75

رمضان کے بعد بھی توبہ اور استغفار – خطبہ مسجد نبوی

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان حفظہ اللہ نے 11 شوال 1440 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں “رمضان کے بعد بھی توبہ اور استغفار” کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان کی بابرکت گھڑیاں گزر چکی ہیں اور ان سے مستفید ہونے والوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب محرومیت کا شکار ہو جانے والوں کا نقصان بہت بڑا ہے، تاہم توبہ اور استغفار کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، اور توبہ کی قبولیت زمان و مکان کی قید سے بالا تر ہے، اللہ تعالی کو مومن بندے کی توبہ پر بہت زیادہ خوشی ہوتی ہے، اللہ تعالی رات کے آخری حصے میں دعاؤں کی قبولیت کے لئے صدائیں لگاتا ہے، اس لیے توبہ اور استغفار میں تاخیر مت کرو اور فوری اللہ تعالی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگ لو، انہوں نے یہ بھی کہا کہ: عبادات کے اثرات جسم پر لازمی نظر آتے ہیں اور انسان نیکی قبول ہونے کی صورت میں مزید نیکیاں کرتا چلا جاتا ہے، جبکہ مسترد ہونے کی صورت میں بدی میں ملوث ہو جاتا ہے اور یہ ذلت کی انتہائی صورت ہے، چنانچہ ہر وقت اللہ سے استقامت طلب کریں۔ دوسرے خطبے میں انہوں نے کہا کہ: سال کے تمام مہینے بلکہ زندگی کا ہر لمحہ اپنے مختلف درجات کے باوجود اللہ کی بندگی کا سنہری موقع ہوتا ہے اس لیے ہمیشہ اللہ سے توبہ و استغفار مانگتے رہیں، قرض دیں اور شوال کے چھ روزے رکھیں، ماہ رمضان کے ساتھ شوال کے روزے رکھنے پر پورے سال کے روزوں کا ثواب ملتا ہے، باہمی ناچاقیوں کا خاتمہ کریں، اپنی وحدت اور ملت کو مکمل تحفظ دیں، پھر آخر میں انہوں نے دہشت گردانہ حملوں کی مذمت کی اور دعا بھی کروائی۔

ترجمہ سماعت کرنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

پی ڈی ایف فائل ڈاؤنلوڈ کرنے کے لئے کلک کریں۔

خطبہ کی عربی ویڈیو حاصل کرنے کیلیے یہاں کلک کریں۔

پہلا خطبہ
یقیناً تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، ہم اسی کی حمد خوانی کرتے ہیں اور اسی سے مدد مانگتے ہیں، ہم اپنے گناہوں کی بخشش بھی اسی سے چاہتے ہیں، اپنے نفس اور برے اعمال کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں، جسے اللہ ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کرد ے اس کا کوئی رہنما ئی کرنے والا دوست نہیں بن سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبودِ بر حق نہیں اس کا کوئی شریک نہیں وہی پیدا کر کے مکمل بنانے والا اور تقدیریں لکھ کر رہنمائی کرنے والا ہے، یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ جناب محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، آپ کو حق اور ہدایت کے ساتھ مبعوث کیا گیا۔، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل، صحابہ کرام اور آپ کےمنہج پر بہترین انداز سے چلنے والوں پر رحمتیں نازل فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

بہترین کلام؛ اللہ کا کلام ہے، اور بہترین سیرت جناب محمد ﷺ کی سیرت ہے، بد ترین امور بدعات ہیں، اور ہر بدعت گمراہی ہے، اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے۔

اللہ کے بندو!

احکامات الہیہ کے متعلق تقوی اپناؤ، اس کے منع کردہ کاموں سے بچو، اور یہ بات ذہن نشین کر لو کہ تمہاری ہر چھوٹی بڑی حرکت لکھی جا رہی ہے۔ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ} اے ایمان والو! تقوی اپناؤ اور ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ اس نے کل کے لئے کیا پیش کیا ہے؟ اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ تعالی تمہارے اعمال سے مکمل با خبر ہے۔[الحشر: 18]

اللہ کے بندو!

خیر و بھلائی، نیکیوں اور برکتوں کی بہار گزر چکی ہے، اس دوران کیے ہوئے اعمال سمیٹ دئیے گئے ہیں، اس ماہ کی عظیم فضیلت ہے، اور اس مہینے کے امت پر تعجب خیز اثرات مرتب ہوتے ہیں، اس ماہ میں کامیاب ہونے والوں نے خوب فائدہ اٹھایا، اور محنت کرنے والے ڈھیروں اجر لے گئے، ہمیں کامیاب ہونے والوں کا علم ہو تو ہم انہیں مبارکباد دیں اور مسترد ہونے والوں کا علم ہو جائے تو ان کی تعزیت کریں۔

اس لئے کامیاب ہونے والوں کی سعادت مندی بہت ہی شاندار ہے کہ اللہ تعالی نے انہیں توبہ نصیب فرمائی، انہیں نیکیوں کی توفیق سے نوازا، ہم اللہ تعالی سے اُن کے لئے قبولیت اور استقامت کی دعا کرتے ہیں۔

دوسری جانب نقصان اٹھانے والوں کا گھاٹا بہت سنگین ہے کہ وہ اللہ تعالی کے دیدار سے محروم اور روکے جائیں گے، زندگی میں ملنے والی غنیمت ان سے ضائع ہو گئی، اور ان کے ہاتھ صرف حسرت و ندامت ہی لگے گی!

مسلم اقوام!

تاہم توبہ کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، رمضان کے بعد بھی توبہ کا دروازہ کھلا رہتا ہے، بارگاہ الہی میں توبہ کی قبولیت زمان و مکان کی قید سے بالا تر ہے، اللہ تعالی ہر جگہ اور ہر لمحے توبہ قبول فرماتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ} وہی تو ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور گناہ معاف فرماتا ہے، اور وہ تمہارے تمام افعال جانتا ہے۔[الشورى: 25]

رسول اللہ ﷺ سے صحیح ثابت ہے کہ : (اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کی توبہ پر اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو ہلاکت خیز سنسان اور بے آب و گیاہ میدان میں ہو، اس کے ساتھ اس کی سواری ہو، اس پر اس کا کھانا اور پانی لدا ہوا ہو، وہ (تھکا ہارا کچھ دیر کے لئے) سو جائے اور جب جاگے تو سواری جا چکی ہو۔ وہ ڈھونڈتا رہے یہاں تک کہ اسے شدید پیاس لگ جائے، پھر وہ کہے: میں جہاں پر تھا، اسی جگہ واپس جاتا ہوں اور سو جاتا ہوں، یہاں تک کہ مجھے موت آ جائے۔ وہ اپنی کلائی پر سر رکھ کر مرنے کے لیے لیٹ جائے اور (اچانک) اس کی آنکھ کھلے تو اس کی وہ سواری جس پر اس کا زادراہ کھانا اور پانی تھا اس کے پاس کھڑی ہو۔ تو وہ اس کی مہار پکڑ کر شدت فرحت کی بنا پر غلطی کرتے ہوئے کہہ جاتا ہے: اے میرے اللہ! تو میرا بندہ ، میں تیرا اللہ!)

یہ بھی پڑھیں: بعد از رمضان نیکیوں کا تحفظ کیوں اور کیسے؟ – خطبہ مسجد نبوی
اور اسی طرح سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (جب رات کا آدھا یا دو تہائی حصہ گزر جاتا ہے توا للہ تبارک وتعا لیٰ آسمان دنیا تک نزول فرماتا ہے اور کہتا ہے:کیا کوئی مانگنے والا ہے کہ اسے دیاجائے؟کیا کوئی د عا کرنے والا ہے کہ اس کی دعا قبول کی جائے؟کیاکوئی بخشش کا طلب گار ہے کہ اسے بخش دیا جائے حتی کہ فجر صادق پھوٹ جاتی ہے۔) مسلم

تو جس شخص سے رمضان چوک گیا تو وہ فوری توبہ کر لے اور وقت گزرنے سے پہلے تائب ہو جائے مبادا وقت ختم ہو جائے اور اسے موت دبوچ لے۔

آپ نے مایوس نہیں ہونا؛ کیونکہ آدم کی ساری اولاد خطا کار ہے۔ ملامت تو اس پر ہے جو گناہ در گناہ کرتا چلا جائے اور رب غفور کے ہوتے ہوئے بھی توبہ نہ کرے۔

اور اگر تم غلطیاں کر کے بخشش نہ مانگو تو اللہ تعالی تمہیں یہاں سے لے جائے گا اور ایسی قوم کو لائے گا جو غلطیاں کر کے بخشش مانگے گی تو اللہ تعالی انہیں معاف فرما دے گا۔

اللہ کے بندو!

تقوی اپناؤ اور اللہ سے ہی بخشش مانگو، اسی کی جانب انابت کرو اور اسی کی اطاعت کرو، توبہ میں تاخیر مت کرو؛ کیونکہ موت اچانک آتی ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ} اے مومنو! تم سب کے سب اللہ سے توبہ کرو تا کہ تم فلاح پا جاؤ۔[النور: 31]

ایک اور مقام پر فرمایا: {قُلْ يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (53) وَأَنِيبُوا إِلَى رَبِّكُمْ وَأَسْلِمُوا لَهُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُونَ (54) وَاتَّبِعُوا أَحْسَنَ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ (55) أَنْ تَقُولَ نَفْسٌ يَاحَسْرَتَا عَلَى مَا فَرَّطْتُ فِي جَنْبِ اللَّهِ وَإِنْ كُنْتُ لَمِنَ السَّاخِرِينَ (56) أَوْ تَقُولَ لَوْ أَنَّ اللَّهَ هَدَانِي لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِينَ (57) أَوْ تَقُولَ حِينَ تَرَى الْعَذَابَ لَوْ أَنَّ لِي كَرَّةً فَأَكُونَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ } آپ لوگوں سے کہہ دیجئے : اپنی جانوں پر زیادتی کرنے والے میرے بندو! اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، اللہ یقیناً سارے ہی گناہ معاف کردیتا ہے کیونکہ وہ غفور رحیم ہے [53] اور اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرو اور اس کا حکم مان لو اس سے قبل کہ تم پر عذاب آئے اور پھر تمہیں کہیں سے مدد نہ مل سکے۔ [54] اور جو کچھ تمہاری طرف تمہارے پروردگار کے ہاں سے نازل ہوا ہے اس کے بہترین پہلو کی پیروی کرو اس سے پیشتر کہ تم پر اچانک عذاب آ جائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔ [55] (کہیں ایسا نہ ہو کہ اس وقت) کوئی کہنے لگے : افسوس میری اس کوتاہی پر جو میں اللہ کے حق میں کرتا رہا اور میں تو مذاق اڑانے والوں میں سے تھا ۔ [56] یا یوں کہے کہ : اگر اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں پرہیزگاروں سے ہوتا ۔[57] یا جب عذاب دیکھے تو کہنے لگے : مجھے ایک اور موقع مل جائے تو میں نیک کام کرنے والوں میں شامل ہوجاؤں ۔[الزمر: 53 – 58]

مسلم اقوام!

عبادت گزاروں پر عبادات کے اثرات بالکل عیاں ہوتے ہیں جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: {إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ} بیشک نماز برائی اور بے حیائی سے روکتی ہے۔[العنكبوت: 45]

اعمال کی قبولیت کی نشانیوں میں یہ بھی شامل ہے کہ انسان بہتر سے بہترین ہوتا چلا جائے، جبکہ دوسری جانب عدم قبولیت اور مسترد ہونے کی علامات میں یہ بھی شامل ہے کہ رمضان چلے جانے کے بعد انسان بھی اپنی سابقہ روش پر آ جائے، بہتری آنے کے بعد بدی میں دوبارہ ملوث ہو جائے؛ کیونکہ ایک گناہ مزید گناہوں کی دعوت دیتا ہے۔

برائی کے بعد کی جانے والی نیکی اعلی ہوتی ہے؛ کیونکہ یہ برائی کو مٹا دیتی ہے، اس سے بھی اعلی ترین بات یہ ہے کہ انسان نیکی کے بعد بھی نیکی کرے۔ آپ سب اللہ تعالی سے آخری سانس تک اطاعت پر استقامت طلب کریں، دلوں کے پھرنے سے اللہ کی پناہ مانگیں، آسودگی کے بعد تنگی سے پناہ کا سوال کریں۔ نیک بننے کے بعد انسان بدکار بن جائے تو یہ انتہائی ذلت کا باعث ہے، اسی طرح دولتِ قناعت ملنے کے بعد لالچ بھی بد ترین غربت ہے۔

چنانچہ اللہ تعالی سے استقامت طلب کرتے رہیں، نبی ﷺ سے صحیح ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا: (کوئی شخص زندگی بھر اہل جنت کے عمل کرے اور جب اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جائے تو لکھی ہوئی تقدیر اس کے آڑے آجاتی ہے تو وہ اہل جنت کے عمل کرکے جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔ اسی طرح کوئی شخص زندگی بھر اہل جہنم کے عمل کرے اور جب اس کے اور جہنم کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جائے تو لکھی ہوئی تقدیر اس کے آڑے آجاتی ہے تو وہ اہل جنت کے عمل کرکے جنت میں پہنچ جاتا ہے۔)

یا اللہ! دلوں کو پھیرنے والے! ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت قدم بنا دے، اے دلوں کو پھیرنے والے! ہمارے دلوں کو تیری اطاعت پر ثابت قدم بنا دے،میں اسی پر اکتفا کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے بخشش مانگو، بیشک وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: الوداع ماہ رمضان اور اسلامی سربراہی کانفرنس – خطبہ مسجد نبوی
دوسرا خطبہ
تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں وہی اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور گناہوں کو معاف کرتا ہے، اور اسے تمہارے تمام اعمال کا علم ہے، اللہ کی باتوں پر مثبت جواب وہی لوگ دیتے ہیں جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں، اور اللہ تعالی انہیں اپنا خصوصی فضل بھی عطا فرماتا ہے۔

مسلمانو!

سال کے تمام مہینے عبادت کی بہاریں ہیں، یہ الگ بات ہے کہ ان مہینوں کی فضیلت اور ان میں کیے جانے والے اعمال مختلف اور متنوع ہیں، بلکہ پوری زندگی ہی نیکی اور اطاعت کرنے کا سنہری موقع ہوتی ہے، تو ہر کوئی اپنا سودا کر کے یا تو اسے آزاد کروا لیتا ہے، یا پھر تباہ کر دیتا ہے، اور ہر کسی کو وہی توفیق ملتی ہے جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے۔

اپنے آپ کو اطاعت کی عادت ڈالیں، اطاعت کے لئے توبہ اور استغفار کے ذریعے مدد طلب کریں، انابت اور انکساری سے کام لیں، نیز دن اور رات کے ہر لمحے اور خلوت و جلوت میں ہمیشہ اللہ تعالی کو اپنا نگہبان اور نگران جانیں، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَذَرُوا ظَاهِرَ الْإِثْمِ وَبَاطِنَهُ إِنَّ الَّذِينَ يَكْسِبُونَ الْإِثْمَ سَيُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوا يَقْتَرِفُونَ} ظاہری اور باطنی ہر طرح کے گناہ ترک کر دو، بیشک جو لوگ گناہ کماتے ہیں انہیں ان کے کیے کا بدلہ عنقریب دیا جائے گا۔[الأنعام: 120]

اللہ کے بندو!

اللہ تعالی کے لئے قرض حسنہ دیا کرو اور بارگاہ الہی میں اپنے لیے مفید چیزیں پیش کرو، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ مِنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِنْدَ اللَّهِ} اور جو کچھ بھی اچھائی تم اپنے لئے پیش کرو گے تم اسے اللہ کے ہاں پا لو گے۔[البقرة: 110] ایک اور مقام پر فرمایا: {مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً} کون ہے جو اللہ تعالی کو قرض حسنہ دے تو اللہ تعالی قرض دینے والے کے لئے اسے بہت زیادہ بڑھا دے گا۔ [البقرة: 245]

یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ روزہ گناہوں کے سامنے ڈھال ہے، اور روزے کے علاوہ ہر کام اولاد آدم کے لئے ہے، جبکہ روزہ اللہ تعالی کے لئے ہے وہی اس کا اجر دے گا، تو جو کوئی بھی شوال کے چھ روزے رکھ سکے تو یہ رسول اللہ ﷺ کی سنت بھی ہے اور عمل بھی ، چنانچہ ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (جو شخص رمضان کے روزے رکھے اور پھر شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ پورا سال روزہ رکھنے کے برابر ہے۔) مسلم

اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک نیکی کا اجر دس گنا بڑھا کر دیا جائے گا تو رمضان دس ماہ کے روزوں کے برابر ، جبکہ شوال کے چھ روزے دو ماہ کے روزوں کے برابر ہوں گے، اوراللہ تعالی کے ہاں مہینوں کی تعداد 12 ہے۔

ماہ شوال کے اندر اندر ان روزوں کو اکٹھا رکھنا یا الگ الگ رکھنا ہر طرح جائز ہے، ان روزوں کا وہی مقام ہے جو فرض نماز کے لئے سنت رکعات کا ہے کہ ان کے ذریعے فرائض میں ہونے والی کمی کو پورا کیا جائے گا۔

مسلم اقوام!

حسب استطاعت تقوی الہی اپناؤ، دین پر مضبوطی سے کاربند رہو، اپنے نبی کی سنت کو تھام لو، باہمی ناچاقیوں کا خاتمہ کرو، اپنی وحدت اور ملت کو مکمل تحفظ دو، اپنے دشمنوں کے خلاف یک جان بن جاؤ، اور اللہ تعالی سے دعا کرو کہ تمہیں ثابت قدم بنائے اور تمہیں کامیاب بھی فرمائے۔

ان تمام تر تفصیلات کے بعد مسلمانو!

حملہ آوروں نے سعودی شہریوں اور مقیم لوگوں کو نشانہ بنایا، پر امن لوگوں کو دہشت زدہ کیا، معصوم جانوں کا خون بہایا، بچوں اور عورتوں کو قتل کیا، مقامات مقدسہ کی حرمت پامال کی، اللہ کے شہرکا تقدس تار تار کیا، ان سب دہشت گردانہ کاروائیوں کی تمام ادیان مذمت کرتے ہیں، اور اسلامی اقدار سے بھی بالکل متصادم ہیں، اللہ تعالی ان کی مکاریوں کو انہی کی تباہی کا باعث بنا دے، ان کے درمیاں پھوٹ ڈال دے، اور انہیں جڑ سے تباہ کر دے۔

یا اللہ! اس ملک کی خصوصی حفاظت فرما،اس ملک کو اپنی خصوصی حفاظت عطا فرما، یا اللہ! اس ملک کے خلاف جو بھی برے ارادے رکھے اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، اس کی مکاری اسی کی تباہی کا باعث بنا دے، یا اللہ! اس کی عیاری اسی کی بربادی کا باعث بنا دے، یا سمیع الدعاء!یا اللہ! شریروں کے شر، فاجروں کی مکاریوں ، اور دن رات لگے ہوئے مکاروں کے شر سے اس ملک کی حفاظت فرما۔یا رب العالمین!

یا اللہ! اس ملک کو اور تمام اسلامی ممالک کو پر امن بنا دے۔

یا اللہ! ہمارے حکمران خادم حرمین شریفین کو خصوصی توفیق سے نواز، ان کی خصوصی مدد فرما۔ یا اللہ! انہیں اور ان کے ولی عہد کو تیری رضا کے حامل کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا سمیع الدعاء!

یا اللہ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی سے نواز، اور ہمیں آگ سے محفوظ فرما۔

اللہ کے بندو!

اللہ تعالی نے تمہیں نبی ﷺ پر درود و سلام پڑھنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجا کرو۔ [الأحزاب: 56]

اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اَللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.

یا اللہ! ہدایت یافتہ خلفائے راشدین : ابو بکر ، عمر، عثمان، علی اور دیگر تمام صحابہ سے راضی ہو جا؛ یا اللہ! اپنے رحم و کرم کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں