15

لیبیا‘مصر اورسوڈان کے بحران نذیر ناجی (سویرے سویرے)

رواں ماہ کے دوسرے عشرے میں سوڈان کے عبوری رہنما عبدالفتح برہانی نے ملک میں کرفیو کے خاتمے کا اعلان کر دیا‘ جبکہ دوسری جانب عمرالبشیر کی حکومت کے خاتمے کے بعد بھی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔سوڈان پر تقریباً30 برس حکومت کرنے والے عمرالبشیر کے خلاف زبردست عوامی مظاہروں کے تناظر میں ملکی فوج نے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا‘ جبکہ برہانی نے عبوری حکومت سنبھالی ‘عبوری رہنما نے سوڈان کی تمام سیاسی جماعتوں اور تحریکوں سے کہا کہ وہ مذاکرات کا راستہ اپنائیں اور تشدد سے اجتناب کریں۔ واضح رہے کہ عواد ابن الرؤف کی جانب سے عسکری کونسل سے مستعفی ہو جانے کے بعد برہانی نے عبوری رہنما کے طورپر ذمہ داریاں سنبھالیں اور وہ حکومت کے خاتمے کے بعد صرف ایک روز تک عبوری رہنما رہے۔ دارالحکومت خرطوم میں واقع فوجی ہیڈکوارٹرز کے ارد گرد ہزاروں مظاہرین جمع ہوئے۔ ان افراد نے سوڈانی پرچم اٹھا رکھے تھے اور ایک جشن کا سماں تھا۔مظاہرین کا صرف ایک بات پر اصرار تھا کہ جب تک ملک میں سویلین حکومت قائم نہیں ہوتی‘ ہم یہیں رکیں گے۔مظاہرین کے ذہنوں میں گزشتہ حکومت کے خلاف بہت سے سوالات گردش کر رہے تھے‘ان کے لبوں پر کئی شکوے تھے اور ان کی زبان پر ایک ہی رٹ تھی ”اب وقت آ گیا ہے کہ انہیں باہر پھینک دیا جائے اور ملک میں جمہوری دور کا آغاز ہو‘ ایک ایسی حکومت قائم ہو ‘جو نئی نسل کے امنگوں کی ترجمان ہو…‘‘
مختلف اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد نے مشترکہ پریس کانفرنس میں فوج کی طرف سے ملکی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لینے کو مسترد کیا۔سوڈان میں مظاہروں اور لیبیا میں فوجی کارروائی کے بعد مصر کی مغربی اور جنوبی سرحدوں پر عدم تحفظ کے حوالے سے خدشات بڑھنے لگے۔یہ کوئی اتفاق نہیں تھا کہ سوڈان کے معزول صدر عمر حسن البشیر اور لیبیا کی قومی فوج (ایل این اے) کے کمانڈر خلیفہ حفتر نے ایک ہی وقت میں قاہرہ کا دورہ کیا۔ ان کے اپنے ملکوں میں کشیدگی عروج پر تھی۔ان کا یہ دورہ کئی سوالات پیدا کیے ہوئے تھا۔دورہ اس بات کا مظہر بھی تھا کہ مصر کس کے ساتھ کھڑا ہے؟مختلف چہ مگوئیاں گردش کرنے لگیں۔فی الوقت پیش گوئی کرنا مشکل ہے کہ ان دونوں ملکوں میں بد امنی پھیلنے سے مصر کس حد تک متاثر ہوسکتا ہے؟مصر کے سوڈان اور لیبیا کے ساتھ موجودہ اتحاد کی پائیداری کو کسی پیمانے پر جانچا نہیں جا سکتا۔
مصر کاخلیفہ حفتر کی حمایت کرنا کوئی حیران کن امر نہیں ۔ لیبیا کے شہربن غازی میں 2014ء میں ‘آپریشن عظمت‘ کے نام سے فوجی کارروائی کے بعد‘مصرنے خود کو اسلامی ملیشیاؤں کادشمن ظاہر کیا۔ یہ بات باور کرانے کی کوشش کی کہ صرف وہی داعش اور اس طرح کے دوسرے گروپوں کے بڑھتے ہوئے اثرات کو روک لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے نزدیک 2015ء میں لیبیا میں داعش کے ہاتھوں 21قبطی مصری ورکروں کا اغوا اور بے دردی سے قتل ‘ خلیفہ حفتر کے لیے مصر کی حمایت کا ردعمل ہو سکتا ہے۔خلیفہ حفتر کو ایک مضبوط فوجی کمانڈر خیال کیا جاتا ہے‘ ان کی فوج کو مختلف اتحادی ممالک کی جانب سے مالی اورلوجسٹیکل امداد مہیا ہوتی ہے۔مصریہی سمجھتا ہے کہ خلیفہ حفتر ہی ان کی واحد امید ہیں‘ جو اس کی مغربی سرحد کو محفوظ بنا سکتے ہیں ‘کیونکہ یہ سرحدہمیشہ سے غیر محفوظ رہی ہے۔فرانس بھی اس امید کے ساتھ ان کی حمایت کررہا ہے کہ ان کی جیت سے لیبیا میں استحکام آئے گا اور وہاں سے سمندری راستے سے آنے والے تارکین ِ وطن کے بہاؤ کو روکنے میں مدد ملے گی۔
تاہم مصر کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ اگر خلیفہ حفتر اسلامی ملیشیاؤں کے قلع قمع میں ناکام رہتے ہیں‘ تو اس کی قومی سلامتی کو خطرات لاحق رہیں گے اور جنگجو مغربی صحرا سے مصرمیں داخل ہوتے رہیں گے‘ جبکہ سوڈان کی صورتحال کافی مختلف ہے۔عمر حسن البشیر اور مصر کے درمیان اچھے تعلقات نہیں تھے۔ان میں حلیب سنگم پر تنازعہ‘ سوڈان کی جانب سے ایتھوپیا کی دریائے نیل پر نشاۃ ثانیہ ڈیم کی تعمیر کی حمایت ‘ سوڈان کے قطر اور ترکی سے قریبی تعلقات پر ان کے مراسم میں سرد مہری پائی جاتی تھی۔معزول البشیر حکومت اسلام پسندوں سے بھی ہمدردی رکھتی تھی اور اس نے سابق صدر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد مصر سے راہ فرار اختیار کر جانے والے الاخوان المسلمون کے متعدد کارکنان کو پناہ دی تھی۔
ان تمام خراب تعلقات کے با وجود سوڈان میں عمر البشیر کے خلاف احتجاجی مظاہرے ‘مصر اور سوڈان کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا سبب بنے ۔مصر نے واضح الفاظ میں کہا کہ سوڈان کا استحکام اس کی اولین ترجیح ہے اور وہ سوڈانی عوام کے فیصلوں کی حمایت کرے گا۔مصر کو اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ سوڈان میں ذمے دار کون ہیں؟مصر کے اپنے بھی کئی مفادات اس سے جڑے ہیں‘سوڈان کے مستحکم ہونے سے نا صرف مصر کی جنوبی سرحد محفوظ ہوگی‘ بلکہ تارکینِ وطن کی شمال کی جانب آمد میں بھی کمی واقع آئے گی۔اس سے دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں بھی ایک نئی جہت دیکھنے کو مل سکتی ہے۔خلیفہ حفتر مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے قریبی اتحادی ہوسکتے ہیں؛اگر وہ فاتح کی حیثیت سے سامنے آتے ہیں‘ تو دونوں ممالک ہتھیاروں کی سمگلنگ اور سرحد کے آرپار انتہا پسند جنگجوؤں کی آمد ورفت پر قابو پانے کے لیے بھی مل کرکام کر سکتے ہیں۔
خلیفہ حفتر لیبیا کواستحکام کی جانب گامزن کر پاتے ہیں ‘تو یہ مصر کے لیے بھی خود کو دہشت گردی کے خطرات سے محفوظ رکھے گا۔مصر‘لیبیا کے ذریعے اور اس کے ساتھ واقع اپنی اہم زمینی گزرگاہ کو بند کرکے مسلح گروپوں کا ناطقہ بند کرسکے گا۔ سوڈا ن کے ذریعے وہ عمر البشیر کے اتحادی ممالک قطر اور ترکی کو دھچکا پہنچا سکتا ہے۔
بشکریہ روزنامہ دنیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں