15

گرتا روپیہ، بونے سیاستدان اور ہمارے میر جعفر-انصار عباسی

سابق چیئرمین ایس ای سی پی ظفر حجازی صاحب کا دو دن قبل ایک وٹس ایپ پیغام ملا۔ لکھتے ہیں ’’سلام عباسی صاحب! آپ کے ڈالر بائیکاٹ سے متعلق ٹویٹ پڑھ کر ایک نوٹ جو میں نے روس کے ٹوٹنے پہ ازبکستان کے اسٹڈی ٹور کے دوران مشاہدات پہ لکھا تھا، بھیج رہا ہوں۔ معاشی معاملات بڑے بے رحم ہوتے ہیں۔ تاشقند اور بخارا کے سفر کے دوران میں نے کسی کرنسی کی شرح تبادلہ کو جس بحران کا شکار اور اس کے نتیجہ میں کسی قوم کی اخلاقی و معاشرتی قدروں کو برباد ہوتے دیکھا، اس کو یاد کرکے اور ملک کے موجودہ حالات کو دیکھ کر لرز جاتا ہوں۔ جب ہم تاشقند پہنچے اس وقت ایک ڈالر کے عوض تقریباً چار سو روبل ملتے تھے۔ یاد رہے کہ روس کے ٹوٹنے سے قبل ایک روبل کی شرح تبادلہ ایک اشاریہ آٹھ ڈالر تھی۔ یعنی تقریباً دو ڈالر کا ایک روبل ملتا تھا۔ یوں مختصر عرصہ میں مقامی کرنسی روبل مکمل طور پہ برباد ہو چکی تھی۔ ہم ایک ہفتہ وہاں رہے اور ہر روز ڈالر کی قیمت میں تقریباً پچاس روبل کا اضافہ ہوتا دیکھا جا رہا تھا۔ لوگ روبل پہ اعتماد کھوتے جا رہے تھے۔ ہم جن ہوٹلوں میں ٹھہرتے اُن کے باہر لوگوں کی ایک بھیڑ جمع ہوتی تھی اور جیسے ہی کوئی غیر ملکی ہوٹل سے باہر آتا وہ لوگ اس کا گھیرائو کر لیتے اور منتیں کرتے کہ ان سے کچھ روبل خرید لیں اور اس کے عوض چند ڈالر دے دیں۔ خاص طور پر شام کے وقت ہوٹل سے باہر نکلنا ایک عذاب ہوتا تھا۔ لوگ اپنے پاس روبل ایک رات کے لیے بھی رکھنے کا رسک نہیں لینا چاہتے تھے کیونکہ انہیں یقین ہو گیا تھا کہ اگلی صبح تک روبل اپنی قیمت مزید کھو چکا ہوگا۔ روبل کے اس بحران سے مہنگائی ہر روز تیزی سے بڑھ رہی تھی اور مقامی لوگوں کو نان و نفقہ کی پڑی ہوئی تھی۔ چند ہی ماہ میں لوگ سفید پوشی اور عزتِ نفس سے محروم ہو گئے تھے اور اپنے گھر کی اشیاء بیچ کر گزارا کر رہے تھے۔ خوبصورت لڑکیاں ہوٹلوں میں ایسے گاہکوں کی تلاش میں کمروں کے دروازہ کھٹکھٹاتی پھرتی تھیں جو انہیں خاندان کا پیٹ بھرنے کے لیے کچھ معاوضہ دے سکیں۔ بازاروں سے مقامی گاہک غائب ہو گئے تھے اور دکاندار ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے تھے۔ ایک روز ایک مقامی فروٹ مارکیٹ سے صرف پانچ ڈالر کے برابر روبل دے کر اتنے پھل خریدے کہ واپسی پہ ہم تینوں ساتھیوں سے لفافے سنبھالے نہیں جا رہے تھے۔ ایک روز میں نے ہوٹل کے ایک نوجوان ویٹر کو پانچ ڈالر کی ٹپ دی جو میرے لیے شاید صرف دو سو روپے تھے مگر وہ اتنا بدحواس ہوا کہ مجھے ڈر لگا کہ یہ پاگل ہی نہ ہو جائے۔ لوگ ڈالر کو انتہائی متبرک چیز سمجھنے لگ گئے تھے۔ مقامی کرنسی سے ان کی جیبیں تو پھولی ہوئی تھیں مگر اس کے عوض اشیاء بہت کم ملتی تھیں۔ لوگ اپنی کرنسی روبل پہ اعتماد ہی نہیں کھو چکے تھے بلکہ اس سے نفرت تک کرنے لگ گئے تھے۔ ان کی ہر ممکن کوشش ہوتی تھی کہ رات ہونے سے پہلے وہ روبل کے عوض چند ڈالر لے کر اپنی بچت کو اگلے روز مزید برباد ہونے سے بچا لیں۔ میرے لیے بین الاقوامی مالیاتی اور شرح تبادلہ کے نظام کی شیطانیت کا یہ منظر بہت ہولناک تھا۔ روبل کی تباہی کے اسباب معاشی بھی ہوں گے مگر سیاسی ضرور تھے۔ ملک ایک افراتفری کا شکار تھا۔ افواہیں کہ کرنسی منسوخ ہو جائے گی یا اپنی قدر ہر گزرتے دن کے ساتھ کھو دے گی، لوگوں میں ہیجان اور افراتفری پیدا کرتی جا رہی تھیں اور لوگوں کو ایسا مسیحا نظر نہیں آ رہا تھا جو اس صورتحال کو سنبھال سکے۔ میں نے عراقی اور افغانی کرنسی کے بھی اس طرح کے بحرانوں کا سن رکھا ہے مگر چوںکہ ازبکستان میں روبل کی تباہی کا میں نے خود مشاہدہ کیا، اس لیے میں پاکستان کے موجودہ معاشی، سیاسی اور معاشی حالات کے متعلق کچھ زیادہ حساس ہوں اور فکرمند رہتا ہوں، اللہ کرے ہمارا ملک جلد سیاسی اور معاشی استحکام حاصل کرلے۔ آمین!‘‘

حجازی صاحب کا یہ پیغام پڑھ کر تشویش مزید بڑھی کہ نجانے پاکستانی روپے کے ساتھ مزید کیا ہونے والا ہے۔ ڈالر کے مقابلہ میں روپیہ جس تیزی سے گر رہا ہے، اگر ایک طرف یہ پاکستان کی معیشت کے لیے خطرناک ہے تو دوسری جانب یہ عمل ہم پاکستانیوں کی اخلاقی پستی اور کھوکھلے پن کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ عمران خان حکومت نے آئی ایم ایف سے کیا طے کیا، تفصیلات ابھی سامنے آنا باقی ہیں لیکن جس انداز سے پاکستان میں ڈالر خرید خرید کر جمع کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے وہ ایک ایسا شرمناک عمل ہے جس کا مقصد اپنے ذاتی فائدے کے لیے پاکستان اور اس کی معیشت کو تباہ کرنا ہے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ اگر وزیراعظم عمران خان عوام کو ڈالر خرید کر جمع کرنے کی ریس سے روکنے کے لیے کوئی بات نہیں کر رہے تو اپوزیشن رہنما چاہے وہ شہباز شریف ہوں، مریم نواز، بلاول یا کوئی اور وہ سب بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ ایک دوسرے کو ہر خرابی کا ذمہ دار تو ٹھہرا رہے ہیں لیکن نہ کسی حکومتی اور نہ ہی کسی اپوزیشن لیڈر نے کوئی ایسی مہم چلانے کی بات کی جس سے پاکستانی عوام میں یہ آگاہی پیدا کی جائے کہ ڈالر خرید خرید کر جمع کرنے کے عمل سے نقصان پاکستان اور اس کی معیشت کا ہو رہا ہے۔ جب خان صاحب اپوزیشن میں تھے تو ایسی مہمات چلانے میں ذرا دیر نہیں کرتے تھے لیکن نہیں معلوم حکومت میں آنے کے بعد اُنہیں کیا ہو گیا ہے۔ شہباز شریف، مریم اور بلاول وغیرہ شاید اس بات پر خوش ہیں کہ عمران خان کی حکومت بدنام اور کمزور ہو رہی ہے لیکن اُنہیں احساس کرنا چاہئے کہ دراصل پاکستان کمزور ہو رہا ہے۔ اگر حکومت روپے کی گراوٹ کی ذمہ دار ہے تو پھر اپوزیشن کیوں ’’ڈالر بیچو، روپیہ خریدو‘‘ کی مہم نہیں چلاتی؟ گزشتہ دو تین دن سوشل میڈیا کے ذریعے ڈالر خرید خرید کر جمع کرنے کے رجحان کے خلاف ’’بائیکاٹ ڈالر‘‘ کی ایک مہم چلائی گئی جو ٹویٹر پر دو روز تک ٹاپ ٹرینڈز میں شامل رہی لیکن افسوس کہ سیاستدان خواہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں، جو ویسے ٹویٹر پر بڑے ایکٹیو رہتے ہیں، نے اس معاملے پہ ایک لفظ بولنے تک کی تکلیف نہیں کی۔ اس مہم میں صرف جماعت اسلامی کے سوشل میڈیا سیل نے حصہ لیا لیکن سراج الحق صاحب نے بھی کچھ کہنے سے گریز کیا۔ آج جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیںتو بلاول بھٹو کی دعوتِ افطار کی تیاریاں ہیں، افطاری کے بہانے سب اکٹھے ہوں گے اور حکومت کو گرانے کی حکمت عملی پر بات کریں گے۔ کاش یہ رہنما مل کر یہ فیصلہ بھی کر لیں کہ حکومت بھلے آئی ایم ایف کے ہاتھوں بک چکی ہے لیکن ہم روپے کو گرنے نہیں دیں گے اور مل کر ’’روپیہ خریدو، ڈالر بیچو‘‘ کی مہم چلائیں گے۔ لیکن ایسا ہوگا نہیں!! ہماری سیاست میں بونے ہی بونے ہیں جن کی سیاست اقتدار اور اپنی ذات کے اردگرد ہی گھومتی ہے۔ ڈالر خرید خرید کر جمع کرکے روپے کی قدر میں کمی کرنے کے اس عوامی عمل کے خلاف سوشل میڈیا کی مہم میں بہت سے لوگوں نے ترکی کی مثال دی کہ ترک عوام نے کیسے ڈالر کے خلاف اپنی کرنسی لیرا کو گرنے سے بچانے کے لیے ڈالر اور غیر ملکی کرنسی بیچنے اور لیرا خریدنے کی مہم چلائی۔ اس پر ایک صاحب نے کیا خوب تبصرہ کیا کہ ہم مثالیں تو ترکی اور ترک عوام کی دیتے ہیں لیکن ہماری اپنی حرکتیں میر جعفر والی ہیں۔
بشکریہ روزنامہ جنگ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں