31

عید سعید پر رہنما تعلیمات – خطبہ عید الفطر مسجد نبوی

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس صلاح بن محمد البدیر حفظہ اللہ نے یکم شوال 1440 کا خطبہ عیدالفطر “عید سعید پر رہنما تعلیمات” کے عنوان پر مسجد نبوی میں ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ عید کی خوشیاں اور رونقیں ہر طرف دوبالا ہیں، اس پر مسرت موقع پر رمضان میں روزے اور قیام کرنے والوں چہرے خوشی چمک رہے ہیں اور اللہ تعالی کی بڑائی بیان کر رہے ہیں، اور حقیقی تعظیم الہی یہ ہے کہ اللہ تعالی کے احکامات کی تعمیل کریں ، ممنوعہ امور سے بچیں، اپنے آپ کو شرکیہ اور بدعتی کاموں سے بچائیں، قبروں میں دفن لوگوں سے نہ مانگیں، عید کے دن خوشی کا اظہار مسلمانوں کا شعیرہ ہے اس دن غموں کی پٹاری کھول کر بیٹھنا کسی طور درست نہیں ہے، عید کے ایام میں کمزور لوگوں کی مدد کرنی چاہیے، والدین اور دیگر رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی، اپنے دل کو تمام مسلمانوں کے بارے میں صاف رکھیں، ایسے شخص کی بھی بھلا کوئی عید ہے جس کا دل ہی صاف نہ ہو، عید کے موقع پر خاندان کے افراد مل بیٹھتے ہیں تو یہ کدورتوں کو بھول کر نئے تعلقات استوار کرنے کا موقع ہوتا ہے، اس موقع پر ملک و قوم اور وطن سے محبت اپنے نوجوانوں کے دلوں میں ڈالیں، انہیں اعتدال سکھائیں، ان کی اعلی اخلاق پر تربیت کریں، زندگی میں جس سے کوئی معاہدہ کر لیں تو اس کی پاسداری کریں؛ خصوصاً مالی معاہدوں پر خاص توجہ دیں، اس دنیا میں ہم جانے کے لئے آئے ہیں اس لیے ہر وقت جانے کی تیاری رکھیں، دنیا میں رہتے ہوئے اللہ کی نعمتوں کی قدر کریں اور ان کا شکر بجا لائیں، ہر وقت اللہ سے رجوع رکھیں اور گناہوں سے توبہ کرتے رہیں، ہمہ قسم کے سودی لین دین ختم کر دیں، اپنی زبان کو لگام دیں اور کوئی معافی مانگ لے تو اسے معاف کر دیں۔ دوسرے خطبے میں انہوں نے کہا کہ: ہم ملک کے محافظوں اور شیر جوانوں کو ہدیہ سپاس پیش کرتے ہیں کہ ان کی وجہ سے سب لوگوں نے پر امن انداز میں روزے رکھے اور اللہ کی عبادت کی، ہم ان کا جتنا شکریہ ادا کرنا چاہیں نہیں کر سکتے، ان کے شکریہ کے لئے ہمارے پاس الفاظ ہی نہیں ہیں، ہم منبر نبوی سے مورچوں میں موجود فوجیوں کے لئے دعا گو بھی ہیں اور نہیں عید کی مبارکباد بھی پیش کرتے ہیں، آخر میں انہوں نے خواتین کو نصیحتیں کرتے ہوئے کہا کہ بے پردگی سے بچیں، خاوند کی اطاعت کریں اور ناشکری سے دور رہیں، اور پھر کہا کہ رمضان گزرنے کے بعد بھی نیکیوں کا تسلسل جاری رکھیں اور شوال کے چھو روزے رکھ کر پورے سال کے روزوں کا ثواب لیں، سب سے آخر میں انہوں نے جامع دعا کروائی ۔

ترجمہ سماعت کرنے کے لئے کلک کریں۔

پی ڈی ایف فائل کے لئے کلک کریں۔

عربی خطبہ کی ویڈیو کیلیے یہاں کلک کریں۔

پہلا خطبہ:
اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ كَبِيْرًا، وَالْحَمْدُ للهِ كَثِيْرًا، وَسُبْحَانَ اللهِ بُكْرَةً وَّأَصِيْلًا.

یقیناً تمام تعریفیں اس ذات کے لئے ہیں جس نے ہمیں وافر فضل عطا فرمایا، ہمیں اپنے وسیع کرم میں رکھا، اور خوشحال ، سکھی، آسودہ زندگی دے کر ہماری عزت افزائی فرمائی، اسی ذات نے عید کو توبہ، انابت اور رجوع کرنے والے بندے کے لئے نیکیوں کا بدلہ بنایا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، میں اسی کی جانب دعوت دیتا ہوں اور اسی کی جانب انابت کرتا ہوں، یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد -ﷺ- اللہ کے بندے اور حسب نسب والے رسول ہیں۔ اللہ تعالی آپ پر ،آپ کی آل، اور صحابہ کرام پر رحمتیں نازل فرمائے۔ نبی ﷺ پر درود پڑھنے پر ہمیں ڈھیروں اجر و ثواب ملے گا۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

مسلمانو! تقوی اختیار کرو؛ کیونکہ کل قصہ پارینہ بن جائے گا، آج عمل کرنے کا موقع ہے اور آئندہ اس کے نتائج برآمد ہوں گے، {وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ مِنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِنْدَ اللَّهِ هُوَ خَيْرًا وَأَعْظَمَ أَجْرًا} اور جو کچھ بھی تم اپنے لیے پیش کرو گے اسے اللہ کے ہاں پا لو گے، وہی بہتر اور عظیم اجر والا بدلہ ہے۔[المزمل: 20]

مسلمانو!

عید سعید اور عید الفطر کی خوشیاں اور رونقیں تم پر سایہ فگن ہیں، عید کی خوشبو چہار سو پھیل چکی ہے اور عید کی کرنیں ہر طرف عیاں ہیں، مسرتوں اور خوشیوں سے بھر پور عید کو ہم خوش آمدید کہتے ہیں، عید نے فراخ دلی اور سکینت کی برکھا ہم پر برسا دی ہے، عید کی خوشیوں سے لمحات اور آنگن مسرتوں سے بھر گئے ہیں، عید کا نام اور عنوان ہی مٹھاس بھرا ہے۔

تو آپ سب کو عید الفطر کا سعادت بھر دن مبارک ہو۔

هَنِيْئًا لَكَ الْعِيْدُ الَّذِيْ أَنْتَ عِيْدُهُ

وَأَنَّكَ مِنْ فَيْضِ الْبَهَاءِ تَزِيْدُهُ

تمہیں عید مبارک، حقیقت میں تم ہی اس عید کی عید ہو، اور تم سے ہی عید کی خوشیاں دو بالا ہوتی ہیں۔

بِالْبِرِّ صُمْتَ وَبِتَّ شَهْرَكَ صَائِمًا
وَبِسُنَّةِ اللهِ الرَّضِيَّةِ تُفْطِرُ

تم نے نیکی کرتے ہوئے پورا مہینہ روزے رکھے، اور اللہ کے پسندیدہ طریقے کے مطابق عید الفطر منا رہے ہو

فَانْعَمْ بِعِيْدِ الْفِطْرِ عِيْدًا إِنَّهُ

يَوْمٌ أَغَرُّ مِنَ الزَّمَانِ مُشَهَّرُ

تو تمہیں عید الفطر کا دن مبارک ہو، یہ تمام ایام میں سے بہترین دن ہے۔

يَا صَائِمًا تَرَكَ الطَّعَامَ تَعَفُّفًا

أَضْحَى رَفِيقَ الْجُوعِ واللأْوَاءِ
روزے کی حالت میں کھانا چھوڑ کر بھوک اور پیاس برداشت کرنے والے روزے دار!

أَبْشِرْ بَعِيدِكَ فِي الْقِيَامَةِ رَحْمَةً

مَحْفُوفَةً بِالْبرِّ وَالْأَنْدَاءِ
روزِ قیامت بہترین بدلے ، رحمت اور اجر سے بھری عید کی خوش خبری سن لو۔

اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ.

مسلمانو!

تم نے پورے ماہ کے روزے رکھے، فطرانہ ادا کیا، اور اللہ تعالی کی کبریائی بیان کرتے ہوئے تکبیرات بھی کہیں ، یہ سب کام تمہیں مبارک ہوں۔ تکبیر کہہ کر انسان اللہ تعالی کی بلیغ ترین انداز میں عظمت بیان کرتا ہے۔ اس لیے کما حقہ اللہ تعالی کی تعظیم کرو، اللہ کی پکڑ اور عذاب سے ڈرو، اللہ تعالی کی نعمتوں اور فضل پر اس کے شکر سے غافل مت رہو، اللہ کے اوامر اور نواہی کی پاسداری کرو۔

اللہ تعالی کے اوامر اور نواہی کے ساتھ افراط و تفریط سے کام مت لو یا ایسے کمزور عذر نہ بناؤ جس سے سچی تابعداری پر حرف آئے، اس لیے بت پرستوں اور مشرکوں والے کاموں اور باتوں سے اللہ تعالی کو پاک صاف سمجھو، اور اس کی حقیقی معنوں میں تعظیم کرو۔

اپنے نامہ اعمال کو بدعات سے پراگندہ مت کرو۔ غیب جاننے اور مشکل کشائی کا دعوی کرنے والے جادو گر، کاہن، دجل کار، اور شعبدہ باز لوگوں کے پاس جا کر اپنے ایمان کو خراب مت کرو۔

اپنے ایمان کو دھاگے، منکے، تعویذ اور دیگر ایسی چیزیں باندھ کر مخدوش مت کرو ؛ یہ چیزیں نا تو صاحب مال بنا سکتی ہیں اور نہ ہی کسی مشکل کو ٹال سکتی ہیں، نہ ہی اہل و عیال کو تحفظ فراہم کر سکتی ہیں۔

قبر اور بت پرستوں کی طرح بوسیدہ ہڈیوں، خستہ پسلیوں کی عبادت کر کے اپنے اعمال ضائع مت کرو، کسی قبر کا نہ تو طواف کرو اور نہ ہی کسی قبر کے پاس جانور ذبح کرو، قبر سے مشکل کشائی کا مطالبہ بھی نہ کرو۔

لہذا جو شخص وحدانیت الہی اور عقیدہ توحید کے تحفظ میں کامیاب ہو گیا تو اسی نے تکبیر کا مفہوم سمجھا اور رب عظیم کی تعظیم کا حق ادا کیا۔

اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ.

مسلمانو!

جب عید کا سورج طلوع ہوتا ہے تو چہروں پر خوشیاں اور مسرتیں رونما ہو جاتی ہیں، چہرے کھل کھلا اٹھتے ہیں ، عید آنے پر خوشی کا اظہار مسلمانوں کا دینی شعیرہ ہے، اس لیے عید کے دن میں خوشی کا اظہار کرنا چاہیے، عید کے دن میں غم، تکالیف اور پریشانیاں ذکر کر کے نوحہ کناں نہیں ہونا چاہیے۔

لَا حُزْن لَا حُزْنَ يَعْلُوْ فَرْحَةً شُرِعَتْ

فِيْ يَوْمِ عِيْدٍ وَيَوْمُ الْعِيْدِ أَفْرَاحُ
عید کے دن شریعت کی مقرر کی ہوئی خوشی پر کوئی غم بھاری نہیں ہو سکتا، عید کا دن تو خوشیوں کا دن ہوتا ہے۔

اس لیے فرحت، مسرت، خوشی کا کھل کر اظہار کریں، غموں کے بادل چھٹ دیں، اپنے آپ ،اہل خانہ ، عزیز و اقارب اور پڑوسیوں میں خوشیاں بانٹیں، دل کھول کر خرچ کریں، اہل و عیال پر خوشیاں نچھاور کریں، بچوں کو خوش کر دیں، مسکراہٹ اور خندہ پیشانی کے ساتھ لوگوں سے ملیں۔

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: “کون سا عمل افضل ترین ہے؟” تو آپ ﷺ نے فرمایا: (آپ مومن کو خوش کر دیں، اسے بھوک میں کھانا کھلائیں، یا ستر ڈھانپنے کے لئے لباس پہنائیں یا اس کی کوئی ضرورت پوری کر دیں۔) اس حدیث کو امام طبرانی نے معجم الاوسط میں روایت کیا ہے۔

تو خوشخبری ہے فیاض، سخی، دریا دل شخص کے لئے۔ فقرا اور مساکین پر شفقت اور نرمی کرنے والے کے لئے۔ مصیبت زدہ، پریشان حال، ناتواں لوگوں، یتیموں اور بیواؤں کے دلوں میں خوشیاں ڈالنے والے کے لئے ۔ان لوگوں کے لئے بھی خوش خبری ہے جو کمزور، بے گھر اور تکلیف زدہ لوگوں کا خیال کرتا ہے اور ان کے درد بانٹتا ہے۔

جبکہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا ضروری ہے جبکہ انہیں ناگوار گزرنے والی ہر چیز ان سے دور رکھنا لازمی اور حتمی ہے۔

اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ.

مسلمانو!

عید ایک بار پھر ہمارے پاس اس لیے آئی ہے کہ محبت کا دریا بہہ پڑے، باہمی مودت کا سیلاب امڈ آئے، دلوں سے کینہ اور بغض پاک صاف ہو جائیں، سینوں کو نفرت اور تعصب سے پاک کر دے۔

عید اس لیے آئی ہے کہ عید کی خوشیاں تمام پریشان حال لوگوں کو خوش کر دے، تمام مصیبت زدہ لوگوں کو فرحت بخشے، غم زدہ افراد کے درد بانٹ کر داد رسی کرے۔

عید تو ایسے چہروں کو دھونے کے لئے آئی ہے جن کی سلوٹوں میں غم گھس بیٹھے تھے، دکھوں نے ان پر پڑاؤ ڈال لیا تھا، مایوسی ان میں گھر کر چکی تھی، حالانکہ پریشان ہونے سے نقصان کا ازالہ کبھی نہیں ہوتا نہ ہی حسرت کرنے سے چلے جانے والے واپس آتے ہیں!

فَلَسْتُ بِمُدْرِكٍ مَا فَاتَ مِنِّي

بِلَهْفَ وَلَا بِلَيْتَ وَلَا لَو أَنِّي
جو چیز میرے نصیب میں نہیں میں اسے پریشان ہو کر یا، کاش کہہ کر یا کچھ اور کر کے حاصل نہیں کر سکتا۔

اس لیے عید کے موقع پر ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑ دیں، اور حسرت بھری نگاہوں سے دیکھنے والوں کا درد بانٹ دیں، بیمار اور بوڑھے افراد کی تیمار داری کریں، جن کی مسکراہٹیں اور خوشیاں چھن گئی ہیں انہیں مسکراہٹیں اور خوشیاں دیں ۔

اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ.

مسلمانو!

عید کی مبارکباد سے مودت اور محبت بڑھتی ہے، مصافحہ کرنے سے باہمی تعارف اور الفت پروان چڑھتی ہے، اس لیے ہاتھ ملاتے ہوئے اپنے دلوں اور سینوں کو بھی صاف رکھیں۔ خطا کار اور بد سلوکی کرنے والوں کو معاف کر دیں، محبت اور مودت عام کریں، اپنی عید کو معافی کی خوشبو سے معطر کر دیں، اور معافی کو اتنا عام کریں کہ اس کی خوشبو چہار سو پھیل جائے۔

(کسی بھی مسلمان کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع رکھے کہ جب وہ ملیں تو دونوں ہی منہ موڑ لیں، اور ان میں سے بہتر وہی ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے۔)

لڑنے اور جھگڑنے والوں کی بھی کیا کوئی عید ہے! ؟

دست و گریبان رہنے والوں کی بھی کیا کوئی خوشی ہے!؟

ایک دوسرے سے کنارہ کش رہنے والوں کی بھی کیا کوئی مسرت ہے!؟

عید تو باہمی الفت اور سلامتی کا تہوار ہے، عید میں یکجہتی نظر آتی ہے ۔ اور شیطان ایسا معاشرہ دیکھ رسوا ہوتا ہے جہاں پر محبت، مودت، الفت اور باہمی اتحاد ہو۔

ایسے لوگوں کی کوئی عید نہیں جن میں تکبر، غرور اور ظلم پایا جائے۔ نہ ہی ایسے جسموں کی عید ہے جو غسل تو کر لیں لیکن بغض، کینہ، عداوت کو نہ دھو سکیں۔ سینے میں کینہ رکھ کر عید کا لباس زیب تن کرنے والوں کی بھی کوئی عید نہیں!

اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ.

مسلمانو!

خاندان روح کی غذا اور زخموں کے لئے مرہم کا کام کرتا ہے، عید کے موقع پر خاندان کے بڑے چھوٹے تمام افراد اکٹھے ہوتے ہیں ، قبیلے کی تمام شاخیں ایک دوسرے سے ملتی ہیں، نوجوان اپنے بزرگوں کے ساتھ بیٹھتے ہیں، اس لیے اپنی صلہ رحمی اور احسان کی ذمہ داری اچھی طرح نبھائیں، اپنے بیٹوں اور بیٹیوں میں دین، عقیدہ اور وحدانیت الہی سے نسبت پیدا کریں۔

اپنے ملک سے محبت، امن و استحکام اور قومی وحدت سے نسبت ان میں پروان چڑھائیں، اور اس بات کو لازمی بنائیں کہ ہمیشہ قومی اجتماعیت کو ترجیح دیں اختلافات اور گروہ بندی کو چھوڑ دیں۔ اپنے بچوں کو اعتدال ، وسطیت سکھائیں، انہیں شدت پسندی، غلو، اور دہشت گردی کے راستوں سے محفوظ رکھیں۔ انہیں سیکورٹی فورس کا دست و بازو بننے اور نظام حکومت کے تحفظ کے لئے ترغیب دلائیں، انہیں علم و معرفت سے آراستہ و پیراستہ کریں، اپنے بچوں کو بول چال، کھانے پینے اور معاشرتی آداب میں اعلی اخلاق، پاکدامنی، عفت اور پاکیزگی سکھائیں ان کی حلم، عدل، تواضع، صلہ رحمی، چھوٹوں پر شفقت، بڑوں کے احترام کی تربیت دیں۔ اصحاب علم و فضل کی اس طرح قدر کریں کہ بنیادی اور ذیلی تمام اقدار میں اعلی کردار کے مالک ہوں۔

زَانُوْا قَدِيْمَهُمْ بِحُسْنِ حَدِيْثِهِمْ

وَكَرِيْمِ أَخْلَاقٍ وَحُسْنِ خِصَالِ
بہترین لوگوں نے حسن گفتگو، اچھے اخلاق اور خوبیوں کی بدولت اپنی نسل کو قدر فراہم کی۔

فَطُوْبَى لِقَوْمٍ أَنْتَ فَارِعُ أَصْلِهِمْ
وَطُوْبَاكَ إِذْ مِنْ أَصْلِهِمُ أَنْتَ فَارِعُ

آفرین ہے تمہارے خانوادے پر جس کے تم سپوت ہو، اور تم پر بھی آفرین ہے کہ تم ان کی اولاد ہو۔

اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ.

مسلمانو!

شریعت نے معاہدوں کو مکمل کرنے پر زور دیا ہے، چاہے ان کا تعلق تجارت، اجارہ، کرایہ، نکاح، طلاق، مزارعت یا کسی بھی مروجہ معاہدے سے ہو۔ معاہدے کے دونوں فریقوں کی جانب سے تنازعات اور چالبازیاں چلی جاتی ہیں، کفیل اور مزدور خیانت، ملاوٹ، دھوکے اور جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں، کچھ مزدور ایسے پیشے کے معاہدے کر کے آ جاتے ہیں جن کے وہ ماہر نہیں ہوتے یا انہیں اس کام کی سرے سے سمجھ بوجھ ہی نہیں ہوتی۔

تو ہر کوئی مال جمع کرنے کی لالچ کرتا ہے چاہے اس کے لئے حرام ہی کمانا پڑے! تو وہ معاہدے کے دوسرے فریق کو دھوکا دینے کی کوشش کرتا ہے، صرف وہی لوگ اس سے بچتے ہیں جو اللہ سے ڈرتے ہیں، روزِ قیامت اللہ تعالی اپنے بندوں کے درمیان ضرور فیصلہ فرمائے گا۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ: “ایک آدمی نبی ﷺ کے سامنے بیٹھا اور عرض کرنے لگا: اللہ کے رسول! میرے غلام مجھے جھوٹا کہتے ہیں، خیانت کرتے ہیں اور میری بات نہیں مانتے، تو میں انہیں برا بھلا کہتا ہوں اور مارتا بھی ہوں، تو میرا کیا حکم ہے؟” تو آپ ﷺ نے فرمایا: (ان کی خیانت ، جھوٹ اور نافرمانی کا تمہاری سزا سے موازنہ کیا جائے گا تو اگر تمہاری سزا ان کی غلطیوں کے برابر ہوئی تو معاملہ رفع دفع ہو جائے گا ، تمہیں کوئی لینا دینا نہیں کرنا پڑے گا، اور اگر تمہاری دی ہوئی سزا ان کی غلطیوں سے کم ہوئی تو تمہارا پلڑا بھاری ہو گا، اور اگر تمہاری سزا ان کی غلطیوں سے زیادہ ہوئی تو انہیں اس کا قصاصاً بدلہ ملے گا) اس پر وہ آدمی قدرے دور ہٹ کر رونے لگا اور افسردہ ہو گیا، یہ دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (کیا تم نے قرآن مجید میں نہیں پڑھا: {وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَى بِنَا حَاسِبِينَ} اور ہم روز قیامت انصاف کے ترازو رکھیں گے اور کسی کی کچھ بھی حق تلفی نہ ہوگی اور اگر کسی کا رائی کے دانہ برابر بھی عمل ہوگا تو وہ بھی سامنے لائیں گے اور حساب کرنے کو ہم کافی ہیں۔ [الأنبياء: 47]تو یہ آیت سن کر وہ آدمی کہنے لگا: “اللہ کی قسم! اللہ کے رسول مجھے تو اب یہی سمجھ میں آتا ہے کہ انہیں آزاد کر دوں، تو میں آپ کو گواہ بنا رہا ہوں کہ وہ سب کے سب آزاد ہیں۔”) اس حدیث کو امام احمد اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔

مسلمانو! اللہ سے ڈرو اور لین دین میں عدل و انصاف سے کام لو ، عدل و انصاف اس وقت ہو گا جب کوئی کسی کے حق کا بھی اسی طرح خیال کرے جیسے وہ اپنے حق کا خیال کرتا ہے، اگر کوئی ایسا کرے تو وہ عدل و انصاف کر رہا ہے۔

اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ.

مسلمانو!

گردش زمانہ جاری ہے، موت بھی لوگوں کے پیچھے ہے، تو کوئی سفر آخرت پر نکل چکا ہے تو کوئی الوداع ہو رہا ہے، ہر کوئی جلد یا بہ دیر اچک لیا جائے گا، تمام مخلوقات نے آخر کار فنا ہونا ہے، تمام تر بادشاہتیں ختم ہو جائیں گی، صرف الباری اور القہار کی بادشاہت باقی رہے گی، اسی کی بادشاہت شان و شوکت والی ہے، باقی سب ختم ہونے والی ہیں۔

ہم سب بشر ہیں!

ہم تقدیر کے گھیرے میں ہیں!

ہم محوِ سفر ہیں!

ہم ایک گڑھے کی طرف جا رہے ہیں!

موت ہم سب کو آنی ہے!

حشر میں ہم سب نے اکٹھے ہونا ہے!

کب تک تم توبہ نہیں کرو گے اور اپنے آپ کو لگام نہیں دو گے؟!

کب تک تم نصیحت کرنے والے کی بات پر کان نہیں دھرو گے؟!

کب تک تمہارا دل ملامت گر کے سامنے موم نہیں گا؟!

أَرَاكَ مِنَ الْحَيَاةِ عَلَى اغْتِرَارِ

وَمَا لَكَ بِالْإِنَابَةِ مِنْ بِدَارٍ
مجھے لگتا ہے کہ تم زندگی کے دھوکے میں ہو، تمہیں اپنے اوپر لازماً نظر ثانی کرنی چاہیے۔

وَتَطْمَعْ فِي الْبَقَاءِ وَكَيْفَ تَبْقَى

وَمَا الدُّنْيَا لِسَاكِنِهَا بِدَارٍ
تم تو یہاں دائمی رہنا چاہتے ہو! اور یہاں تم کیسے رہ سکتے ہو، دنیا تو یہاں کے مکینوں کا گھر ہی نہیں!

اس لیے گناہوں کے ارتکاب سے بچو، گناہوں میں ملوث مت ہونا، اپنے آپ کے ان کے بوجھ تلے مت دینا، ادب کا پردہ مت چاک کرنا، شریعت اور دین کے دائرے سے تجاوز مت کرنا۔

اللہ کی نعمتوں اور احسانات کا شکر ادا کرنے کے لئے حرام کاموں سے دور رہو، ان کے قریب جانے سے بھی بچو، بلکہ حرام کاموں کے اسباب اور ذرائع کے قریب بھی مت جاؤ۔

نعمتوں کا استعمال صحیح کرو گے تو موجودہ نعمتوں کو دوام حاصل ہو گا، بلکہ وہ نعمتیں بھی حاصل ہو جائیں گی جو ابھی تک حاصل نہیں ہوئیں! اللہ تعالی سے کرم، فضل اور سخاوت مانگتے رہو؛ کیونکہ اگر نعمت دینے کے بعد چھین لی جائے ، یا نازل ہونے کے بعد اٹھا لی جائے ، یا عزت افزائی کے بعد رسوائی کر دی جائے اس کا سبب یہی ہوتا ہے کہ ان نوازشوں کا شکر نہیں کیا گیا، یا پھر یہ بد اعمالیوں کا نتیجہ ہوتا ہے؛ چنانچہ نعمتوں کا شکر ادا کیا جائے تو ابدی بن جاتی ہیں اور ناشکری کی جائے تو فنا ہو جاتی ہیں۔

توبہ اور انابت کا دروازہ کھٹکھٹاؤ، اس کے لئے بالکل بھی سستی مت کرو، سابقہ گناہوں کو نیکیوں کے ساتھ دھو ڈالو، پانچوں نمازیں مسجد میں با جماعت ادا کرو، جماعت سے صرف عذر کی بنا پر ہی پیچھے رہو، اپنی زکاۃ ادا کرو، حسب استطاعت حج کرو، جو تم سے توڑے اس سے ناتا جوڑو، جو نہ دے اسے دو، ظالم کو بھی معاف کر دو، کیونکہ حقیقی صلہ رحمی یہ نہیں کہ بدلے میں صلہ رحمی کی جائے؛ حقیقی صلہ رحمی تو یہ ہے کہ قطع رحمی پر صلہ رحمی کی جائے، اور ایک دوسرے کی دولت ہڑپ مت کرو۔

ہر قسم کے سودی لین دین سے بچو ان سے بہت ظلم ہوتا ہے۔ حقوق کی پامالی سے بچو، سامان تجارت میں ملاوٹ، دھوکا دہی، بھاؤ چڑھانے، ماپ اور تول میں کمی سے دور رہیں۔ یتیموں، اوقاف، اور وصیت شدہ مال کو ظلم و زیادتی کرتے ہوئے مت ہڑپ کریں۔ اپنی خواتین، بیویوں، بیٹوں اور بیٹیوں سے اچھا سلوک کریں، ان کے شرعی نفقے کی ذمہ داری اچھے انداز سے نبھائیں، ان کے ساتھ پیار، محبت، شفقت، رحمت، اور نرمی سے پیش آئیں۔

اپنی زبان کو لگام دیں، شرمگاہ کو تحفظ دیں، اپنے دلوں کو کینے، چغلی، حسد، نفرت اور بغض سے پاک رکھیں، بری مجلسوں میں بیٹھنے سے اپنے آپ کو بچائیں۔

لڑائی جھگڑوں سے دور رہیں، ہر کسی کی معذرت اور معافی کو قبول کریں۔ قطع تعلقی ، ناراضگی، بغض اور حسد سے دور رہ کر اللہ کے بندے اور بھائی بھائی بن کر رہیں۔

مسلمانو!

آج کا دن معافی تلافی اور صلح کا دن ہے، اس لیے آپس میں خدا ترسی، معافی اور صلح کو عام کریں، تا کہ آپ کی خوشیاں دو بالا ہو جائیں اور آپ کی عید حقیقی عید بن جائے۔

اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ.

میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں، اور اللہ تعالی سے اپنے ، سامعین اور تمام مسلمانوں کے سب گناہوں کی مغفرت مانگتا ہوں، آپ بھی اسی سے مغفرت مانگیں، بیشک وہ رجوع کرنے والوں کو بخشنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ:
اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ.

سابقہ اور لاحقہ تمام نعمتوں پر اسی کی لئے ہر قسم کی تعریف ہے، میں اپنے رب کی کامل، شامل اور بہترین انداز میں حمد خوانی کرتا ہوں اور گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں وہ یکتا اور اکیلا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد -ﷺ-اللہ کے چنیدہ بندے اور برگزیدہ رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور صحابہ کرام پر روزِ قیامت تک ڈھیروں رحمتیں نازل فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

مسلمانو! تقوی الہی اختیار کرو؛ کیونکہ کسی بھی قسم کی نیت اور خفیہ راز اللہ سے مخفی نہیں ہیں، کوئی بھی راز کی چیز اس سے ڈھکی چھپی نہیں رہ سکتی، تمام راز اس کے سامنے عیاں ہیں، تم جہاں بھی ہو وہ تمہارے ساتھ ہے اور تمہارے تمام تر کام دیکھ بھی رہا ہے۔

مسلمانو!

امن کے لئے قیمت ادا کرنی پڑتی ہے، ملکی سالمیت کے لئے فوج ضروری ہے، اور فیصلے اہل افراد کا کام ہے۔ ان الفاظ کے ذریعے ہم اپنی افواج کے سپاس گزار اور ممنون ہیں کہ انہوں نے مقدس سر زمین کے دفاع میں اسلحہ اٹھایا، اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور موت کا مردانہ وار سامنا کیا۔

نڈر، بے باک، شیر جوانوں، دشمن پر جھپٹنے والے فوجیو! وطن کی مٹی کو اپنے خون سے سیراب کرنے والو! وطن کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والو! قربانی دے کر ملک کو بچانے والو! خبیث جارحیت کے خلاف آہنی دیوار بن جانے والو! حرمین کے محافظو! ملک و قوم کے فخر جوانو! اور محافظو! تمہارا شکریہ لفظوں میں ادا نہیں ہو سکتا، کوئی سپاس نامہ تمہارا حق ادا نہیں کر سکتا! تم ہی در حقیقت پر امن عید کا ذریعہ ہو۔

مکمل امن و شانتی میں لوگوں نے عبادات کیں، نمازیں پڑھیں، اور روزے رکھے؛ یہ سب کچھ تمہارے جہاد کی بدولت ہوا، تمہاری قربانیوں سے یہ ممکن ہوا، تمہیں بھی عید مبارک ہو، عید کی مبارکبادی تمہیں مورچوں اور لڑاکا طیاروں میں بھی پہنچیں، تمہاری ہر گھڑی خیر و سلامتی والی ہو، اس جہاد میں غلبہ تمہی کو ملے گا، تمہارا دشمن ذلیل ہو گا، تمہارا ملک محفوظ ہاتھوں میں ہے اور اللہ کے حکم سے فتح بھی قریب ہے۔

ملک، عقیدے اور دین کے محافظو! تمہارا شکریہ! ہمارا یہ شکریہ تمہارے سامنے بالکل ہیچ ہے۔

أَعِرْنِيْ لِسَاناً أَيُّهَا الشِّعْرُ لِلشُّكْرِ

وَإِنْ تُطِقْ شُكْراً فَلَا كُنْتَ مِنْ شِعْرِ
اے شعر مجھے شکریہ ادا کرنے کے لئے زبان عاریۃً دو، اور اگر تم شکریہ ادا کر کرنے کی طاقت رکھو تو تم شعر نہیں ہو!

سَأَذْكُرُكُمْ ذِكْرَ الْمُحِبِّ حَبِيْبَهُ

وَأَشْكُرُكُمْ شُكْرَ الْجُدُوْبِ نَدَى الْقَطْرِ
تمہارا تذکرہ محبوب کے تذکرے کی طرح کروں گا اور میں تمہارا شکریہ ادا ایسے کروں گا جیسے قحط سالی قطروں کا کرتی ہے۔

مسجد نبوی کے منبر سے عید کے دن صبح صبح دل سے نکلنے والی ہماری دعائیں تمہارے لیے ہیں کہ اللہ تعالی جلد از جلد فتح نصیب فرمائے اور دشمن کو نامراد اور شکست خوردہ کر کے واپس لوٹائے۔

اس دعا پر میں بار بار آمین کہتا ہوں، میں ایک بار نہیں بلکہ ہزاروں بار آمین کہتا ہوں۔

اور ہم اپنے ملکی امن و امان ، استحکام اور خوشحالی کے کھلے دشمنوں کو یہ کہتے ہیں:

يَا جَلَّ مَا بَعُدَتْ عَلَيْكَ بِلَادُنَا

وَطِلَابُنَا فَابْرُقْ بَأَرْضِكَ وَارْعُدِ
جس کے لئے ہمارے ملک میں آ کر ہمارا پیچھا کرنا ممکن نہیں! تو جائے جا کر اپنے ہی ملک میں گرجے اور کڑکے۔

یہ بڑے ہی فخر اور مسرت کی بات ہے کہ خادم حرمین شریفین حفظہ اللہ نے مسلمانوں کی یکجہتی، مسلمانوں کو ایک موقف پر جمع کرنے، اور امت اسلامیہ کے خلاف گھات لگا کر بیٹھے دشمنوں کا راستہ روکنے کے لئے اسلامی اور عرب برادری کی تین الگ الگ سربراہی کانفرنس بلائیں۔ تو اللہ تعالی خادم حرمین شریفین کی تمام تر کاوشوں کو قبول فرمائے، اللہ تعالی ان کی خصوصی مدد اور نصرت فرمائے، نیز امت اسلامیہ کے تمام سربراہان کو صرف وہی اقدام کرنے کی توفیق دے جن میں ان کی قوم اور ملک کا بھلا ہو۔

اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ.

مسلم خواتین!

اللہ تعالی نے تمہاری شان اور عزت کو بہت بلند بنایا ہے، تمہارا مقام اور مرتبہ اعلی فرمایا، تمہارے حقوق کو تحفظ دیا، اس لیے آپ بھی اللہ کی اس نعمت کا شکر ادا کریں، اللہ کے اس احسان کو یاد رکھیں، اور اپنی نظریں جھکا کر رکھیں، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، صدقہ کریں اور کثرت سے استغفار کریں۔ لعن طعن، خاوند کی ناشکری، اور بے پردگی سے بچیں۔

کوئی بھی پاکدامن شریف عورت یہ پسند نہیں کرتی کہ وہ دوسروں کی بری نظروں کے لئے جاذب نظر بنے، وہ کسی کو یہ موقع ہی نہیں دیتی کہ کوئی اس پر جملے کسے اور برے الفاظ بولے۔

اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ.

مسلمانو!

تمہارا مہمان مہینہ ماہ رمضان چلا گیا ہے، لیکن نیک اعمال کا ابھی بھی موقع ہے، اس لیے قرآن کریم کو بند کر کے مت رکھنا، صدقہ خیرات دیتے رہنا، کسی مجبور کو خالی ہاتھ مت موڑنا، جو نیکیاں رمضان میں شروع کر چکے ہو انہیں جاری رکھنا، روزے بھی رکھتے رہنا اور قیام کا اہتمام بھی کرنا۔ کیونکہ نیکیوں کے بعد پھر نیکی بڑی اعلی ہوتی ہے، جبکہ نیکی کے بعد بدی اتنی ہی بری ہوتی ہے۔

جو شخص ماہ رمضان کے روزے رکھ کر پھر شوال کے چھ روزے بھی رکھے تو گویا اس نے پورے سال کے روزے رکھے، اگر کسی نے ابھی تک اپنا فطرانہ ادا نہیں کیا تو فوری طور پر ادا کر دے۔ اور اگر ممکن ہو تو نبی ﷺ کی اقتدا کرتے ہوئے واپسی پر راستہ تبدیل کریں۔

اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ.

قیام اور صیام کا اہتمام کرنے والو! تمہیں مبارک ہو، صدقہ اور عبادت کرنے والوں تمہیں مبارک ہو، عبادت کی وجہ سے ہونے والی تھکاوٹ دور ہو گئی اور ان شاء اللہ آپ کا اجر یقینی ہو گیا۔

اللہ تعالی آپ کے روزے اور قیام قبول فرمائے، اور مبارک ایام بار بار زندگی میں صحت و عافیت کے ساتھ نصیب فرمائے۔

یا اللہ! ہماری کاوشیں قبول فرما، اور انہیں مزید بہتر بنا دے، ہمارے درجات بھی بلند فرما دے، یا اللہ! ہماری جتنی بھی تمنائیں ہیں سب اعلی ترین انداز میں پوری فرما دے، ہمیں ڈھیروں خیر و بھلائی عطا فرما، یا اللہ! ہمارے روزے، قیام اور دعائیں قبول فرما، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ !اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، شرک اور مشرکوں کو ذلیل فرما، یا اللہ !دین کے دشمنوں کو نیست و نابود فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! مملکت حرمین شریفین اور تمام مسلم ممالک کا امن، خوشحالی، شان و شوکت اور استحکام دائمی بنا دے، یا اللہ! ہمارے حکمران اور تیرے بندے خادم حرمین شریفین سلمان بن عبد العزیز کو تیرے پسندیدہ اور رضا کے موجب کام کرنے کی توفیق عطا فرما، ان کی پیشانی سے پکڑ کر نیکی اور تقوی کے لئے رہنمائی فرما، انہیں بہترین مشیر عطا فرما، انہیں صحت و عافیت سے نواز، یا اللہ! انہیں ہر قسم کے شر سے محفوظ فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! انہیں اور ان کے ولی عہد، ان کے بھائیوں، بیٹوں، وزرا اور معاونین کو صرف وہی کام کرنے کی توفیق دے جس میں غلبہ اسلام ہو اور مسلمانوں کے لئے بہتری ہو، یا رب العالمین!

یا اللہ! ان کے ذریعے اپنے دین کا غلبہ فرما، انہی کے ذریعے اعلائے کلمۃ اللہ فرما، انہیں اور ہمیں اپنی رحمت کے صدقے ہدایت یافتہ بنا، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! تمام مسلم حکمرانوں کو نفاذ شریعت کی توفیق دے، نیز انہیں تیرے نبی ﷺ کی سنت پر چلنے والا بنا دے۔

یا اللہ! پریشان حال لوگوں کی پریشانیاں دور فرما دے، یا اللہ! مقروض لوگوں کے قرضے چکا دے، یا اللہ! تمام مسلمان بیماروں کو شفا یاب فرما، تمام مسلمان فوت شدگان پر رحم فرما۔

{سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ (180) وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ (181) وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} تیرا پروردگار اور رب العزت ان کی باتوں سے پاک اور مبرّا ہے [180] سلامتی ہو رسولوں پر [181] اور تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کیلیے ہیں۔[الصافات: 180 – 182]

اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں