا۔ اور قیامت تک ان نقش قدم پر استقامت کے ساتھ چلنے والوں پر۔ اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! اپنا فضل وکرم اور احسان فرما کر ہم سب سے بھی راضی ہو جا۔
اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! شرک اور مشرکوں کو رسوا کر دے! اے اللہ! اپنے دین، اپنی کتاب، سنت رسول اور اپنے مؤمن بندوں کی مدد فرما!
اے اللہ! پریشان مسلمانوں کی پریشانیاں دور فرما! مصیبت زدہ مسلمانوں کی مصیبتیں دور فرما۔ قرض دراوں کے قرض ادا فرما۔ اے اللہ! اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! ہمارے اور تمام مسلمانوں کے بیماروں کو شفا عطا فرما!
اے اللہ! ہمیں ہمارے ملکوں میں امن نصیب فرما! ہمارے حکمرانوں اور اماموں کی اصلاح فرما! اے پروردگار عالم! ہماری حکمرانی ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں دے جو تجھ سے ڈرنے والے اور پرہیز گار ہوں اور اے پروردگار عالم! جو تیری خوشنوی کے طالب ہوں۔
اے اللہ! اے زندہ وجاوید! ہمارے حکمران کو ان باتوں اور کاموں کی توفیق عطا فرما جن سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے۔ اے اللہ! اے رب ذو الجلال! اس کے مشیروں کی اصلاح فرما!
اے اللہ! اسے اور اس کے ولی عہد کو ان کاموں کی توفیق عطا فرما جن میں ملک اور قوم کی فلاح وبہبود ہو۔ اے اللہ! اے زندہ وجاید! اے رب ذو الجلال!
اے اللہ! ہر جگہ مسلمانوں کے احوال درست فرما! اے اللہ! ہر جگہ مسلمانوں کے احوال درست فرما! اے اللہ! ہر جگہ مسلمانوں کے احوال درست فرما! اے اللہ! اے رب ذو الجلال! دین کی وجہ سے ستائے جانے والے مسلمانوں کی مدد فرما! اے اللہ! ہمارے دین کی اصلاح فرما جس پر ہمارے معاملات کا دار ومدار ہے۔ ہماری دنیا کی اصلاح فرما جس میں ہمارا روزگار ہے۔ ہماری آخرت کی اصلاح فرما جس کی طرف ہم نے لوٹنا ہے۔ زندگی کو نیکیوں میں اضافے کا ذریعہ بنا اور موت کو ہر برائی سے نجات کا سبب بنا۔ اے رب ذو الجلال! اے پروردگار عالم!
اے اللہ! زندہ اور مردہ مسلمان مردوں اور عورتوں، مؤمن مردوں اور عورتوں کو معاف فرما! یقینًا! تو سننے والا، قریب اور دعائیں قبول کرنے والا ہے۔ اے اللہ! نیکی کے مواقع ہمارے لیے فائدہ مند بنا۔ برکت اور رحمت کے جھوکوں کو ہمارے لیے اپنی رحمت اور خوشنودی کا ذریعہ بنا۔ اے رب ذو الجلال!
(اے ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی! اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا!) [البقرۃ: 201]۔
، پاک ہے تیرا رب، عزت کا مالک، اُن تمام باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں، اور سلام ہے مرسلین پر، اور ہماری ہر بات کا خاتمہ اسی پر ہے کہ ساری تعریف اللہ ربّ العالمین ہی کے لیے ہے۔

بشکریہ پیغام ٹی وی ریسرچ ڈیپارٹمنٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں