19

پاکستان اور آئی ایم ایف کے 60 سالہ پرانے تعلق پر ایک نظر

پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان تعلق کوئی نئی بات نہیں، دونوں ایک دوسرے سے سال 1958 سے جڑے ہیں، اس دوران دونوں کے مابین 21 بار قرضوں کے لین دین کے معاہدے ہوئے۔

عالمی مالیاتی فنڈز (آئی ایم ایف) ایک عالمی تنظیم ہے، دنیا بھر کے 189 ممالک اس کا حصہ ہیں۔ آئی ایم ایف مختلف ممالک کی اندرونی معیشتوں اور ان کی مالیاتی کارکردگی بالخصوص زر مبادلہ اور بیرونی قرضہ جات پر نظر رکھتا ہے اور ان کی معاشی ترقی اور مالی خسارے سے نبٹنے کے لیے قرضے اور تیکنیکی معاونت فراہم کرتا ہے۔

دیے جانے والے بیل آؤٹ پروگرامز کے تحت آئی ایم ایف سرمائے کی فراہمی اور ان مراعات کو حاصل کرنے والے ممالک سے مختلف اصلاحات کے نفاذ کا مطالبہ بھی کرتا ہے۔ یہ ادارہ تین طریقوں سے ممبر ممالک کی مدد یا قرضے فراہم کرتا ہے۔

معاشی طور پر نگرانی

عالمی مالیاتی ادارہ ممبر ممالک کی معاشی اور اقتصادی پالیسیوں اور سرگرمیوں پر نظر رکھتا ہے۔

قرضے فراہم کرنا

ایسے ممالک جنہیں معاشی بحران کا سامنا ہو، وہ ان ممالک کو کچھ شرائط پر مبنی قرضہ فراہم کرتا ہے۔

استعداد کار بڑھانا

آئی ایم ایف اپنی معاشی تیکنیکی معاونت سے ممبر ممالک کے اداروں اور لوگوں کو سہولت فراہم کرتا ہے اور انہیں جدید حالات کے مطابق معاشی اور اقتصادی پالیسیاں استوار کرنے میں مدد دیتا ہے۔

پاکستان 1980 کی دہائی کے اواخر سے اب تک کئی بار آئی ایم ایف سے قرضے لے چکا ہے۔ آخری مرتبہ قرضہ سال 2013ء میں لیا گیا تھا، جبکہ سال 2019 میں قرض کےلیے 6 ارب ڈالرز کا معاہدہ طے ہوگیا ہے جس کی حتمی منظوری باقی ہے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے مختلف صورتوں میں قرضے فراہم کیے جاتے ہیں۔ آئی ایم ایف کا ہمیشہ سے ہدف ہوتا ہے کہ سرکاری اخراجات میں کمی کے ذریعے ادائیگیوں کا توازن بحال کیا جائے۔ آئی ایم ایف حکومتوں کو خرچ کرنے میں اتنی زیادہ احتیاط برتنے پر مجبور کرتی ہے کہ اس کی وجہ سے مالیاتی نظام پر جمود طاری ہو جاتا ہے اور رفتہ رفتہ معاشی ترقی کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔

جنرل ریسورس اکاونٹ کے تحت قرضہ لینا

اس پروگرام کے تحت امیر ممالک آئی ایم ایف سے قرضہ حاصل کرسکتے ہیں۔

پی آر جی ٹی کے تحت قرضے کی فراہمی

اس پالیسی کے تحت وہ ممالک جو غریب یا انتہائِی غریب ہیں اور اپنے ملک سے غربت کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں، ایسے ممالک کو آئی ایم ایف کی جانب سے نسبتاً کم انٹرسٹ ریٹ پر قرضہ فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ قرضہ صرف غربت کے خاتمے کیلئے کیے جانے والے اقدامات کی مد میں ہی استعمال ہوتا ہے۔

آئی ایم ایف جی آر اے اور پی آر جی ٹی کے تحت 10 مختلف پروگرامز چلاتا ہے۔ پاکستانی حکومت کی جانب سے جی آر اے اور پی آر جی ٹی کے تحت چلنے والے 4 پروگرامز کی مد میں قرضہ لیا گیا۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آئی ایم ایف سے لیے جانے والے تمام 21 قرضے بیل آوٹ پیکجز نہیں، تاہم حالیہ لیا جانے والا قرضہ اقتصادی ماہرین کی نظر میں بیل آوٹ پیکج ہے۔ پاکستان نے آئی ایم ایف سے 12 ’’اسٹینڈ بائے اگریمنٹس‘‘ کیے تھے جنہیں معاشی ماہرین عرف عام میں بیل آؤٹ پیکج کہتے ہیں۔

قرضوں کی واپسی

آئی ایم ایف سے لیے گئے قرضوں کی واپسی کیلئے ساڑھے تین سے پانچ سال کا ہدف مقرر کیا جاتا ہے، جس کے تحت چھوٹے اور درمیانی درجے کے قرضے فراہم کیے جاتے ہیں۔ آئی ایم ایف کی جانب سے قرضے کی فراہمی کیلئے تین سال کی مدت دی جاتی ہے، تاہم 12 سے 18 ماہ میں ہی قرضہ فراہم کر دیا جاتا ہے۔ جی آر اے کے تحت ملنے والے قرضے صرف غریب ممالک کیلئے ہی نہیں ہوتے ہیں۔

آئی ایم ایف کے دیگر 9 پروگرامز کا مقصد غربت میں کمی لانا، بنیادی معاشی ڈھانچوں میں اصلاحات لانا، ملکی مالیاتی بحران پر قابو پانا اور کمزور معیشتوں کو بہتر اور عالمی سطح پر استوار کرنا ہوتا ہے۔

معاشی استحکام

عام طور پر ہوتا یہ کہ حکومتیں آئی ایم ایف سے قرض کی کڑوی گولی اس وقت لیتی ہیں جب معیشت کی حالت خراب ہو۔ کوئی بھی ملک معاشی حالت کی خرابی ایک حد تک تو برداشت کر لیتا ہے لیکن جہاں انہیں احساس ہو کہ اب معاملہ معاشی عدم استحکام کی طرف جا رہا ہے تب کسی بھی قیمت پر اس خرابی کو روکنے کی کوشش کی جاتی ہے، معاشی عدم استحکام بھی ایسے ہی ہوتا ہے۔ آئی ایم ایف کے ماہرین جو شرائط نامہ قرض کی رقم کے ساتھ قرض خواہوں کے ہاتھ میں تھماتے ہیں اس میں فوری طور پر ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا جاتا ہے جس سے معاشی عدم استحکام کو، جس میں بیرونی قرضوں اور اندرونی اخراجات کی ادائیگی وغیرہ شامل ہے، ختم کیا جا سکے۔ یوں پاکستان سمیت کئی ملکوں کی تاریخ میں ایسا کئی بار ہوا ہے کہ آئی ایم ایف نے انہیں بحرانوں سے نکالا ہے۔

قرضوں کی فراہمی میں نیا پن کیا؟

آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کیلئے لیے جانے والے قرضوں کی بات کی جائے تو ایک دلچسپ صورت حال دیکھنے کو ملتی ہے، آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو ملنے والے قرضے طویل اور بڑے ہوتے ہیں۔ طویل سے مراد قرضوں کی واپسی کا عمل ہے۔ مثلاً سال 1958 سے 1977 کے درمیان اس کی مدت ایک سال تھی۔ دوسری دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دوران لیے گئے تمام قرضے بیل آوٹ پیکجز یا اسٹینڈ بائے معاہدے تھے۔

سال 1980 سے سال 1995 کے درمیان پاکستان آئی ایم ایف کے 7 پروگرامز سے منسلک رہا، جن میں سے ایک کے سوا سارے قرضوں کی واپسی کی معیاد ایک سے دو سال رہی۔

سال 1997 سے سال 2013 میں ن لیگی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد آئی ایم ایف سے 6.4 ملین کا لون لیا گیا، جو آئی ایم ایف کے 6 مختلف پروگرامز کے تحت حاصل کیا گیا، ان میں ایک کے سوا سارے پروگرامز کی میعاد تین سال تھی۔ تاہم حالیہ دنوں میں پاکستان 13ویں بار بیل آوٹ پیکج کیلئے آئی ایم ایف کے پاس جائے گا، جو عالمی مالیاتی فنڈز کے تحت پاکستان کا 22 واں قرضہ ہوگا۔

پاکستان نے پہلی بار ستّر کی دہائی میں آئی ایم ایف سے قرض لیا تھا، جس کے بعد سے اب تک ہر آنے والی حکومت نے اس قرض کا مزہ چکھا ہے، سوائے جنرل ضیا الحق کے دور حکومت کے، کیوں کہ اس زمانے میں افغان جنگ کی وجہ سے ملک میں ڈالر کی اتنی ریل پیل تھی کہ انہیں قرض لینے کی کچھ خاص ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔
بشکریہ سماء

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں