15

سترہویں پارے کا خلاصہ-علامہ ابتسام الہٰی ظہیر (دین سے دنیا تک )

سترھویں پارے کا آغاز سورۃ الانبیا سے ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ لوگوں کے حساب و کتاب کا وقت آن پہنچا ہے‘ لیکن لوگ اس سے غفلت برت رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے دین سمجھنے کا طریقہ بھی بتلایا کہ اگر کسی شے کا علم نہ ہو تو اہل علم سے اس بارے میں سوال کر لینا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا ہے کہ اس نے زمین اور آسمان کو کھیل تماشے کے لیے نہیں بنایا ‘اگر اس نے کھیل ہی کھیلنا ہوتا تو وہ کسی اور طریقے سے بھی یہ کام کرسکتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا کہ اس نے ہر چیز کو پانی کے ساتھ زندہ کیا ۔اللہ تعالیٰ انسانوں کو اچھے اور برے حالات سے آزماتے ہیں ۔جب حالات اچھے ہوں تو انسان کو شکرکرنا چاہیے اور جب حالات برے ہوں تو انسان کو صبر کرنا چاہیے ۔
اس پارے میں ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن انسانوں کے اعمال کو تولنے کے لیے میزان عدل قائم کریں گے‘ اس میزان میں ظلم والی کوئی بات نہیں ہو گی اور جو کچھ اس میں ڈالا جائے گا‘ وہ انسان کے اپنے ہاتھ کی کمائی ہو گی۔ سورہ انبیا میں اللہ تعالیٰ نے جناب ابراہیم ؑکی جوانی کے اس واقعے کابھی ذکر کیا کہ جب آپ نے اپنے والد اور قوم سے کہا کہ یہ مورتیاں کیا ہیں ‘جن کی تم عبادت کرتے ہو۔انہوں نے کہا :ہم نے اپنے باپ اور دادائوں کو ان کی عبادت کرتے ہوئے پایا ہے ۔ابراہیم ؑ نے کہا کہ تم اور تمہارے باپ کھلی گمراہی میں تھے۔ انہوں نے کہا :کیا تم واقعی ہمارے پاس حق لے کر آئے ہو یا یونہی مذاق کر رہے ہوتو ابراہیم علیہ السلام نے ان کی اس بات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ تمہارا رب آسمان اور زمین کا رب ہے‘ جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں اس بات کے حق ہونے کی گواہی دیتا ہوں ‘اللہ کی قسم جب تم لوگ پیٹھ پھیر کر چلے جائو گے تو میں تمہارے بتوں کے خلاف ضرور کارروائی کروں گا ۔ پس ابراہیم ؑنے ان کی عدم موجوگی میں بت کدے میں داخل ہوکر بتوں کو توڑ ڈالا۔ جب قوم کے لوگ بت کدے میں داخل ہوئے تو انہوں نے بتوں کو ٹوٹا ہوا دیکھا ۔انہوں نے کہا :جس نے ہمارے بتوں کا یہ حال بنایا ہے‘ وہ یقینا ظالم آدمی ہے ۔لوگوں نے کہا ‘ہم نے ابراہیم علیہ السلام نامی ایک نوجوان کو ان بتوں کے بارے میں باتیں کرتے سنا تھا۔ انہوںنے کہا :تم اسے سب کے سامنے لائو‘ تاکہ لوگ اسے دیکھیں۔ لوگوں نے پوچھا : اے ابراہیم‘ کیا تم نے ہمارے بتوں کا یہ حال بنایا ہے؟ انہوں نے کہا: اس بڑے بت نے یہ کیا ہے ‘اگر یہ بت بول سکتے ہیں تو ان سے پوچھ لو ‘پھر انہوں نے اپنے دل میں اس بات پر غور کیا اور آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے حقیقت میں تم لوگ ظالم ہو ‘پھر حقیقت کو قبول کرنے سے انکاری ہوگئے اور کہنے لگے کہ آپ جانتے ہیں کہ یہ بت بولتے نہیں۔ جناب ابراہیم ؑ نے کہا :تو کیا تم لوگ اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہو جو تمہیں نہ کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی نقصان ۔تف ہے تم پر اور تمہارے ان معبودوں پر‘ جن کی اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو ‘کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟اس دعو ت توحید پر بستی کے لوگ بھڑک اٹھے اور کہنے لگے کہ ابراہیم کو جلادو اور اگر اپنے معبودوں کی مدد کرسکتے ہو تو کرو۔ ابراہیم ؑ کو جلانے کے لیے چتاکو بھڑکایا گیا۔ جب چتا بھڑ ک اٹھی تو ابراہیم ؑنے دعامانگی ”حسبنا اللّٰہ ونعم الوکیل ‘‘ہمارے لیے اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہترین کارسازہے ۔اس پر اللہ نے کہا :اے آگ! تُو ابراہیم ‘پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوجا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ انہوں نے جناب ابراہیم ؑ کے خلاف سازش کرنی چاہی تو ہم نے انہیں بڑا خسارہ پانے والا بنا دیا ۔
پھر اللہ نے جناب دائودؑ اور سلیمان ؑکی حکومت کا اور ایوب علیہ السلام کے صبر کا ذکر کیا کہ آپ شدید بیماری کے باوجود اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہوئے ۔اللہ تعالیٰ نے ایوب علیہ ا لسلام کی دعا قبول کرکے آپ کی تمام مشکلات کو دور فرما دیا۔جناب یونس ؑ کے واقعے کا بھی ذکر ہے کہ آپ جب غم کی شدت سے دوچار تھے تو آپ نے پروردگار عالم کو ندا دی کہ ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس کی ذات پاک ہے اس تکلیف سے جو مجھ کو پہنچی ہے اور بے شک یہ تکلیف مجھے اپنی وجہ سے آئی ہے ‘‘تو اللہ نے جناب یونس ؑ کی فریاد سن کران کے دکھوں کو دور فرمادیااور ساتھ ہی یہ اعلان بھی فرمادیا کہ جو کوئی بھی حالت ِغم میں جناب یونس ؑ کی طرح اللہ کی تسبیح کرے گا تو اللہ جناب یونس ؑہی کی طرح اس کے غم کو دور فرمائیں گے ۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کے منصب کا بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دو جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔
سورۃ الانبیاء کے بعد سورہ حج ہے جس کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوںکو قیامت کی ہولناکیوں سے ڈرایا اور ارشاد فرمایا کہ بے شک قیامت کا زلزلہ بہت بڑا ہے ۔اور اس زلزلہ کی وجہ سے حاملہ اپنے حمل کو گرا دے گی اور دودھ پلانے والی ماں اپنے دودھ پیتے بچے کو پرے پھینک دے گی اور لوگ حالت نشہ میں نظر آئیں گے ‘جبکہ وہ نشے میں نہیں ہوں گے‘ بلکہ اللہ کا عذاب انتہائی شدید ہو گا ‘پھر اللہ تعالیٰ نے بدر کے معرکے کا بھی ذکر کیا کہ جس میں ایک ہی قبیلے کے لوگ آپس میں ٹکراگئے تھے اور یہ جنگ نسل ‘ رنگ یا علاقے کی بنیاد پر نہیں ‘بلکہ عقیدہ توحید کی بنیاد پر ہوئی تھی ۔
اللہ تعالیٰ نے جناب ابراہیم ؑ کے لیے خانہ کعبہ کی جگہ مقرر کی اور ان سے کہا کہ آپ کسی بھی چیز میں میرا شریک نہ ٹھہرایئے اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں ‘قیام کرنے والوں‘ رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لیے شرک اور بت پرستی سے پاک رکھیے اور آپ لوگوں میں حج کا اعلان کریں ‘تاکہ وہ آپ کے پاس پیدل چل کر اور دبلی اونٹنیوں پر سوار ہوکر دور دراز علاقوں سے آئیں ۔وہ اپنے لیے دینی اور دنیوی فوائد کو حاصل کرسکیں اور گنتی کے مخصوص دنوں میں ان چوپایوں کو اللہ کے نام پر ذبح کریں‘ جو اللہ نے بطور روزی انہیں دیے ہیں۔ پس‘ تم لوگ اس کا گوشت خود بھی کھائو اور بھوکے فقیروں کو بھی کھلائو ۔
اللہ تعالیٰ نے قربانی کی قبولیت کے لیے تقویٰ کو شرط قرار دیا کہ اللہ تعالیٰ کو جانوروں کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا ‘بلکہ اللہ تعالیٰ کو انسان کا تقویٰ پہنچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان مظلوم مسلمانوں کو بھی جہاد کی اجازت دی کہ جن کو بغیر کسی جرم کے ان کے گھروں سے عقیدہ توحید کی وجہ سے نکال دیا گیا تھا۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے ایک مثال کے ذریعے شرک کی تردید کی کہ جن معبودان باطل کو لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر پکارتے ہیں ان کی کیفیت یہ ہے کہ وہ سارے جمع ہو کر ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتے اور مکھی بنانا تو دور کی بات ہے اگر مکھی ان سے جبراً کوئی چیز چھین کر لے جائے تو اس کو واپس بھی نہیں پلٹا سکتے ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں قرآن پڑھنے‘ سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق دے ۔(آمین)
بشکریہ روزنامہ دنیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں