40

ایک ہاتھ سے کام کرنے والی ٹنڈی قوم!-عطا ء الحق قاسمی

میں جب اقبالؔ کو پڑھتا ہوں تو میں سوچتا ہوں کہ خدا نے کنول کا یہ پھول کن پانیوں میں اُگایا ہے؟ گزشتہ رات کلیاتِ اقبال کا مطالعہ کرتے ہوئے میں ایک دفعہ پھر اس نتیجے پر پہنچا کہ اقبال اپنی گری پڑی ہوئی قوم کو کھینچ کر اپنی سطح پر لانا چاہتا ہے لیکن قعرِ ذلت میں گرے ہوئے قوم کے سبھی طبقے اسے کھینچ کھانچ کر اپنے قدکے برابر کھڑا کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ ہم کلیاتِ اقبال میں سے اپنے سائز کا اقبال تلاش کرتے ہیں اور پھر اسے محفلوں میں لئے پھرتے ہیں۔ اقبال وہ جن ہے جس کا قد آسمان سے باتیں کررہا ہے اور جس کے بازو مشرق و مغرب میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اسے دیکھ کر ہمیں اپنی کوتاہ دامنی کا احساس ہونے لگتا ہے چنانچہ ہم جنتر منتر پڑھ کر اس جن کو مکھی بنانے کی کوشش کرتے ہیں بالکل اسی طرح جس طرح پرانی داستانوں میں کوئی مکروہ جادوگر کسی خوبصورت شہزادے کو مکھی بنا کر بوتل میں قید کردیتا ہے۔ اقبال ممولے کو شہباز سے لڑانا چاہتا ہے،اقبال ذہنوں کو کشادہ کرنا چاہتا ہے۔ اس کی خواہش ہے کہ دماغ کو کام کرنے کی اجازت دی جائے مگر ہم دولے شاہ کے چوہے بننے پر اصرار کرتے ہیں۔ اقبال کو ملا سے کیوں چڑ ہے؟ صرف اس لئے کہ وہ اپنے دماغ کو استعمال نہیں کرتا بلکہ دلیل کے طور پر اپنے سے بڑے کسی ملا کی تلاش میں لگا رہتا ہے اور یوں اس کا ذہن کشادہ نہیں ہوپاتا؎

فقیہِ شہر کی تحقیر، کیا مجال میری

مگر یہ بات کہ میں ڈھونڈتا ہوں دل کی کشاد!

ہم صرف مذہبی پیشوائوں ہی کو موردِ الزام کیوں ٹھہرائیں، اس کام میں ہم میں سے کون کسی سے پیچھے ہے، ہم سب ملک کی بربادی میں پورے خلوص سے اپنا اپنا حصہ ڈالتے ہیں اور اس کے بعد ایک دوسرے سے پوچھتے بھی رہتے ہیں کہ یار ملک کا کیا بنے گا؟ میں بیرونِ ملک جاتا ہوں،چنانچہ دوست اکثر مجھ سے ملتے ہیں تو یہی سوال کرتے ہیں کہ جہالت کا یہ سلسلہ کب ختم ہوگا۔ حسبِ توفیق انہیں مطمئن کرنے کی کوشش کرتا ہوں مگر بار بار پوچھے جانے والے اس سوال سے زچ ہوکر ایک دن میں نے ایک دوست کے اس سوال کے جواب میں کہا کہ جب دوسری جنگ عظیم نے طول پکڑا اور لوگوں کی پریشانی اپنے عروج پر پہنچ گئی تو چرچل کے ایک قریبی دوست نے چرچل سے ملاقات کا سوچا تاکہ وہ براہ راست اس سے پوچھے کہ یہ جنگ کب ختم ہوگی، ایک روز وہ چرچل سے ملاقات میں کامیاب ہوگیا۔ یہ جب چرچل کے آفس میں داخل ہوا تو چرچل نے خوشدلی سے اپنے دوست کو ویلکم کہا، سگار سلگایا اور ایک کش لے کر اس سے پوچھا ’’یار یہ جنگ کب ختم ہوگی‘‘، مجھے لگتا ہے کہ چرچل کی طرح ہمارے رہنمائوں کے سامنے بھی مستقبل کا نقشہ واضح نہیں ہے کہ آخر وہ بھی تو ہم ہی میں سے ہیں۔

میں معذرت خواہ ہوں کہ میں بار بار گھوم پھر کر ایک ہی نکتے پر آ جاتا ہوں مگر اقبال بھی تو دل کی کشاد والی بات بار بار کرتا ہے۔ یہ دلوں کی گھٹن ہی کا نتیجہ ہے کہ قوم کے سبھی طبقوں میں عدم برداشت کا زہر پھیلتا چلا جا رہا ہے۔ ہم اختلاف برداشت کر ہی نہیں سکتے۔ میں نے پاکستان کا ابتدائی دور دیکھا ہے، ان دنوں لوگوں میں برداشت کا مادہ بہت زیادہ تھا۔ صوبہ سرحدکے ایک سیاسی رہنما خان غلام محمد لوند خوڑ کوکسی نے بتایا کہ سعادت حسن منٹو نے تمہارے خلاف بہت باتیں کی ہیں۔ یہ سن کر خان صاحب غصے سے بھرے ہوئے لاہور پہنچے ، منٹو کو پکڑا اور پوچھا ’’تم نے امارے بارے میں کوئی مضمون لکا ہے؟‘‘ منٹو نے جواب دیا جی۔خان صاحب نے پوچھا کیا لکا ہے؟ منٹو نے کہا ’’میں نے لکھا ہے کہ خان صاحب شراب پیتے ہیںاور یہ لکھا ہے کہ وہ طوائفوں کا گانا سنتے ہیں!‘‘ اور؟ ’’بس خان صاحب ! یہی لکھا ہے‘‘۔ اس پر خان صاحب نے کہا ’’یارا ، یہ تو تم نے ٹھیک لکا ہے، لوگ کہتے تھے خلاف لکا ہے‘‘۔

کیا آج کے دور میں اس رویے کی توقع کی جا سکتی ہے؟ آج تو ہم اور تو اور کسی غزل پر تنقید کر دیں تو شاعر کی دشمنی سات نسلوں تک مول لینا پڑتی ہے۔خدا کے لئے ایک دوسرے کو برداشت کریں جن خیالات کو آپ پسند نہیں کرتے اس کے جواب میں اختلاف کرنے والے کے سر پر اینٹ نہ ماریں، اس کا سینہ گولیوں سے چھلنی نہ کریں بلکہ دلیل سے جواب دلیل سے دیں کہ اس وقت ملک کی ترقی میں ایک بہت بڑی رکاوٹ اختلاف برداشت نہ کر سکنے کی وجہ سے ہے اور دہشت گرد تنظیمیں عدم برداشت کامکروہ ترین نمونہ ہیں اور یوں عدم برداشت کا رویہ ہمیشہ بے سکونی اور ملکی معیشت کی بربادی کی صورت میں سامنے آتا رہا ہے۔

ایک سیاح اسرائیل کی سیاحت پر گیا، اس نے دیوارِ گریہ کے بارے میں سن رکھا تھا کہ یہودی وہاں جاکر زارو قطار روتے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں چنانچہ اس نے بھی وہاں جانے کی ٹھانی اور ایک راہگیر سے پوچھا کہ دیوارِ گریہ کہاں ہے؟ دیوارِ گریہ کا نام چونکہ ان کی اپنی زبان میں کچھ اور ہے چنانچہ راہگیر نے لاعلمی میں سر ہلا دیا۔ اس پر سیاح نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ وہاں جانا چاہتا ہے جہاں یہودی دھاڑیں مار مار کر روتے ہیں۔ اس پر راہگیر نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے ا نکم ٹیکس کے دفتر چھوڑ آیا۔ہم نے بھی آہ و زاری کے لئے اپنی اپنی دیوار گریہ منتخب کر رکھی ہے جہاں جا کر ہم روتے ہیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں،کچھ کی دیوار گریہ واشنگٹن ہے، کسی کی کوئی عرب اور کسی کی دیوار گریہ وہ دیوار ہے جہاں یہ لوگ جاتے ہیں، گڑ گڑا کر روتے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔ اگر وہاں سے معافی مل جائے تو سارے دلدر دور ہوجاتے ہیں ورنہ پھانسی بھی ہے اور جلا وطنی بھی۔ ہم لوگ کیوں اپنی مدد آپ نہیں کرتے۔ ایک ہاتھ آپ کا ہو اور ایک ہاتھ آپ سے اختلاف کرنے والے کا اور یہ دونوں اگر مل جائیں تو پھر ہمیں کسی دیوارِ گریہ کی ضرورت نہیں رہتی لیکن کبھی ایک ہاتھ کھجلانے کے کام میں مشغول ہوتا ہے اور کبھی دوسرا ہاتھ اور یوں ہماری قوم ایک عرصے سے صرف ایک ہاتھ سے کام لے رہی ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی اقبال ہمیں شاہین دیکھنا چاہتے ہیں لیکن اللہ جانے ہمیں ’’ٹنڈا‘‘ کہلانے کا شوق کیوں ہے؟

بشکریہ روزنامہ جنگ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں