68

روزے کی عبادت اور احسان کا مرتبہ-خطبہ جمعہ بیت اللہ

خطبہ جمعۃ المبارک 19 رمضان المبارک 1440ھ بمطابق 24 مئی 2019ء
مسجد حرام کے امام وخطیب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر اسامہ بن عبد اللہ خیاط
عنوان: روزے کی عبادت اور احسان کا مرتبہ
ترجمہ: محمد عاطف الیاس
خطبے کے اہم نکات
1/ نبی اکرم ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں خوب عبادت کرتے۔ 2/ سنتِ اعتکاف کی فضیلت اور بعض احکام۔ 3/ ہر عبادت میں سنت رسول ﷺ پر قائم رہنے کی فضیلت۔
اقتباس
جو اس فضیلت والی رات سے محروم ہو گیا وہی حقیقی محروم ہے۔ ایسے شخص کو چاہیے کہ وہ حسرت اور ندامت کے آنسو روئے، کاش کہ حسرت اور ندامت کا کچھ فائدہ ہو سکتا یا وقت گزرنے اور مقابلہ ختم ہونے کے بعد رونا کچھ کام آ سکتا۔
پہلا خطبہ
ہر طرح کی تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے۔ اسی نے روزے فرض کر کے اس امت کی تکریم فرمائی ہے۔ میں اللہ پاک کی عظیم نعمتوں اور بہترین نوازشوں پر اس کی حمد وثنا بیان کرتا ہوں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی نے رمضان کے آخری عشرے کو فضیلت والا بنایا اور انہیں نعمتوں اور تکریم کا وقت بنایا۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ ہی ان بابرکت اور عظیم گھڑیوں میں سب سے بڑھ کر خیر کے کاموں میں محنت کرنے والے تھے۔ اے اللہ! رحمتیں اور سلامتیاں نازل فرما، اپنے بندے اور رسول، محمد ﷺ پر ، آپ ﷺ کی آل پر اور صحابہ کرام پر، ایسی رحمتیں اور ایسی سلامتیاں، جو رہتی دنیا تک ہمیشہ نازل ہوتی رہیں۔
بعدازاں! اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو! اس دن کی رسوائی و مصیبت سے بچو، جب تم اللہ کی طرف واپس ہو گے، اس دن کے لیے خوب تیاری کرو، اس کےلیے سامان تیار کرو، اس دنیاوی زندگی کی زيب وزینت کے دھوکے میں نہ آ جاؤ۔ (اور دھوکہ باز تم کو اللہ کے معاملے میں دھوکا نہ دینے پائے) [لقمان: 33]۔
اے مسلمانو! روح کی بلندی، دل کا سکون اور نفس کی پاکیزگی وہ بہترین نتائج اور شاندار اثرات ہیں جو دانشمندوں کو اللہ کی طرف رخ کرنے پر نصیب ہوتے ہیں، ان دانشمندوں کو جو اس کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں‎، اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے مواقع سے خوب فائدہ اٹھاتے ہیں۔ احسان کے درجے تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ درجہ کہ جس کی تشریح رسول ہدایت ﷺ نے اپنی حدیث میں کی ہے۔ فرمایا: ’’احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت یوں کرے، گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے، اگر تو اسے نہیں دیکھ سکتا تو وہ تو تجھے دیکھ رہا ہے‘‘(اسے امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے)۔
رسول اللہ ﷺ نے خود بھی اور صحابہ کرام نے بھی اسی تصور کے تحت اللہ کی فرمان برداری کی۔ وہ ہر معاملے احسان کا رویہ اپناتے۔ وہ جو بھی کرتے، اسی تصور کے تحت کرتے اور جو نہ کرتے، اسی تصور کے تحت چھوڑتے کہ اللہ انہیں دیکھ رہا ہے۔ وہ ہمہ وقت اسی کی طرف متوجہ رہتے اور اسی پر بھروسہ رکھتے۔ اس انداز کو اپنانےوالے تب با آسانی پہچانے جاتے ہیں جب نیکیوں کی بھار آجاتی ہے۔ جب اللہ کے بابرکت دن آ جاتے ہیں، جب فضیلت والا زمانہ آ جاتا ہے۔ ایسا ہی ایک فضیلت والا مہینہ آ چکا ہے، جس کا آخری عشرہ افضل ترین دنوں میں شامل ہے۔ یہ اللہ کے بابرکت دن ہیں، جو اس نے اپنے بندوں کو عطا فرما کر ان پر احسان کیا ہے، تاکہ وہ نیکی میں ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کریں، تاکہ وہ دیر پا اثر رکھنے والے نیک کاموں میں آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔ اللہ کی فرمان برادری میں ہونے والی کوتاہیوں کا تدارک کریں، اس طرح ان کی آخرت سنور جائے اور بہترین مقام حاصل کر لیں۔ نبی اکرم ﷺ کی زندگی میں اس بابرکت عشرے کا بہت بڑا مقام ہوتا تھا۔ اسے بڑی خاص اہمیت دی جاتی تھی۔ آپ ﷺ ان ایام میں دوسرے ایام سے بڑھ کر عبادت میں محنت کرتے تھے۔ جیسا کہ (صحیح مسلم) میں ہے کہ اور (جامع ترمذی) میں ہے کہ سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں: ’’رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں دوسرے دنوں کی نسبت زیادہ عبادت کرتے تھے‘‘یعنی: اس میں وہ تقرب الیٰ اللہ کی کئی شکلیں اپناتے۔ مختلف قسم کی نیکیاں کرتے۔ آخری عشرے میں رمضان کے بقیہ دنوں کی نسبت زیادہ نیکیاں کرتے۔ ان دنوں میں رسول اللہ ﷺ کے حوالے تین طرح کی محنت احادیث میں آتی ہے:
ایک یہ ہے کہ آپ ﷺ کمر کس لیتے۔ یعنی بیویوں سے الگ ہو جاتے۔ اہل علم کے اقوال سے یہی قول صحیح ہے جیسا کہ اس حدیث میں آیا ہے جسے (اسے امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے) جس میں سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں: جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہو جاتا تو آپ ﷺ کمر کس لیتے، ساری رات عبادت کرتے، اور اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے‘‘۔
دوسری محنت یہ کہ رات کے وقت مختلف قسم کی عبادتیں کرتے، تہجد پڑھتے، تلاوت کرتے، ذکر کرتے، دعا کرتے اور گریہ زاری کرتے، اللہ کی مناجات کرتے اور اس کی فرمان برداری کرتے۔ اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے اس کے سامنے عاجزی کا اظہار کرتے۔ اس طرح وہ امت کو نیکی کا طریقہ بتاتے۔
تیری محنت یہ کہ آپ ﷺ نماز کے لیے اپنے گھر والوں کو بھی جگا دیتے۔ جیسا کہ زینب بنت ام سلمہ بیان کرتی ہیں: ’’جب آخری عشرہ شروع ہو جاتا تو آپ ﷺ اپنے گھر والوں میں سے ہر اس شخص کو جگا دیتے جو تہجد پڑھنے کے قابل ہو‘‘ اللہ کے بندو! اگرچہ رمضان کے علاوہ کچھ اور دنوں میں بھی یہ ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے گھر والوں کو تہجد کے لیے جگایا تھا، جیسا کہ ام سلمہ کی روایت میں ہے جسے (امام مسلم نے روایت کیا ہے)۔ مگر آخری عشرے میں گھر والوں کو جگانے کی خاص تاکید ملتی ہے۔ ان راتوں میں کسی ایک رات میں بھی گھر والوں کو سوتا نہیں چھو‎ڑنا چاہیے، جبکہ بقیہ دنوں میں اتنی تاکید نہیں ہے۔ کبھی آپ ﷺ اپنے گھر والوں کو جگاتے اور کبھی سوتا چھوڑ دیتے۔
اللہ کے بندو! یہ تربیت کا ایک نبوی طریقہ ہے۔ عظیم اور حکمت بھرا انداز ہے۔ اس انداز کے اثرات انتہائی شاندار ہیں۔ اس کی عاقبت بھی بڑی بہترین ہے۔ سلف صالحین اس چیز کا خاص اہتمام کرتے تھے کہ ان کے ما تحت تمام گھر والے اور بچے ان بابرکت راتوں کا بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ اس عشرے میں ایک ایسی عبادت بھی ہے جس کا رسول اللہ ﷺ خوب اہتمام کیا کرتے تھے۔ یہ عبادت اعتکاف کی عبادت ہے جیسا کہ اس حدیث میں آیا ہے (جسے امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے) جس میں ہے کہ سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ساری عمر رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے رہے۔ پھر آپ ﷺ کی بیویوں نے بھی یہ سلسلہ جاری رکھا۔ اگر رمضان المبارک میں اعتکاف چھوٹ جاتا تو آپ ﷺ اسے قضا کرتے۔ جیسا کہ (صحیح بخاری اور صحیح مسلم) میں ہے کہ سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک سال رمضان المبارک میں اعتکاف چھوڑ دیا تھا تو پھر آپ ﷺ نے اسے شوال میں قضا کیا۔
آپ ﷺ کے اہتمام کو دیکھتے ہوئے جی چاہتا ہے کہ اس عبادت کے مقاصد معلوم کیے جائیں۔ چنانچہ امام ابن القیم ﷫ نے اس کے مقاصد بیان فرمائے ہیں: ’’چونکہ دل کی نیکی اور راہ الٰہی پر استقامت توفیق الٰہی کے ہی مرہون منت ہے، اس کی بھلائی اللہ کی طرف متوجہ ہونے میں ہی ہے، یاد رکھیے کہ دل الجھاؤ سے تب ہی بچ سکتا ہے جب وہ اللہ کی طرف متوجہ ہو جائے۔ فضول کھانے بینے سے، لوگوں سے فضول اٹھنے بیٹھنے سے، فضول گفتگو سے اور فضول سونے سے دل الجھ جاتا ہے، اور بری طرح بکھر جاتا ہے۔ اللہ کے راستے پر چلنے سے غافل ہو جاتا ہے اور اسے کمزور کر دیتا ہے۔ اس کی رفتار کم کر دیتا ہے یا اسے روک ہی دیتا ہے۔ اللہ کی عزت اور رحمت کا مظہر ہے کہ اس نے لوگوں کو روزے کی عبادت سکھائی ہے تاکہ وہ فضول کھانے پینے سے بچ جائیں۔ اسی طرح انہیں اعتکاف کی عبادت سکھائی ہے جس کا مقصد اور روح یہ ہے کہ دل اللہ تعالیٰ کے ساتھ لگا رہے، اللہ کی طرف مکمل طور پر متوجہ ہو جائے، اللہ کے ساتھ تنہا ہو جائے۔ مخلوق کے بارے میں سوچنے اور ان کے ساتھ مصروف رہنے سے دور ہو جائے، صرف اللہ کے ساتھ مصروف ہو جائے۔ یعنی اللہ کا ذکر، اس سے محبت، اس کی طر ف توجہ دل کی تمام پریشانیوں کی جگہ لے لے، ساری افکار کی جگہ لے لے۔ تاکہ اللہ کی ساتھ تعلق سارے افکار اور سبہی پریشانیوں پر غالب آ جائے۔ اس کا ذکر تمام افکار پر چھا جائے۔ بس اسی کے متعلق سوچنے اور غور فکر کرنے کا موقع مل جائے۔ اس کا قرب حاصل کرنے کا وقت مل جائے۔ تاکہ انسان لوگوں سے نہیں، بلکہ اللہ سے مانوس ہو جائے، اور اس طرح وہ قبر کی وحشت محفوظ ہو جائے، جب اللہ کے سوا مانوس کرنے والا کوئی نہ ہو گا۔ اعتکاف کا یہی عظیم مقصد ہے‘‘ یہاں ابن القیم ﷫ کی بات مکمل ہوئی۔
اللہ کے بندو! افسوس کی بات یہ ہے کہ آج بہت سے معتکفین ان مقاصد کو حاصل کرنے سے کوسوں دور رہتے ہیں، وہ اپنے اعتکاف میں خالق سے نہیں، بلکہ مخلوق سے ہی مانوس رہتے ہیں، فضول گفتگو اور فضول ملاقاتوں میں مصروف رہتے ہیں۔ طویل اوقات کے لیے سوئے رہتے ہیں۔ تو اے اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو! ان بابرکت راتوں کی قدر کرو۔ ان کا حق ادا کرو۔ ان کی یہ فضیلت کیا کم ہے کہ ان ایک رات ایسی ہے جو ایک ہزار ماہ کی عبادت سے افضل ہے۔ یہ رات عظیم مرتبے والی رات ہے۔ لیلۃ القدر وہ رات ہے جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بتایا ہے کہ اس میں عبادت کرنے والے کو بہت بڑا اجر ملتا ہے۔ فرمانِ نبوی ہے: ’’جو ایمان اور حصول ثواب کی نیت سے لیلۃ القدر کی عبادت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے گناہ معاف فرما دیتا ہے‘‘ (اسے امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے)۔
جو اس فضیلت والی رات سے محروم ہو گیا وہی حقیقی محروم ہے۔ ایسے شخص کو چاہیے کہ وہ حسرت اور ندامت کے آنسو روئے، کاش کہ حسرت اور ندامت کا کچھ فائدہ ہو سکتا یا وقت گزرنے اور مقابلہ ختم ہونے کے بعد رونا کچھ کام آ سکتا۔
اللہ مجھے اور آپ کو قرآن کریم کی ہدایات سے فیض یاب فرمائے۔ سنت نبی ﷺ سے فائدہ حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ میں اپنی بات کو یہیں ختم کرتا ہوں۔ اللہ عظیم وجلیل سے اپنے لیے، آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے ہر گناہ اور غلطی کی معافی مانگتا ہوں۔ یقینًا! وہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

دوسرا خطبہ
ہر طرح کی تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے۔ ہم اللہ کی حمد وثنا بیان کرتے ہیں، اسی پر بھروسہ اور اعتماد کرتے ہیں اور اسی سے معافی مانگتے ہیں۔ اپنے نفس کے شر سے اور اپنے برے اعمال سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں۔ جسے اللہ تعالیٰ ہدایت عطا فرما دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اے اللہ! رحمتیں اور سلامتیاں نازل فرما، اپنے بندے اور رسول، محمد ﷺ پر ، آپ ﷺ کی آل پر اور صحابہ کرام پر،
بعدازاں! اللہ کے بندو! سب سے بڑے سعادت مند اور سب سے زیادہ ہدایت یافتہ وہی دانشمند ہیں جو اپنے روزوں، تہجد کی نمازوں اور اعتکاف میں صحیح سنت اور نبی اکرم ﷺ کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بھی یہی حکم دیا ہے۔ فرمایا: (جو کچھ رسول ﷺ تمھیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے وہ تم کو روک دے اس سے رک جاؤ) [الحشر: 7]، اسی طرح فرمایا: (در حقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسولؐ میں ایک بہترین نمونہ تھا، ہر اُس شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخر کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے) [الاحزاب: 21]، رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ حافظ ابن رجب علیہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں: ’’آپ اپنی مصروفیات ختم کرنے کے لیے اعتکاف کرتے تھے تاکہ آپ کا ذہن دنیا کی الجھنوں سے پاک ہو جائے، اور اپنے پروردگار کے ذکر، دعا اور مناجات کے لیے فارغ ہو جائیں۔ آپ ﷺ چٹائی کا خیمہ بنا لیتے تھے جس میں وہ لوگوں سے الگ ہو جاتے تھے۔ وہ ان کے ساتھ ملنا جلنا بند کر دیتے اور ان کے ساتھ ہونے والی مصروفیات ختم کر دیتے۔ اسی لیے امام احمد ﷫ کی رائے یہ ہے کہ معتکف کے لیے لوگوں کے ساتھ ملنا مستحب عمل نہیں ہے۔ چاہے یہ میل جول علم سکھانے یا قرآن کریم کی تعلیم کے لیے ہی کیوں نہ ہو۔ بلکہ افضل طریقہ یہ ہے کہ انسان بالکل الگ ہو جائے۔ اپنے پروردگار کی مناجات کرے۔ اس کا ذکر کرے اور اس سے دائیں مانگے۔ اس امت کے لیے جو تنہائی کا جو طریقہ رکھا گیا ہے وہ مسجدوں میں اعتکاف کا ہے۔ بالخصوص رمضان المبارک کی راتوں میں۔ اور رمضان میں بھی اس کے آخری عشرے میں۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کیا کرتے تھے۔ اعتکاف کرنے والا خود کو اللہ کی فرمان برداری اور اس کے ذکر کے لیے تنہا کر لیتا ہے۔ خود کو ان تمام مصروفیات سے آزاد کرا دیتا ہے جو اس میں خلل واقع کرتی ہیں۔ وہ اپنے دل ودماغ سے اللہ کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ اس کا قرب حاصل کرنے میں لگ جاتا ہے۔ اللہ کے سوا اسے کسی کی فکر نہیں ہوتی۔ اس کی خوشنودی کے سوا اسے کسی کی پروا نہیں ہوتی۔ اعتکاف کا معنیٰ یہی ہے کہ مخلوقات سے تعلق توڑ کر خالق کے ساتھ تعلق جو‎ڑ لیا جائے۔ انسان اللہ تعالیٰ کو جتنا پہچان لیتا ہے، جتنا اس سے محبت کرتا ہے، جتنا اس سے مانوس ہوتا اتنا ہی وہ لوگوں سے بے زار اور اللہ تعالیٰ سے تعلق میں رہتا ہے‘‘۔ یہاں ابن رجب ﷫ کی بات مکمل ہوئی۔
اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو! ان بابرکت راتوں میں نیکی کے کاموں ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کرو۔ ایسا کرو گے تو اللہ کی خوشنودی اور اس کی مغفرت پانے میں کامیاب ہو جاؤ گے۔ ہمیشہ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خاتم النبیین اور امام المرسلین اور رحمت للعالمین ﷺ پر درود وسلام بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی واضح کتاب میں ارشاد فرمایا ہے: ﴿اللہ اور اس کے ملائکہ نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو﴾ [الاحزاب: 56]۔
اے اللہ! رحمتیں نازل فرما! محمد ﷺ پراور آپ ﷺ کی آل پر، جس طرح تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر رحمتیں نازل فرمائی تھیں۔ یقینًا! تو بڑا قابل تعریف اور پاکیزگی والا ہے۔ اے اللہ! برکتیں نازل فرما! محمد ﷺ پر اور آپ ﷺ کی آل پر، جس طرح تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر برکتیں نازل فرمائی تھی۔ یقینًا! تو بڑا قابل تعریف اور پاکیزگی والا ہے۔ اے اللہ! چاروں خلفائے راشدین سے راضی ہو جا! ابو بکر، عمر، عثمان اور علی سے، اور تمام صحابہ کرام سے اور تابعین عظام سے بھی راضی ہو جا۔ آپ ﷺ کی بیویوں، امہات المؤمنین سے ، تابعین سے اور قیامت تک ان نقش قدم پر استقامت کے ساتھ چلنے والوں سے بھی راضی ہو جا۔ اے سب سے زیادہ معاف کرنے اور درگزر فرمانے والے۔ اپنا خاص فضل وکرم اور احسان فرما کر ہم سب سے بھی راضی ہو جا!
اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! دین کے مرکز کی حفاظت فرما! دشمنان دین کو بتاہ وبرباد فرما! تمام سرکشوں اور فسادیوں کو تباہ وبرباد فرما۔ مسلمانوں کے دلوں کو جوڑ دے! ان کی صفیں مضبوط کر دے، ان کے حکمرانون کی اصلاح فرما۔ اے پروردگار عالم! انہیں حق وسلامتی پر اکٹھا فرما!
اے اللہ! اپنے دین، اپنی کتاب کی نصرت فرما! رسول اللہ ﷺ کی سنت اور اپنے نیک، مؤمن، مجاہد اور سچے بندوں کی مدد فرما۔
اے اللہ! ہمیں ہمارے ملکوں میں امن نصیب فرما! ہمارے حکمرانوں اور اماموں کی اصلاح فرما! حق کے ساتھ ہمارے حکمران خادم حرمین کی تائید فرما۔ اسے نیک کابینہ نصیب فرما اور اسے ان کاموں کی توفیق عطا فرمان جن سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے۔ اے دعا سننے والے!
اے اللہ! اسے اور اس کے ولی عہد کو ان کاموں کی توفیق عطا فرما جن میں اسلام اور مسلمانوں کی بہتری ہے اور ملک اور قوم کی فلاح وبہبود ہے۔ اے قیامت کے دن ہمارے فیصلے فرمانے والے!
اے اللہ! ہمارے نفس کو پرہیز گار بنا۔ اسے پاکیزہ فرما! تو ہی اسے بہترین طریقے سے پاک کرنے والا ہے۔ تو ہی اس کا ولی اور مولیٰ ہے۔ اے اللہ! ہمارے دین کی اصلاح فرما جس پر ہمارے معاملات کا دار ومدار ہے۔ ہماری دنیا کی اصلاح فرما جس میں ہمارا روزگار ہے۔ ہماری آخرت کی اصلاح فرما جس کی طرف ہم نے لوٹنا ہے۔ زندگی کو نیکیوں میں اضافے کا ذریعہ بنا اور موت کو ہر برائی سے نجات کا سبب بنا۔
اے اللہ! ہر معاملے میں ہمارا انجام بھلا بنا۔ دنیا کی رسوائی اور عذاب آخرت سے ہمیں محفوظ فرما! اے اللہ! ہم تجھ سے نعمتوں کے زوال سے، عافیت کے خاتمے سے، اچانک آنے والی پکڑ سے اور تجھے ناراض کرنے والی ہر چیز سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔
اے اللہ! اے پروردگار عالم! جس طرح تو چاہے، ہمیں ہمارے دشمنوں سے بچا لے! اے اللہ! اے پروردگار عالم! جس طرح تو چاہے، ہمیں ہمارے دشمنوں سے بچا لے! اے اللہ! اے پروردگار عالم! جس طرح تو چاہے، ہمیں ہمارے دشمنوں سے بچا لے! اے اللہ!ہم تجھے تیرے اور اپنے دشمنوں کے سامنے کرتے ہیں۔ ان کے شر سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔ اے اللہ! ہم تجھے ان کے سامنے کرتے ہیں اور ان کے شر سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔ اے اللہ! ہم تجھے ان کے سامنے کرتے ہیں ان کے شر سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔
اے اللہ! سرحدوں کی حفاظت کرنے والے اور بالخصوص جنوبی سرحد کی حفاظت کرنے والوں کو نصرت، سربلندی، عزت اور کامیابی سے سرفراز فرما۔ اے اللہ! ان کی شاندار نصر عطا فرما! اے اللہ! ان کی شاندار نصر عطا فرما! اے اللہ! ان کی شاندار نصر عطا فرما! اے اللہ! ان کے ذریعے اپنے دین کی نصرت فرما! ان کے ذریعے اپنا کلمہ بلند فرما! اے اللہ! ان کے ذریعے اپنے دین کی نصرت فرما! ان کے ذریعے اپنا کلمہ بلند فرما! اے اللہ! ان کے ذریعے اپنے دین کی نصرت فرما! ان کے ذریعے اپنا کلمہ بلند فرما! اے اللہ! ان کے فوت شدگان کی شہادت قبول فرما! اے اللہ! ان کے فوت شدگان کی شہادت قبول فرما! اے اللہ! ان کے زخمیوں کو شفا عطا فرما! اے اللہ! ان کے زخمیوں کو شفا عطا فرما! اے اللہ! اے پروردگار عالم! ان کے زخمیوں کو شفا عطا فرما! اے اللہ! انہیں ظالم، غاصب، حملہ آور اور انقلابی دشمنوں پر غلبہ نصیب فرما۔ اے اللہ! انہیں نصرت عطا فرما اور ان کے دشمنون کی چالیں انہیں پر لوٹا دے۔ اے اللہ! ہم تجھے ان کے سامنے کرتے ہیں۔ اے اللہ! حرمین پر حملہ کرنے والوں کی چالیں انہی پر لوٹا دے۔ اے اللہ! انہیں سخت سزا سے دو چار فرما۔ اے اللہ! انہیں سخت سزا سے دو چار فرما۔ اے اللہ! ان پر اپنا عذاب نازل فرما جو ظالموں سے دور نہیں رہتا۔ اے اللہ! ان پر اپنا عذاب نازل فرما جو مجرموں سے دور نہیں رہتا۔ اے اللہ! اے پروردگار عالم! بلاد حرمین پر حلمہ کرنے والوں پر اپنا عذاب نازل فرما جو ظالموں سے دور نہیں رہتا۔
اے اللہ! ہم تجھ سے نیکیاں کرنے کا اور برائیاں چھوڑنے کا سوال کرتے ہیں۔ مسکینوں سے محبت کا سوال کرتے ہیں۔ تیری مغفرت اور رحمت کے خواہشمند ہیں۔ جب تو کسی قوم کو فتنے میں مبتلا کرنے چاہے تو ہمیں فتنے سے بچا کر اپنا پاس بلا لینا۔
﴿اے رب، ہم نے اپنے اوپر ستم کیا، اب اگر تو نے ہم سے در گزر نہ فرمایا اور رحم نہ کیا، تو یقیناً! ہم تباہ ہو جائیں گے﴾ [الاعراف: 23]،
اے اللہ! ہمارے بیماروں کو شفا عطا فرما! ہمارے فوت شدگان پر رحم فرما! ہماری نیک خواہشات پوری فرما! ہمارے اعمال کا خاتمہ نیک اور ہمیشہ باقی رہنے والے کاموں پر فرما! اے اللہ! ہمارے روزے اور تہجد کی نمازیوں قبول ومنظور فرما! اے سب سے بڑھ کر دینے والے! اے کریم! ہمارے نیک اعمال قبول فرما!
(اے ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی! اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا!) [البقرۃ: 201]۔
اللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہو رسول اللہ ﷺ پر آپ ﷺ کے اہل بیت پر اور تمام صحابہ کرام پر۔ ہر طرح کی تعریف اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں