36

بائیسویں پارے کا خلاصہ علامہ ابتسام الہٰی ظہیر (دین سے دنیا تک )

بائیسویں پارے کا خلاصہ
بائیسویں پارے کا آغازسورہ احزاب سے ہو تا ہے۔ سورہ احزاب کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے امہات المومنین سے مخاطب ہو کر فرمایا ہے کہ جو کوئی بھی امہات المومنین میں سے اللہ اور اس کے رسول کے لیے اپنے آپ کو وقف کرے گا اور نیک اعمال کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو دُ گنا اجر عطا فرمائے گا اور اس کیلئے پاک رزق کو تیار کردیا گیا ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے امہات المومنین کو اس امر کی بھی تلقین کی کہ جب وہ کسی سے بات کریں تو نرم آواز سے بات نہ کیا کریں تاکہ جس کے دل میں مرض ہے وہ ان کی آوازوں کو سن کر طمع نہ رکھے اور معروف طریقے سے بات کریں۔ اللہ تعالیٰ نے امہات المومنین کو اس امر کی بھی تلقین کی کہ وہ اپنی گھروں میں مقیم رہیں اور جاہلیت کی بے پردگی اور بنائو سنگھار کا اظہار نہ کریں اور نماز قائم کریں‘ زکوٰۃ ادا کریں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں۔ بے شک اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ نبی کے گھروالوں سے ناپاکی کو دور کر دیا جائے اور ان کو پاک صاف کر دیا جائے ۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے منہ بولے بیٹے کے مسئلے کو بھی واضح کیا کہ منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹا نہیں ہوتا۔ اس سورت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے مومنوں کو حکم دیا کہ وہ اللہ کا کثرت سے ذکر کیا کریں اور صبح شام اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہا کریں ۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ وہ اپنی بیویوں ‘ بیٹیوں اور مومن عورتوں کو کہہ دیں کہ وہ جلباب اوڑھا کریں۔ جلباب سے مراد ایک ایسا لباس ہے ‘جس نے عورت کو سر کے بالوں سے لے کر پائوں کے ناخن تک ڈھانکا ہو اور صرف ایک آنکھ نظر آرہی ہو اور اس لباس کا مقصد یہ تھا کہ وہ پہچان لی جائیں اور کوئی ان کو تنگ نہ کرے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کے حوالے سے بتلا یا کہ جب قیامت کا دن آئے گا تو جہنمیوں کو اوندھے منہ جہنم کی آگ میں ڈالا جائے گا۔ اس موقع پر جہنمی یہ کہیں گے کہ اے کاش !ہم نے اللہ اور اس کے رسول ؐ کی بات مانی ہوتی اور کہیں گے کہ ہم نے اپنے بڑوں اور سرداروں کی بات مانی‘ پس انہوں نے ہمیں گمراہ کر دیا اور کہیں گے اے ہمارے پروردگار ان کو دُ گناعذاب دے اور ان پر لعنت برسا۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات کی نصیحت کی ہے کہ اے ایمان والو !تم ان کی طرح نہ ہوجائو جنہوں نے موسیٰؑ کو تکلیف پہنچائی تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی کہی ہوئی بات سے ان کی برأت ظاہر کردی اور وہ اللہ کے نزدیک بڑی وجاہت والے تھے۔ اہل ایمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے نبی کی تکریم کریں اور آپ کی ذات کا ہر ممکن دفاع کریں ۔اس سورت میں سچی بات کہنے کے فوائد بھی بتلائے گئے کہ اگر بات سیدھی کی جائے تو معاملات سنور جاتے ہیں اور اللہ حق گو شخص کے گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں ۔
سورۃ الاحزاب کے بعد سورہ سبا ہے۔ سورہ سبا میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ سب تعریفیں اللہ کیلئے ہیں‘ جس کیلئے آسمان و زمین میں موجود سب کچھ ہے اور اس کی حمد آخرت میں ہے او ر وہ باخبر حکمت والا ہے۔ وہ جانتا ہے جو زمین میں جاتا ہے اور جو اس سے نکلتا ہے اور جو آسمان سے اترتا اور اس کی طرف چڑھتا ہے اور وہ رحمت کرنے والا اور بخشنے والا ہے ۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے جناب دائود اور سلیمان پر اپنے انعامات کا ذکر کیا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے جناب دائود کیلئے پہاڑ اور پرندوں کو مسخر فرما دیا اور لوہے کو ان کے ہاتھوں میں نرم کر دیا تھا اور جناب سلیمان کیلئے مہینے کے سفر پر آنے جانے والی ہوائوں کو مسخر فرمادیا تھا اور جنات کو ان کے احکامات کے تابع کر دیا تھا ۔اس سورت میںاللہ تعالیٰ نے سبا کی بستی کا ذکر کیا ہے کہ یقینا سبا والوں کیلئے ان کے مقام ِ رہائش میں نشانی تھی کہ ان کے دائیں اور بائیں دو باغ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم اپنے رب کی دی ہوئی روزی کھائو اور اس کا شکر ادا کرو کہ پاکیزہ شہر ہے اور گناہوں کو معاف کرنے والا رب ہے‘ لیکن انہوں نے روگردانی کی تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ہم نے ان پر ایک سخت امڈتا ہوا سیلاب بھیج دیا اور ان کے دونوں باغوں کو بد مزہ پھل‘ جھائو اور کچھ بیری والے باغوں میں بدل دیا ہم نے ان کو یہ بدلہ ان کے کفر کی وجہ سے دیا تھا اور ہم صرف ناشکروں کو ایسا بدلہ دیتے ہیں ۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کابھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ؐکو جمیع انسانیت کیلئے بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا‘ مگر لوگوں کی اکثریت اس بات کو نہیں جانتی۔
سورہ سبا کے بعد سورہ فاطر ہے ۔سورہ فاطر میں اللہ تعالیٰ بیان کرتے ہیں کہ تمام تعریفیں زمین اور آسمان بنانے والے اللہ کیلئے ہیں۔ اس نے فرشتوں میں سے بھی رسول چنے ہیں‘ بعض فرشتے دو پروں والے بعض تین اور بعض چار پروں والے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنی خلقت میں جس طرح چاہتا ہے اضافہ کرتا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے ۔جناب جبرائیل امین ؑ کو‘ جو فرشتوں کے سردار ہیں‘ اللہ تعالیٰ نے چھ سو پر عطا فرمائے ہیں۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے ان گمراہ لوگوں کا ذکر کیا کہ جن کو ان کے غلط اعمال بھی اچھے معلوم ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نبی رحمت ؐکو دلاسہ دیتے ہیں کہ آپ ان اعمال پر حسرت نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ کو پتا ہے‘ جو یہ کرتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں‘ دنیا میں جتنی عورتیں حاملہ ہوتیں اور جتنی بچوں کو جنتی ہیں اور جو کوئی بھی بوڑھا ہوتا ہے اور جس کی عمر کم ہوتی ہے‘ اللہ کو ہر بات کا علم ہوتا ہے ۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ یہ بھی ارشاد فرماتے ہیں کہ اندھا اور بینا برابر نہیں ہو سکتے اور نہ ہی دھوپ اور چھائوں برابر ہو سکتے ہیں اور نہ ہی زندہ اور مردہ برابر ہو سکتے ہیں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے رہے ہیں کہ جو شخص ہدایت کے راستے پر ہو وہ گمراہ انسانوں کے برابر نہیں ہوتا ۔
سورہ فاطر کے بعد سورہ یٰس ہے ۔سورہ یٰس میں اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کی قسم کھا کر کہا بے شک محمد ؐ رسولوں میں سے ہیں اور ان کا راستہ ہی سیدھا راستہ ہے۔ اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ جو لوگ کافر ہیں ان کو ڈرایا جائے یا نہ ڈرایا جائے‘ ان کے لیے برابر ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ رسول کریم ؐ اس کو ڈراتے ہیں‘ جو کہ قرآن مجید کی پیروی کرتا اور اللہ تعالیٰ کے ڈر کو اختیار کرنے والا ہے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے ایک بستی کا ذکر کیا‘ جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے دو رسولوں کو بھیجا لیکن بستی والوں نے ان کو جھٹلا دیا۔ تب اللہ تعالیٰ نے تیسرے رسول سے اُن کی تائید کی۔ان رسولوں نے کہا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے ہیں‘ جس پر بستی والوں نے کہا کہ رحمن نے کچھ بھی نازل نہیں کیا اور (معاذاللہ) تم جھوٹ بول رہے ہو۔ دریں اثنا بستی کے پرلے مقام سے ایک شخص دوڑتا آیا اور قوم کو مخاطب کر کے کہا: اے میری قوم کے لوگو! ان (یہ تینوں اللہ کے رسول ہیں) کی پیروی کرو وہ تم سے کچھ بھی طلب نہیں کر رہے اور وہ ہدایت پر ہیں‘ پھر کیا ہوا‘ یہ سب کچھ تئیسویں پارے میں بیان ہوگا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن مجید پڑھنے‘ سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ (آمین)
بشکریہ روزنامہ دنیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں