54

مکان کی بنیادیں! عطا ء الحق قاسمی روزن دیوار سے …

میں بہت عرصہ قبل جس کرائے کے مکان میں رہتا تھا اس کے دو حصے تھے۔ میری رہائش اوپر کے حصے میں تھی، نیچے مالک مکان رہتا تھا۔ ہمارے گھر کے سامنے یونین کمیٹی کا دفتر تھا۔ اس کے ساتھ ایک پلاٹ تھا اور اس پلاٹ کے برابر مسجد تھی۔ اس یونین کمیٹی، خالی پلاٹ اور مسجد کی دوسری طرف قبرستان تھا۔ قبرستان کے ساتھ دو تین مکان چھوڑ کر تھانہ تھا، جس کا دروازہ مین روڈ کی طرف کھلتا تھا۔

میرے گھر کے سامنے واقع یونین کمیٹی کا دفتر خاصا کثیر المقاصد قسم کی چیز تھا۔ یہاں پیدائش اور موت کا اندراج بھی ہوتا تھا، انسدادی ٹیکے بھی لگائے جاتے تھے۔ صفائی کا شعبہ بھی یہیں تھا۔ کچھ دنوں سے یہاں شناختی کارڈ بھی بنائے جا رہے تھے اور پھر یونین کمیٹی کے برابر والے پلاٹ میں پلاٹ کے مالک نے مکان کی بنیادیں بھری ہوئی تھیں۔ میں جب سے یہاں تھا، ان بنیادوں کو اسی حالت میں دیکھ رہا تھا۔

اس پلاٹ کے ساتھ واقع مسجد، ظاہر ہے عبادت کے لئے تعمیر کی گئی تھی۔ یہاں سے پنج وقتہ اذان بھی بلند ہوتی تھی لیکن نمازیوں کی تعداد بہت کم تھی۔ موذن اذان دینے کے علاوہ لوگوں کے گھریلو کام کاج بھی کرتا تھا اور اس کا معاوضہ صدقہ، خیرات اور زکوٰۃ وغیرہ کی صورت میں وصول کرتا تھا۔ امام صاحب نے مسجد سے ملحقہ دکانوں میں سے ایک دکان کرایہ پر لی ہوئی تھی۔ یہ جنرل اسٹور تھا، جہاں امام صاحب خود یا ان کا چھوٹا بیٹا بیٹھتا تھا۔ خطیب صاحب ان کے علاوہ تھے جو صرف جمعہ کا خطبہ دیتے تھے۔ یہ نابینا تھے تاہم انہیں پنجابی، اردو، فارسی کے بے شمار شعر اور حکایتیں یاد تھیں جو وہ لہک لہک کر سناتے تھے۔

یونین کمیٹی، پلاٹ اور مسجد کی دوسری طرف واقع قبرستان خاصا طویل و عریض تھا۔ اس کے چاروں طرف دیوار کھینچی ہوئی تھی اور اندر سنگ مر مر اور مٹی کی قبریں تھیں۔ قبرستان سے چند گز کے فاصلے پر واقع تھانہ ظالموں اور مظلوموں سے بھرا رہتا تھا اور ادھر سے گزرتے وقت کبھی کبھار کانوں میں سیسے کی طرح اترنے والی چیخیں سنائی دیتی تھیں۔

میں چھٹی کے روز اپنے گھر کی بالکونی میں کرسی بچھا کر بیٹھ جاتا تھا اور سگریٹ کے کش لیتے ہوئے نیچے سڑک پر برپا ہونے والے ہنگاموں کو دیکھتا تھا۔ یونین کمیٹی کی دہلیز پر بہت سے خاکروب بیٹھے یا کھڑے داروغہ صفائی کی ڈانٹ ڈپٹ سن رہے ہوتے تھے۔ یہ روٹین کا معاملہ تھا لہٰذا وہ اس کا بُرا نہیں مناتے تھے اور نہ اس کا کوئی اثر لیتے تھے۔ چنانچہ وہ اس ڈانٹ ڈپٹ کے دوران ماچس کی تیلی سے کانوں کی میل نکالنے میں مشغول رہتے تھے اور یہ ڈانٹ ڈپٹ اگر طول پکڑ جاتی تو سگریٹ سلگا کر لمبے لمبے سوٹے گانے لگتے تھے۔ یہاں لوگ شناختی کارڈ بنوانے کے لئے بھی آ جا رہے ہوتے تھے اور کچھ ٹیکہ لگوانے یا موت یا پیدائش کا سرٹیفکیٹ لینے کے لئے جمع ہوتے تھے۔

برابر والے پلاٹ میں بچے کھیل کود میں مصروف دکھائی دیتے تھے۔ وہ مکان کے لئے بھری ہوئی بنیادوں پر توازن برقرار رکھتے ہوئے ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے تھے اور اگر اس کھیل کے دوران کوئی گر جائے تو اس پر ہنسنا شروع کر دیتے تھے۔ لوگوں کا سودا سلف لانے والا موذن جب اذان دیتا تھا تو کچھ لوگ اس کی آواز پر گھروں سے نکلتے اور امام صاحب دکان پر اپنے ننھے منے بچے کو بٹھا کر امامت کے لئے دکان سے مسجد کی طرف روانہ ہو جاتے تھے۔

سو جہاں میں رہتا تھا وہاں ایک یونین کمیٹی کا دفتر تھا جہاں سے شناختی کارڈ بھی جاری ہوتے تھے کہ اب ہماری شناخت شناختی کارڈ ہی سے ہے۔ یہاں موت اور پیدائش کے سرٹیفکیٹ بھی جاری کئے جاتے تھے کہ ہماری زندگی اور موت کی تصدیق بھی سرکاری کاغذوں ہی سے ہوتی ہے۔ جہاں میں تھا وہاں ایک قبرستان تھا جس میں سنگ مرمر اور مٹی کی قبریں تھیں۔ اس کے برابر میں تھانہ تھا جس کے قریب سے گزرتے ہوئے انسانی چیخیں سنائی دیتی تھیں اور جہاں میں تھا وہاں ایک پلاٹ تھا، جس میں کب سے ایک خوبصورت مکان کی بنیادیں بھری ہوئی تھی لیکن اس پر ابھی تک کوئی عمارت تعمیر نہیں ہوئی تھی۔ یہ بنیادیں شاید 1947ء میں بھری گئی تھیں۔

آخر میں خوبصورت شاعر رضی الدین رضیؔ کی ایک غزل

وہ تو رستے میں مل گیا تھا مجھے

میں یہ سمجھا کہ ڈھونڈتا تھا مجھے

ایسے تکتا تھا اجنبی کی طرح

جیسے مدت سے جانتا تھا مجھے

اس نے پوچھا کسے بھٹکنا ہے

میں نے فوراً ہی کہہ دیا تھا مجھے

میں زمانے کی کس لئے سنتا

بولنا بھی تو آ گیا تھا مجھے

جب بھی روشن ہوا اندھیرے میں

سب نے مل کر بجھا دیا تھا مجھے

ایک دریا تھا تیری چاہت کا

جو سمندر بنا رہا تھا مجھے

کرچیاں بن گیا ہے آنکھوں میں

ایک ہی شخص آئینہ تھا مجھے

میں نے سب کچھ سنا رضیؔ لیکن

اس نے کچھ بھی نہیں کہا تھا مجھے
بشکریہ روزنامہ جنگ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں