15

نماز تراویح میں تلاوت ہونے والے پارے کا تفسیری خلاصہ مفتی منیب الرحمٰن (زاویہ نظر )

چھبیسویں پارے کے مضامین
سورۃ الاحقاف
آیت نمبر 15سے ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک کا تاکیدی حکم ہے اور ماں نے حمل اور وضعِ حمل کے دوران جو بے پناہ مشقتیں اٹھائیں ان کا ذکر ہے اور یہ بھی بتایاکہ حمل اور دودھ چھڑانے کی مدت تیس ماہ ہے ‘ چونکہ حدیث کی رو سے دودھ پلانے کی مدت دو سال ہے‘ اس لئے فقہا نے فرمایا کہ ممکنہ طور پر کم ازکم مدتِ حمل چھ ماہ ہے۔ پھر قرآن نے بتایا کہ صالح اولاد پختگی کی عمر کو پہنچنے کے بعد اللہ تعالیٰ سے اس کی ان نعمتوں کا جو اس نے اس پر اور اس کے والدین پر کیں‘ شکر ادا کرنے کی توفیق طلب کرتی ہے اور اس بات کی دعابھی کہ مجھے اپنا پسندیدہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمااور میری اولاد کی بھی اصلاح فرما اور میں تیری بارگاہ میں توبہ کرتاہوں اور میں اطاعت گزاروں میں سے ہوں۔ اﷲتعالیٰ اپنے وفاشِعار اور اپنے ماں باپ کے فرمانبردار بندوں کے لئے فرماتاہے کہ ہم ان کے نیک اعمال کو قبول فرماتے ہیں اور ان کی لغزشوں سے درگزر کرتے ہیں‘ یہ لوگ اہلِ جنت میں سے ہیں اور یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے۔اس آیت میں ابتدائً ماں باپ دونوں کے ساتھ حسنِ سلوک کا ذکر ہے ‘ لیکن ماں کی قربانیوں کا قرآن نے زیادہ ذکر فرما کر اس کے زیادہ استحقاق کی طرف متوجہ فرمایااور پھر رسول اللہﷺ نے حدیثِ پاک میں اس کی مزید تاکید فرمائی ۔ آیت نمبر29سے حضور کی بارگاہ میں جنات کے حاضر ہونے کا ذکر ہے کہ جنات کے ایک گروہ نے آپ کے پاس سے گزرتے ہوئے قرآن سنااور جا کر اپنی قوم سے کہا کہ ہم نے ایسی آسمانی کتاب سنی ہے جو موسیٰ علیہ السلام کے بعد نازل کی گئی اور جو پہلی آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے‘ ان جنات نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ کی طرف بلانے والے کی دعوت کو قبول کرو اور اس پر ایمان لاؤ‘ اس کے نتیجے میں اﷲتعالیٰ تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور تمہیں درد ناک عذاب سے نجات عطا فرمائے گا اور جو شخص اﷲکی طرف بلانے والے کی دعوت کو قبول نہیں کرے گا‘ تو زمین میں اللہ کی گرفت سے اس کے لئے کوئی جائے پناہ نہیں ہوگی۔
سورہ محمد
غزوۂ بدر سے پہلے اسلام کے تفصیلی جنگی قانون نازل نہیں ہوئے اور یہ ہدایت نہیں آئی تھی کہ جنگی قیدیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔ اس سورۂ مبارکہ کی آیت 04میں فرمایا کہ جب جنگ ختم ہوجائے ‘ مسلمانوں کو غلبہ حاصل ہوجائے‘ تو جنگی قیدیوں کے ساتھ تین طرح کا سلوک کیا جاسکتاہے ‘ انہیں قید کردیا جائے تاکہ وہ مسلمانوں کو دوبارہ شر نہ پہنچا سکیںیا ان کی اصلاح اور قبولِ اصلاح کی امید ہوتو ان پر احسان کرکے انہیں آزاد کردیا جائے یا فدیہ لے کر ان کو چھوڑ دیا جائے ۔ آیت نمبر 15سے اہلِ تقویٰ کے لئے جنت کی نعمتوں کا ذکر ہے کہ جنت کی نہروں میں ایسا شفاف اور تازہ پانی ہوگا جس میں کوئی باسی پن یا تغیر نہیں آئے گا‘ دودھ جیسی نہریں ہوں گی جن کا ذائقہ کبھی نہیں بدلے گا‘ شرابِ طہور کی ایسی نہریں ہوں گی ‘ جو لذت سے مامور ہوں گی اور خالص اور شفاف شہد کی نہریں ہوں گی اور ان کے لئے ہر طرح کے پھل دستیاب ہوں گے اور ان کے رب کی جانب سے مغفرت ہوگی ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کے عقلِ سلیم کو مخاطَب کرکے فرمایا کہ کیا ان عالی مرتبت لوگوں کی تقلید کی جائے یا ان کی راہ پہ چلا جائے جو دائمی طور پر جہنم میں رہیں گے اور انہیں جہنم کی آگ میں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتوں کو کاٹ دے گا۔ آیت نمبر24 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اتنے واضح دلائل کے باوجود یہ لوگ قرآن میں غور کیوں نہیں کرتے کیا ان کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں؟۔
سورۃ الفتح
آیت نمبر08 سے اللہ عزوجل نے رسولِ مکرمﷺ کی شان کو بیان فرمایا کہ ہم نے آپ کو گواہی دینے والا ‘جنت کی بشارت دینے والا اورعذاب سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور مزید فرمایا کہ اللہ کے رسول کی تعظیم وتوقیر کرو۔ آیت10 میں اللہ تعالیٰ نے بیعت رضوان کے منظر کو بیان کرتے ہوئے رسول اللہﷺ کے ہاتھ کو اپنا ہاتھ قرار دیا‘ اس لئے ان کے ہاتھ پر بیعت درحقیقت اللہ ہی سے بیعت ہے۔ آیت نمبر11 میں جہاد سے پیچھے رہنے والوں کی حقیقتِ حال سے اپنے نبیِ کریم ﷺ کو باخبر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ بہانہ بازی کریں گے کہ ہم اپنے مال اور اہلِ خانہ کی مصروفیت کی وجہ سے شریک نہ ہوسکے‘ سو ہماری خطا معاف فرمادیجئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ اپنے منہ سے وہ بات کہتے ہیں ‘ جو ان کے دل میں نہیں ہے۔ آیت نمبر 18سے اللہ تعالیٰ نے ان وفا شِعار صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ‘ جنہوں نے حدیبیہ کے مقام پر رسول اللہﷺ کے ہاتھ پر جانثاری اور جاں سپاری کی بیعت کی تھی‘ ا پنی رضا مندی کی قطعی سند سے نوازا ‘ پس جس سے اللہ راضی ہوجائے ‘ اس کے ایمان کی صداقت ‘ اخلاص اور بے ریائی ہر قسم کے شک وشبہے سے بالا تر ہوتی ہے اور ان کے بارے میں دل میں کوئی بھی بدگمانی اللہ تعالیٰ کی اس سندِرضا کی نفی ہے ۔
رسول اللہﷺ نے صحابۂ کرام کو فرمایا تھا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ ہم بے خوف وخطر ہوکر بیت اللہ میں داخل ہورہے ہیں‘ لیکن جب صلحِ حدیبیہ کے موقع پر معاہدۂ حدیبیہ کی شرائط کے تحت صحابۂ کرام کو عمرہ ادا کئے بغیر احرام کھولنا پڑا ‘ تو بعض صحابۂ کرام کے جذبات کو ٹھیس پہنچی اور انہوں نے اپنے قلبی اضطراب کا اظہار کیا‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا : اللہ نے اپنے رسول کے حق پر مبنی خواب کو سچ کردکھایا اور ایک نہ ایک دن تم ضرور بے خوف وخطر ہوکر سرکو منڈاتے ہوئے یا بال ترشواتے ہوئے ان شاء اللہ حرمِ کعبہ میں داخل ہو گے اور پھر اللہ تعالیٰ نے عنقریب فتح کی نوید بھی سنائی ۔ اس سورت کی آخری آیت میں رسول اللہﷺ کے اصحاب کی وہ صفات بیان فرمائیں‘ جو پہلے سے تورات اور انجیل میں بیان کردی گئی تھیں کہ وہ کفار کے مقابلے میں انتہائی سخت ہیں ‘ آپس میں رحیم وشفیق ہیں ‘ اے مخاطَب تو جب بھی انہیں دیکھے گا اللہ کی عبادت میں مشغول پائے گا ‘ وہ اللہ کے فضل اور رضا کے طلب گار رہتے ہیں اور ان کی جبینیں سجدے کے اثر سے نیرّ وتاباں ہیں ۔ مفسرینِ کرام نے فرمایا کہ اس آیت میںخلافتِ راشدہ کی ترتیب کی طرف بھی اشارہ ہے ۔
سورۃ الحجرات
سورۂ حجرات کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے بارگاہِ نبوت کے آداب کوبیان فرمایا کہ ان کی آواز پر آواز کو اونچا کرنا بھی ادب کے منافی ہے ‘ ان کے ساتھ اونچی آواز سے بات کرنا بھی ایسی بے ادبی ہے جس سے ساری نیکیاں برباد ہوسکتی ہیں اور اہلِ ادب کے لئے مغفرت اور اجرِ عظیم کی نوید سنائی گئی ہے ۔
آیت نمبر09 میں مسلمانوں کے متحارب گروہوں میں عدل وانصاف پر مبنی صلح کا حکم دیا گیا ہے اور اخوتِ ایمانی کا بیان ہوا ہے۔ اس سورت کے دوسرے رکوع میں اخلاقیات کی تعلیم ہے خاص طورپریہ کہ مسلمان مرد وزن ایک دوسرے کا مذاق نہ اڑائیں ‘ ایک دوسرے کی عیب جوئی نہ کریں ‘ ایک دوسرے کو برے ناموں سے نہ پکاریں ‘ ایک دوسرے کے بارے میںبدگمانی نہ کریں ‘ دوسرے کے پوشیدہ احوال کا سراغ نہ لگائیں اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کریں اور پھر غیبت کو اتناگھناؤنا جرم قرار دیا کہ گویا اپنے مردہ بھائی کا گوشت نوچنا ہے۔ یہ بھی بتایا کہ انسانیت کی اصل ایک ہی ہے‘ یعنی سب آدم وحواء علیہما السلام کی اولاد ہیں اور قبائل اور برادریاں تفاخر کے لئے نہیں‘ تعارف کے لئے ہیں ‘ پھر اس میں ایمانِ صادق اور ایمانِ کامل کی تعریف بیان کی گئی ہے اور یہ بھی بتایا گیا کہ کوئی ایمان لا کر اللہ پر احسان نہ جتلائے بلکہ یہ تو اللہ کا بندے پر احسان ہے کہ اس نے نعمتِ ایمان سے نوازا ۔
سورہ ق
اس سورت میں ایک بار پھر اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں کو بیان کیا گیا ہے‘ یعنی آسمانوں کی رفعت اور شمس وقمر اور کواکب ونجوم سے اس کا مزین کرنا‘ اس میں کسی شگاف کا نہ ہونا ‘ زمین کی وسعت اور اس میں بلند وبالا پہاڑوں کو لنگر کی طرح ثبت کردینا ‘ آسمان سے بارش کا برسنا اور اس سے طرح طرح کا اناج پھل پھول اور باغات کا اگانا ‘ مردہ زمین کو زندہ کرنا وغیرہ ۔ آیت نمبر16 میں بتایا کہ اللہ انسان کا خالق ہے ‘ اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے اور ظاہری اعمال تو درکنار اس کے دل ودماغ میں پیدا ہونے والے وسوسوں اور قلبی واردات کو بھی جانتا ہے ‘ یعنی اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔ اس سورۂ مبارکہ کی آیت نمبر22 کے بارے میں بعض اہلِ علم نے فرمایا کہ اگر کسی کی بصارت متاثر ہورہی ہوتو یہ آیت پڑھ کر دم کیا جائے تو اللہ تعالیٰ بصارت کو بحال فرماتاہے ۔
سورۃ الذاریات
آیت نمبر15 سے اہلِ تقویٰ کے انعاماتِ اخروی کو بیان کرنے کے بعد ان کے اوصاف بیان کئے کہ وہ راتوں کو بہت کم سوتے ہیں‘ رات کے پچھلے پہر استغفار کرتے ہیں اور یہ بھی اللہ تعالیٰ نے جن کو نعمتِ مال سے نواز ا ہے ‘ ان کے مال میں سائل کا بھی حق ہے اور ان کا بھی جو نعمتِ مال سے محروم ہیں ۔
سورت کے آخر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس فرشتوں کی بشری شکل میں آمد اور ان کی طرف سے ضیافت کے اہتمام کا ذکر ہے اور فرشتوں کے کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھانے پر جو انہیں بہ تقاضائے بشری خوف لاحق ہوا اس کا ذکر ہے اور پھر حضرت ابراہیم اور حضرت سارہ علیہماالسلام کے بڑھاپے کی عمر میں حضرتِ اسحاق کی بشارت کا ذکر ہے ۔
بشکریہ روزنامہ دنیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں