40

اٹھارہویں پارے کا خلاصہ-علامہ ابتسام الہٰی ظہیر (دین سے دنیا تک )

اٹھارہویں پارے کا خلاصہ
اٹھارہویں پارے کا آغاز سورہ ٔمومنون سے ہوتا ہے ‘جس میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کے اس گروہ کا ذکر کیا ہے‘ جو جنت کے سب سے بلند مقام فردوس کا وارث بننے والا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” وہ مومن کامیاب ہوئے‘ جنہوں نے اپنی نمازوںمیں اللہ کے خوف اور خشیت کو اختیار کیا‘ جنہوں نے لغویات سے اجتناب کیا‘ جو زکوٰۃ کو صحیح طریقے سے ادا کرتے ہیں ‘جو امانتوں اور وعدوں کی پاسداری کرتے ہیں ‘جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں‘جو اپنی پاک دامنی کا تحفظ کرتے ہیں ‘سوائے اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے کسی کی خلوت میں نہیں جاتے ۔جو صاحب ایمان ایسا کرے گا‘ وہ فردوس کا وارث بن جائے گا‘‘ ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب کافروں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آئے گا تو وہ چیخ پڑیں گے۔ اس وقت ان سے کہا جائے گا ‘آج چیخ پکار مت کرو بے شک ہمارے مقابلے میں کسی طرف سے تمہاری مدد نہیں کی جائے گی ۔ہماری آیات کی تمہارے سامنے تلاوت کی جاتی تو تم ایڑیوں کے بل بھاگ پڑتے تھے ۔تکبر کرتے اور اپنی رات کی محفلوں میں اس قرآن کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ۔اللہ تعالیٰ کافروں کی غفلت اور سرکشی کو اجاگر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کیا انہوں نے قرآن کریم پر غور نہیں کیا یا ان کے پاس کوئی ایسی چیز آگئی ہے‘ جو ان کے آباء کے پاس نہیں آئی یا انہوں نے اپنے رسولﷺ کو پہلے سے نہیں پہچانا‘ جو ان کا انکار کررہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس حقیقت کو واضح فرما رہے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کی سابقہ زندگی ان کے سامنے ہے‘ اس لیے ان کو صادق اور امین رسول کا انکار نہیں کرنا چاہیے اور صرف اس وجہ سے قرآن کو رد نہیں کرنا چاہیے کہ یہ ان کے آبائو اجدا د کے عقائد سے مطابقت نہیں رکھتا تھا ۔ان کو حق پر مبنی دعوت پر غور کرنا چاہیے اور اللہ کی اس وحی کو دل وجان سے قبول کرنا چاہیے۔ درحقیقت وہ یہ چاہتے تھے کہ حق ان کی خواہشات کے تابع ہوجائے ؛حالانکہ اگر وحی کو ان کی خواہشات کے تابع کردیا جائے تو آسمان وزمین میں موجود ہر چیز فساد کا شکار ہو جائے۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ بعض لوگوں کا یہ گمان ہے کہ ہم نے ان کو بغیر وجہ کے پیدا کردیا ہے اور انہوں نے ہمارے پاس پلٹ کر نہیں آنا؛ حالانکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ انسانوں کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائے گااور وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دوبارہ پیش ہوں گے اور ان کو اپنے کئے کا جواب دینا ہوگا۔ اس سورت کے آخر میں ارشاد ہوا کہ جو کوئی بھی غیر اللہ کو پکارتا ہے اس کے پاس ایسا کرنے کی کوئی دلیل نہیں اور اس کا حساب پروردگار کے پاس ہے اور اس نے کبھی کافروں کو کامیاب نہیں کیا ۔سورہ نور میں اللہ تعالیٰ نے فحاشی کی روک تھام کیلئے زنا کی سزا مقرر فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ زانی اور زانیہ (غیر شادی شدہ) کو ایک سو کوڑے مارنے چاہئیں؛ اگر اس گناہ کا ارتکاب شادی شدہ مرد یا عورت کرے تو حدیث پاک میں ایسے مجرم کیلئے سنگسار کی حد مقرر کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پاکدامن عورتو ں پر تہمت لگانے کی مذمت کی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں اور پھر چار گواہوں کو پورا نہیں کرتے ایسے لوگوں کو اسی کوڑے لگنے چاہئیں اور مستقبل میں ان کی کوئی گواہی قبول نہیں کرنی چاہیے اور ان کا شمار فاسقوں میں ہو گا ۔
اللہ تعالیٰ نے سورت نور میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت کا اظہار فرمادیا اور قیامت تک آنے والے اہل ایمان کو ازواج ِمطہرات کی حرمت اور ناموس کے بارے میں باخبر کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو یہ بھی سمجھایا کہ اہل ایمان کو ایک دوسرے کے بارے میں اچھا گمان رکھنا چاہیے اور اگر کوئی کسی کی کردار کشی کرے تو سننے والے کو فوراًسے پہلے کردار کشی کو بہتان سے تعبیر کرنا چاہیے اور اس بات کو سمجھ جانا چاہیے کہ اگر کسی واقعہ پر چار گواہ موجود نہ ہوں تو الزام تراشی کرنے والا اللہ کی نظروں میں جھوٹا ہے ۔ معاشرے میں برائی کی روک تھام کیلئے اللہ تعالیٰ نے اس پارے میں مومن مردوں کو اپنی نگاہیں جھکانے کا حکم دیا ہے اور مومن عورتوں کو اپنی نگاہیں جھکانے کے ساتھ ساتھ پردہ کرنے کا بھی حکم دیا ہے اور محرم رشتہ داروں کے علاوہ تمام لوگوں سے اپنی زینتیں چھپانے کا حکم دیا ۔
اللہ تعالیٰ نے غیر شادی شدہ مردکی شادی کرنے کا حکم دیاہے اور ارشاد فرمایا کہ اگر کوئی شخص فقیر ہو تو نکاح کرنے کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اس کو غنی فرمادیں گے ۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرما یا کہ اللہ تعالیٰ زمین اور آسمان کو روشن فرمانے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے نور کے ذر یعے جس کو چاہتے ہیں ہدایت کے راستے پر گامزن فرما دیتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے ان مردوں کا ذکر کیا ہے کہ جو تجارت اور سودا گری میں مشغول ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے ذکر اور نماز سے غافل نہیں ہو تے ۔
اللہ تعالیٰ نے صحیح ایمان رکھنے والے مومنوں کا ذکر کیا ہے کہ جب ان کو اللہ اور رسولﷺ کے احکامات کی طرف بلایا جاتا ہے تو وہ جواب میں کہتے ہیں ہم نے سنا اور اطاعت کی اور صحیح کامیابی انہیں صاحب ایمان لوگوں کیلئے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان سے وعدہ کیا ہے کہ جو ایمان اور عمل صالح کے راستے پر چلے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو زمین پر خلافت عطافرمائیں گے‘ جس طرح اللہ تعالیٰ نے سابقہ اہل ایمان کو خلافت ِارضی سے نوازا تھا ۔اللہ تعالیٰ نے اس وعدے کو اپنے نبیؐ ہی کی حیات ِمبارکہ میں پورا فرمادیا اور سر زمین حجاز پر آپ کی حکومت کو قائم کردیا اور آپؐ کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے جناب ابوبکر‘ عمر‘ عثمان اور علی رضی اللہ عنہم کو بھی خلافت سے بہرہ ور فرمادیا اور خلفائے راشدین کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری و ساری رہا‘ یہاں تک کہ ایمان کی کمی اور بد عملی کی شدت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حاکم سے محکوم اور غالب سے مغلوب کردیا۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے خلوت کے تین اوقات کا ذکر کیا کہ ان اوقات ممنوعہ میں کسی کے گھر جانا درست نہیں ۔ایک وقت عشاء کے بعد دوسرا فجر سے پہلے اور تیسرا ظہر کے بعد۔ ان تین اوقات میں کسی کے گھر جانا درست عمل نہیں ہے ۔ان تین اوقات کے علاوہ انسان کسی بھی وقت کسی کے گھر اجازت لے کر ملاقات کرنے کیلئے جاسکتا ہے۔ اس سورت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے رسول کریمﷺ کے احکامات کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جو لوگ رسول ﷺ کے احکامات کی مخالفت کرتے ہیں ‘ان کو ڈرجانا چاہیے کہ کہیں وہ دنیا میں فتنے کا نشانہ نہ بن جائیں اور آخرت میں ان کو درد ناک عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا ۔اس کے بعد سورہ فرقان ہے‘ جس میں اللہ تبار ک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ بابرکت ہے‘ وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان کو نازل کیا‘ تا کہ وہ دنیا والوںکو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرائیں۔ فرقان کا مطلب فرق کرنے والا ہوتا ہے۔ قرآن مجید نیکی اور بدی ‘ ہدایت اور گمراہی ‘شرک اور توحید ‘حلال اور حرام کے درمیان فرق کرنے والا ہے‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو فرقان کہہ کر پکارا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآن مجید سمجھنے ‘پڑ ھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے ۔(آمین )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں