14

نماز تراویح میں تلاوت ہونے والے پارے کا تفسیری خلاصہ مفتی منیب الرحمٰن (زاویہ نظر )

پچیسویں پارے کے مضامین
حمٓ السجدہ
اس پارے کی ابتدا میں بتایا کہ قیامت ‘ شگوفوں سے نکلنے والے پھلوں‘ حمل او روضع حمل کا علم اللہ ہی کی طرف لوٹایا جائے گا۔انسان کی فطری خودغرضی کوآیت 49میں بیان کیا کہ انسان اپنی بھلائی کی دعا مانگتے ہوئے تو کبھی نہیں تھکتا اور اگر اسے کبھی کوئی شر پہنچ جائے ‘تو وہ مایوس اور ناامید ہوجاتاہے۔آیت 51میں پھر فرمایا : اور جب ہم انسان پر کوئی انعام کرتے ہیں تو وہ منہ پھیر لیتا ہے اور پہلو بچا کر ہم سے دُو ر ہوجاتا ہے اور جب اس پر مصیبت آتی ہے تو لمبی چوڑی دعائیں کرنے والا ہوجاتاہے‘ یعنی اللہ کی ذات سے وہ خودغرضی اور ذاتی منفعت پر مبنی تعلق تو قائم رکھتاہے ‘ مگر اس کے اَحکام کو فراموش کردیتا ہے۔ مزید بتایا کہ انسان کو تکلیف پہنچنے کے بعد اللہ کوئی رحمت عطا کرے تو وہ اسے انعامِ الٰہی سمجھنے کی بجائے ‘ اپنا استحقاق سمجھنے لگتا ہے اور قیامت کا انکار کرنے لگتا ہے اور یہ کہتاہے کہ اگر قیامت آبھی گئی تو وہاں بھی مجھے یہ سب نعمتیں حاصل ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم کافروں کو ان کے اعمال بد کا مزہ سخت عذاب کی شکل میں چکھائیں گے ۔
الشورٰی
اس سورت کے شروع میں ایک بار پھر اللہ تعالیٰ کی قدرت کو بیان کیا اور قیامت کا منظر بیان کرتے ہوئے فرمایا : عنقریب آسمان (اس کی ہیبت سے ) اپنے اوپر پھٹ پڑیں گے‘(یعنی آسمانوں کی شکست وریخت اوپر سے نیچے کی طرف ہوگی ) اور فرشتے اس کی حمد کے ساتھ تسبیح پڑھتے رہتے ہیں اور زمین والوں کے لئے مغفرت طلب کرتے رہتے ہیں ‘ سنو! بے شک اللہ ہی بہت بخشنے والا بے حد رحم فرمانے والا ہے۔ آیت 8میں بتایا کہ اگر سب لوگوں کی جبری اطاعت‘ اللہ کی مشیت ہوتی تو وہ سب لوگوں کو ایک دین پر کاربند فرما دیتا‘ لیکن جزا وسزا کا مَدار اختیاری اطاعت پر ہے اور جو اپنے اختیار سے اطاعت کریں گے‘ وہی رحمت کے حق دار ہوں گے۔
آیت13سے بتایا کہ نوح علیہ السلام اور ان کے بعد آنے والے تمام انبیاء کرام کی شریعتوں میں دین ایک ہی اساس کے طور پر شامل رہا ہے اور آپ کے لئے بھی اسی دین کو مشروع مقرر کیا اور دین میں تفرقہ کی گنجائش نہیں ہے ‘ لہٰذا آپ اسی دین کی طرف دعوت دیں اور ثابت قدم رہیں اور منکرینِ دین کی خواہشات کی پیروی نہ کریں۔ آیت: 19میں بتایا کہ جو آخرت کی جزا کے طلب گار ہیں ‘ ان کے لئے آخرت کی نعمتوں میں اضافہ ہوگا اور جو صرف دنیا کے طلب گار ہیں ‘ ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ۔
آیت 27میں بتایا کہ اگر اللہ تعالیٰ اپنے سب بندوں کا رزق وسیع کردیتا تو وہ ضرور زمین میں سرکشی کرتے ‘ لیکن اللہ اپنی حکمت سے جتنا چاہتا ہے روزی عطا کرتاہے ‘ بے شک وہ اپنے بندوں کے حالات سے باخبر ہے ۔ آیت 36سے بتایا: سو تم کو جو کچھ بھی دیا گیا ہے‘ وہ دنیا کی زندگی کا فائدہ ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے‘ وہ ایمان والوں کے لئے زیادہ اچھا ہے اور زیادہ باقی رہنے والا ہے اور وہ اپنے رب پر ہی توکل کرتے ہیں۔ مزید بتایاکہ مسلمانوں کے معاملات باہمی مشاورت سے طے ہوتے ہیں اور برائی کا بدلہ اس جیسی برائی ہے‘ (یعنی یہ عدل کا تقاضا ہے) لیکن ‘جس نے اپنے (قصور وار کو)معاف کردیا ‘ تو اس کا اجر اللہ کے ذمۂ کرم پر ہے۔ آیت 49سے بتایا کہ آسمانوں اور زمین کی سلطنت اللہ ہی کے لئے ہے ‘ وہ جو چاہے پیدا کرتاہے اور جس کو چاہے بیٹیاں عطا کرے اور جسے چاہے بیٹے دے اور جسے چاہے بانجھ کردے ‘ بے شک وہ بہت علم والا ‘ قدرت والا ہے۔ مزید فرمایا: کسی بشر کی شان میں نہیں کہ وہ اللہ سے کلام کرے ‘ سوائے اس کے کہ وہ وحی فرمائے یا پردے کی اوٹ سے کلام فرمائے یا وہ کسی فرشتے کو بھیج دے کہ وہ اللہ کے حکم سے جووہ چاہے وحی کرے ‘ اس سے مراد یہ ہے کہ وحی ہی اللہ سے ہم کلام ہونے کا ذریعہ ہے ‘ خواہ بالمشافہ اور بالمشاہدہ بندے سے ہم کلام ہو ‘ جیسا کہ معراج کی حدیث میں ہے یا اس صورت میں ہو کہ کلام تو سنائی دے ‘ لیکن جلوۂ ذات دکھائی نہ دے جیسا کہ اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کلام فرمایا۔
مزید فرمایا : اور اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے آپ کی طرف روح (قرآن) کی وحی کی ہے ‘ اس سے پہلے آپ ازخود یہ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا چیزہے اور ایمان کیا ہے ‘ لیکن ہم نے اس کتاب کو نور بنادیا ‘ جس سے ہم اپنے بندوں میں سے جس کوچاہیں ہدایت دیتے ہیں اور بے شک آپ ضرور صراطِ مستقیم کی طرف ہدایت دیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کتاب اللہ کا ماخذ وحیِ ربانی ہے ‘ اس کا مَدار عقل وقیاس پر نہیں ہے۔
الزخرف
سورت کے شروع میں بتایا کہ ہر عہد کے منکرین اپنے نبی کا مذاق اڑاتے رہے ‘ مگر پھر ہم نے بڑی طاقت ور قوموں کو بھی ہلاک کردیا۔کفار فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے ؛حالانکہ وہ اللہ کے بندے ہیں ۔ اللہ نے فرمایا : کیا یہ لوگ ان( فرشتوں) کی پیدائش کے وقت موجود تھے؛ چنانچہ آیت16 میں کفار کے اِس انداز کے بارے میں فرمایا:کیا اس نے مخلوق میں سے اپنے لئے بیٹیاں بنائیں اور تمہارے لئے بیٹے مختص کردئیے ؛ حالانکہ ان میں سے جب کسی کو اس کی بشارت دی جائے‘ جس کے ساتھ اس نے رحمان کو متصف کیا ہے‘(یعنی بیٹیاں) تو اس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتاہے اور وہ غصے میں کڑھتا رہتا ہے۔
آیت31سے کفار مکہ کا یہ مطالبہ بیان ہوا کہ یہ قرآن دو بستیوں مکہ اور طائف کے کسی بڑے آدمی ‘(یعنی ولید بن مغیرہ اور ابومسعود ثقفی )پر کیوںنازل نہ کیا گیا؟۔ اللہ نے فرمایا:کیا آپ کے رب کی رحمت کو یہ تقسیم کرتے ہیں‘(یعنی یہ فیصلہ تو اللہ نے کرناہے کہ منصبِ نبوت کسے عطا کیا جائے )ہم نے ان کی دنیاوی زندگی میں ان کی معیشت (کے وسائل) کو تقسیم کیا ہے اور ہم نے (معاشی اعتبار سے) بعض کو بعض پر کئی درجے فضیلت عطا کی ہے‘ تاکہ وہ ایک دوسرے سے خدمت لیں اور آپ کے رب کی رحمت اس مال سے بہت بہترہے‘ جس کو یہ جمع کررہے ہیں۔ دنیا کی زندگی کی بے وقعتی کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر لوگوں کے کفر میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو ہم ان کے لئے گھروں کی چھتیں ‘ سیڑھیاں ‘ دروازے اور مسندیں چاندی کی بنادیتے (اور چاندی ہی کیا) سونے کی بھی بنادیتے اور یہ سب دنیا کا سامانِ زیست ہے اور آپ کے رب کے پاس آخرت (کی نعمتیں صرف) متقین کے لئے ہیں۔مزید فرمایا: جو رحمان کی یاد سے (غافل ہوکر) اندھا ہوجاتاہے ‘ اس پر ہم شیطان کو مسلط کردیتے ہیں ‘ تووہی اس کا ساتھی ہے۔
آیت67سے بتایا کہ دنیا میں جو منکرین ایک دوسرے کی دوستی کا دم بھرتے ہیں ‘ وہ ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے ‘ یعنی ایک دوسرے کے خلاف سلطانی گواہ بنیں گے ‘ لیکن اہلِ تقویٰ کی دوستی کا رشتہ قیامت میںجاری وساری رہے گا‘ انہیںبشارت دی جائے گی کہ اب تم ہر قسم کے خوف اور رنج والم سے آزاد ہو‘ اپنی بیویوں کے ساتھ ہنسی خوشی جنت میں داخل ہوجاؤ‘ ان کے لئے من پسند اور نگاہوں کو لبھانے والے ماکولات ومشروبات کے دور سونے کے برتنوں میں چلیں گے اور ان سے کہا جائے کہ یہی وہ جنت ہے ‘جس کا تمہیں وارث بنایا گیا تھا۔
الدخان
اس سورت کے شروع میں لیلۂ مبارَکہ کا ذکر ہے ‘ اکثر مفسرین نے اس سے لیلۃ القدر مراد لی ہے‘ مگر حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ کی روایت کے حوالے سے بعض مفسرین نے اس سے شعبان المعظم کی پندرہویں شب مراد لی ہے۔ اس رات کے طے شدہ معاملات فرشتوں کو تفویض ہوتے ہیں ۔آیت 25سے بنی اسرائیل کی نجات اور فرعونیوں کے غرق کئے جانے کے پسِ منظر بیان ہوا۔
اس سورت کے آخر میں بتایا کہ کفار ومشرکین کی غذا جہنم میں زقوم (تھوہر ) کا درخت ہوگا ‘ جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح پیٹوں میں جوش مارے گا ‘ جیسے کھولتا ہوا پانی جوش مارتاہے‘ انہیں گھسیٹے ہوئے جہنم کے وسط میں لے جایا جائے گا اور پھر ان کے سر پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا اور یہ صورتِ عذاب ہوگی ۔ اس کے بعد متقین کیلئے جنت کی عالی شان نعمتوں کا ذکر ہے۔
الجاثیہ
اس سورت کے شروع میں اللہ تعالیٰ کی قدرت وجلالت کی نشانیوں کا ذکر ہے۔ ان مضامین کو قرآن مجید میں بار بار بیان کیا گیا ہے۔ آیت نمبر23میں فرمایا : پس کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا کہ جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا لیااور اللہ نے اس کو علم کے باوجود گمراہ کردیا اور اس کے کان اور اس کے دل پر مہرلگا دی اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا۔ پس‘ اللہ کے بعد اس کو کون ہدایت دے سکتا ہے ‘ تو کیا تم نصیحت قبول نہیں کرتے۔
اس کے بعد منکرینِ آخرت کے اس نظریے کو بیان کیا ‘جو ہر دور کے ملحدین کا عقیدہ رہا ہے کہ جو کچھ ہے یہ دنیا کی زندگی ہے۔ پسِ مرگ کچھ بھی نہیں۔ قرآن نے بتایا کہ جس نے پہلی بار پیدا کیا‘ وہی دوبارہ زندہ کرے گا۔ جنہوں نے اس دنیا میں قیامت کے دن کو فراموش کررکھا ہے‘ قیامت کے دن انہیں رحمتِ باری نظرانداز کردے گی اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا اور کوئی مدد گار نہیں ہوگا ۔
بشکریہ روزنامہ دنیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں