66

وسوسے اور ان کا علاج

وسوسے اور ان کا علاج

اَلْحَمْدُ لِلَّہِ وَالصَّلاةُ وَالسَّلَامُ عَلَی رَسُوْلِ اللَّہِ وَبَعْدُ :‏
‏ موجودہ دورمیں منتشر بیماریوں میں وسوسہ بہت ہی خطرناک بیماری اور بڑی آفت ہے ، وسوسہ برے ‏خیالات ( اور شکوک وشبہات )کا نام ہے جسے شیطان انسان کے دل میں ڈالتا رہتاہے ، یہ وسوسہ کبھی عقیدہ کے ‏متعلق ہوتا ہے مثال کے طور پر یہ خیال آنا کہ کیا اللہ موجود ہے ؟ اللہ کو کس نے پیدا کیا ؟ کبھی عبادات جیسے صلاة ‏اور طہارت میں شک کے طور پر ہوتا ہے ،توکبھی موہوم بیماریوں سے خوف اور ان کے بارے میں فکرمندی کے متعلق ‏ہوتا ہے ، تو کبھی بیوی کے بارے میں ہوتا ہے آیا وہ پاک دامن ہے یا نہیں ؟ مذکورہ سارے شکوک وشبہات، اللہ ‏رب العالمین کے ساتھ بد گمانی کے سوا کچھ نہیں۔
‏ بعض کمزور دل انسانوں پر وسوسوں کا اس قدر تسلُّط ہوتا ہے کہ وہ تنگی وبے چینی، حسرت وندامت اورخوف ‏ودہشت کی وجہ سے خودکشی پربھی آمادہ ہوجاتے ہیں، یہ وسوسے کبھی اللہ کی طرف سے عقاب ہوتے ہیں جیسا کہ ‏ارشاد ربانی ہے ” وَمَنْ أعْرَضَ عَنْ ذِکْرِیْ فَاِنَّ لَہُ مَعِیْشَةً ضَنْکاً ” “اور جو میری یاد سے روگردانی ‏کرے گا اس کی زندگی تنگی میں رہے گی” ( طہ : ١٢٤) تو کبھی اللہ کی طرف سے آزمائش ہوتی ہے تاکہ اس کے ‏گناہوں کی مغفرت اور برائیوں کا کفارہ ہوجائے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلّم کا ارشاد ہے: “مَا یُصِیْبُ الْمُسْلِمَ ‏مِنْ نَصَبٍ وَّلَاوَصَبٍ وَّلَاہَمٍّ وَّلَاحُزْنٍ وًَّلَاأذیً وَّلَا غَمٍّ حَتَّی الشَّوْکَةِ یُشَاکُہَا اِلَّا کَفَّرَ اللَّہُ بِہَا مِنْ ‏خَطَایَاہُ ” “مُسلمان کو کوئی تکلیف وپریشانی ، بیماری ، فکرو غم ، اورمصیبت نہیں لاحق ہوتی یہاں تک کہ جو کانٹا اسے ‏چبھتا ہے مگر اللہ ان کے ذریعہ اس کے گناہوں کو مٹادیتا ہے ” ( بخاری ومسلم ) ‏​

‏ ‏وسوسہ سے بچنے کے وسائل وذرائع :‏​


• پہلا وسیلہ : اللہ کی پناہ طلب کرنا‎:‎
‏ یعنی أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھنا ارشاد ربانی ہے ” وَاِمَّا یَنْزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیْطَانِ نَزْغ فَاسْتَعِذْ بِاللہِ ‏اِنَّہ سَمِیْع عَلِیْم ” “اور اگر آپ کو کوئی وسوسہ شیطان کی طرف سے آئے تو اللہ کی پناہ طلب کرلیا کریں بلاشبہ وہ خوب سننے والا ‏خوب جاننے والا ہے ” ( الاعراف : ٢٠٠) ایسا کرنے سے اللہ رب العالمین انسان کو شیطان کے فتنہ اور اس کے ‏وسوسہ سے محفوظ رکھتا ہے لہذا جب شیطان دلوں میں وسوسہ پیدا کرے تو شیطان کے خالق اور اپنے خالق (یعنی اللہ تعالٰی ) سے مدد ‏طلب کرلیا کرو وہ شیطان کے شر سے تمہارے لئے کافی ہوگا ۔
• دوسرا وسیلہ : مضبوط قوت ارادی اور وسوسوں کو اہمیت نہ دینا‎:‎
ایک مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ شیطانی وسوسوں کو حتی الامکان دفع کرے اور ان پر کوئی توجہ نہ دے ، بعض صحابہ کرام نے ‏نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے وسوسوں کے بارے میں شکایت کی تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” تم میں سے کسی کے پاس شیطان آکر ‏کہتا ہے کہ اس کو کس نے پیدا کیا ‘ یہاں تک کہ یہ بھی کہتا ہے کہ تمہارے رب کو کس نے پیدا کیا ‘ جب اس حالت کو پہنچ جائے تو ‏اللہ کی پناہ طلب کرے اور باز آجائے “( بخاری ومسلم )‏
‏ ‏• تیسرا وسیلہ : اللہ پر توکل‎:‎
وسوسوں اور برے خیالات کو ختم کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ اللہ کی ذات پر مکمل اعتمادا ورتوکل ہے ارشاد ربانی ہے ” وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ ‏عَلَی اللَّہِ فَہُوَ حَسْبُہُ ” “جو اللہ پر بھروسہ کرے گا اللہ اس کے لئے کافی ہوگا “( الطلاق : ٣) کیونکہ اللہ پر بھروسہ کرنے والا ‏قویٰ دل(اور مضبوط قوت ارادی کا مالک )ہوتا ہے اس کے دل میں او ہام وخُرافات اپنی جگہ نہیں بناپاتی ہیں او رنہ ہی حادثات سے وہ ‏رنجیدہ وکبیدہ خاطر ہوتا ہے کیونکہ وہ اس حقیقت سے باخبر ہوتا ہے کہ( حادثات پر رونادھونا) ایک کمزور دل انسان کی پہچان ہے ۔
• چوتھا وسیلہ : قرآن کریم کی تلاوت‎:‎
اِرشادِ ربّانی ہے ” وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا ہُوَ شِفَائ وَّرَحْمَة لِّلْمُؤمِنِیْنَ ” “یہ قرآن جو ہم نازل کررہے ہیں مومنوں ‏کے لئے سراسر شفاء ورحمت ہے “( الاسراء : ٨٢ ) قرآن میں عام شفاء ہے جو دل کی بیماریوں کو بھی شامل ہے جیسے شکوک ‏وشبہات ،جہالت ونادانی، فاسد آراء وراہِ حق سے اِنحراف اور غلط خیالات وغیرہ ، کیونکہ قرآن اس علمِ یقین کا نام ہے جوہر شبہ اور ‏جہالت ونادانی کے لئے کافورہوتاہے ، اوروہ ایسی نصیحت پر مشتمل ہے جو ہر اس خواہش کو ختم کردیتا ہے جو اللہ کے حکم کے خلاف ہو ‏،یعنی قرآن دل کی تمام بیماریوں کا علاج ہے خواہ وہ شبہات کی بیماریاں ہوں یا نفسانی خواہشات کی ، خصوصاً سورتِ بقرہ جس کے متعلق ‏آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے :” تم اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ ، شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جس میں سورتِ بقرہ کی ‏تلاوت کی جاتی ہے ” ( صحیح مسلم )‏
• پانچواں وسیلہ : ایمان اور عمل صالح‎:‎
‏ ارشادِ ربانی ہے: ” مَنْ عَمِلَ صَالِحاً مِّنْ ذَکَرٍ أَوْ أُنْثَی وَہُوَ مُؤْمِن فَلَنُحْیِیَنَّہُ حَیَاةً طَیِّبَةً وَّلَنَجْزِیَنَّہُمْ أَجْرَہُمْ ‏بِأَحْسَنِ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ” ” جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یاعورت بشرطیکہ وہ مومن ہو تو ہم اسے یقینا نہایت بہتر ‏زندگی عطا فرمائیں گے اور ان کے نیک اعمال کا بہترین بدلہ بھی انہیں ضرور دیں گے “( النحل : ٩٧ ) اور اللہ کی توحید کے بعد سب ‏سے اہم عمل صلاة(نماز) ہے ، صلاة آپ کی قلبی وجسمانی آرام وراحت کی راہ اور وسوسوں کے ختم کرنے کا ایک قوی ذریعہ ہے ، ‏صلاة’ اطمینان وسکون کا سامان اور مصائب وآلام کو دور کرنے والی ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم فرمایا کرتے تھے : ” أرحنا یا ‏بلال ” ” یعنی اے بلال صلاة کے ذریعہ ہمیں آرام پہنچاؤ “، صلاة آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے جب بھی آپ ‏صلی اللہ علیہ و سلم کو کوئی اہم مسئلہ پیش آتا صلاة کا سہارا لیتے ۔
• چھٹا وسیلہ : اللہ کا ذکر‎ :‎
ارشاد ربانی ہے ” فَاذْکُرُوْنِیْ أَذْکُرْکُمْ ” “تم میرا ذکرکرو میں تمہیں یاد کروں گا ” ( البقرة : ١٥٢) حدیثِ قدسی میں اللہ تعالٰی ‏فرماتا ہے: ” میں اپنے بندے کے گمان کے پاس ہوں، جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تومیں اس کے ساتھ ہوتا ہوں، اور نبی کریم صلی اللہ ‏علیہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں :” جو اپنے رب کا ذکر کرتا ہے اورجو اپنے رب کا ذکر نہیں کرتا دونوں کی مثال زندہ اورمردہ کی ہے “، جب ‏بندہ اللہ کا ذکر کرنا چھوڑدیتا ہے تو اس کا دل شیاطین اور ان کے وسوسوںکا اڈہ بن جاتا ہے، اس کے برعکس وہ انسان جو اللہ کا ذکر ‏کرتارہتا ہے اس کے پاس انشراحِ صدر اور نفس کی پاکیزگی ہوتی ہے اور اس پرسکون ورحمت سایہ فگن رہتی ہے ۔اللہ کے ذکر میں صبح ‏وشام کے اذکارکی پابندی ہے جو شیطان اور اس کے وسوسوں سے حفاظت کا مضبوط قلعہ اور محفوظ پناہ گاہ ہے، اس لئے ہر مسلمان کو ‏چاہئیے کہ سفر وحضر اور تندرستی وبیماری ہر حال میں ان شرعی اذکار واورادکی پابندی کرے کیونکہ یہ اللہ کے حکم سے شر کوروک دیتی ‏ہیں ۔
• ساتواں وسیلہ : اچھی صحبت اور تنہائی سے اجتناب‎ :‎
نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنے والا کبھی بدبخت نہیں ہوسکتا ،کیونکہ نیک لوگوں کی صحبت شیطانی خیالات ووساوس کو دور کرنے کا ‏ایک اہم ذریعہ ہے ، اس کے برعکس خلوت وتنہائی شیطانی خیالات ووسوسے ، قلق وبے چینی ، اطمینان وراحت کا فقدان اور بُرے ‏خیالات کو جنم دیتی ہے ، کیونکہ بھیڑیا دور اور الگ تھلگ رہنے والی بکری ہی کو لقمہ بناتا ہے ۔
• آٹھواں وسیلہ : دعاء‎ :‎
دعا وسوسہ ختم کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے کیونکہ وسوسہ میں گرفتار شخص انتہائی بڑی مصیبت وپریشانی اورتنگی میں ہوتا ہے جس کا علم ‏اللہ کے سوا کسی کے پاس نہیں ہوتا اس موقعہ پر اس کے سامنے سارے راستے مسدود ہوتے ہیں صرف ایک راستہ کھلا ہوتا ہے وہ اللہ ‏کا راستہ ہوتا ہے ، اللہ ہی مصائب وآلام اور ہموم وغموم کے ٹالنے پر قادرہے ارشاد ربانی ہے: ” أَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا ‏دَعَاہُ وَیَکْشِفُ السُّوْئَ ” “بے کس کی دعا کون قبول کرتا ہے اور مصیبت کو کون ٹالتا ہے ” ( النمل : ٦٢)‏
مصائب وآلام دور کرنے کے نبوی نُسخے :‏

‏١-لَا اِلَہَ اِلَّا اللَّہُ الْعَظِیْمُ الْحَلِیْمُ لَااِلَہَ اِلَّا اللَّہُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ لَااِلَہَ اِلَّا اللَّہُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَ رَبُّ ‏الْأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیْمِ ” اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وہ بہت ہی عظیم اور بردبار ہے ‘ اللہ کے سوا کوئی ‏معبود برحق نہیں جو عرش عظیم کا رب ہے ‘ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں جو آسمانوں ‘ زمین اور عرش کریم کا رب ہے ” ( ‏بخاری ومسلم )‏
‏٢-لَااِلَہَ اِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ “تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں تیری ذات پاک ہے بیشک میں ‏ظالموں میں سے ہوں “‏
‏٣-نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں جس شخص کو کوئی غم یا دکھ لاحق ہو اور یہ کہے:‏
‏” اَللَّہُمَّ اِنِّیْ عَبْدُکَ وَابْنُ عَبْدِکَ وَابْنُ أَمَتِکَ نَاصِیَتِیْ بِیَدِکَ مَاضٍ فِیَّ حُکْمُکَ عَدْل فِیَّ قَضَاؤُکَ ‏أَسْألُکَ بِکُلِّ اسْمٍ ہُوَ لَکَ سَمَّیْتَ بِہِ نَفْسَکَ أَوْ أَنْزَلْتَہُ فِیْ کِتَابِکَ أَوْ عَلَّمْتَہَ أَحَداً مِّنْ خَلْقِکَ أَوِ ‏اسْتَأْثَرْتَ بِہِ فِیْ عِلْمِ الْغَیْبِ عِنْدَکَ أَْنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِیْعَ قَلْبِیْ وَنُوْرَ صَدْرِیْ وَجَلَائَ حُزْنِیْ وَذِہَابَ ‏ہَمِّیْ ” “اے اللہ میں تیرا بندہ ہوں ، تیرے بندے اور بندی کا بیٹا ہوں میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے تیرا ہر حکم مجھ پر نافذ ‏ہونے والا ہے میرے بارے میں تیرا ہر فیصلہ انصاف پر مبنی ہے میں تجھ سے تیرے ہر اس نام کے وسیلہ سے سوال کرتا ہوں جسے ‏تونے خود اپنے لئے پسند کیا ہے یا اپنی کتاب میں نازل کیا ہے یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا ہے یا اپنے علمِ غیب کے خزانے میں ‏محفوظ کررکھا ہے کہ قرآن کو میرے دل کی بہار ، سینے کا نور اور میرے دکھوں اور غموں کو دور کرنے کا ذریعہ بنادے ” تو اللہ اس ‏کے حزن وغم کو مٹادیتا ہے اور اسے خوشی ومسرت میں تبدیل کردیتا ہے ۔
‏ ‏‏ ‏
وسائل دفع الوسوسة
ترجمہ :فضیلۃ الشیخ/ مختار احمد مدنی حفظہ اللہ
الداعیة بمکتب الدعوة وتوعیة الجالیات بالجبیل​

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں