96

خدا ترسی ؛ عبادات کا ہدف – خطبہ مسجد نبوی

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد لعزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے 19 رمضان 1440 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان “خدا ترسی ؛ عبادات کا ہدف” ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ بلند اخلاقی اقدار کی اسلام میں بہت زیادہ اہمیت اور ضرورت ہے، عبادات کے طور طریقے الگ الگ ہونے کے باوجود ان کے مشترکہ اہداف بھی ہیں، یہ اہداف مسلم معاشرے کو تہذیب و تمدن کی بلندیوں پر لے جاتے ہیں، اور پورا مسلم معاشرہ ان خوبیوں اور اچھائیوں سے مہک اٹھتا ہے، خدا ترسی ان خوبیوں میں سے ایک ہے، چنانچہ ماہ رمضان کی عبادات میں بھی یہ صفت پائی جاتی ہیں، اسی لیے نبی ﷺ رمضان میں خوب صدقہ خیرات کرتے تھے، نبوی تعلیمات کے مطابق انسانی اعضا کا بھی روزہ ہوتا ہے اس لیے خلاف شریعت بات کہنے یا اس پر عمل کرنے سے ہر وقت گریز ضروری ہے، رمضان میں خدا ترسی کی بہت سی صورتیں ہیں، ان تمام صورتوں پر عمل پیرا ہو کر انسان خدا ترسی کا وسیع ترین مفہوم اپنے ذہن میں اجاگر کرتا ہے، کتاب و سنت میں خدا ترسی کی فضیلت اور ضرورت بھی ذکر ہوئی ہے، رسول اللہ ﷺ خود بھی خدا ترس تھے، حتی کہ کافروں کے بارے میں بھی رحمدلی کا مظاہرہ فرماتے تھے۔ جہاں پر لوگ اکٹھے ہوں وہاں پر رحمدلی اور خدا ترسی کی ضرورت مزید دو چند ہو جاتی ہے اس لیے حرمین شریفین میں عمرہ، طواف، سعی، قیام، فرض نمازوں اور قیام وغیرہ کے دوران اعلی اخلاقیات کا مظاہرہ ضروری ہے، اگر کسی کے دل سے خدا ترسی اٹھا لی جائے تو یہ بدبختی کی علامت ہے، خدا ترس لوگوں پر اللہ تعالی بھی رحم فرماتا ہے، انہوں نے ائمہ کرام کو لمبی دعاؤں کے دوران کمزور لوگوں کا خیال رکھنے کی تلقین کی اور نبوی تعلیمات ذکر کیں، دوسرے خطبے میں انہوں نے مکمل عشرے کی راتوں میں خوب عبادات کی ترغیب دلائی اور آخر میں لمبی دعا منگوائی۔

مترجم: شفقت الرحمن مغل
اردو ترجمہ سماعت کرنے کے لئے کلک کریں۔

پی ڈی ایف فارمیٹ میں ڈاؤنلوڈ / پرنٹ کرنے کیلیے کلک کریں۔

عربی خطبہ کی ویڈیو حاصل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پہلا خطبہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اسی کے لئے اچھے اچھے نام اور اعلی ترین صفات ہیں، بے شمار اور لا تعداد نعمتوں پر اسی کا شکر ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، دنیا اور آخرت میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد -ﷺ-اللہ کے بندے اور چنیدہ نبی ہیں، یا اللہ! ان پر، ان کی آل، اور تمام متقی صحابہ کرام پر سلامتی، رحمتیں اور برکتیں نازل فرما۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

لوگو! میں آپ سب سامعین اور اپنے آپ کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں، متقی کو اللہ تعالی ہر قسم کا تحفظ فراہم کرتا ہے اور اسی کبھی نقصان میں نہیں ڈالتا، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا (2) وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ} تقوی اپنانے والے کے لئے اللہ نجات کا راستہ بنا دیتا ہے، اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔[الطلاق: 2، 3] ایک اور مقام پر فرمایا: {وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يُكَفِّرْ عَنْهُ سَيِّئَاتِهِ وَيُعْظِمْ لَهُ أَجْرًا} اللہ تقوی اپنانے والے کی خطائیں مٹا دیتا ہے اور اسے ڈھیروں اجر سے نوازتا ہے۔[الطلاق: 5]

اسلامی بھائیو!

اخلاقی اقدار اور اعلی خوبیوں کی اسلام میں بہت عظیم قدر و قیمت اور شان ہے، اسی لیے اخلاق حسنہ اور اچھی خوبیوں پر ترغیب کے لئے تواتر کے ساتھ شرعی نصوص موجود ہیں، اللہ تعالی نے افضل المخلوقات جناب محمد ﷺ کے بارے میں فرمایا: {وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ} بیشک آپ عظیم اخلاق کے مالک ہیں۔[القلم: 4]

شرعی عبادات الگ الگ ہونے کے باوجود بھی اپنے اندر مختلف ضمنی مقاصد بھی رکھتی ہیں، اور ان کے ڈھیروں اہداف بھی ہیں ، یہ مقاصد اور اہداف مسلمان کو اچھے اخلاق اور بہترین صفات سے متصف ہونے پر ابھارتے ہیں؛ تا کہ پورے معاشرے کی اجتماعی زندگی اعلی اخلاقیات پر استوار ہو، اچھی خوبیاں پورے معاشرے کو خوشحال اور تہذیب یافتہ بنا دیں، پورا معاشرہ ہمہ قسم کی خوبیوں اور ہر طرح کی اچھائیوں سے مہک اٹھے۔

اسلامی بھائیو!

ماہ رمضان میں ایسی عبادات شریعت نے رکھی ہیں جن سے انسان کی تربیت ہوتی ہے اور تزکیہ نفس ہوتا ہے، ان عبادات سے انسان مہذب بن جاتا ہے، یہ عبادات انسان کو ایسا بنا دیتی ہیں جن کا فائدہ تمام مسلمانوں کو ہوتا ہے، رمضان کی عبادات انسان کو بہترین راستے پر گامزن کر دیتی ہیں اور انہیں اعلی اخلاق کا مالک بنا دیتی ہیں۔

ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ: (رسول اللہ ﷺ سب سے سخی تھے، آپ اس وقت مزید سخی ہو جاتے جب رمضان میں جبریل آپ سے ملتے، جبریل آپ سے ہر رات ملتے تھے اور آپ کے ساتھ قرآن کریم کا مذاکرہ فرماتے، اس وقت تو آپ تیز اندھیری سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ سخاوت فرماتے تھے) متفق علیہ

حدیث کے عربی الفاظ میں “جود” کے مفہوم میں ہر طرح کی خیر، بھلائی اور حسن اخلاق شامل ہیں۔

مسلم اقوام!

ماہ رمضان کے روزوں میں خلقت کی ہر قسم کی برائی سے دور رہنے کی تربیت ہوتی ہے، روزہ انسان کو بری باتوں سے دور رہنے کی تربیت دیتا ہے، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (جو شخص خلاف شریعت بات کرنے اور اس پر عمل سے باز نہیں رہتا تو اللہ کو اس کے کھانا پینا چھوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے) بخاری

اسی تربیت کے زیر اثر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: “جب تم روزہ رکھو تو تمہاری سماعت، بصارت اور زبان کا بھی جھوٹ اور گناہ سے روزہ ہونا چاہیے، ملازمین کو تکلیف مت دیں، اور روزے والے دن آپ پر وقار اور سکینت ہونی چاہیے”

مطلب یہ ہے کہ آپ ان تمام اچھی خوبیوں پر ہمیشگی کے ساتھ عمل پیرا رہیں اور دائمی طور پر انہیں اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔

چنانچہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو اس دن بیہودہ بات مت کرے، اور نہ ہی چلائے، اگر اسے کوئی گالی گلوچ دے یا جھگڑے تو کہہ دے: میرا روزہ ہے۔)

رمضان میں مسلمانوں کی خدا ترسی پر تربیت ہوتی ہے، اس تربیت کی بہت سی شکلیں ہیں، خدا ترسی پر تربیت کے مظاہر میں یہ بھی ہے کہ رمضان میں صدقات، عطیات، روزہ افطاری، کھانا کھلانے اور محتاج کی ضروریات پوری کرنے کی خصوصی فضیلت ہے، اسی فضیلت کی بدولت خدا ترسی کا مفہوم وسیع ترین دائرے اور خوبصورت ترین انداز میں مسلمان کے ذہن میں تازہ ہوتا ہے، خدا ترسی بذات خود ایک ایسی صفت ہے جو مسلمانوں میں ہر جگہ اور زندگی کے تمام گوشوں میں نمایاں ہونی چاہیے؛ کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: {ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ} پھر وہ ان لوگوں سے ہو جائے جو ایمان لائیں اور ایک دوسرے کو صبر اور خدا ترسی کی وصیت کریں۔ [البلد: 17]

یہ بھی پڑھیں: رمضان؛ محاسبہ نفس اور اطاعت گزاری کا مہینہ – خطبہ مسجد نبوی
نبی ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے کہ: (تم مومنوں کو باہمی خدا ترسی، شفقت اور محبت میں ایک جسم کی مانند دیکھو گے، بالکل اسی طرح جیسے اگر جسم کا ایک عضو بھی تکلیف میں ہو تو سارا جسم ہی بے خوابی اور بخار کی سی کیفیت میں مبتلا رہتا ہے۔) متفق علیہ

آپ ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے: (خدا ترسی کرنے والوں پر رحمن رحم کرتا ہے، تم اہل زمین پر رحم کرو، بلندیوں میں موجود اللہ تعالی تم پر رحم کرے گا۔)

اس لیے مخلوق پر خدا ترسی بہت عظیم خوبی ہے اور اس کا حصول بہت بڑا ہدف ہے، نیز خدا ترسی روزہ سمیت تمام عبادات کے تربیتی مقاصد میں بھی شامل ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ} اور ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لئے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے۔ [الأنبياء: 107]

اسی طرح اللہ تعالی نے آپ ﷺ کی یہ خوبی بھی ذکر فرمائی کہ: {بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ} آپ مومنوں کے ساتھ نہایت مشفق اور رحمدل ہیں[التوبة: 128]

ابو ہریرہ رضی اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے کہا گیا: “آپ مشرکوں کے خلاف بد دعا فرما دیں” تو اس کے جواب میں آپ ﷺ نے فرمایا: (مجھے بہت زیادہ لعنت بھیجنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا، مجھے تو رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔ ) مسلم

مسلم اقوام!

حج اور رمضان لوگوں کے اکٹھے ہونے کا وقت ہوتے ہیں، اس دوران فرض نمازوں اور قیام کے لئے رش بڑھ جاتا ہے، افطاری کے وقت بھی سب لوگ جمع ہوتے ہیں، ایسے ہی اعتکاف اور عمرے کی ادائیگی میں بھی لوگوں کا رش ہوتا ہے، تو اس صورت میں یہ انتہائی ضروری اور لازمی ہے کہ باہمی خدا ترسی، نرمی، سکینت اور اطمینان کا اعلی ترین مظاہرہ ہو، آپ کا رویہ اور تعامل ایسا ہو کہ اس عظیم دین کی عظمت اور خوبیوں کو آشکار کرے۔

اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے خبردار کیا کہ ہمارے تمام معاملات میں یہ تمام خوبیاں اور بلند اخلاقی اقدار ہر وقت موجود رہیں، زندگی کے تمام گوشے ان سے معمور رہیں، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (جو لوگوں پر شفقت نہیں کرتا اللہ بھی اس پر رحمت نہیں فرماتا) متفق علیہ

بلکہ -اللہ کے بندو-جس وقت مسلمان کے رویے اور تعلقات میں سے ان خوبیوں کا عظیم گلدستہ مفقود ہو جائے تو بد بختی اور نقصان رونما ہوتے ہیں، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (خدا ترسی بد بخت کے دل سے ہی چھینی جاتی ہے) اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا ہے اور حسن قرار دیا، نیز دیگر محققین نے بھی اس حدیث کو حسن کہا ہے۔

اس لیے ہم چھوٹوں پر شفقت کریں، بڑوں کا احترام کریں، نیز کمزور اور ضرورت مند لوگوں کی مدد کریں، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (وہ شخص ہم میں سے نہیں جو چھوٹوں پر شفقت نہ کرے، اور بڑوں کی عزت کا اعتراف نہ کرے) اس حدیث کو احمد اور ترمذی نے روایت کیا ہے، اور امام ترمذی نے اسے حسن صحیح قرار دیا ہے۔

ائمہ کرام! رحمدلی کی صفت کو رمضان میں قیام اور تہجد کی نماز کے وقت بھی یاد رکھیں، حسب استطاعت سنت نبوی پر کار بند رہنے کی بھر پور کوشش کریں، دعائے قنوت میں طوالت سے بچیں؛ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (جب تم میں سے کوئی لوگوں کی امامت کروائے تو ہلکی نماز پڑھائے؛ کیونکہ لوگوں میں کمزور، بیمار، اور ضرورت مند افراد بھی ہوتے ہیں) متفق علیہ

اسی طرح رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (میں [بسا اوقات]نماز کا قیام طویل کرنا چاہتا ہوں، تو بچے کے رونے کی آواز سن کر اپنی نماز مختصر کر لیتا ہوں، اس ڈر سے کہ بچے کی ماں پر [اس کا رونا]گراں گزرے گا۔) متفق علیہ

یا اللہ! ہمیں کتاب و سنت سے مستفید ہونے توفیق عطا فرما، میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں اور اللہ تعالی سے اپنے لیے اور سب مسلمانوں کے لئے تمام گناہوں کی بخشش مانگتا ہوں، تم بھی اسی سے بخشش طلب کرو، بیشک وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ
تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں کہ اس نے ہم پر احسان کیا، اسی کے شکر گزار بھی ہیں کہ اس نے ہمیں نیکی کی توفیق دی، میں اس کی عظمت اور شان کا اقرار کرتے ہوئے گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں وہ یکتا اور اکیلا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد -ﷺ- اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، آپ نے رضائے الہی پانے کی دعوت دی، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور صحابہ کرام پر ڈھیروں رحمتیں، سلامتی اور برکتیں نازل فرمائے۔

رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرے کی راتوں میں اتنی عبادت فرماتے جو کسی اور دن میں نہیں فرماتے تھے، چنانچہ صحیح بخاری اور مسلم میں سیدہ عائشہ -اللہ آپ اور آپ کے والد سے راضی ہو گیا- کہتی ہیں کہ: (جب آخری عشرہ شروع ہوتا تو آپ ﷺ راتوں کو شب بیداری فرماتے، اپنے گھر والوں کو بیدار رکھتے اور کمر کس لیتے)

اللہ تم پر رحم فرمائے، اپنے شب و روز کے اوقات نیکیوں سے بھر پور رکھیں، خیر و بھلائی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، تمہیں زمین و آسمانوں کے پروردگار کی رضا مل جائے گی۔

ہمیں اللہ تعالی نے نبی ﷺ پر کثرت کے ساتھ درود و سلام پڑھنے کا حکم دیا ہے، اللهم صل وسلم وبارك على نبينا محمد.

یا اللہ! خلفائے راشدین، اہل بیت، تمام صحابہ کرام ، تابعین اور تبع تابعین نیز ان کے نقش قدم پر روزِ قیامت تک بہترین انداز سے چلنے والوں سے بھی راضی ہو جا۔

یا اللہ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما، اور آخرت میں بھی بھلائی سے نواز، نیز ہمیں جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! ہمارے اگلے، پچھلے، خفیہ ، اعلانیہ سب گناہ معاف کر دے، اور وہ بھی معاف فرما دے جن گناہوں کو تو ہم سے زیادہ جانتا ہے، تو ہی پست و بالا کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: رمضان کیسے گزاریں؟ – خطبہ مسجد نبوی
یا اللہ! ہمارے سارے گناہ معاف فرما دے، ابتدائی ، آخری، ظاہری، باطنی، اعلانیہ اور خفیہ سب گناہ معاف فرما دے، یا غفور! یا رحیم!

یا اللہ! ہمیں تقوی عطا فرما، یا اللہ! ہمارا تزکیہ نفس فرما، تو ہی بہترین تزکیہ کرنے والا ہے، تو ہی ہمارا والی اور مولا ہے۔

یا اللہ! ہمیں لیلۃ القدر کا قیام کرنے والوں اور عظیم اجر پانے والوں میں شامل فرما ۔ یا اللہ! ہمیں لیلۃالقدر میں زیادہ سے زیادہ نیکیوں کی توفیق عطا فرما۔ یا اللہ! ہمیں لیلۃ القدر میں قیام عطا فرما دے، یا اللہ! اس رات میں ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما لینا جن سے تو راضی ہو گا، جس سے تو راضی ہو جائے تو وہ کبھی بد بختی میں نہیں پڑے گا، یا حیی! یا قیوم! یا ذالجلال والا کرام!

یا اللہ! جس نے بھی ہمارے ساتھ جمعہ ادا کیا، اور ہماری بات سنی ہے، یا اللہ! اسے بخش دے، اس پر رحم فرما، یا اللہ! ان سے راضی بھی ہو جا، یا اللہ! اس سے دنیا و آخرت میں راضی ہو جا، یا اللہ! پوری دنیا میں کہیں بھی مسلمان ہیں ان سب سے راضی ہو جا، یا رب العالمین! یا حیی! یا قیوم!

یا اللہ! خادم حرمین شریفین اور ان کے ولی عہد کو صرف وہی کام کرنے کی توفیق عطا فرما جو تجھے پسند ہیں اور جن سے تو راضی ہوتا ہے، یا اللہ! ان دونوں کی خصوصی حفاظت فرما، انہیں اپنی خصوصی عنایت اور حفاظت عطا فرما، یا اللہ! ان دونوں کو صحیح موقف کی توفیق عطا فرما اور انہیں ہر بھلائی کا کام کرنے کی توفیق دے، یا اللہ! ان دونوں کے ذریعے مسلمانوں میں باہمی اتحاد پیدا فرما، یا اللہ! ان دونوں کے ذریعے مسلمانوں میں باہمی اتحاد پیدا فرما، یا اللہ! ان دونوں کے ذریعے تمام مسلمانوں کی تکالیف کا خاتمہ فرما، یا اللہ! ان دونوں کے ذریعے تمام ظاہری یا خفیہ فتنوں کی سر کوبی فرما دے۔

یا اللہ! تمام مسلم حکمرانوں کو صرف وہی اقدامات کرنے کی توفیق عطا فرما جن میں ان کی رعایا کا فائدہ ہو۔ یا اللہ! تمام مسلمانوں کو بہترین مسلمان حکمران عطا فرما، یا اللہ! تمام مسلمانوں کو بہترین مسلمان حکمران عطا فرما۔ یا اللہ! تمام مسلم خطوں میں بہتری پیدا فرما، یا اللہ! تمام مسلم ممالک کو امن و ایمان سے معمور فرما دے، یا اللہ! تمام مسلم ممالک کو امن و ایمان سے معمور فرما دے، یا اللہ! تمام مسلم ممالک کو امن و ایمان ، خوشحالی اور ترقی سے معمور فرما دے۔

یا اللہ! اپنے بندوں پر رحم فرما، یا اللہ! اپنے بندوں پر رحم فرما، یا اللہ! ہم تجھ سے اس بابرکت گھڑی میں سوال کرتے ہیں کہ امت محمدیہ پر رحم فرما دے، یا اللہ! ان پر ایسی رحمت فرما دے جن سے ان کے حالات سنور دیں، یا اللہ! ان پر ایسی رحمت فرما دے جن سے ان کے حالات سنور دیں، یا اللہ! ان پر ایسی رحمت فرما دے جن سے ان کے حالات سنور دیں۔ یا اللہ! ان پر ایسی رحمت فرما کہ جن سے ان میں اتحاد پیدا ہو جائے، ایسی رحمت فرما کہ غربت میں پسے لوگ مالدار ہو جائیں۔

یا اللہ! یا حیی! یا قیوم! یا اللہ! آخری عشرے کی راتوں میں منعقد ہونے والے مکہ اجلاس میں قیادتوں کو کامیاب فرما، یا اللہ! اس اجلاس کو کامیابی اور صحیح سمت عطا فرما، یا اللہ! اس اجلاس کو تمام مسلمانوں کے لئے خوشحالی ، ترقی اور بہتری کا باعث بنا، یا اللہ! اس اجلاس کو مسلمانوں میں پائی جانے والی شورش، تصادم اور جھڑپوں کے خاتمے کا بنیادی سبب بنا دے، یا رب العالمین! یا اللہ! ہماری دعائیں قبول فرما، یا حیی! یا قیوم! یا اللہ! ہماری دعائیں قبول فرما، یا حیی! یا قیوم!

یا اللہ! بابرکت شہر، اور بابرکت راتوں میں منعقد ہونے والے اس اجلاس کو مسلمانوں کے حالات کی بہتری کا سب سے بنیادی سبب بنا دے، یا اللہ! اس اجلاس کو مسلمانوں کی خوشحالی کا سبب بنا دے، یا اللہ! اس اجلاس کو مسلمانوں کی رفعت اور بلندی کا سبب بنا دے، یا اللہ! اس اجلاس کو مسلمانوں کے موقف کی برتری کا باعث بنا دے، یا حیی! یا قیوم! یا ذالجلال والا کرام!

یا اللہ! ہمیں خالی ہاتھ مت موڑنا، یا اللہ! ہماری جھولیوں کو خالی مت لوٹانا، یا اللہ! ہمیں خالی ہاتھ مت موڑنا، بیشک تو ہی قوی اور غالب ہے، تو ہی کرم کرنے والا ہے، یا حیی! یا قیوم!

اللہ کے بندو!

اللہ کا ڈھیروں ذکر کرو، صبح اور شام اللہ اسی کی تسبیحات بیان کرو۔

یا اللہ! یا حیی! یا قیوم!، یا اللہ! یا حیی! یا قیوم! ہماری سیکورٹی فورس کے جوانوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! ہر جگہ پر ہماری سیکورٹی فورس کے جوانوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! انہیں جزائے خیر سے نواز، یا اللہ! انہیں قوت عطا فرما، یا حیی! یا قیوم!

یا اللہ! سرحدوں پر مامور سیکورٹی فورس کے جوانوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! ان کے دلوں کو مضبوط کر دے، یا اللہ! ان کے ذریعے مسلمانوں کو شر سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! مسلم خطوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! اس ملک کی حفاظت فرما، یا اللہ! اس ملک کی حفاظت فرما، یا اللہ! اس ملک کی ہر قسم کے شر اور نقصان سے حفاظت فرما، یا اللہ! جو بھی اس ملک کے بارے میں برے ارادے رکھے تو اسے اپنی ہی جان کے لالے پڑ جائیں، یا اللہ! جو بھی اس ملک کے بارے میں یا کسی بھی مسلم ملک کے بارے میں برے ارادے رکھے تو اسے اپنی ہی جان کے لالے پڑ جائیں، یا اللہ! اس کی مکاری اسی کی تباہی کا باعث بنا دے، یا اللہ! اس کی مکاری اسی کی تباہی کا باعث بنا دے، یا اللہ! اس کی مکاری اسی کی تباہی کا باعث بنا دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! جو بھی مسلمانوں کے بارے میں برے ارادے رکھے تو اس کی نخوت خاک میں ملا دے، یا اللہ! اس کے موقف کو زیر کر دے، یا اللہ! اسے جڑ سے تباہ و برباد فرما دے، یا رب العالمین! بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

یا اللہ! ہمارے نبی جناب محمد -ﷺ- ، آپ کی آل اور صحابہ کرام پر درود و سلامتی نازل فرما۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں