49

ستائیسویں پارے کا خلاصہ علامہ ابتسام الہٰی ظہیر (دین سے دنیا تک )

ستائیسویں پارے کا آغاز سورت اَلذَّارِیَات سے ہوتا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں اور جنات کی تخلیق کا مقصد صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت اور بندگی بتایا ہے۔ ارشاد ہوا کہ نہ تو مجھے ان سے رزق کی طلب ہے اور نہ میں نے کبھی ان سے کھا نامانگا ہے ۔
اس کے بعد سور ت طور ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے طور پہاڑ، بیت معمور، بلندو بالا آسمان ،سمندر کی لہروں اور کتاب مقدس کی قسم اٹھا کر کہا ہے کہ قیامت کا دن ضرور آ ئے گا اور اس دن پہاڑ چلنے لگیں گے۔ اس دن یوم جزا کو جھٹلانے والوں کو جہنم کی آگ کا سامنا کرنا پڑے گا اور ان کو کہا جائے گا کہ یہ وہ آگ ہے جس کا تم انکار کیا کرتے تھے ۔
پھر فرمایا کہ اہل تقویٰ جنت اورنعمتوںمیںپروردگارکی عطاؤںسے بہرہ مندہورہے ہوں گے اوران کارب ان کوعذاب جہنم سے بچالے گا ۔ان سے کہاجائے گا کہ اپنے اعمال کے بدلے جوجی چاہے کھاؤ اورپیواوروہ ایک دوسرے سے جُڑے قطارمیں بچھے تختوںپرٹیک لگائے ہوں گے اوراللہ تعالیٰ کشادہ آنکھوں والی حوریں ان کی زوجیت میںد ے گااوراہل ایمان کی اولاد نے بھی اگر ایمان اوراعمالِ صالحہ میںاپنے آباکی پیروی کی ہوگی تواللہ تعالیٰ جنت میںان کی اولاد کوان سے ملادیںگے۔
اللہ تعالیٰ نے اس امر کا بھی ذکر کیا کہ رسول اللہ ﷺ نہ تو(معاذ اللہ) کاہن تھے اور نہ ہی شاعر ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر کافر اپنے الزامات میں سچے ہیں تو ان کو چاہیئے کہ قرآن مجید جیسی کو ئی بات پیش کریں۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو صبر کی تلقین بھی کی اور کہا کہ آپ اپنے پروردگار کے حکم پر صبر کریں بے شک آپ میری آنکھوں کے سامنے ہیں یعنی جو صبر بھی رسول اللہ ﷺ کریں گے اللہ تعالیٰ اس سے بخوبی آگاہ ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کی محبت اورمعیت ہمیشہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتی ہے ۔
سورہ طور کے بعد سورۃ النجم ہے۔ اس سورت میںپروردگار عالم نے فرمایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس وقت تک کوئی کلام نہیں کرتے جب تک مالک کائنات ان پر وحی کا نزول نہیں فرماتے ۔اس میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کے سفر معراج کا بھی ذکر کیا ہے اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ انہوں نے سفر معراج میں اپنے پروردگار کی بہت سی نشانیاں دیکھیں۔ فرمایا کہ کیا جو میرے بندے نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تم اس پر شک کرتے ہو؟اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل کفرکے اس باطل عقیدے کابھی ذکرکیا کہ وہ فرشتوں کوعورتیںقراردیتے تھے ۔ اللہ تعالی فرماتے ہیںکہ جولوگ آخرت پرایمان نہیںلاتے وہ فرشتوں کوعورتیںقراردیتے ہیں اوران کے پاس اس حوالے سے کچھ بھی علم نہیں‘ وہ لوگ صرف وہم اورگمان کی پیروی کرتے ہیں۔
اللہ تعا لیٰ نے فرمایا کہ جو لوگ کبیرہ گناہوں اور فحاشی کے کاموں سے اجتناب کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرمادے گا‘ ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کی وسعت کابھی ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کو اس وقت سے جانتے ہیں جب ان کے خمیروں کو مٹی سے اٹھایاگیا اور جب وہ اپنی مائوں کے پیٹوں میں جنین کی شکل میں موجود تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کے صحیفوں اور موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہونے والی وحی کے اہم مضامین کا ذکر کیا کہ ان صحیفوں میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمادیا تھا کہ بے شک انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے اور وہ اپنی کوشش کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا ۔آخر میںاللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی مذمت کی ہے جو قرآن مجید پر تعجب کرتے ہیں اور رونے کی بجائے ہنسی مذاق میں اپنا وقت بتا رہے ہیں اور موسیقی سننے میں اور دیگر لغویات میں اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں ۔
اس کے بعد سورت القمرہے جس کے شروع میںاللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیںکہ قیامت قریب آگئی اورچاندپھٹ گیا۔شقِ قمرکاواقعہ رسول اللہ ﷺ کی ہجرت سے تقریباً پانچ برس قبل رونما ہوا اور چاند جبل حراکے دونوںطرف ہوگیا۔ اتنی بڑی نشانی کودیکھ کر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کافرایمان لے آتے لیکن وہ سرکشی پرتلے رہے جس پراللہ تعالی نے اعلان فرمادیا کہ کفاراگرکوئی نشانی دیکھتے ہیںتومنہ پھیرلیتے ہیںاورکہتے ہیںکہ یہ توایک جادوہے جوپہلے سے چلا آ رہا ہے ۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے قوم نوح ، قوم لوط کا ،قوم عاد اور قوم ثمود کا ذکر کیا کہ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے غضب کا نشانہ بنے ۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر اس حقیقت کا بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو سمجھنے والوں کے لیے آسان بنادیا پس ہے کوئی جو نصیحت کو حاصل کرے ۔
اللہ تعالی نے متقیوں کے مقام کاذکرکیا کہ بے شک پرہیزگارلوگ جنت اورنہروں میں ہوں گے‘ اپنے حقیقی گھروں میںمقتدربادشاہ کے پاس ۔ اس کے بعد سورہ الرحمن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ رحمن نے قرآن مجید سکھلایا، انسان کو بنایا اور اس کو بیان کرنے کی صلاحیت عطا فرمائی ۔سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہیں اور ستارے اور درخت اللہ کو سجدہ کرتے ہیں۔ اسی نے آسمان بنایا اور ترازو قائم کیا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انسانوں کو چاہیے کہ ترازو کو صحیح طریقے سے قا ئم کیا کریں اور تولنے میں کوتاہی نہ کیا کریں ۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے زمین کی تخلیق کا بھی ذکر کیا اور اس میں مختلف طرح کے پھلوں اور خوشبوئوں کو پیدا فرمایا اور انسانوں اور جنات کو مخاطب ہو کر کہاکہ تم دونوں گروہ پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے ۔ اللہ تعالی نے اس سورت میںجنت کے حسین مناظرکوبیان کیا کہ جوشخص اپنے رب کے مقام سے ڈرتاہے اس کے لیے دوباغ ہیں‘ وہ دونوں باغ سبز شاخوں والے ہوں گے۔ سورت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نام کے بابرکت ہونے کا بھی ذکر کیا ہے ۔
سورہ الرحمن کے بعد سورہ واقعہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے تین گروہوں کا ذکر کیا ۔ایک گروہ مقربین کا دوسرا عام جنتیوں کا اورتیسرا گروہ جہنمیوں کا ہے ۔مقربین کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کی نعمتیں تیار کی ہیں جبکہ عام جنتی بھی اللہ تعالیٰ کی عنایات پر شاداں و فر حاں ہوں گے جبکہ جہنمیوں کو تھوہر کا درخت کھانا پڑے گا ۔اس کے بعد سورۃ الحدید ہے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کا ذکر کیا کہ وہ اول بھی ہے اور آخر بھی اور ظاہر بھی ہے اور پوشیدہ بھی اور وہ ہر چیز کوجاننے والا ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام ؓکی دو جماعتوں کا بھی ذکر کیا کہ فتح مکہ سے پہلے اسلام لانے والے صحابہؓ کا مقام فتح مکہ کے بعد ایمان لانے والوں کے مقابلے میں زیادہ ہے لیکن دونوں گروہ جنتی ہیں ۔پھر اللہ تعالی نے اہل کتاب کی ایمانی حالت کابھی ذکرکیا کہ کتاب کے نزول کاایک عرصہ بعد ان کے دل سخت ہوگئے اوران کی اکثریت گناہ گار ہوگئی۔ اللہ تعالی اہل ایمان کوتلقین فرماتے ہیںکہ ان کی مانند مت ہوجانا۔ اللہ سے دعاہے کہ اللہ تعالی ہمیںقرآن مجید میںمذکورمضامین سے اورحقائق سے نصیحت حاصل کرنے کی توفیق دے ۔آمین!
بشکریہ روزنامہ دنیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں