52

کالمز میں چیئرمین نیب سے متعلق بیان کی گئی بات پر قائم ہوں، جاوید چوہدری

لاہور: روزنامہ ایکسپریس کے کالم نگار جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ وہ اپنے کالموں میں چیئرمین نیب سے متعلق بیان کی گئی بات پر قائم ہیں۔

قومی احتساب بیورو نے چیئرمین نیب کی جانب سے کالم نگاراور سینئر تجزیہ کارجاوید چوہدری کو انٹرویو دینے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کالم نگار جاوید چوہدری نے اپنے کالمز میں بعض شخصیا ت اور مقدمات کے بارے میں جو نتائج اخذ کئے تھے وہ درست اور حقائق پر مبنی نہیں تھے، کالم نگار نے اپنے کالم کے برعکس ایکسپریس ٹی وی پر اپنے ویڈیو بیپر میں خود بھی تسلیم کیا تھا کہ انہوں نے ایک پارٹی کے سربراہ کی بیماری کے بارے میں چیئرمین نیب کے حوالے سے جو تاثر دیا وہ درست نہیں۔

نیب اعلامیے کے مطابق کالم نگار نے 16 مئی کو اپنے کالم میں اپنی ہی لکھی ہوئی تحریر سے خود ہی انحراف کیا جو اس بات کا ثبوت تھا کہ انہوں نے اپنے مذکورہ کالمز میں خود ساختہ باتوں کی بنیاد پر تحریر کی تھی جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا، کالم نگار نے بھی ایکسپریس ٹی وی چینل پر اپنے پروگرام میں 22 مئی کو شاہد خاقان عباسی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ چیئرمین نیب نے ان کو کوئی انٹرویو نہیں دیا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نیب آئین اور قانون کے مطابق بدعنوان عناصر کے خلاف تحقیقات کرنے پر یقین رکھتا ہے، نیب کی طرف سے دائر ریفرنس کے بارے میں فیصلہ کرنا صرف اور صرف عدالت مجاز کا اختیار ہے، معزز عدالتوں میں مبینہ طور پر حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا حالانکہ کالم نگار خود تسلیم کر چکے ہیں کہ چیئرمین نیب نے ان کو کوئی انٹرویو نہیں دیا۔

نیب سے جاری بیان کے مطابق چیئرمین 35 سال سے زائد عرصہ معزز عدلیہ سے منسلک رہے اور وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ کسی معزز عدالت کے بارے میں ایسی بات کی جائے، چیئرمین نیب تمام سیاستدانوں کا احترام کرتے ہیں اور ان کی عزت نفس کو قانون کے مطابق یقینی بنانے پر سختی سے یقین رکھتے ہیں۔

دوسری جانب کالم نگاراور سینئر تجزیہ کارجاوید چوہدری نے ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نیب کی جانب سے یہ چوتھی تردید ہے لیکن کسی بھی تردید میں نیب نے کسی حقائق کو چیلنج نہیں کیا، میں آج بھی اپنے الفاظ پر قائم ہوں اور کوئی بھی حقائق جو یہ سمجھتے ہیں کہ غلط کہا گیا ہے تو اس کی نشاندہی کریں میں جواب دینے کے لئے تیار ہوں۔

جاوید چوہدری نے کہا کہ چیئرمین نیب نے مجھے انٹرویو نہیں دیا تھا اور نا ہی میں نے ان کا انٹرویو لیا تھا لیکن میری ملاقات ان سے ہوئی تھی جو ایک گھنٹہ طویل تھی، انہوں نے خود مجھے بلوایا تھا اور اس ملاقات میں یہ ساری باتیں ہوئیں تھیں، کچھ باتیں انہوں نے آف دی ریکارڈ کہا تھا جو آف دی ریکارڈ باتیں ہیں وہ نہیں چھپیں اورنا ہی میں نے بیان کی ہیں لیکن یہ وہ ساری باتیں ہیں جو انہوں نے خود کہیں تھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں