76

زکاۃ کی رقم سے گردوں کی دھلائی کیلئے مشین خرید کر ہسپتال کو دینا

سوال
سوال: کیا زکاۃ کی رقم سے کسی ہسپتال کیلئے گردوں کی دھلائی میں استعمال ہونے والی مشین خرید کر دی جا سکتی ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ متعلقہ شہر میں صرف ایک ہی مشین ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو گھنٹے اور کبھی دنوں تک بھی اپنی باری کا انتظار کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے ان کی صحت، اور زندگی پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
جواب کا متن

الحمد للہ:

اللہ تعالی نے زکاۃ کے آٹھ مصارف اپنے اس فرمان میں بیان کیے ہیں:
( إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ …)
ترجمہ: صدقات تو صرف فقیروں اور مسکینوں کے لیے اور [زکاۃ جمع کرنے والے]عاملوں کے لیے ہیں اور ان کے لیے جن کے دلوں میں الفت ڈالنی مقصود ہے اور گردنیں چھڑانے میں اور تاوان بھرنے والوں میں اور اللہ کے راستے میں اور مسافر پر (خرچ کرنے کے لیے ہیں)،یہ اللہ کی طرف سے ایک فریضہ ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے [التوبة:60]

اس لئے گردوں کی صفائی کیلئے زکاۃ کے پیسے سے مشین نہیں خریدی جا سکتی؛ کیونکہ یہ مذکورہ کسی مصرف میں نہیں آتا، ویسے بھی ان مشینوں کا استعمال صرف مساکین ہی نہیں کرینگے بلکہ اس سے عام مریض بھی مستفید ہونگے جس میں زکاۃ کے مستحق اور غیر مستحق تمام افراد شامل ہونگے۔

تاہم اگر کسی غریب شخص کو گردے واش کروانے کیلئے پرائیویٹ ہسپتال جانے کی ضرورت ہو، یا کسی اور مرض کی دوا لینی پڑے ، اور بلا معاوضہ علاج بھی ممکن نہ ہو تو ایسے غریب شخص کو زکاۃ دی جا سکتی ہے۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے استفسار کیا گیا:
” خیراتی اداروں کو گردے واش کرنے کی مشین خریدنے کیلئے زکاۃ دینے کا کیا حکم ہے؟”
تو انہوں نے جواب دیا:
“ایسا کرنا درست نہیں ہے، کیونکہ سب سے پہلے تو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ یہ ادارہ فقیر ہے!، وگرنہ “فی سبیل اللہ” کے اطلاق کو وسعت دیتے ہوئے تمام نیکی کے کاموں کو اس میں شامل کرنا ہوگا، جو کہ صحیح موقف نہیں ہے”
“ثمرات التدوين” مسئلہ نمبر: ( 236 ) مؤرخہ: ( 7/2/1420ہجری)

ویسے بھی اس قسم کی مشینیں خریدنے کیلئے صرف زکاۃ کی رقوم ہی ضروری نہیں ہیں بلکہ عام صدقات و عطیات سے بھی ان آلات کو خریدا جا سکتا ہے، لہذا مسلمانوں کو عام صدقات سے اس قسم کے آلات خریدنے کی ترغیب دلانی چاہیے، اسی طرح اوقاف سے بھی اس قسم کے نفع بخش امور کیلئے مالی تعاون حاصل کیا جا سکتا ہے۔

واللہ اعلم.
بشکریہ اسلام کیو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں