16

بچوں پر جنسی تشدد… ہم کیا کر سکتے ہیں؟ مسرور احمد

چند روز پہلے گورنمنٹ کالج لاہور کے ایک طالب علم محمد شہباز لیاقت کا پیغام موصول ہوا کہ بچوں پر بڑھتے ہوئے جنسی تشدد کے تناظر میں لوگوں کی آگاہی کیلئے کچھ تحریر کریں۔ یہ بڑی افسوس کی بات ہے کہ کوئی بھی دن ایسا نہیں گزرتا جب معصوم کم سن بچوں کو زیادتی کا نشانہ نہیں بنایا جاتا۔ بہت سے واقعات میں ان بچوں کو زیادتی کے بعد قتل بھی کر دیا جاتا ہے۔ یہ بہت گھٹیا عمل ہے جس کی روک تھام کیلئے سخت قوانین بنانے اور ان پر عمل درآمد کی ضرورت ہے۔ بچوں پر جنسی تشدد ایک ایسا فعل ہے جس میں کوئی بالغ شخص یا نسبتاً بڑا بچہ یا بچی اپنے سے چھوٹے بچے کو جنسی طریقے سے استعمال کرے۔اس عمل میں جنسی گفتگو ، چھونا، دیکھنا، اپنے جنسی اعضا دکھانا یا بچے کے جنسی اعضاء کو دیکھنے سے لے کر زیادہ شدید صورت یعنی زنا بالجبر بھی شامل ہے۔ عام خیال کے برعکس بچوں پر جنسی تشدد پاکستانی معاشرے میں عملی طور پر کیا جانے والا جرم ہے۔ بچوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم آنگن کے ایک سروے کے مطابق عام طور پر چھ سے بارہ سال تک کے بچے جنسی تشدد کا شکار ہوتے ہیں جبکہ زیادہ تر بچے سات سے آٹھ سال تک کی عمر میں جنسی تشدد کا شکار ہوتے ہیں۔ تشدد سے متاثرہ بچوں میں 44 فیصد لڑکے اور 46 فیصد لڑکیاں ہوتی ہیں۔ تشدد کے ایسے 67 فیصد واقعات میں قریبی رشتہ دار یا جاننے والے، گھریلو ملازمین یا ڈرائیور وغیرہ ہوتے ہیں جبکہ صرف سات فیصد واقعات میں تشدد کرنے والے بچے کیلئے اجنبی تھے۔

منسٹری آف ہیومن رائٹس کے مطابق 2013 سے اب تک تقریباً بیس ہزار بچوں کو پاکستان میں جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ کچھ عرصہ قبل جنسی تشدد کے بعد ظالمانہ طریقے سے قتل کی جانے والی قصور کی ایک سات سالہ بچی زینب کا کیس صرف ایک واحد مثال نہیں ہے۔ قصور کے ہی ایک علاقے حسین خان والا میں تین سال قبل ایک لوکل گینگ نے سینکڑوں بچوں سے نہ صرف زیادتی کی بلکہ ان کی وڈیو فلم بنا کر ان بچوں کو بلیک میل بھی کیا۔ پاکستان میں بچوں پر جنسی تشدد کے روزانہ کی بنیاد پر گیارہ کیس رپورٹ ہو رہے ہیں جبکہ رپورٹ نہ ہونے والے کیس اس سے کئی گنا زیادہ ہیں۔ سال 2014-15 کے دوران صرف قصور میں پانچ سے آٹھ سال کی بارہ بچیوں سے زیادتی اور قتل کے بارہ واقعات رپورٹ ہوئے۔ بچوں پر جنسی تشدد کی روک تھام کیلئے کام کرنے والی ایک اور تنظیم ساحل کے مطابق 2017 میں بچوں پر جنسی تشدد کے حوالے سے ملک بھر میں 3500 واقعات رپورٹ کیئے گئے تھے۔2016 میں رپورٹ ہونیو الے ان واقعات کی تعداد 4139 تھی۔

ان چونکا دینے والے اندوہ ناک اعدادوشمار کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عدالتی نظام کی خامیاں اس صورتحال میں بہتری لانے میں بری طرح ناکام ہیں۔ سب سے پہلے تو ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی معاشرتی طبقے ، عمر، صنف، یا ذہنی سطح سے تعلق رکھنے والا بچہ جنسی تشدد کا شکار ہو سکتا ہے۔ تشدد کرنے والے عموماً جاننے والے ہوتے ہیں اور گھر والے ان پر بہت اعتماد کرتے ہیں۔ عام طور پر جنسی تشدد کا شکار ہونے والے بچے اس کا اظہار کرنے سے گھبراتے ہیں اور کچھ تو شاید ساری عمر اس کے بارے میں شرمندگی، احساس جرم اور اپنے خاندان کے افراد کو پریشان نہ کرنے کے خیال سے بات نہیں کر پاتے۔ ایک خوف یہ بھی ہے کہ سننے والے ان کی بات کا یقین نہیں کریں گے یا ان کو قصور وار ٹھہرائیں گے۔ اس کے علاوہ جنسی تشدد کرنے والے لوگ دھمکیوں کا بھی استعمال کرتے ہیں۔

بچیاں اور بچے دونوں ہی ایسے تشدد کا شکار ہو سکتے ہیں۔ جنسی تشدد میں بچہ کبھی بھی قصور وار نہیں ہوتا۔ جنسی تشدد کے بچوں کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جن میں بچوں کے رویوں میں فوری تبدیلی آنا، پیشاب یا حاجت کے وقت درد یا تکلیف کی شکائیت کرنا، مخصوص لوگوں سے تنہائی یا اکیلے میں ملتے ہوئے گھبرانا اور ہچکچانا، موزوں وقت سے پہلے جنسی معلومات کا حاصل ہونا، بچگانہ حرکتیں جیسے انگوٹھا چوسنا اور سوتے ہوئے پیشاب کرنا، خود کو نقصان پہنچانے والا رویہ مثلاً خود کشی کے رجحانات یا نشہ وغیرہ کی لت میں مبتلا ہونا، جنسی مسائل جیسے جنسی تعلقات میں بالکل دلچسپی نہ لینا جیسی مشکلات کے علاوہ نیند اور کھانے کے مسائل بھی بچوں پر جنسی تشدد کے اثرات ظاہر کرتے ہیں۔یہ علامات کسی اور ذہنی پریشانی کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہیں، تاہم یہ علامات آپ کو تشدد کے امکان کے بارے میں باخبر کر سکتی ہیں۔

ہمیں یہ بھی پتہ ہونا چاہیئے کہ بچوں پر جنسی تشدد کے اثرات سے بحالی مدد گار ماحول میں ہی ممکن ہے اور اگر تشدد کا پتہ چل جائے تو ہمیں چاہیئے کہ الزام دینے یا صدمے کا اظہار کئے بغیر تشدد کے شکار بچے اور خاندان سے علیحدگی میں اپنے خدشات کے بارے میں بات کریں، متاثرہ خاندان کو اپنے پاس موجود معلومات سے آگاہ کریں اور خاندان کو پیشہ وارانہ یا قانونی مدد حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی کریں۔ خاص طور پر اس مسئلے پر آگاہی بڑھانے سے ہم جنسی تشدد کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اگر آپ والدین ہیں تو بچوں کے سامنے سادہ مگر اہم حفاظتی اصولوں کو بار بار دہرائیں۔ بچوں کو سکھائیں کہ جن چیزوں کے بارے میں وہ بے سکونی محسوس کرتے ہیں ان کو ماننے سے انکار کر دیں اورسب سے بڑھ کر بچوں کو “نہ” کہنا سکھائیں۔ والدین جنسی تشدد کے موضوع پر جس حد تک ممکن ہو بچوں سے بات کریں۔ اس موضوع پر زیادہ سے زیادہ آگاہی پیدا کرنا، بچوں پر جنسی تشدد کی ر وک تھام میں نہایت اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ ہمیں بچوں کو باور کرانا چاہیئے کہ اس جرم میں وہ قصور وار نہیں تھے۔ ایسی صورتحال میں انھیں مدد لینے پر آگاہی دیں، بچوں کے احساسات کو جائز سمجھیں اور یہ کہ اس بارے میں بچوں کو خاموش نہیں رہنا چاہیئے۔ والدین سے ہٹ کر ایک استاد یا ماہر صحت بھی جسم کی حفاظت پر بچوں سے کھل کر بات کرنے کا مجاز ہو سکتا ہے اور بچوں اور خاندان کی راہنمائی کر سکتا ہے۔
بشکریہ ہم سب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں