69

ماہِ رحمت کی خیر سے فائدہ اٹھائیے-خطبہ جمعہ بیت اللہ

خطبہ جمعۃ المبارک 12 رمضان المبارک 1440ھ بمطابق 17 مئی 2019ء
مسجد حرام کے امام وخطیب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیصل بن جمیل غزاوی
عنوان: ماہِ رحمت کی خیر سے فائدہ اٹھائیے
ترجمہ: محمد عاطف الیاس
خطبے کے اہم نکات
1/ اے نیکی کرنے والے! آگے بڑھ۔ اور اے برائی کا ارادہ رکھنے والے! رک جا! 2/ خیر سے فائدہ اٹھانے اور اس سے فائدہ حاصل کرنے کے لیے چند اوصول اور نصیحتیں۔ 3/ خیر کا وسیع اور شامل مفہوم۔ 4/ مسلمان سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے ہر معاملے میں خیر کا طلب رہے۔ 5/ رمضان المبارک میں وقت کی حفاظت کی یقین دھانی۔
اقتباس
رمضان المبارک دوسرے مہینوں سے اتنا ہی افضل ہے جتنا یوسف اپنے بھائیوں سے افضل تھے۔ جس طرح یوسف یعقوب کو اپنے اولاد میں سب سے زیادہ محبوب تھے، اسی طرح رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کو تمام مہینوں سے زیادہ محبوب ہے۔ یعقوب کے 11 بیٹے تھے۔ مگر ان میں سے کسی کی چادر سے ان کی بینائی نہیں لوٹی۔ صرف یوسف کی چادر ہی سے لوٹی۔ اسی طرح گناہ گار جب رمضان المبارک کی پاکیزہ خوشبو سونگتا ہے تو اس کے گناہ بھی معاف ہو جاتے ہیں۔
پہلا خطبہ
ہر طرح کی تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے۔ اسی نے ہمیں بھلائیوں والا مہینہ عطا فرمایا ہے، تاکہ ہم اس میں اس کا قرب حاصل کرے کی کوشش کریں۔ تاکہ وہ اپنے بندوں کے گناہ معاف فرمائے اور انہیں کثیر نعمتوں سے نوازے۔ میں اللہ پاک کی حمد وثنا بیان کرتا ہوں اور اسی کا شکر ادا کرتا ہوں۔ وہ جسے چاہتا ہے، فرمان برداری اور پرہیز گاری کی توفیق عطا فرما دیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے، نافرمانی اور اپنے احکام کی خلاف ورزی میں لگا کر رسوا کر دیتا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہی سب سے بڑا اور سب سے بلند ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے: ’’نیکی میں جلدی کرو‘‘، اللہ کی رحمتیں ہوں آپ ﷺ کی آل پر اور صحابہ کرام پر اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر۔
بعدازاں! اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو! اللہ نے اپنے بندوں کو یہی نصیحت فرمائی ہے۔ یاد رکھو کہ روز قیامت کے لیے تقویٰ ہی بہترین سامان ہے۔ (اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو، جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ تم کو موت نہ آئے، مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو) [آل عمران: 102]۔
اے مسلمانو! نیکی کی طرف پکارنے والا اللہ تعالیٰ حکم سے رمضان المبارک کی ہر رات میں پکارتا ہے: ’’اے نیکی کرنے والے! آگے بڑھ۔ اور اے برائی کا ارادہ رکھنے والے! رک جا!‘‘، یہ آواز بار بار نصیحت کرتی ہے، ہمیشہ یاد دہانی کراتی رہتی ہے۔ ہر وقت دعوت دیتی رہتی ہے۔ جو اہل ایمان کو نیکی کی طرف بڑھنے کی ترغیب دلاتی ہے، مفید چیزوں کی طرف آنے کا کہتی ہے، گھاٹے کی موجب برائیوں سے بچنے کی تلقین کرتی ہے۔
مسلمان کو تو نیکی کے ہر موقع کو غنیمت جاننا چاہیے اور جب تک زندگی ہو، آخرت کی تیاری میں لگا رہنا چاہیے۔ (اے لوگو جو ایمان لائے ہو، رکوع اور سجدہ کرو، اپنے رب کی بندگی کرو، اور نیک کام کرو، شاید کہ تم کو فلاح نصیب ہو) [الحج: 77]، ہمیں یہی زیب دیتا ہے کہ ہم ان گنے چنے دنوں میں اللہ تعالیٰ رحمت، فیض، سخاوت اور احسان کے جھوکوں سے فیض یاب ہونے کی کوشش کریں۔ اللہ کے بندو! اس ماہِ مبارک میں خیر کے کام کرنے کے حوالے سے چند اصول وضوابط پیش کیے دیتا ہوں، امید ہے کہ اللہ ان سے لوگوں کو فائدہ پہنچائے گا۔
پہلا اصول یہ ہے کہ : ہمیشہ بھلائی کرنے کی فکر میں رہیے۔ اسی میں مصروف رہیے، نیکی کا ارادہ رکھیے اور نیکی کرنے کا عزم کر لیجیے۔ اگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے نیکی عمل میں آ جائے ، تو آپ کی وہ مراد پوری ہو گی، جس کے لیے آپ نے تگ ودو کی تھی۔ اور اگر نیکی عمل میں نہ آ سکی تو آپ کو نیت کا اجر تو مل ہی جائے گا۔ امام احمد ﷫ کے بیٹے عبد اللہ ﷫نے ایک دن اپنے والد سے کہا: ’’اے میرے والد! مجھے نصیحت کیجیے! انہوں نے کہا: اے میرے بیٹے! ہمیشہ خیر کا ارادہ اپنے دل میں رکھنا۔ جب تک خیر کا ارادہ تمہارے دل میں رہے گا، تم نیکی پر ہی رہو گے‘‘، یہ ایک عظیم نصیحت ہے، جو اس پر عمل کرتا ہے اس کا اجر ہمیشہ جاری رہتا ہے، کیونکہ اس طرح ہر وقت اس کے دل میں نیکی کا ارادہ موجود رہتا ہے۔ اگر انسان نیکی کا اردہ رکھے، مگر اسے عمل میں لانے کے اسباب فراہم نہ ہو سکیں تو اسے اپنی نیت کا اجر تو مل ہی جاتا ہے، چاہے وہ نیکی کو عمل نہ لا سکا ہو۔ جو نیکی کا ارادہ کرتا ہےمگر اسے عمل میں نہیں لا پاتا ، اس کے لیے اللہ تعالیٰ پوری ایک نیکی لکھ دیتا ہے۔ اور جب وہ اسے عمل میں بھی لے آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس نیکیاں لکھ دیتا ہے، سات سو گنا تک بڑھا دیتا ہے، بلکہ اس سے بھی زیادہ بڑھا دیتا ہے۔ یہ وہ بات ہے جس کی خبر سچے رسول ﷺ نے دی ہے۔
یاد رہے کہ نیکی کے بارے میں سوچتے رہنے اور اس کے بارے میں غور وفکر کرتے رہنے سے نیکی کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی تلقین ملتی ہے اور حوصلہ بلند ہوتا ہے۔ ابن عباس فرماتے ہیں: ’’نیکی کے متعلق سوچنے سے انسان کے دل نیکی کرنے کی رغبت پیدا ہوتی ہے۔ اور برائی پر ندامت سے اسے چھوڑنے کی رغبت بڑھتی ہے۔‘‘ توہمیشہ نیکی کرنے اور نیکی کرنے والوں کے بارے میں سوچتے رہیئے۔ نیکی کے اچھے نتائج کو یاد رکھیے۔
ہر شخص کو چاہیے کہ وہ اپنے گناہوں پر شرمندہ ہو۔ اپنی غلطیوں پر افسوس کرے۔ گناہوں سے بچنے کا یہی بہترین طریقہ ہے۔
دوسرا اصول یہ ہے کہ: ہمیشہ یاد رکھا جائے کہ روز قیامت نیکیاں ہی کام آتی ہیں۔ جو ہمیشہ باقی رہے گا اور جس کا فائدہ انسان کو پہنچے گا۔ نیکی چاہے کم ہو یا زیادہ، وہ کبھی ضائع نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (جو نیکی بھی یہ کریں گے اس کی نا قدری نہ کی جائے گی) [آل عمران: 115]`، تو نیکی کا سامان تیار کر لیجیے۔ موقع کا فائدہ اٹھائیے اور کسی نیکی کو حقیر نہ سمجھیے۔ اللہ پاک کا فرمان ہے: (جو کچھ بھلائی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ کے ہاں موجود پاؤ گے، وہی زیادہ بہتر ہے اور اس کا اجر بہت بڑا ہے) [المزمل: 20]، ابن عباس سے روایت کہ انہوں اس آیت کے بارے میں فرمایا: (پھر جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا (7) اور جس نے ذرہ برابر بدی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا) [الزلزلۃ: 7 -8]، فرماتے ہیں: ’’مؤمن یا کافر، دنیا میں جو بھی نیکی یا برائی کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے وہ کام ضرور دکھائے گا، مؤمن اپنی نیکیاں بھی دیکھے گا اور اپنے گناہ بھی، مگر اللہ اس کے گناہ معاف فرما دے گا اور نیکوں کا اجر دے گا، کافر بھی اپنی نیکیاں بھی دیکھے گا اور گناہ بھی، اللہ اس کی نیکیوں کو ضائع کر دے گا، اور اسے گناہوں کی سزا دے گا‘‘۔
تیسرااصول یہ ہے کہ: یہ بات ہمیشہ یاد رکھی جائے کہ زندگی میں بالعموم اور ان بابرکت موقعوں پر بالخصوص نیک لوگ ہی بہترین ساتھی اور دوست ثابت ہوتے ہیں۔ حاتم اصم ﷫ فرماتے ہیں: ’’میں نے دیکھا ہے کہ ہر شخص کا کوئی نہ کوئی دوست ہوتا ہے، جسے وہ اپنی راز کی باتیں بتاتا ہے، جس کے ساتھ وہ دکھ سکھ کرتا ہے، تو میں نے نیکی کو اپنا دوست بنا لیا، تاکہ وہ حساب کے وقت بھی میرے ساتھ ہو اور پلصراط بھی میرے ساتھ پار کرے‘‘۔
تو اے میرے بھائی! ہمیشہ بھلے کام کرتے رہنا، کیونکہ نیک کام ہی *** مرنے کے بعد قبر بندے کے لیے نور بنتے ہیں۔
چوتھااصول یہ ہے کہ : اللہ کے ہر بندے کو نیکیوں کی ابتدا کرنے والا اور برائیوں کو ختم کرنے والا بننا چاہیے۔ کیونکہ لوگ دو طرح کے ہوتے ہیں، جس طرح نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو نیکیوں کی ابتدا کرنے والے ہیں، برائیوں کا راستہ روکنے والے ہیں۔ اسی طرح لوگوں میں نیکیوں کا راستہ روکنے والے بھی ہیں، جو برائی کی ابتدا کرنے والے ہیں۔ وہ شخص تو مبارک باد کے لائق ہے جسے اللہ تعالیٰ نیکیوں کی ابتدا کرنے والا بنا دے۔ اور وہ شخص تو تو رسوا ہو گیا جسے اللہ تعالیٰ نے برائیوں کی ابتدا کرنے والا بنا دیا‘‘۔ انسان کا نیکیوں کی ابتدا کرنے والا بن جانا اس چیز کی دلیل ہے کہ اللہ اس سے راضی ہے۔ ایسے شخص کا یہ ہوتا ہے کہ جب بھی وہ نظر آتا ہے لوگوں کو اللہ یاد آ جاتا ہے، وہ ہمیشہ نیکیوں میں لگا رہتا ہے، نیک کام کرتا نظر آئے، بھلی باتیں کرتا رہے، نیکی کے بارے میں سوچتا رہتا ہے، خیر کا ارادہ اپنے دل میں رکھے رکھتا ہے، ایسا شخص ہی نیکیوں کی ابتدا کرنے والا ہوتا ہے، اپنے ہر ساتھی کو نیکی کی طرف لانے کا ذریعہ بنتا ہے۔ جبکہ اس کے بالمقابل وہ شخص ہے جو برائی میں مبتلا ہوتا ہے، برے کام کرتا نظر آتا ہے، برائی بکتا ہے، برے کاموں کے بارے میں سوچتا رہے، برے ارادے رکھتا ہے، تو ایسا شخص برائی کی ابتدا کرنے والا ہے۔
اللہ کے بندے! خوب جالو کہ انسان کا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک وہ اپنے مسلمان بھائیوں کے لیے خیر کی تمنا نہ کرے۔ آپ ﷺ کا فرما ن ہے: «جب تک کوئی اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند نہیں کرتا جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے، تب تک اس کا ایمان مکمل نہیں ہوتا»
پانچواں اصول یہ ہے کہ: نیکی کی رہنمائی کرنے والا بن جانا ایک عظیم عبادت ہے جس سے انسان بہت اجر مل سکتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو نیکی کی طرف رہنمائی کرتا ہے، اسے نیکی کرنے والے جتنا اجر ملتا ہے‘‘، اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا: ’’نیکی کی نشان دہی کرنے والا نیکی کرنے والے جیسا ہے‘‘
لوگوں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچانے والا کام یہ ہے کہ کہ ان کی رہنمائی کی جائے، انہیں تعلیم دی جائے، انہیں نصحیت کی جائے، ان کے لیے نیکی کے کاموں کی نشان دہی کی جائے، انہیں وقت کا فائدہ اٹھانے کی تلقین کی جائے، نیکیاں کرنے پر ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
چھٹا اصول یہ ہے کہ: اللہ سے دین پر ثابت قدمی کا سوال کیا جائے۔ اس سے دعا کیجیے کہ وہ ہمیں فرمان بردار اور ‎پرہیز گار بنا دے۔ الٹے منہ مڑ جانے، خیر کے کاموں کو چھوڑ دینے اور اس سے دور ہ جانے سے اللہ کی پناہ مانکیے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ برائی کی طرف لوٹ آئیں اور اپنے نفس کی طرف مائل ہو جائیں۔ سیدنا ابو ذر سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ’’نیکی کرنے والے کے حوالے سے بے فکر نہ ہونا، ممکن ہے کہ وہ برائی کی طرف لوٹ آئے، اور پھر برائی کرتے ہوئے مر جائے۔ برائی کرنے والے سے بھی کبھی مایوس نہ ہونا۔ ممکن ہے کہ وہ خیر کی طرف لوٹ آئے، اور نیکی کرتے ہوئے اسے موت آ جائے‘‘، چنانچہ ہمیں چاہیے کہ اللہ کے احکام میں کواہی پر اپنا محاسبہ کریں۔ اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں موت تک نیکی پر ثابت قدم رکھے۔
ساتواں اصول یہ ہے کہ: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر غور کیجیے: (جو نیک کام تم کرو گے، وہ اللہ کے علم میں ہوگا ) [البقرۃ: 197]، اس آیت سے بندے کے نفس میں سکون آ جاتا ہے، دل میں اطمینان آ جاتا ہے۔ وہ یوں کہ جو شخص لوگوں پر احسان کرتا ہے، اور اپنے ہر کام میں اخلاص اپناتا ہے، وہ کسی مخلوق کی تعریف کا منتظر نہیں ہوتا۔ کیونکہ نیکی کرتے وقت اسے یقین ہوتا ہے کہ اس کا پروردگار اسے دیکھ رہا ہے اور وہی اسے جزا دے گا، اس طرح وہ اپنی نیکیوں کے مقابلے میں لوگوں کی ناشکری اور احسان فراموشی سے پریشان نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو خوب سمجھتا ہے: (ہم تمہیں صرف اللہ کی خاطر کھلا رہے ہیں، ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ) [الانسان: 9]۔
میں اپر اکتفا کرتا ہوں۔ اپنے لیے اور آپ کے لیے اللہ سے معافی مانگتا ہوں۔ آپ بھی اسی سے معافی مانگو۔ وہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔
دوسرا خطبہ
ہر طرح کی تعریف اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہی ہے۔ اسی کے ہاتھ میں ساری خیر ہے۔ وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ اس کی خیر کے سوا اور کوئی خیر نہیں۔ اس کے چہرۂ اقدس کے سوا اور کوئی چیز قائم رہنے والی نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ آپ نے ہر خیر کی نشان دہی فرمائی، ہر برائی سے خبردار فرمایا۔ اللہ کی رحمتیں ہوں آپ ﷺ پر، اہل بیت پر اور تمام صحابہ کرام پر۔
بعدازاں! اے نیکی کا ارادہ رکھنے والے! یاد رکھ کہ نیکی کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ اسی کی حدیں معلوم نہیں کی جا سکتیں، یہ ایک جامع نام ہے جس میں ہر وہ چیز شامل ہے جس سے انسان کو دنیا یا آخرت میں فائدہ پہنچتا ہے۔ یہ دن اور یہ راتیں، جہنم سے بچنے کی اور توبہ قبول کرانے کی راتیں ہیں۔ ان میں نیکی کےاجر کئی گنا ہو جاتے ہیں۔ درجات بلند ہو جاتے ہیں۔ تو اللہ کے بندو! اٹھو اور نیکی کی اس بہار میں اللہ تعالیٰ کو بھلے بن کر دکھاؤ۔ اس کی گھڑیوں کو ضائع نہ کرو، عقل مند انسان نیکی کمانے میں پیچھے نہیں رہتا۔ نیک کام کل پر نہیں چھوڑتا۔ قربت الٰہی کے مواقع سے فائدہ اٹھانے میں تاخیر نہیں کرتا۔ بلکہ وہ بیدار رہتا ہے اور گزشتہ کوتاہیوں کا تدارک کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
کبھی نیکی کے کام کو کل کےلیے مؤخر نہ کرنا۔ *** ہو سکتا ہے کہ جب کل آئے تو تم دنیا سے گزر چکے ہو۔
ہر مسلمان کو چاہیے کہ بھلائی کے کام کرنے کی کوشش میں رہے، کثرت سے نیکیاں کرے، تاکہ نیکی کا عادی بن جائے اور نیکی اس کی طبیعت کا خاصا اور اس کی مزاج کا حصہ بن جائے۔ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان فرماتے ہیں: ’’اپنے آپ کو نیکی کی عادت ڈالو، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: نیکی تو مؤمن کی عادت بن جاتی ہے، اور مگر برائی میں اسے تردد رہتا ہے، اور جس کے بارے میں اللہ بھلائی کا اردہ کرے، اسے دین کی سمجھ دے دیتا ہے‘‘۔
مسلمان کو چاہیے کہ اپنی ساری زندگی میں خیر کا طالب رہے۔ اسی طرح اسے چاہیے کہ فضیلت والے ایام سے فائدہ اٹھانے میں سنجیدگی اور پختہ عزم دکھائے۔ یہ مہینہ بھی انتہائی فضیلت والا مہینہ ہے۔ اس میں جنت کا دروازے کھل جاتے ہیں، جن لوگوں نے اس ماہ کی تیاری کی ہے، انہیں چاہیے کہ اب وہ آگے بڑھیں، جن لوگوں نے مقابلہ کرنے کا ارادہ کیا ہے، انہیں چاہیے کہ اب وہ پیش قدمی کریں، کامیاب ہونے والوں کو یقین ہے کہ اس ماہِ مبارک کی خیر سے محروم ہونا ہی حقیقی گھاٹا اور یقینی رسوائی ہے۔ صحیح روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’وہ شخص ذلیل ورسوا ہو، جو رمضان کو پا لے اور اپنے گناہ معاف کرائے بغیر اسے گزار دے‘‘۔ یہ ایام دوسرے دنوں جیسے نہیں ہیں۔ جیسا کہ ابن الجوزی ﷫ فرماتے ہیں: ’’رمضان المبارک کے دوسرے مہینوں پر فضیلت کی مثال حضرت یوسف کی اپنے بھائیوں پر فضیلت کی ہے۔ جس طرح یقوب کو اپنی اولاد میں یوسف سب سے زیادہ محبوب تھے، اسی طرح رمضان المبارک، اللہ تعالیٰ کو سب سے محبوب ہے۔ یعقوب کو 11 بیٹے تھے، ان میں سے کسی کی چادر سے ان کی بینائی نہیں لوٹی، مگر یوسف کی چادر سے لوٹ آئی۔ اسی طرح جو گناہ گار رمضان کی پاکیزہ خوشبو سونگتا ہے، اس کے گناہ بھی معاف ہو جاتے ہیں‘‘
ماہِ رمضان میں نرمی اور برکت ہوتی ہے۔ اس میں نعمت اور بھلائیاں ہوتی ہیں۔ اس میں آگ سے حفاظت ملتی ہے۔ اس میں ہمارا غالب بادشاہ اپنے بندوں کی مغفرت فرماتا ہے، یوں یہ مہینے دوسرے سارے مہینوں سے افضل بن جاتا ہے۔ دوسرے مہینوں کے سارے گناہ اور کوتاہیاں مٹا دیتا ہے۔ چنانچہ ہمیں چاہیے کہ دوسرے مہینوں میں ہونے والی کوتاہیوں کا تدارک اس مہینے میں کر لیں۔ بگڑے معاملات سدھار لیں۔ فضیلت والی گھڑیوں سے فائدہ اٹھانے میں پیچھے نہ رہو۔ ان تھوڑے سے ایام میں بہت زیادہ نعمتیں ہیں۔ جن کے نتیجے میں بلند درجے اور طویل راحت حصے آ سکتی ہے۔ان شاء اللہ
اللہ کے بندو! اس مہینے میں کامیاب ہونے کے لیے ہمیں اپنے وقت کو محفوظ کرنا ہو گا۔ انس کے شیطانوں سے بچنا ہو گا، جو مسلمانوں کو بھلائی، فائدے اور نیکی سے دور کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ اسی طرح ہمیں اس بات کا بھی خیال رکھنا ہو گا کہ سوشل میڈیا یا کوئی اور چیز ہمیں اس مہینے کی فضیلت سے غافل نہ کر دیں۔ کیونکہ کچھ لوگوں کو سوشل میڈیا پر دل لگی کی چیزیں ملتی ہیں تو وہ نیکی کے اوقات میں اسی میں مصرف رہ جاتے ہیں۔
سنو! اللہ کے بندو! جن پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو درود وسلام بھیجنے کا حکم دیا ہے، ان پر درود وسلام بھیجو ۔ فرمانِ الٰہی ہے: ﴿اللہ اور اس کے ملائکہ نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو﴾ [الاحزاب: 56]، اے اللہ! رحمتیں نازل فرما اپنے بندے اور رسول، محمد ﷺ پر، اسی طرح برکتیں نازل فرما محمد ﷺ پر اور محمد ﷺ کی آل پر، جس طرح تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر برکتیں نازل فرمائی تھیں۔ یقینًا! تو بڑا قابل تعریف اور پاکیزگی والا ہے۔
اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! کفر اور کافروں کو رسوا فرما! اپنے موحد بندوں کی نصرت فرما! اپنے اور دین کے دشمنوں کو تباہ وبرباد فرما! اے اللہ! اس ملک کو اور تمام مسلمان ممالک کو امن وسلامتی نصیب فرما! اے اللہ! ہمیں ہمارے ملکوں میں اور ہمارے گھروں میں امن نصیب فرما! ہمارے حکمرانوں اور اماموں کی اصلاح فرما! اے پروردگار عالم! ہماری حکمرانی ان لوگوں کے ہاتھوں میں دے جو تجھ سے ڈرنے والے، پرہیزگاری اپنانے والے اور تیری خوشنودی کے طالب ہوں۔
اے اللہ! اے زندہ وجاوید! ہمارے حکمران کو ان باتوں اور کاموں کی توفیق عطا فرما جن سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے۔ اسے نیکی اور پرہیزگاری کی طرف لا۔
اے اللہ! ہمارے ان کمزور بھائیوں کی مدد فرما اور ان بھائیوں کی مدد فرما جو تیری راہ میں جہاد کر رہے ہیں اور سرحدوں کی پہرہ داری کرتے ہیں۔ جو سرحدوں کی حفاظت کر رہے ہیں: اے اللہ!تو ان کا معین اور مددگار بن جا۔ ان کی تائید کرنے والا اور نگہبان بن جا۔ اے اللہ! ہم تجھ سے نیکی کرنے کا اور برائیاں چھوڑنے کا سوال کرتے ہیں اور مسکینوں سے محبت کرنے کا سوال کرتے ہیں۔ تیری مغفرت اور رحمت کے خواہشمند ہیں۔ جب تو کسی قوم کو فتنے میں مبتلا کرنے کا فیصلہ فرما لے، تو فتنے سے محفوظ فرما کر ہمیں اپنے پاس بلا لینا۔ ہم تجھ سے تیری محبت کا سوال کرتے ہیں۔ ان لوگوں کی محبت کا سوال کرتے ہیں جو تجھ سے محبت کرنے والے ہیں۔ ان اعمال سے محبت کا سوال کرتے ہیں جو ہمیں تیرے قریب کرنے والے ہیں۔
اے اللہ! ہمیں رمضان کے باقی حصے سے فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرما! اس ماہِ مبارک میں ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں تو نے آگ سے بچا لیا ہے۔ جن کے لیے تو نے مغفرت اور اپنے خوشنودی لکھ دی ہے۔ اور ہماری ہر بات کا خاتمہ اسی پر ہے کہ ساری تعریف اللہ ربّ العالمین ہی کے لیے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں