18

پرائز بانڈ کی شرعی حیثیت ؟

جواب: بسم اللہ والحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ ، اما بعد؛

پرائز بونڈ جدید دور میں سود اور جوے کا مرکب ہے اور اسلام میں نہ سود کے لیے کوئی جگہ ہے نہ جوا کی کوئی نوع جائز ہے،اس طریقے میں حکوم اپنی ضرورت کے پیش نظر متعین رقوم کے بدلے خاص متبادل بیچتی ہے، جبکہ اصل رقوم حکومت کو وصول ہو جاتی ہے۔اس طرح اپنی ضرورت کے مطابق حکوم اس رقم کو استعمال کرتی ہے۔ پرائزبونڈ کا خریدار جب چاہے اپنی اصل رقم واپس لے کر یہ پرائز بونڈ فروخت کر سکتے ہیں۔ پھر قرعہ اندازی کر کے بعض افراد کو مخصوص انعامات دیے جاتے ہیں۔ حقیقت میں انعام کی یہ رقم وہ سود ہوتی ہے جو حکومت عوام کی رقم اپنے پاس رکھ کر حاصل کرتی ہے، پھر تمام حاملین پرائز بونڈ کو منافع(سود) کی یہ رقم دینے کی بجائے بعض لوگوں کو انعام کی شکل میں دے دی جاتی ہے۔ ایسی انعامی رقم عین سود ہے، فقط نام تبدیل کر کےعوام کو اس میں مشغول کیا جاتا ہے۔ پھر اکثر لوگوں کو چھوڑ کر صرف چند لوگوں کو منافع کا حقدار قرار دیا جاتا ہے۔جس کی شاخیں جوئے سے ملتی ہیں۔

عوام کو اس سے لالچ یہ ہوتی ہے کہ جب چاہیں گے پرائز بونڈ فروخت کر کے اپنی اصل رقم حاصل کر لیں گے۔ اوراگر انعام نکل آیا تو مفت کا منافع بھی ہے۔ یاد رہے حرام کے لیے حیلہ کرنا بھی اسلام میں جائز نہیں،لہذا سود اور جوا خواہ اپنی اصل کیفیت میں ہوں یا شکل و صورت بدل کے میسر ہوں دونوں انداز سے حرام ہیں ان سے پچنا دین و ایمان کی حفاظت ہے۔

واللہ المستعان

http://ircpk.com/fatwa/الفقه-وأصوله…وخت/سود-خوری/6816-prize-bonds-halal-hain.html

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں