13

نریندر مودی کی کامیابی میں ہمارا حصہ بھی ہے- ایاز امیر (نقطہ نظر)

نریندر مودی کی کامیابی میں ہمارا حصہ بھی ہے
نریندر مودی اور اُن کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) انتخابات تو ویسے بھی جیت جاتی لیکن کسی کو شک نہیں رہنا چاہیے کہ اُن کی کامیابی میں غیبی قوتوں کا بھی بڑا ہاتھ رہا ہے۔ میں کہنے لگا تھا کہ ہمارا ہاتھ لیکن زبان رُک گئی اور غیبی قوتوں کا سہارا لے لیا۔ حالات پہ نظریں رکھنے والوں کو یاد ہو گا کہ جب ہندوستان میں انتخابی مہم شروع ہوئی تو بی جے پی کی پوزیشن اتنی اچھی نہ تھی۔ وسیع طبقات پارٹی کی کارکردگی سے نالاں تھے۔ لبرل عناصر کو تو ایک طرف رکھیے، ہندوستان کی دیہی آبادی تک کو بی جے پی کی پالیسیوں سے گہری شکایات تھیں۔
نریندر مودی اپنے آپ کو ایک مضبوط قوم پرست کے روپ میں پیش کر رہے تھے۔ اُن کی الیکشن مہم کا بنیادی نکتہ ہندو قوم پرستی کے گرد گھوم رہا تھا: کہ ہندوستان ایک ہندو ملک ہے اور اس کی قومیت کی بنیاد ہندو مذہب اور اس سے جڑا ہوا ہندو فلسفہ ہے۔ لیکن شروع شروع میں بات کچھ بن نہیں رہی تھی اور قوم پرستی کا نعرہ کھوکھلا لگ رہا تھا۔ پھر ایک معجزہ رونما ہوا جو نریندر مودی کے ہاتھ لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے اُن کی نسبتاً بے جان مہم زور پکڑ گئی۔ وہ معجزہ تھا پلوامہ کا واقعہ جس میں ایک کشمیری خود کش بمبار نے ایک فوجیوں کی کانوائے کے قریب آ کر دھماکہ کر دیا۔ اس دھماکے میں چالیس سے زائد فوجی مارے گئے۔ یہ واقعہ ہونا تھا اور نریندر مودی اور اُن کی جماعت نے اسے ایسا پکڑا کہ ساری مہم یہ واقعہ پہ چھا گیا۔ فوراً یہ الزام پاکستان پہ لگایا گیا اور گو اس میں کوئی انوکھی بات نہیں تھی کیونکہ ہندوستان میں پٹاخہ بھی چلے تو الزام پاکستان پہ لگتا ہے‘ لیکن اس واقعے کے بعد جس امر نے بی جے پی کے دعووں کو تقویت بخشی وہ ایک تنظیم کی طرف سے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرنا تھا۔ ہمارے ناکردہ گناہوں کی شامت کہ مذکورہ تنظیم کا تعلق، صحیح یا غلط، دشمنانِ پاکستان ہم سے جوڑتے رہتے ہیں۔ اس اقرار کا آنا تھا کہ ہندوستانی پروپیگنڈے کی توپیں پاکستان کی طرف گرجنے لگیں۔
لیکن بات پروپیگنڈے تک نہ رہی۔ موقع کو غنیمت جانتے ہوئے ہندوستان نے پاکستان کے بالا کوٹ کے علاقے پہ رات کی تاریکی میں حملہ کر دیا۔ حملہ کیا تھا ، چند بم یا میزائل ایک پہاڑی پہ گرائے گئے۔ نقصان کچھ درختوں کو پہنچا۔ نہ کوئی عمارت حملے کی زد میں آئی نہ کوئی جانی نقصان ہوا۔ لیکن ہندوستان میں ڈھول پیٹنا شروع ہو گئے کہ نریندر مودی نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے پلوامہ حملے کا فوراً جواب دیا ہے۔
پروپیگنڈے کی یلغار تب بھی نہ تھمی جب دوسرے ہی دن پاکستانی ائیر فورس نے جوابی حملہ کیا اور ایک آدھ ٹھکانے کی بجائے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ یہاں سے بھی احتیاط ہوئی کہ کوئی جانی نقصان نہ ہو؛ البتہ جب پاکستانی حملہ ہوا تو ہندوستان کے جہازوں نے اُنہیں روکنے کی کوشش کی اور اُس فضائی لڑائی میں ہندوستان کا ایک مگ 21 طیارہ ہٹ ہوا اور لائن آف کنٹرول کے اِس پار آن گرا۔ اُس کا پائلٹ پکڑا گیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہندوستان ان واقعات کے بعد سُبکی اُٹھاتا۔ لیکن اندرونِ ہندوستان بی جے پی کی پروپیگنڈا مشین ایسا ماحول بنانے میں کامیاب ہوئی جس میں سُبکی کی بجائے ہندوستانی حملے کو طاقت کے مظاہرے کے طور پہ پیش کیا گیا۔
جذبۂ خیر سگالی کے تحت پاکستان نے فوراً ہی ہندوستانی پائلٹ کو واپس کرنے کا عندیہ دیا‘ اور ایک دو روز بعد براستہ واہگہ بارڈر پائلٹ کو ہندوستان کے حوالے کر دیا گیا۔ بی جے پی کی پروپیگنڈا مشین نے اس واقعے کو بھی ہندوستانی کامیابی قرار دیا۔ یہ تاثر دیا گیا کہ ہندوستان کے مضبوط رویے کی وجہ سے پاکستان کو ہندوستانی پائلٹ رہا کرنا پڑا۔ لہٰذا ہمارا جذبۂ خیر سگالی بھی کسی کام نہ آیا اور بی جے پی نے اُسے بھی پروپیگنڈے کے ہتھیار کے طور پہ استعمال کیا۔
کانگرس پارٹی نے معاشی مسائل کو انتخابی مہم میں اُجاگر کرنے کی کوشش کی‘ لیکن اس میں وہ کامیاب نہ رہی۔ یہ تسلیم شدہ بات ہے کہ نریندر مودی بہت پُر اثر مقرر ہیں اور انتخابی مہم بھی انتھک محنت سے چلاتے ہیں۔ لیکن جس ایشو کو الیکشن کا مرکزی نکتہ بنانے میں وہ کامیاب ہوئے وہ اپنی مضبوط لیڈر شپ کا تھا۔ یہ کہانی بیچی گئی کہ ہندوستان خطرات سے گھرا ہوا ہے۔ زیادہ خطرہ اُسے پاکستان سے ہے اور پاکستان کا مقابلہ سب سے بہتر انداز میں نریندر مودی ہی کر سکتے ہیں۔ پلوامہ واقعہ نہ ہوتا تو یہ سب ہوائی یا کتابی باتیں ہوتیں لیکن پلوامہ واقعے کا ہونا تھا اور اُس سے ہندوستان پاکستان کشیدگی پیدا ہونی تھی جس کا نریندر مودی اور اُن کی جماعت نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔
اب پوچھنے کی بات یہ ہے کہ جو تنظیمیں مقبوضہ کشمیر میں کچھ کرنے کے لئے تیار رہتی ہیں‘ اُنہیں سمجھانے والا کوئی نہیں؟ یا وہ خود عقل سے عاری ہیں؟ عین جب ہندوستانی الیکشن مہم شروع ہو رہی تھی‘ پلوامہ جیسا واقعہ بیوقوفی کی انتہا کے علاوہ کچھ نہیں ثابت ہو سکتا تھا۔ بنیادی عقل سے عاری شخص بھی اندازہ لگا سکتا تھا کہ جب نریندر مودی اپنے بازوؤں کے ڈولے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں‘ مقبوضہ کشمیر میں کوئی بھی واقعہ بی جے پی کے حق میں ہی جائے گا۔ لیکن پھر بھی نہ صرف پلوامہ میں خود کش حملہ ہوا بلکہ جو کسر رہ گئی تھی وہ ذمہ داری قبول کرنے سے پوری ہو گئی۔ اگرچہ بعد ازاں تنظیم نے پلوامہ حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کی خبر کی تردید کی تھی۔ بہرحال جو بھی ہوا دورانِ جشن بی جے پی والوں کو پلوامہ حملہ کرنے والوں کو سلام پیش کرنا چاہیے کیونکہ آڑے وقت میں وہ بی جے پی کے کام آئی۔
روحانیت نے البتہ پاکستان کو کچھ فائدہ پہنچایا ہے۔ الیکشن مہم کے عین درمیان جب وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے یہ کہا کہ اگر نریندر مودی دوبارہ کامیاب ہوئے تو اُس سے کشمیر کے مسئلے کے حل کیلئے سازگار ماحول پیدا ہو گا، ہندوستان میں کانگرس اور اُن کے حامیوں نے اس بیان کو بہت لتاڑا۔ پاکستان میں بھی چند آوازیں اُٹھیں کہ عمران خان کو ایسا بے تُکا بیان نہیں دینا چاہیے تھا۔ لیکن بی جے پی کی شاندار کامیابی کے بعد اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ روحانیت عمران خان کے کام آئی اور اُنہوں نے درست خیال کیا کہ بی جے پی ہی ہندوستانی الیکشن میں کامیا ب ہو گی۔ دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتاہے‘ لیکن کسی بھی جانب سے پاکستان میں یہ بھول نہیں ہونی چاہیے کہ کشمیر کے کسی بھی تصفیے کے لئے بی جے پی والے کبھی تیار ہوں گے۔ نریندر مودی طاقت پہ یقین رکھتے ہیں اور اُن کی زیر قیادت مقبوضہ کشمیر میں طاقت کا بھرپور استعمال کیا گیا ہے۔ کشمیر مسئلے پہ کسی قسم کا تصفیہ یا مذاکرات نہ صرف بی جے پی کا ایجنڈا نہیں ہے بلکہ ایسی سوچ بھی بی جے پی کے بنیادی فلسفے کی نفی ہے۔ اس بنا پہ پاکستان کو کسی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے۔
ایک بات البتہ صاف عیاں ہے۔ بھارت میں ایک مضبوط قیادت پھر سے برسر اقتدار آئی ہے۔ مسائل کے باوجود ہندوستان ترقی کی راہ پہ گامزن ہے۔ اُس کی معاشی کارکردگی بہتوں سے بہتر ہے۔ یہ ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہونا چاہیے۔ دفاعی اعتبار سے ہم ٹھیک ٹھاک ہیں اور ہمیں کسی دفاعی دوڑ میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ سیاسی اور معاشی کمزوریاں ہیں اور اُن کو ٹھیک کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ ہمارا دشمن ہندوستان ہے۔ یہ سوچ غلط ہے۔ ہمارا سب سے بڑا دشمن ہماری معاشی اور دیگر کمزوریاں ہیں۔ تنگ نظری پہ ہم ہندوستان کی نئی حکومت کو طعنہ نہیں دے سکتے۔ ہماری اپنی تنگ نظری غیروں کی تنگ نظری سے کہیں زیادہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں