49

پندرھواں پارہ -علامہ ابتسام الہٰی ظہیر (دین سے دنیا تک )

پندرھویں پارے کا آغاز سورہ بنی اسرائیل سے ہوتا ہے۔ شروع میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ” پاک ہے وہ ذات‘ جو اپنے بندے کو رات کے وقت مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے گئی‘ جس کے گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں‘ تاکہ ہم انہیں اپنی نشانیاں دکھائیں بے شک وہ خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔
حضرت رسول کریمﷺ‘جبرائیل امین علیہ السلام کی معیت میں بیت المقدس کی عمارت میں داخل ہوئے‘ جہاں آدم علیہ السلام سے لے کر عیسیٰ علیہ السلام تک تمام انبیاء صف باندھے موجود تھے۔ رسول کریمﷺنے نماز کی امامت فرمائی اور تمام انبیاء نے آپ کی امامت میں نما زادا کی اور یوں کائنات کے لوگوں کو یہ بات سمجھائی گئی کہ رسول کریمﷺصرف آنے والوں کے ہی امام نہیں‘ بلکہ جانے والوں کے بھی امام ہیں۔جب رسول کریمﷺسفر معراج سے واپس آئے ‘تو ابوجہل نے جناب ابوبکر صدیق ؓ سے پوچھا کہ کیا کوئی انسان ایک رات میں بیت المقدس کا سفر کر کے واپس آسکتا ہے‘ تو جناب ابوبکرؓ نے کہا: ”ایسا ممکن نہیں‘‘ ابوجہل نے کہا:” پھر جس کو آپ نبی مانتے ہیں انہوں نے اس سے بھی بڑی بات کی ہے کہ وہ بیت المقدس اور اس کے بعد آسمانوں کی سیر کرکے واپس آگئے ہیں۔ حضرت ابوبکر ؓ نے کہا کہ اگر رسول ﷺنے ایسا کہا ہے‘ تو پھر درست کہا ہے ۔اس لیے کہ رسول کریمﷺکی کوئی بات کسی بھی حالت میں غلط نہیں ہو سکتی ہے۔اس پارے میں اللہ نے یہ بھی بتلایا کہ یہ قرآن مجید نیک اعمال کرنے والے مومنوں کے لیے بشارت ہے اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے‘ ان کے لیے دردناک عذاب ہے ۔اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر لیا ہے کہ عبادت صرف اللہ تعالیٰ کی ہونی چاہیے اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہیے ۔اگر وہ دونوں (والد‘ والدہ) یا ان میں سے کوئی ایک بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائیں‘ تو ان کو اُف بھی نہیں کہنا چاہیے اور نہ ان کو جھڑکنا چاہیے اور ان کو اچھی بات کہنی چاہیے اور ان کے سامنے محبت کے ساتھ اپنے کاندھوں کو جھکانا چاہیے اور یہ دعا مانگنی چاہیے کہ پروردگار ان پر رحم کر جس طرح وہ بچپن میں مجھ پر رحم کرتے رہے ۔
اللہ تعالیٰ نے اس سورہ میں یہ بھی ارشاد فرمایا کہ قرابت داروں‘ مساکین اور مسافروں کے حق ادا کرنے چاہئیں اور فضول خرچی نہیں کرنی چاہیے ۔بے شک فضول خرچ شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے پروردگار کا ناشکرا ہے۔اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کے امام کے نام سے بلائیں گے‘ یعنی جس کی پیروی انسان کرتا ہے‘ اسی کی نسبت سے انسان کو بلایا جائے گا۔ اس سورہ میں فجر کے وقت قرآن مجید کی تلاوت کا ذکر کیا گیا ہے کہ اس وقت قرآن مجید کی تلاوت کرنا باعث ِ برکت ہے اور اس وقت فرشتے قرآن سننے کو حاضر ہوتے ہیں ۔اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺکو تہجد کی نماز ادا کرنے کا حکم دیا کہ یہ نماز نبی ﷺ پر امت کے مقابلے میں لازمی تھی اور اس کا سبب یہ بتلایا کہ اللہ تعالیٰ نبی کریم ﷺ کو قیامت کے روز مقام محمود عطا فرمائیں گے ۔اس سورہ کے آخر میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو چاہے اللہ کہہ کر پکارو‘ چاہے رحمان کہہ کے پکارو ‘اللہ تعالیٰ کے اچھے اچھے نام ہیں‘ اس کو جس نام سے چاہو پکارو۔
سورہ بنی اسرائیل کے بعد سورۃ کہف ہے ۔سورۃ کہف میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید بشارت دیتا ہے۔ نیک عمل کرنے والے مسلمانوں کو کہ ان کے لیے بڑے اجر کو تیار کردیا گیا ہے۔ اس میں عیسائیوں اور یہودیوں کو ڈرایا گیا ہے‘ جو کہ عیسیٰ ؑ اور عزیر ؑ کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں نہ تو ان کے پاس علم ہے اور نہ ان کے آبائواجداد کے پاس علم تھا اور یہ بات گھڑی ہوئی ہے۔ پس‘ یہ جھوٹ بول رہے ہیں ۔سورہ کہف میں اللہ تعالیٰ نے بعض مومن نوجوانوں کا ذکر کیاہے ‘جو کہ وقت کے بے دین بادشاہ کے شر اور فتنے سے بچنے کے لیے ایک غار میں پناہ گزین ہو گئے تھے ۔اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ کے اظہار کے لیے انہیں 309 برس کے لیے سلا دیا اور اس کے بعد جب وہ بیدار ہوئے تو آپس میں بات چیت کرنے لگے کہ ہم کتنا سوئے ہوں گے تو ان کا خیال یہ تھا کہ ایک دن یا اس کا کچھ حصہ سوئے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ایسے واقعات بیان کر کے در حقیقت توجہ آخرت کی طرف مبذول کر وائی ہے کہ جو اللہ تین سو نو برس تک لوگوں کو سلا کر بیدار کر سکتا ہے کیا وہ قبروں سے مردہ وجودوں کو برآمد نہیں کر سکتا؟
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ کابھی ذکر کیا ۔ہوا کچھ یوں کہ جناب موسیٰ علیہ السلام ایک مرتبہ بنی اسرائیل کے اجتماع میں موجود تھے کہ آپ سے سوال کیا گیا کہ اس وقت روئے زمین پر سب سے بڑا عالم کون ہے تو جناب موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا کہ اس وقت سب سے بڑا عالم میں ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو بہت بڑ ا مقام عطا کیا تھا ‘لیکن یہ جواب اللہ تعالیٰ کی منشا کے مطابق نہ تھا۔اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰ ؑ کو کہا کہ دو دریائوں کے سنگم پر چلے جائیں ‘وہاںپر آپ کی ملاقات ایک ایسے بندے سے ہوگی ‘جن کو میں نے اپنی طرف سے علم اور رحمت عطا کی ہے۔جناب موسیٰ ؑ دو دریائوں کے سنگم پر پہنچے تو آپ کی ملاقات جناب خضرؑ سے ہوئی ۔جناب موسیٰ علیہ السلام نے جناب خضرؑسے پوچھا کہ اگر میں آپ کے ہمراہ رہوں تو کیا آپ رشد وہدایت کی وہ باتیں جو آپ کے علم میں ہیں‘ مجھے بھی سکھلائیں گے۔ جناب خضر ؑنے جواب میں کہا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے اور آپ ان باتوں کی بابت کیونکر صبر کریں گے‘ جن کو آپ جانتے ہی نہیں ۔موسیٰ ؑ نے جناب خضرؑ کو صبر کی یقین دہانی کرائی تو دونوں اکٹھے چل پڑے ۔کچھ چلنے کے بعد آپ ایک کشتی میں سوار ہو گئے ۔جب اترنے لگے تو خضر ں نے کشتی میں سوراخ کر دیا جناب موسیٰ علیہ السلام کو یہ بات پسند نہ آئی کہ جس کشتی میں سفر کیا اس میں سوراخ کر دیا۔ آپ نے کہا کہ آپ نے یہ کیا کام کر دیا۔ جناب خضر ؑ نے کہا کہ کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے۔ جناب موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ آپ میرے بھول جانے پر مواخذہ نہ کریں اور نہ ہی میرے سوالات پر تنگی محسوس کریں۔ جناب خضرؑ اور موسیٰ ؑ پھر چل دیئے‘ کچھ آگے جا کر ایک خوبصورت بچہ نظر آیا۔ جناب خضرؑ نے بچے کو قتل کر ڈالا‘ جناب موسیٰ علیہ السلام سے نہ رہا گیا آپ نے پھر جناب خضرؑ کے اس عمل پر اعتراض کیا۔ اس کے بعد کیا ہوا ‘یہ جاننے کے لیے اسی مضمون پرسولہویں پارے میں کچھ بحث کریں گے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں قرآن پاک پڑھنے‘ سمجھنے اور اس میں مذکور مضامین سے نصیحت حاصل کرنے کی توفیق بخشے۔( آمین!)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں