17

رمضان کی جدائی قریب ہے۔ خطبہ جمعہ مسجد نبوی

رمضان کی جدائی قریب ہے۔ خطبہ جمعہ مسجد نبوی
15 رمضان المبارک 1433ھ بمطابق 3 اگست 2012ء
پہلا خطبہ
تمام تعریف اللہ کی ذات کے لیے کہ ہر بھلائی اور فیضانِ رحمت اسی کی طرف سے ہے۔ میں اس کی مسلسل تعریف کرتاہوں کہ اس کی عطا کے تسلسل میں کبھی انقطاع نہیں آتا اور نہ ہی اس کی رحمت کے بادلوں کے برسنے میں کوئی رکاوٹ آتی ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، وہ عطیات اور تحائف عطا کرنے والاگناہوں اور خطاؤں کو معاف کرنے والااور نیتوں اور دل کے ارادوں کو جاننے والا ہے۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سردار محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپﷺ پر، آپﷺ کی آل پر، آپﷺ کے صحابہ کرام پر اور اس راستے پر چلنے والے تمام راہیوں پر رحمت و برکات نازل فرمائے۔
حمد و ثناء کے بعد!
مسلمانو! اللہ سے ڈرو، بلاشبہ اس کا تقویٰ بہترین زادِ راہ ہے اور اس کی اطاعت بلند نسبت ہے۔ ’’مومنو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور مرنا تو مسلمان ہی مرنا۔‘‘ (آلِ عمران: 102)
مسلمانو! رمضان کا ابتدائی حصہ گزر چکا، نصف بھی ختم ہو گیا اور اس ماہ مقدس کا چاند مکمل ہو کر بدر بن چکا اور اب یہ مہمان کوچ کر جانے کو ہے اور اب جبکہ روزوں کا مہینہ یہاں سے منتقل ہو رہا ہے تو اپنے پختہ ارادوں کو مہمیز دو اور اپنے عزم کی رسی کو مضبوط کرو اور اللہ کو اپنے آپ میں بھلائی دکھاؤ کہ جدوجہد سے کامیابی حاصل کرنے والے ہی کامیاب ہوتے ہیں اور پختہ ارادے ہی سے مشکلات کا دریا عبور ہوتا ہے اور صبر کے ذریعے بہت کچھ اکٹھا کیا جاسکتا ہے اور جو شخص سست رہے اس کی امیدیں پوری نہیں ہوتیں اور اس کی ناکامی نوشتہ دیوار ہو جاتی ہے۔ صحیح مسلم میں ہے، رسول ہدیٰﷺ رمضان کی عبادات میں اتنی جدوجہد کرتے جو رمضان کے علاوہ کسی اور مہینے میں نہیں کرتے تھے۔
مسلمانو! یہ مہینہ قبولیت اور سعادت کا مہینہ ہے۔ یہ جہنم سے آزادی اور سخاوت کا مہینہ ہے۔ یہ آگے بڑھنے اور بلند مراتب پانے کا مہینہ ہے۔ یہ دیکھو قبولیت کی ٹھنڈی ہوائیں چل رہی ہیں۔ بھلائی کا چشمہ پوری قوت سے بہہ رہا ہے اور شیطان چاروں شانے چت پڑا ہے اور جنت کے دروازے چوپٹ کھلے ہیں۔ ہاں مگر صرف اس کے لیے جو کچھ پانا چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر رات بے شمار لوگوں کو آگ سے آزادی دے رہا ہے۔ تو اس مختصر مہینے میں انگڑائی لو اور اپنی کوتاہیاں جھاڑ پھینکو۔
اے وہ لوگو! جو گناہوں کی عارضی لذت سے مسحور ہو کر جرم کرتے جا رہے ہو اور کھلم کھلا اپنی کوتاہیاں ساتھ لیے پھر رہے ہو توبہ کر لو پلٹنے کا راستہ تمہارے سامنے اور غنیمت کا وقت تمھارے ہاتھ میں ہے اور اللہ تعالیٰ جود و سخا، رحم و انعام کرنا چاہتا ہےا ور توبہ کرنے والوں کو اپنے فضل و احسان سے نوازنا چاہتا ہے۔ خوشخبری ہے اس آدمی کے لیے کہ جس نے اس مہینے میں اپنے گناہوں کا میل توبہ کے صابن سے دھو لیا اور توبہ کا سنہری موقع نکل جانے سے پہلے پہلے خطاؤں سے رجوع کر لیا۔
اے نافرمانیوں کے اسیر! اے رسوائیوں کے قیدی! کیا تو نہیں جانتا کہ اس ماہِ مقدس میں قیدی آزاد کیے جاتے ہیں اور مجرم اس میں رہائی پاتے ہیں اور نافرمانوں کو جہنم سے نجات مل جاتی ہے تو اس فرصت کے ختم ہونے سے پہلے واپس آنے میں جلدی کرو اور اس کو ضائع نہ ہونے دو اور ان لوگوں میں سے نہ ہو جاؤ جنھوں نے اس سے انکار کیا اور رمضان گزر گیا اور وہ اللہ کی رضا اور بخشش حاصل نہ کر سکے۔
مسلمانو! یہ توبہ اور استغفار، عاجزی اور انکساری، رجوع اور تضرع کا وقت ہے۔ یہ خطاؤں سے نجات پانے، گناہوں کو مٹانے، معصیتوں کو بخشوانے اور آگ سے آزادی حاصل کرنے کا وقت ہے۔ رمضان کا مہینہ ختم ہونے اور وقت ضائع کرنے سے پہلے جلدی کر لو۔ اے اللہ! ہمارے دلوں کو غفلت سے بیدار کر دےا ور مرنے سے پہلے توبہ کی توفیق عطا کر دے۔ ان ایمان افروز لمحات میں نجات اور کامیابی کی توفیق دے دے۔
میں نے وہی کہا، جو تم نے سنا، میں اپنے لیے تمھارے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے ہر گناہ اور غلطی کی اللہ سے معافی مانگتا ہوں۔ تم بھی اسی سے معافی مانگو کیونکہ وہ آہ و زاری کرنے والوں کو معاف کرنے والا ہے۔
دوسرا خطبہ
تمام تعریف اور شکر اللہ تعالیٰ کے لیے اس کے احسان پر اور اس کی توفیق و امتنان پر۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس کی شان بلند ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سردار محمدﷺ اس کے بندےا ور رسول ہیں جو اللہ کی رضا کی طرف بلانے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپﷺ پر، آپ کی آل پر اور آپ کے صحابہ کرام پر بہت زیادہ درود بھیجے۔
حمد و ثناء کے بعد!
مسلمانو! اللہ سے ڈرو! کیونکہ متقی کامیاب ہے اور بدبخت سنگدل گناہ گار ناکام ہے۔ ’’ اے اہل ایمان ! اللہ سے ڈرتے رہو اور راستبازوں کے ساتھ رہو۔‘‘ (التوبہ:119)
مسلمانو! بھوکے جگر والوں، بے یارو مددگار نادار فقیر خاندانوں کو یاد کرو جو فقروفاقہ سے دوچار ہیں اور بیماریوں کا علاج چاہتے ہیں۔ ان کے ساتھ تعاون کرو اور ان کو غنی کر دو۔ تنگ دست اور لاچاروں کو کھانا کھلاؤ اور بھوکوں اور مجبوروں کی مدد کرو۔ ایمان افروز گھڑیوں سے فائدہ اٹھاؤ۔ یاد رکھو! رمضان میں صدقہ کرنا افضل صدقہ ہے۔ ایک دوسرے پر رحم کرو اور رشتہ داری کو ملاؤ اور اللہ تعالیٰ کی امن و آسائش جیسی نعمت پر شکریہ ادا کرو۔ اپنی زمین سے نکالے مصیبت زدہ زخمی و مجبور بھائیوں کو یاد رکھو اور اللہ کی طر ف آہ وزاری کرو کہ اللہ ان کے غموں کو دور کر دے اور ان سے مصائب ٹال دےا ور ان پر ظلم کرنے والوں کے خلاف ان کی نصرت فرمائے۔
خیرالوریٰﷺ پر درود و سلام بھیجو کیونکہ جو ایک مرتبہ درود پڑھتا ہے اللہ اس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے۔ اے اللہ! درودوسلام بھیج اپنے بندے اور رسول محمدﷺ پر اور آپ کی نیک آل اور سنت کے پیرو خلفاء راشدین ابوبکر وعمر، عثمان و علی اور تمام صحابہ کرام اور تابعین﷭ پر اور قیامت تک جو بھی بطریق احسن ان کی پیروی کرے۔ اے ارحم الراحمین! اپنے جودوکرم، فضل و احسان سے ہم سے بھی راضی ہو جا۔
اللہ کے بندو! ’’اللہ تم کو انصاف اور احسان کرنے اور رشتہ داروں کو (خرچ سے مدد) دینے کا حکم دیتا ہے اور بےحیائی اور نامعقول کاموں اور سرکشی سے منع کرتا ہے (اور) تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاد رکھو۔‘‘ (النحل:90)
مترجم: حافظ نصیر نظر ثانی: حافظ عبد الحمید ازہر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں