74

کیا اعتکاف کے دوران دوسروں سے بات کی جاسکتی ہے؟

سوال
سوال: کیا یہ بات درست ہے کہ اعتکاف کے دوران دوسروں سے گفتگو نہیں کرنی چاہیے؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

اعتکاف کا مطلب ہے کہ: اطاعتِ الہی کیلئے مسجد میں رہنا۔

اور اعتکاف کا مقصد یہ ہے ہوتا ہے کہ انسان اللہ کی اطاعت کیلئے مکمل یکسو ہو جائے، اور ہر ایسی چیز سے دور رہے جو عبادت کی راہ میں رکاوٹ بنے، یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں خیمہ لگا کر اس میں بیٹھتے تھے، صرف اس لیے کہ یہ جگہ معتکف کیلئے مختص ہو اور مسجد میں دیگر افراد کیساتھ مشغول نہ رہے، اور ایک دوسرے کو نظر بھی نہ آئیں۔

معتکف کو ایسا ہی کرنا چاہیے تاہم اگر تھوڑی بہت گفتگو کر لے یا کسی ملنے والے کیساتھ چند لمحات کیلئے حال احوال پوچھ لے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

تاہم یہ باتیں بالکل آہستہ ہونی چاہییں، تا کہ ذکر الہی ، تلاوت قرآن، اور نوافل میں مشغول لوگوں کو تنگی نہ ہو۔

اسی طرح باتیں بہت ہی کم مقدار میں کی جائیں تا کہ اعتکاف کا ہدف متاثر نہ ہو۔

بخاری: (2035) اور مسلم: (2175) میں علی بن حسین کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت صفیہ نے انہیں بتلایا کہ : “وہ ایک بار رمضان کے آخری عشرے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اعتکاف میں ملنے کیلئے آئیں، آپ کے ساتھ کچھ دیر گفتگو کی اور پھر جانے لگیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ [الوداع کرنے کیلئے] کھڑے ہوگئے”

اس حدیث کی شرح میں ابن دقیق العید رحمہ اللہ ” الإحكام” (2/ 45) میں کہتے ہیں :
“اس حدیث سے پتا چلتا ہے کہ ایک خاتون کو اعتکاف میں بیٹھے ہوئے شخص سے ملاقات کی اجازت ہے، اسی طرح اس سے گفتگو کرنا بھی جائز ہے”انتہی

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
“اعتکاف کرنے والے شخص کے کام تین قسموں میں منقسم ہیں: جائز کام، مستحب کام اور ممنوع کام

1- مستحب کام یہ ہے کہ حصولِ قربِ الہی کیلئے اطاعت الہی اور عبادت میں مشغول رہے؛ کیونکہ اعتکاف کا مقصد اور مغز یہی ہے، اسی لیے اعتکاف صرف مسجد میں ہی ہو سکتا ہے۔

2- ممنوع کام یہ ہیں کہ: ایسے امور جو اعتکاف سے منافی ہیں مثلاً : انسان بغیر کسی عذر کے مسجد سے باہر چلا جائے، خریدو فروخت کرے، یا اپنی بیوی سے ہم بستری کرے، یا اسی طرح کے دیگر کام جن سے اعتکاف باطل ہو جاتا ہے، کیونکہ یہ امور اعتکاف کے ہدف سے متصادم ہیں۔

3- جائز کام یہ ہیں کہ: لوگوں سے بات چیت، اور حال احوال لینا یا اسی طرح کے دیگر معاملات جو اللہ تعالی نے ان کیلئے جائز قرار دیے ہیں” انتہی
“مجموع فتاوى و رسائل عثیمین” (20/ 175-176)

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ مزید یہ بھی کہتے ہیں کہ:
“معتکف اپنے دیگر اعتکاف کے ساتھیوں سے بھی تھوڑی بہت گفتگو کر سکتا ہے، اسی طرح ملاقات کیلئے آنے والوں کیساتھ بھی مختصر گفتگو کر سکتا ہے” انتہی
ماخوذ از: “جلسات رمضانية” (18/ 15) مکتبہ شاملہ کی ترتیب کے مطابق

اور ایک جگہ کہتے ہیں:
“اعتکاف کا کیا ہدف ہے؟ کیا اس سے مراد یہ ہے کہ کچھ لوگ مل کر مسجد کے ایک کونے میں جمع ہو جائیں اور ادھر اُدھر کی ہانکنے لگیں ؟ یا اعتکاف سے مراد اللہ کی عبادت ہے؟ یقیناً اعتکاف کا ہدف یہی دوسری بات ہے، لہذا دوست احباب کیساتھ گپ شپ میں اپنے قیمتی اوقات کو ضائع مت کریں، البتہ کبھی کبھار تھوڑی بہت گفتگو کی جا سکتی ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زوجہ محترمہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا سے رات کے وقت کچھ گفتگو فرمائی تھی، اور پھر جب وہ جانے لگیں تو انہیں گھر کیلئے الوداع کرتے ہوئے کھڑے بھی ہوئے” انتہی
“اللقاء الشهري” (70/ 8) مکتبہ شاملہ کی ترتیب کے مطابق

شیخ ابن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں:
“دوست احباب کا مل کر دنیاوی امور پر مشتمل مساجد میں گفتگو اگر معمولی ہو تو ان شاء اللہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن اگر زیادہ ہو تو مکروہ ہے، کیونکہ مساجد کو دنیاوی گفتگو کی جگہ بنانا مکروہ ہے، اس لیے کہ مساجد صرف ذکر الہی، تلاوتِ قرآن، پانچوں نمازوں اور دیگر نیکیوں کیلئے بنائی جاتیں ہیں، مثلاً: درس و تدریس، اعتکاف، اور نوافل وغیرہ پڑھنا۔

اس لیے مسجد کو دنیاوی گپ شپ کیلئے استعمال کر نا مکروہ ہے، تاہم بھائی سے ملتے ہوئے اس کی کاروباری حالت، بچوں اور گھر والوں کے متعلق دیگر امور کی خیریت دریافت کر سکتا ہے، لیکن یہ باتیں مختصر سی ہوں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے” انتہی
“فتاوى نور على الدرب” (2/706)

مزید کیلئے سوال نمبر: (4448) ، (49007) اور (106538) کا جواب ملاحظہ کریں۔

واللہ اعلم.
بشکریہ اسلام کیو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں