41

تئیسواں پارے کا خلاصہ علامہ ابتسام الہٰی ظہیر (دین سے دنیا تک )

تئیسویں پارے کا آغاز سورہ یٰس ٓ سے ہوتا ہے۔ بائیسویں پارے میں انبیا علیہم السلام کی تائید کرنے والے مومن کا ذکر تھا۔ اس پارے میں اس مرد مومن کی تبلیغ کا ذکر ہے کہ اس نے بستی کے لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ میں اللہ کی پوجا کیوں نہ کروں کہ اسی نے مجھے پیدا کیا اوراسی کی طرف مجھ کو پلٹ کر جانا ہے۔اللہ کو چھوڑ کر اگر میں کوئی اور معبود پکڑ لوں تو مجھے اس معبود کا کیا فائدہ کہ اللہ تعالیٰ اگر مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہیں تو وہ میرا کچھ بھی بھلا نہیں کر سکتے ۔بستی والوں نے اس کی دعوت قبول کرنے کی بجائے اس کو شہید کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو جنت میں داخل کر دیا اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں بستی والوں سے روٹھ گئیں۔ اللہ تعالیٰ نے کافروں کے اعتراضات کا ذکر کیا ہے کہ کافر کہتے ہیں کہ کون ہڈیوں کو زندہ کرے گا‘ جبکہ ہماری ہڈیاں چور چور ہو چکی ہوں گی۔ فرمایا کہ وہی ان ہڈیوں کو زندہ کرے گا‘ جس نے پہلی مرتبہ ان کو پیدا کیا تھا اور اس کو ہر قسم کی تخلیق کی پوری خبر ہے ۔
اس کے بعد سورۃ الصافات ہے‘ جس میں اللہ تعالیٰ نے ستاروں کی تخلیق کے مقاصد واضح کیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کے ذریعے آسمان کو زینت عطا کی اور ان میں سے بعض ستاروں کو اللہ تعالیٰ آسمان کی خبریں چوری کرنے والے شیاطین کو مارنے کیلئے استعمال کرتے ہیں‘ پھر جناب ابراہیم علیہ السلام کی عظیم قربانی کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو خواب میں دکھلایا کہ وہ اپنے بیٹے جناب اسماعیل علیہ السلام کے گلے پر چھری چلا رہے ہیں۔ جناب ابراہیم علیہ السلام نے جناب اسماعیل علیہ السلام سے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں تمہارے گلے پر چھری چلا رہا ہوں‘ اب بتائو کہ تمہاری رائے کیا ہے۔ جناب اسماعیل ںنے جواب میں کہا: بابا آپ وہ کام کریں‘ جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے۔ جب ابراہیم ںنے اسماعیل علیہ السلام کو پیشانی کے بل لٹایا تو اللہ تعالیٰ نے جناب ابراہیم علیہ السلام کو پکاراکہ آپ نے اپنے خواب کو سچا کر دکھایا ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے جناب ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام کی قربانی قبول فرما کر جہاں اخروی جزا کو ان کا مقدر بنا دیا‘ وہیں پر رہتی دنیا تک کے لیے بھی آپ کی قربانی کو ایک مثال بنا دیا ۔اسی سورت میں جناب یونس علیہ السلام کا ذکر ہے کہ وہ رسولوں میں سے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کوایک لاکھ افراد کی طرف مبعوث فرمایا تھا۔ جناب یونسں جب مچھلی کے پیٹ میں چلے گئے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی کثرت سے تسبیح کی ‘جس کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت بڑی مصیبت سے نجات دے دی۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی اس بات کی بھی تردید کی کہ وہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بتلاتے تھے‘ جبکہ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے ان عیبوں سے جو مشرک اس سے جوڑتے ہیں ‘ اللہ تعالیٰ کا سلام ہو رسولوں پر اوراللہ تعالیٰ کی تعریف ہے ‘جو پروردگار ہے جہانوں کا۔
اس کے بعد سورہ صٓ ہے‘ جس میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے جناب رسول کریمﷺ کی دعوت پر اعتراض کا ذکر کیا ہے کہ انہوں نے الہ واحد کی عبادت کا درس دیا اور باقی تمام معبودوں کی نفی کی اور یہ بات مشرکین کو کسی طور گوارا نہیں تھی‘ پھر جناب دائود علیہ السلام کی حکمت اور قوتِ بیان کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرزند جناب سلیمان علیہ السلام کی دعا کا بھی ذکر کیا کہ انہوں نے پروردگار عالم سے دعا مانگی کہ اے میرے پروردگار مجھ کو بخش دے اور مجھے ایسی حکومت دے جو میرے بعد کسی دوسرے کے نصیب میں نہ آئے‘ بیشک تو بخشنے والاہے۔اللہ تعالیٰ نے جناب سلیمان علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی اور آپ کوایسی سلطنت عطا فرمائی کہ جنات اور ہوائوںکو آپ کے تابع فرمادیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ پر بہت زیادہ انعامات کیے‘ لیکن آ پ اس تمام انعام واکرام کے باوجود اللہ کی بندگی میں مشغول رہے اور اپنی توانا ئیوں کو اللہ کی توحید کی نشر واشاعت کیلئے لگاتے رہے اور جب بھی کبھی آپ کے علم میں یہ بات آئی کہ کہیں اللہ کی ذات کے ساتھ شرک ہورہا ہے تو آ پ اس مقام تک رسائی حاصل کرتے اور لوگوں کو توحید کی دعوت دیتے۔ سبا کی ملکہ سے آپ کے تنازعے کا اصل سبب یہی تھا کہ سبا کے لوگ اللہ کو چھوڑ کر سورج کی پرستش کر رہے تھے۔ اسی وجہ سے آپ نے ملکہ سبا کو اپنے دربار میں حاضر کر کے توحید کی دعوت دی‘ جس کو اس نے قبول کرلیا۔
اللہ تعالیٰ نے جناب ایوب علیہ السلام کی بیماری اور شفا کابھی ذکر کیا۔ جناب ایوب علیہ السلام طویل عرصہ تک بیمار رہے اور اس بیماری نے آپ کو بے بس کر دیا۔جناب ایوب علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا مانگی کہ اے پروردگار‘ شیطان مجھے تکلیف دے رہا ہے‘ آپ مجھ پر رحم فرمائیں‘ بے شک آپ سب سے زیادہ رحم کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جناب ایوب علیہ السلام کی تمام تکلیفوں کو دور فرمادیا ۔
اس کے بعد سورہ الزمر ہے‘ جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب پاکؐ سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر حق کے ساتھ کتاب نازل کی ہے۔ پس‘ آپ مخلص ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔ فرمایا کہ بہت سے لوگ اللہ تعالیٰ کے علاوہ مددگار تلاش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم ان کی پوجا اس لیے کررہے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے قریب کر دیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان اختلافات کا فیصلہ وہ خود فرمائیں گے اور بے شک وہ جھوٹ بولنے والے گمراہوں کو کچھ ہدایت نہیں دیتے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انہوں نے انسانوں کو تین اندھیروں میں سے پیدا فرمایا‘پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ حقیقی گھاٹا ان لوگوں کیلئے ہے‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے آخرت میں گھاٹا دیا اور یہ وہ لوگ ہیں جن کوآگ کا عذاب سہنا ہو گا اور ان کے مقابلے میں جنتیوں کو ایسے کمرے ملنے والے ہیں‘ جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں کے خلاف نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ جس کے سینے کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کیلئے کھول دیا‘ وہ اپنے رب کی طرف سے روشنی پر ہے اور بدنصیب ہیں وہ لوگ جو کھلی گمراہی میں ہیں ۔اللہ فرماتے ہیں کہ اُس نے بہترین بات کو نازل کیا‘ جس کے مضامین میں ہم آہنگی اور تکرار بھی ہے۔ اس کو پڑھنے کے بعد جن کے دلوں میں اللہ کا خوف ہوتا ہے ‘ان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں‘ پھر ان کے رونگٹے اور دل اللہ کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں اور جس کو اللہ گمراہ کرے کوئی اس کو ہدایت دینے والا نہیں ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآن پڑھنے ‘ سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔(آمین)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں