32

فطرانہ اور نماز عید-خطبہ مسجد نبوی

امام مسجد نبوی فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر صلاح البدیر
عنوان: فطرانہ اور نماز عید
27رمضان المبارک 1435 ھ بمطابق25 جولائی 2014ء
مترجم: محمد اجمل بھٹی
پہلا خطبہ
سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔ جو بڑا مہربان، نہایت مشفق ، عالی شان ، بہت سخی ، زبردست قوت وبلندی والا اور بادشاہ ہے۔ میں اس کی حمدوثنا بیان کرتا ہوں لیکن اس کی تعریف کا حق ادا نہیں کر سکتا۔ میں اس کی نعمتوں پر اس کاشکر گزار ہوں اور وہ ہمیشہ شکرگزاری کا حقدار ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، وہ ساری مخلوق کا مالک ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سردار محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ ساری مخلوق سے اخلاق اور حلیے میں افضل ہیں، اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ہوں آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل پر اور سبقت وفضیلت والےصحابہ کرام پر۔ ان سب پر تاقیامت سلامتی بھی نازل ہوتی رہے۔
بعد ازاں: اے مسلمانو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، بے شک اللہ کا تقویٰ افضل ترین کمائی ہے اور اس کی اطاعت اعلیٰ ترین نسبت ہے۔ ارشاد ربانی ہے:
’’ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔‘‘ (آل عمران: 102)
اے مسلمانو! لیجیے رمضان المبارک الوداع ہونے والا ہے۔ اس کی رخصتی قریب آ گئی ہے۔ مبارک ہو اس شخص کو جس نے رمضان المبارک میں اپنا تزکیہ کر لیا، دل نرم کر لیا ، اپنے اخلاق سنوار لیے اور خیر وبھلائی کی رغبت کو بڑھا لیا۔ مبارک ہو، اسے جس کے لیے رمضان المبارک توبہ کا ذریعہ بن گیا۔ اللہ کی طرف رجوع کرنے اور استقامت اختیار کرنے کا ذریعہ بن گیا۔ اسے مبارک ہو جس کے گناہ معاف ہو گئے۔ اس کی خطائیں بخش دی گئیں، اس کی غلطیاں مٹا دی گئیں، اللہ غفور و رحیم نے اسے معاف کر دیا اور غفور ورحیم اللہ نے اس سے درگزر فرما لیا۔ مبارک ہو اس شخص کو جس نے اپنا انعام پکا کر لیا۔ اس کی گردن جہنم سے آزاد کر دی گئی اور اس کی قید ختم کر دی گئی۔ وہ جہنم سے آزادی پا کر جنت کا حقدار بن گیا۔ اللہ ہم سب کو ایسے خوش نصیبوں میں شامل فرمائے۔
افسوس اس شخص پر جس نےر مضان المبارک کو غفلت اور بے پروائی میں گزار دیا۔ یہ بابرکت مہینہ گناہوں، نافرمانیوں، سستی، فضولیات اور لغو کاموں میں گنوا دیا۔
اے وہ شخص جس کا نفس دنیوی کاموں میں مشغول رہا اور شیطان نے اور شیطان کے چیلوں نےاسے گمراہ کر دیا۔ یہ رمضان المبارک اب رخصت ہونے کے قریب ہے۔ اب یہ واپس جا ہی رہا ہے۔ تو تم بقیہ دنوں کو غنیمت جان لو، اس کے ختم ہونے سے قبل نیند غفلت سے بیدار ہو جا، کتنے وہ لوگ ہیں جنہوں نے عید کے لیے نئے کپڑے اور لباس تیار کرائے ہوں گے مگر وہ قبر رسید ہو جائیں گے۔ اور کتنے وہ ہوں گے جنہوں نے خوبصورت لباس زیب تن کرنے تھے مگر وہی لباس ان کا کفن بن گیا۔ کتنے ایسے لوگ ہوں گے جن کے روزے کوئی نہیں رکھے گا۔ اے وہ لوگو! جنہوں نے قیام کیا اور روزے رکھے ! تمہیں اللہ کریم کی رحمت اور خوشنودی مبارک ہو۔ اللہ کی بخشش اور جہنم سے آزادی مبارک ہو۔ تمہارا رب بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔ بڑا سخی ہے کسی عمل کرنے والے کا عمل ضائع نہیں کرتا۔ اس پر یقین رکھو، اس کی حمدوثنا بیان کرو جس نے تمہارے لیے پورا رمضان المبارک مقدر کیا۔ اس سے نماز اور روزوں کی قبولیت کی دعا کرو۔
اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرو، اس کی عبادت پر استقامت اختیار کرو، ہمیشہ اس کی اطاعت کرو، تمہارا مبارک مہینہ الوداع ہونے والا ہے اور جدائی کے لمحات قریب آ گئے ہیں۔ کیسا بابرکت مہینہ ہے۔
’’اے بابرکت مہینے تمہیں الوداع کہنے کو دل نہیں کرتا لیکن پھر بھی ہم تمہیں بھاری دل سے الوداع کرتے ہیں۔ ہمیں معلوم نہیں کہ تو ہمیں دوبارہ ملے گا یا نہیں؟ یاہم فوت ہو جائیں گے اور تو دوبارہ نہیں ملے گا۔
میری آنکھوں سے آنسو رواں ہیں اور میں اس بابرکت مہینے کی جدائی پر کیوں نہ رؤو۔
ایسے بابرکت وقت پر کیوں نہ روؤں جسے لہو ولعب میں گنوا دیا گیا۔ وہ قیمتی لمحات جنہیں میں نے غفلت اور فضولیات میں ضائع کر دیا اس پر کیوں نہ آنسو بہاؤں۔ کسی فضیلت والے اور واجب عمل کی ادائیگی کے بغیر یہ بابرکت دن گزار دیے۔ اللہ ہی کی طرف مجھے لوٹنا ہے وہ مجھے کافی ہے۔ وہی میری پناہ گاہ ہے مجھے اس سے مہربانی اور شفقت کی امید ہے جو پوری ہو گی۔ میں بقیہ دنوں میں اس سے نیک اعمال کی سرانجام دہی کی توفیق مانگتا ہوں اور یہ اعلیٰ ترین مطلوب ہے۔ میں دعا گو ہوں کہ اللہ ہمیں اپنی بخشش اوررحمت فضل واحسان سے نوازے اور ہمارے عیب چھپا دے۔
اے مسلمانو! یہ اللہ تعالیٰ کی بڑی حکمت ہے، کمال رحمت وعلم اور شاندار بخشش و احسان ہے کہ اس نے فطرانہ مشروع کیا ہے۔ روزوں کی تکمیل پر روزوں کے دوران ہونے والے گناہوں، لغویات اور شہوت انگیز باتوں سے روزے کی اجر وثواب میں ہونے والی کمی کو دور کرنے کے لیے فطرانے کا حکم دیا ہے۔ اس کا مقصد مسکینوں کو غذا فراہم کرنا، فقراء سے ہمدردی کرنا، ضرورت مندوں کی حاجات پوری کرنا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا بھی ہے۔ سیدنا ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فطرانہ روزے دار کی لغویات اور شہوت والی باتوں سے روزے کی صفائی اور مساکین کے کھانے کے لیے فرض کیا ہے۔ جس نے نماز عید سے قبل ادا کیا تو وہ مقبول صدقہ ہے اور جس نے نماز عید کے بعد ادا کیا تو وہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ ہے(فطرانہ نہیں ہے)۔ اس روایت کو امام ابوداؤد﷫ اور ابن ماجہ ﷫نے روایت کیا ہے۔)
فطرانہ ہر شخص پر واجب ہے اور جن لوگوں کا نفقہ اس کے ذمے ہے، ان کا فطرانہ بھی اس شخص پر واجب ہے۔ فطرانے کی مقدار ایک صاع جَو، گندم، کشمش، پنیر یا لوگوں کی عمومی خوراک مثلاً چاول ، مکئی وغیرہ سے ایک صاع ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک صاع کجھور یا ایک صاع جَو ہر مسلمان آزاد و غلام، مرد وعورت ، چھوٹے اور بڑے پر فرض کیا ہے اور حکم دیا کہ لوگوں کے نماز عید کے لیے جانے سے پہلے پہلے ادا کر دیا جائے۔ یہ روایت متفق علیہ ہے۔
سیدنا ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں: ہم عہدِ نبوی میں ایک صاع کھجور، یا ایک صاع جَو یا ایک صاع کشمش یا ایک صاع پنیر فطرانہ دیا کرتے تھے۔ یہ روایت متفق علیہ ہے۔
اور جو شخص کلو کے حساب سے فطرانہ دینا چاہے تو وہ تین کلو ادا کر دے۔ وہ بچہ جو ابھی ماں کے پیٹ میں ہے اس کا فطرانہ ادا کرنا بھی جائز ہے۔ کیونکہ سیدنا عثمان نے ایسے ہی کیا تھا۔ لیکن واجب نہیں ہے۔ جس شخص نے فطرانے کی رقم، کپڑے یا کرنسی نوٹ ادا کیے تو علمائے کرام کے صحیح موقف کے مطابق وہ فطرانہ ادا نہیں ہو گا۔ کیونکہ نبی کریم ﷺ کے احکامات کے صریح خلاف ہے۔
فطرانے کا وقت رمضان المبارک کے آخری دن سورج غروب ہونے سے شروع ہو کر نماز عید تک رہتا ہے۔ البتہ عید سے ایک دو دن پہلے ادا کرنا جائز ہے۔ اس کا افضل وقت عید والے دن نماز سے پہلے ہے، اگر یہ ممکن ہو اور جس نے جان بوجھ کر اسے نماز عید کے بعد تک لیٹ کیا تو وہ توبہ کرے اور فوری ادا کرے اور اگر اسےبھول گیا تھا تو یاد آتے ہی ادا کر دے۔ اپنےشہر کے غریبوں کو دے دے۔ اور اگر کسی دوسرے شہر میں زیادہ ضرورت وحاجت ہو تو اسے دوسرے شہر بھی بھیجا جا سکتا ہے۔ کسی کافر کو فطرانہ دینا جائز نہیں ہے۔ کسی ایک فقیر کو دو بندوں یا زیادہ کا فطرانہ دیا جا سکتا ہے۔
فطرانہ ادا کرنے کی کوئی خاص دعا نہیں ہے اور جس شخص کے پاس عید اور عید کی رات اپنے اور بیوی بچوں کی ضرورت سے زائد ایک صاع اناج موجود نہ ہو تو اس پر فطرانہ واجب نہیں کیونکہ ارشادِ نبوی ﷺ ہے: ’’صدقہ مالداری کی حالت ہی میں واجب ہے۔‘‘
اگر کوئی فقیر دوسروں سے فطرانہ لیتا ہے اور اس کی ضروریات سے ایک صاع بچ جاتا ہے تووہ اپنا فطرانہ ادا کر دے۔ اور اگر کوئی ایک زائد صاع اس کے پاس بچ جائیں تو وہ اپنے گھر والوں کا فطرانہ بھی ادا کر دے۔ لہٰذا خوش دلی کے ساتھ فطرانہ ادا کرو، مکمل مقدار ادا کرو اور فقراء کے لیے زیادہ مفید اور عمدہ اناج فطرانے میں ادا کرو۔
اے مسلمانو! عید کی رات سے نماز عید تک تکبیرات کہنا مشروع ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کے اظہار، اس کی ہدایت وتوفیق پر اس کی شکر گزاری کا ذریعہ ہے۔ ارشاد ربانی ہے:
’’ اُس پر اللہ کی کبریا ئی کا اظہار و اعتراف کرو اور شکر گزار بنو ۔‘‘ (البقرۃ: 185)
سیدنا ابن عباس فرماتے ہیں:
’’مسلمان پر حق ہے کہ شوال کا چاند دیکھ کر تکبیرات پڑھے۔ غروب شمس کے بعد عید کی رات سے اپنی مسجدوں، بازاروں، گھروں اور راستوں میں تکبیریں پڑھو، تم مقیم ہو یا مسافر، اس عظیم اسلامی عبادت کی ادائیگی کرو۔ خواتین بھی آہستہ آواز میں تکبیرات پڑھیں۔ موسیقی، گانے اور لہوولعب کے شوقین رک جائیں اور ان مبارک لمحات کو شیطانی آلات اور فاسقوں کے گانوں سے ضائع نہ کریں۔
میں انہی کلمات پر اکفتا کرتا ہوں۔ میں اپنے لیے، تمہارے لیے اور سارے مسلمانوں کے لیے اللہ سے بخشش کی دعا کرتا ہوں۔ تم بھی اس سے بخشش مانگو بلاشبہ وہ بڑا مہربان خوب رحم کرنے والا ہے۔
دوسرا خطبہ
اللہ کے احسانات پر سب تعریفیں اسی کے لیے ہیں۔ اس کے فضل و کرم اور اس کی توفیق پر ہم اس کےشکر گزار ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ وہ اکیلا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سردار محمد ﷺ اللہ کے بندے او رسول ہیں، اللہ کی رضا کی دعوت دینے والے ہیں۔ آپ ﷺ پر آپ ﷺ کی آل پر، صحابہ کرام اور آپ کے بھائیوں پر اللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہو۔
اے مسلمانو! اللہ سے ڈرو، جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ اس سے ڈرو، اس کی اطاعت کرو اور اس کی نافرمانی نہ کرو۔ ارشادِ ربانی ہے:
’’ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کا ساتھ دو۔ ‘‘ (توبہ: 119)
نماز عید اسلام کا عظیم فریضہ اور اہم دینی امر ہے۔ لہٰذا خوب پاکیزگی سے خوبصورت لباس پہن کر خوشبو لگا کر نماز عید کے لیے جائیں۔ حتیٰ کہ اعتکاف کرنے والا بھی بہترین لباس پہن کر نماز عید میں حاضر ہو۔ اعتکاف والے لباس ہی میں نماز عید کے لیے جانا سنت نہیں ہے۔ خواتین بھی نماز عید کے لیے جائیں گی۔ حائضہ عورتیں بھی اس دن کی برکت اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہونے کے لیے جائیں گی۔ خواتین نہایت عزت واحترام سے پردہ کر کے بغیر خوشبو لگائے، سادگی کے ساتھ نماز عید کے لیے جائیں گی۔ نبی رحمتﷺ کا حکم ہے:
’’ اللہ کی بندیوں کو مسجد جانے سے مت روکو اور وہ سادگی سے نکلیں۔‘‘ یعنی بغیر خوشبو لگائے۔
جس شخص کی نماز ِعید رہ جائے وہ نمازِ عید کے طریقے کے مطابق دو رکعت ادا کر لے۔
عید الفطر کے دن صبح کو کچھ کھا کر جانا سنت ہے۔ سیدنا انس فرماتے ہیں:
رسول اللہ ﷺ عید الفطر کے روز کھجوریں کھا کر (نماز عید کے لیے جاتے تھے) اور کھجوریں طاق عدد میں کھاتے تھے۔‘‘ اس روایت کو امام بخاری﷫ نے روایت کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں