43

نماز تراویح میں تلاوت ہونے والے پارے کا تفسیری خلاصہ مفتی منیب الرحمٰن (زاویہ نظر )

ستائیسویں پارے کے مضامین
اس پارے کے شروع میں اس بات کا بیان ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آنے والے اجنبی انسان نہیں تھے بلکہ بشری شکل میں فرشتے تھے ،تو ابراہیم علیہ السلام نے اُن سے پوچھا کہ آپ کا مشن کیاہے ،اُنہوں نے کہا : ہم مجرموں کی ایک قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں تاکہ اُن پر مٹی سے پکے ہوئے پتھر برسائیں،جو آپ کے رب کے نزدیک حد سے تجاوز کرنے والوں کے لئے نشان زدہ (Guided)ہیں ،سائنسی دنیا گائیڈڈ میزائل کی جس تکنیک تک بہت دیر میں پہنچی ہے ،قرآن نے اُس کا تصور بہت پہلے پیش کیا ۔اُنہوں نے یہ بھی کہاکہ ہم اہلِ ایمان کو صحیح سلامت اُس بستی سے باہر نکال دیں گے اور اُس میں مسلمانوں کا ایک ہی گھر ہے ،یعنی حضرت لوط علیہ السلام ۔ اس کے بعد فرعون اور موسیٰ علیہ السلام اورفرعونیوں کے سمندر میں غرق ہونے کا ذکر ہے ،قومِ عادوثمود پر عذاب کا ذکر ہے۔ پھر فرمایا: آسمان کو ہم نے اپنے دستِ قدرت سے بنایا اور ہم(ہرآن) اِس کو توسیع دینے والے ہیں ۔آج ماہرین فلکیات اور سائنس دان نت نئی کہکشاؤں (Galaxies)کے دریافت کرنے کی بات کرتے ہیں اور اُن کا کہنا ہے کہ ابھی لاتعداد کہکشائیں ایسی ہیں جو دریافت نہیں ہو سکیں،توقرآن نے بالائی کائنات اور قدرت کے خلائی نظام کی وسعت کی بات بہت پہلے بیان کر دی ۔آیت 56وہ مشہور آیت ہے جس میں رب کائنات نے جنوںاور انسانوں کے مقصدِ تخلیق کوبیان کیا یعنی اللہ کی عبادت اور اُس کی معرفت۔
سورۃ الطور
اس سورت میں اللہ تعالیٰ کے اَٹل عذاب کا ذکر ہے کہ جب اُس کا فیصلہ ہوجاتاہے ،تو اُسے کوئی ٹالنے والی طاقت نہیں ہے، آسمان تھر تھرانے لگتاہے اور پہاڑ بہت تیزی سے چلنے لگتے ہیں۔ آیت 17میں اہلِ جنت کے لئے اللہ عزوجل کی جانب سے جو نعمتیں، راحتیں تیار ہیں ،اُن کا ذکر ہے اور یہ بھی کہ اہلِ ایمان کی اولاد میں سے جو اُن کے سچے پیروکارہوں گے ،وہ بھی اُن سے جاملیں گے۔ آیت35میں قدرتِ باری تعالیٰ کے منکرین کو مخاطب کرکے بتایاگیاکہ کیا وہ بغیر کسی سبب کے پیداکردیئے گئے یا وہ خود ہی اپنے خالق ہیں ،کیا آسمانوں اور زمینوں کو انہوں نے پیداکیاہے ،کیا تیرے رب کی رحمت کے خزانے ان کے قبضہ وقدرت میں ہیں یا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے ،جس پر چڑھ کر یہ بالائی کائنات کی باتوں کو سن لیتے ہیں ، اگر ایسا ہے تو کوئی واضح دلیل تو پیش کریں۔
سورۃ النجم
اس سورت کی ابتدائی 18آیات میں سیدالمرسلین رحمۃللعالمین سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کے سفرِ معراج کی اُس منزلِ رفعت کا ذکر ہے کہ جس میں اُنہیں اللہ تعالیٰ کا قُربِ خاص عطاہوا اور اللہ نے اپنے مُقدّس بندے کی طرف جو چاہا، وحی فرمائی۔ رسول اللہﷺ اپنے قلبِ اطہر کی پوری حضوری اور یقین کے ساتھ اپنے خالق ومالک کے جلوؤں کو دیکھتے رہے ، تو اللہ تعالیٰ نے ریب وشک میں مبتلا لوگوں کو فرمایا کہ کیا تم ان سے اس پر جھگڑ رہے ہو کہ انہوں نے دیکھا ، انہوں نے تو نورِ نزول کے اس جلوے کو بارِ دیگر دیکھا ہے ، وہاں ”جنت المأوٰی‘‘ہے اور آپﷺ اپنے خالق کے جلوۂ نور کو اس قرار وانہماک کے ساتھ دیکھ رہے تھے کہ آپ کی نظر نہ کج ہوئی نہ بہکی ۔
آیت نمبر 32سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو لوگ صغیرہ گناہوں کے ماسوا کبیرہ گناہوں سے بچے رہتے ہیں، انہیں بشارت دی گئی کہ بے شک آپ کا رب وسیع مغفرت والا ہے، اسی مفہوم کی ایک اور آیت میں فرمایا کہ نیکیاں گناہوں (صغیرہ) کو مٹا دیتی ہے۔ آیت نمبر38سے فرمایا کہ کسی کے گناہ کا بوجھ کسی دوسرے پر نہیں ڈالا جائے گا ، ہرشخص کواپنے کئے کاپورا پورا صلہ ملے گا۔
القمر
اس سورت کے شروع میں فرمایا : ”قیامت قریب آگئی اور چاند دو ٹکڑے ہوگیا اور (کافر) اگر کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو رخ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں یہ تووہ جادو ہے جو پہلے سے چلا آرہا ہے‘‘۔ ”شق القمر‘‘ کا واقعہ تقریباً آٹھ سنِ نبوی میں ہوا ، اہلِ مکہ نے معجزے کا مطالبہ کیا تو آپ نے ان کو یہ معجزہ دکھایا یہاں تک کہ انہوںنے چاند کا ایک ٹکڑا حرا پہاڑ کے ایک جانب اور دوسرا دوسری جانب دیکھا۔ اس واقعے کی صداقت کی عقلی دلیل یہ ہے کہ قرآن نے برملا اس کا دعویٰ کیا اور اس دور میں کسی نے بھی اس واقعے کی صداقت کو چیلنج نہیں کیااور قرآن نے اسے علاماتِ قیامت میں سے قرار دیا۔ اسی سورۂ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے چار مرتبہ تکرار در تکرار کے ساتھ فرمایا کہ ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لئے آسان کردیا ہے، تو ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟
الرحمن
اس سورت کے شروع میں فرمایا :”رحمن نے اپنے رسولِ مکرم کو قرآن کی تعلیم دی ، اس نے انسان(کامل) کو پیدا کیااور ان کو (ہر چیز کے ) بیان کی تعلیم دی‘‘۔آیت نمبر6میں اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کے غیر مرئی نظم وضبط‘ زمین پر بچھے ہوئے سبزے اور درختوں کی کیفیتِ سجدہ اور آسمان کی رفعت کو اپنی قدرت کی دلیل کے طور پر پیش فرمائے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں اپنی قدرت کی بے پایاں نعمتوں کا بار بار ذکر فرمایا اور پھر اکتیس بار اپنی ذی عقل مخلوق ، جنوں اور انسانوں سے خطاب کرکے فرمایا”پس تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے‘‘۔
آیت نمبر33میں فرمایا ”اے جنات اور انسان کے گروہ ! اگر تم یہ طاقت رکھتے ہو کہ آسمانوں اور زمینوں کے کنارے سے نکل جاؤ، تو نکل جاؤ، تم جہاں بھی جاؤ گے وہاں اسی( ربِ ذوالجلا ل ) کی سلطنت ہے‘‘۔ آیت نمبر46سے دو جنتوں کی نعمتوں کا بیان ہے کہ وہاں سرسبز شاخوں والے باغات ہوں گے، ان جنتوں میں دو چشمے بہہ رہے ہوں گے ، ہر پھل کی دو قسمیں ہوں گی، اہلِ جنت ایسی مسندوں پر جلوہ افروز ہوں گے جن کے استر نفیس دبیز ریشم کے ہوں گے ، وہاں یاقوت ومرجان کی طرح باحیا حوریں ہوں گی، پھر فرمایا کہ ان دونوں کے علاوہ دو جنتیں اور ہوں گی جن میں فوارے کی طرح چھلکتے ہوئے دو چشمے ہوں گے اور اسی طرح کی مزید نعمتوں کو بیان کرنے کے بعد فرمایا ”احسان کا بدلہ احسان ہے‘‘۔
الواقعہ
اس سورت میں انسانوں کے تین طبقات بیان کئے ایک ”اصحاب المیمنہ‘‘ ، یعنی اہلِ سعادت وخیر ، دوسرے ”السابقون المقربون‘‘ یہ وہ لوگ ہوں گے جو نیکی میں سب پر سبقت لے جائیںگے اور تیسرے ”اصحاب المشئمہ‘‘یہ بد نصیب لوگ اہلِ جہنم ہوں گے ۔ اس کے بعد ایک بار پھر جنت کی پرکشش نعمتوں کا ذکر ہے کہ وہ ایک دوسرے کے بالمقابل تکیوں پر ٹیک لگائے ، زر وجواہر سے مرصع تختوں پر بیٹھے ہوں گے، ان پر شرابِ طہور کے جام گردش کررہے ہوں گے اور یہ ایسی شراب ہوگی کہ عقل پر اثر انداز نہیں ہوگی اور پُر کیف ہوگی۔ اس کے بعد ”اصحابِ یمین‘‘ کے لئے مزید نعمتوں کا ذکر ہے اور پھر ”اصحاب الشمال‘‘ (یعنی اللہ کے نافرمان لوگ) کے لئے عذاب کی مختلف صورتوں کا ذکر ہے ، ان میں سے ایک یہ کہ ان کی خوراک ”زقوم‘‘ (تھوہر کے درخت) سے ہوگی ،( اس درخت کا پھل انتہائی کڑوا ہے)، اس سے وہ پیـٹ بھریں گے اور اس پر کھولتا ہوا پانی پئیں گے ۔ آیت نمبر77سے قرآن عظیم کا ذکر ہے کہ یہ کتاب لوحِ محفوظ میں ہے اور اس کتاب کو صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں۔
الحدید
اس سورت کی ابتدامیں اللہ تعالیٰ نے ایک بار پھر اپنی آیاتِ قدرت کا ذکر فرمایا ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے صحابۂ کرام کے مابین درجاتِ فضیلت میں مختلف مدارج بیان کئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا”(اے مسلمانو!) تم میں سے کوئی بھی ان کے برابر نہیں ہوسکتا جنہوں نے فتحِ(مکہ) سے پہلے (اللہ کی راہ میں) خرچ کیا اور(کافروںسے) جہاد کیا ،ان سب کا( ان مسلمانوں سے )بہت بڑا درجہ ہے جنہوں نے (فتح مکہ) کے بعد (اللہ کی راہ میں )خرچ کیا اور(کافروں سے) جہاد کیا ‘‘۔ مگر اس باہمی فضیلت اور درجہ بندی سے کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ کسی صحابی کے مرتبے کو گرائے یا ان کی شان میں کوئی نازیبا کلمہ کہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:”اور اللہ نے (اپنے رسول کے تمام صحابہ سے)اچھے انجام(یعنی جنت )کا وعدہ فرمایا ہے ۔
آیت 12میں فرمایا کہ میدانِ حشر میں مومنین اور مومنات کی امتیازی شان ہوگی اور ان کا نور ان کے سامنے اور ان کی دائیں جانب ضو فشاں ہوگا اور انہیں جنت کی بشارت دی جائے گی۔ اگلی آیت میں فرمایا کہ:” منافق مرد اور عورتیں مومنوں سے کہیں گے : تم ہماری طرف دیکھو کہ ہم بھی تمہارے نور سے کچھ روشنی حاصل کریں ، ان سے کہا جائے گا : تم اپنے پیچھے لوٹ جاؤ پھر کوئی نور تلاش کرو ، پھر ان کے درمیان ایک ایسی دیوار حائل کر دی جائے گی ، جس میں دروازہ ہوگا اس کے اندرونی حصے میں رحمت ہوگی اور باہر کی جانب عذاب ہوگا‘‘۔ آیت 25میں فرمایا ”بے شک ہم نے اپنے رسولوں کو قوی دلائل کے ساتھ بھیجا اور ہم نے ان کے ساتھ کتاب اور میزان (عدل) کو نازل فرمایا تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں اور ہم نے لوہا نازل کیا جس میں سخت قوت ہے اور انسانوں کے لئے فوائد‘‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں