17

چھبیسویں پارے کا خلاصہ علامہ ابتسام الہٰی ظہیر (دین سے دنیا تک )

چھبیسویں پارے کا آغاز سورۃ الا حقاف سے ہوتا ہے‘ جس میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ مشرک کے پاس شرک کی کوئی دلیل نہیں ہے اور جو شرک کرتے ہیں ان کو کہیے کہ اگر وہ سچے ہیں تو کوئی سابقہ کتاب یا علم کا ٹکڑا اپنے موقف کی دلیل کے طور پر لے کر آئیں ۔ مزید ارشاد ہوا کہ اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہو گا‘ جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو پکارتا ہے‘ جو قیامت تک اس کی پکار کا جواب نہیں دے سکتے اور وہ ان کے پکارنے سے غافل ہیں۔ اللہ تعالیٰ ارشادفرماتے ہیں کہ بے شک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارارب اللہ ہے پھر اس پر استقامت کو اختیار کیا تو نہ ان پر کوئی خوف ہو گا اور نہ غم اور یہ لوگ جنتی ہیں‘ ہمیشہ اس میں رہیں گے اور ان کو ان کے کیے کی جزا ملے گی ۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے انسان کو اپنے والدین سے اچھے برتاؤ کا حکم دیا ۔اس کی ماں نے تکلیف کے ساتھ اس کو اٹھائے رکھا اور تکلیف کے ساتھ اسے جنم دیا اور اس کے حمل اور اس کے دودھ پینے کی مدت تیس ماہ ہے یہاں تک کہ جب وہ اپنی جوانی کی انتہا کو پہنچا اور چالیس سال کا ہوا تو اس نے کہا: اے میرے رب مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو دی اور مجھے توفیق دے کہ میں ایسے نیک اعمال کروں جنہیں تو پسند کرتا ہے اور تو میری اولاد کی اصلاح کر دے‘ میں تیری بارگاہ میں آکر توبہ کرتا ہوں اور بے شک میں مسلمانوں میں سے ہوں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے بارے میں کہتے ہیں‘ یہی وہ لوگ ہیں جن کے بہترین اعمال کو ہم قبول کرتے ہیں اور ان کی خطاؤں کو معاف کرتے ہیں اور یہ لوگ جنتی ہیں‘ اس سچے وعدے کے مطابق جو ان سے دنیا میں کیا جاتا تھا۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت محمدؐ کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ ویسے صبر فرمائیں ‘جس طرح آپ سے قبل اولوالعزم انبیا‘ یعنی نوح ‘ ابراہیم ‘موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام صبر فرماتے رہے اور حضرت محمد ؐ نے جب دعوت دین پر صبر کیا تو آپؐ کا صبر تمام انبیا ئے سابقہ کے صبر پر سبقت لے گیا ۔
سورۃ الاحقاف کے بعد سورہ محمد ہے۔ جس میں اللہ تعالیٰ اعلان فرماتے ہیں کہ جو لوگ کفر کا ارتکاب کرتے ہیں اور اللہ کے راستے سے روکتے ہیں ان کے اعمال گمراہ کن ہیں اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے اور رسول کریم ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب پر ایمان لائے جس کو اللہ نے حق کے ساتھ نازل فرمایا تو اللہ نے ان کی خطائوں کو معاف کر دیااور ان کے معاملات کو سنوار دیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے منکروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اہل کفر کا رہن سہن اور کھانا جانوروں کے کھانے کی مانند ہے اور جہنم ان کا ٹھکانہ ہے ۔جس طرح جانور حلال وحرام کی تمیز کے بغیر کھاتے ہیں اسی طرح کافر بھی حلال وحرام کی تمیز کے بغیر کھاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے لیے جہنم کے دہکتے ہوئے انگاروں کو تیار کر دیا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ لوگ قرآن مجید پر کیوں غور نہیں کرتے ۔کیا ان کے دل پر تالے لگے ہوئے ہیں ؟ اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں پس جان لو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیںہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جن لوگوں نے کفر کیا اوراللہ کے راستے سے روکتے رہے اور ہدایت واضح ہو جانے کے باوجود رسول کریمﷺ کی مخالفت کی وہ اللہ تعالیٰ کو نقصان نہیں پہنچاسکتے اور ان کے اعمال بربادہو چکے ہیں ۔ اس کے بعد سورہ فتح ہے۔ اس میں رسول کریمﷺ کو اللہ تعالیٰ نے فتح مبین کی بشارت دی۔ اس فتح مبین کا پس منظر یہ ہے کہ رسول کریم ﷺاپنے 1400 رفقاء کے ہمراہ عمرہ کرنے کے لیے مکہ روانہ ہوئے۔ جب منزل قریب آئی تو کافروں نے نبی کریمؐ کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ آپؐ نے مذاکرات کیلئے جناب عثمانؓ کو روانہ فرمایا۔ جب آپ کی واپسی میں تاخیر ہوئی تو یہ افواہ پھیل گئی کہ سیدنا عثمانؓ کو شہید کر دیا گیا ہے۔ اس موقع پر رسول کریمﷺ نے اپنے صحابہ سے قصاص ِعثمان ؓکیلئے بیعت کا تقاضا کیا توصحابہ کرامنے فوراً نبی رحمت کے ہاتھ پر اپنے ہاتھ کو رکھ دیا۔ اللہ تعالیٰ فدا کار مومنوں سے راضی ہوئے اور اللہ نے فرمایا کہ اللہ ان مومنوں سے راضی ہے‘ جنہوں نے درخت کے نیچے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔اس مو قعہ پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو فتح مبین کی بشارت دی اور ان آیات کے نزول کے بعدرسول ؐ اور صحابہ کے دل خوشی سے معمور ہو گئے اور صرف دو برس کے قلیل عرصے میں مسلمانوں کو فتح مکہ جیسی عظیم کامیابی حاصل ہو گئی۔
اس کے بعد سورۃ الحجرات ہے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اہل ایمان کو اللہ اور اس کے رسول ؐ سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔ سورۃ الحجرات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” اے ایمان والو! نبی کی آواز سے اپنی آواز اونچی نہ کرو اور ان کے سامنے بلند آواز سے اس طرح بات نہ کرو ‘جس طرح تم میں سے بعض‘ بعض کے سامنے اپنی آواز بلند کرتے ہو۔ ورنہ تمہارے اعمال برباد ہو جائیں گے اور تمہیں اس کا پتا بھی نہیں چلے گا۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اگر مومنوں کے دو گروہوں کی آپس میں جنگ ہوجائے تو ان کے درمیان صلح کروا دینی چاہیے ؛اگر ایک گروہ سرکشی پر تلا رہے تو ایسی صورت میں باغی گروہ کے خلاف جنگ کرنی چاہیے‘ یہاں تک کہ وہ صلح پر آمادہ ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ یہ بھی ارشاد فرماتے ہیں کہ بے شک مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں ان کی صلح صفائی کروا دیا کرو ۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے تجسس کی شدت سے مذمت کی ہے اور بد گمانی کو گناہ قرار دیا ہے ۔
اس کے بعد سورہ ق ہے‘ جس میں اللہ تعالیٰ نے تخلیق ارض و سماوات کا ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو چھ دن میں بنایا تھا اور چھ دن میں بنانے کے بعد اس کو تھکاوٹ اور اکتاہٹ کا احسا س تک بھی نہیں ہوا۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا بھی ذکر کیا کہ جہنم میں جب جہنمی ڈال دیئے جائیں گے تو جہنم کہے گی کہ میرے اندر اور لوگوں کو ڈالا جائے۔ جہنم سے بچ نکل کرجنت میں داخل ہوجانے والے خوش نصیب وہی ہوں گے‘ جنہوں نے تقویٰ اور پرہیز گاری کو اختیار کیا ہو گا۔ سورہ ق کے بعد سورۃ الذاریات ہے۔ اس سورت میںاللہ تعالیٰ نے بہت سی قسمیں اٹھانے کے بعد کہا ہے کہ قیامت ضرور آئے گی۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کا ایک اہم وصف بتلایا ہے کہ وہ راتوں کو جاگنے والے اور سحری کے وقت استغفار کرنے والے ہوتے ہیں ۔اس سورت میں ایک اور اہم نکتہ یہ بتلایا گیا کہ انسانوں کے رزق کا فیصلہ آسمانوں پر ہوتا ہے ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن پڑھنے‘سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے ۔(آمین)
بشکریہ روزنامہ دنیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں