33

ماهِ مبارک كی آمد۔ خطبہ جمعہ مسجد نبوی

ماهِ مبارک كی آمد۔ خطبہ جمعہ مسجد نبوی
22 شعبان 143ھ بمطابق 20 جون 2014
پہلا خطبہ
ساری تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو جلال کی خوبیوں اور کمال کی صفات سے موصوف ہے۔ میں اس کے انعام و فیضان اور بخشش و عطاء پر اس کا شکر گزار ہوں۔میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، یہ گواہی اس دن کے لیے بہترین ذخیرہ ہے جس میں نہ سودے بازی ہو گی اور نہ دوستداری۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سردار محمد ﷺاللہ کے بندے اور پیغمبر ہیں جواعلیٰ ترین اقوال و افعال کی جانب بلانےو الے ہیں۔ اللہ تعالیٰ رحمتیں اور سلامتی نازل کرے آپ ﷺپر، آپﷺکی آل پر، اور آپ ﷺکے تمام صحابہ کرام پر جو بہترین ساتھی تھے۔
حمد و ثناء کے بعد:
اے اہل اسلام! اللہ سے ڈرتے رہو، اس کا ڈر بہترین کامیابی اور اس کی فرمانبرداری بڑی بلند نسبت ہے۔
اے پیروانِ اسلام! ہلالِ رمضان طلوع ہونے والا ہے اور اس کے لبِ بام آنے کا وقت آ پہنچا ہے، چہرے اس کی جانب اٹھے ہوئے ہیں اور ہر گزرتا دن اسے قریب سے قریب تر لا رہا ہے۔ کتنے ہی دل ہیں جو بے تاب ہیں اور کتنی ہی وارفتگی ہے جو اس کے شب و روز کی رنگینی دیکھنے کے لیے ہر جانب چھا چکی ہے۔
نفس قول اور عمل کی تربیت حاصل کریں گے، دن کے وقت روزہ رکھا جائے گا اور رات کو تراویح پڑھی جائیں گی۔
اس لیے توبہ اور رجوع کے ساتھ اس کا استقبال کرنے کے لیے کمر بستہ ہو جاؤ، اللہ کی جانب لپکو، اس کی رحمت ، نوازش اور فضل و احسان کی امید رکھو، اس کے سامنے اپنی لغزشوں کی معافی کی درخواست پیش کرو، اس کے حضور گر جاؤ تاکہ وہ تمہاری خطائیں مٹا دے کیوں کہ کتنی ہی برائیاں اور خطائیں ہیں جو تم پر چھا چکی ہیں؟!
اگر تمہیں رمضان نصیب ہو جائے تو خواہش پرستی کا لبادہ اتار پھینکنا اور پاؤں جما کر ہر تباہ کن برائی سے دستبردار ہو جانا اور اپنے نفس کو اس طرح واپس پلٹانا جیسے لگام گھوڑے کو روک دیتی ہے۔
بری باتوں سے خاموش رہ کر اپنے روزے کو محفوظ رکھنا اور اپنی آنکھوں کو اشکوں سے لبریز کر دینا۔ لوگوں کو اپنا بہروپ نہ دکھانا، کیونکہ بہروپیا آدمی بدترین مخلوق ہوتی ہے۔
اے رمضان میں کھانے پینے کا روزہ رکھنے والے! ایک اور روزہ بھی رکھنا کہ اپنے بھائی پر ظلم سے باز رہنا، اس کا مال کھانے، اس کی آبرو پامال کرنے اور اس کی حق تلفی سے بھی کنارا کش ہو جانا۔
اے پیٹ کا روزہ رکھنے والے! کاش تو ظلم کا بھی روزہ رکھ لیتا۔ کیا ایسے ظالم آدمی کو بھی روزہ کچھ فائدہ دے سکتا ہے جس کی آنتیں گناہ سے بھری ہوئی ہوں۔
اے فرزندانِ اسلام!
اگر کسی کے ذمے گزشتہ رمضان کے کچھ روزے باقی ہوں اورقضاء سے روکنے والا کوئی عذر بھی نہ ہو تو اسے چاہیے کہ رمضان کا مہینہ شروع ہونےسے پہلے پہلے جلد ان روزوں کی قضاء سے فارغ ہو جائے۔
یہ بھی یاد رہے کہ شک والے دن روزہ رکھنا حرام ہے سوائے اس آدمی کے جو قضا دینا چاہتا ہو یا یہ دن کوئی ایسا دن ہو جس کا وہ پہلے بھی روزہ رکھا کرتا تھا۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا:
’’رمضان سے ایک یا دو دن قبل کوئی آدمی ہر گز روزہ نہ رکھے سوائے اس آدمی کے جو پہلے معمول سے کوئی روزہ رکھا کرتا تھا تو اسے چاہیے کہ اس دن کا روزہ رکھ لے۔‘‘ (اسے امام بخاری﷫ اور امام مسلم ﷫نے روایت کیا ہے۔)
اسی طرح حضرت عمار بن یاسر سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنےا رشاد فرمایا: ‘
’’جس نے شک والے دن روزہ رکھا، اس نے ابو القاسم ﷺکی نافرمانی کی۔‘‘ (اسے امام بخاری﷫ نے تعلیقاًجبکہ دوسرے اصحاب سنن نے متصل سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔)
اے اہل اسلام! رمضان میں اپنے ضرورت مند بھائیوں کو یاد رکھنا اور ناداروں، ناتوانوں اور مصیبت زدوں کا خیال کرنا۔
ان پر مہربانی کرو، ان پر ترس کھاؤ، انہیں عطا کرو، انہیں غنی کر دو، انہیں قریب کرو اور ان کے قریب جاؤ، مسکین کو کھلاؤ، یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرو اور نیکی کرو، اللہ نیکی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
اے اہل اسلام!رمضان میں فضول خرچی اور اسراف سے پرہیز کرو، اسراف سے نعمتیں زائل ہوتی اور مصیبتیں اترتی ہیں، اللہ نے تمہیں رزق کی فراوانی اور خوشحال زندگی کی جو نعمتیں عطا کی ہیں، ان کا شکر ادا کرتے ہوئے ان نعمتوں کی حفاظت کرو اور فضول خرچوں کی سی کم فہمی میں نہ پڑو۔
ارشادِ ربانی ہے:
’’رشتہ دار کو اس کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو اس کا حق، فضول خرچی نہ کرو ۔ فضول خرچ لوگ شیطان کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔‘‘ (الاسراء: 26۔27)
اے دکاندارو! اے تاجرو اور اے سامان بیچنےو الو! حرص اور لالچ سے دور رہو، رمضان میں من مانی قیمتیں طے کرنے اور نرخ بڑھانےسے بچو، دھوکے سے سامان بیچنے اور غیر معیاری غذا فروخت کرنے سے دور ہو، مسلمانوں کو دھوکا نہ دو، ایسا نہ ہو کہ تمہیں بد دعا آ لے اور تم ان کے شکوہ و شکایت کا شکار ہو جاؤ۔ حرام مال آدمی کے لیے نحوست، آزمائش اور آگ ہوتا ہے۔
اے اللہ! ہمیں رمضان نصیب فرما، اے اللہ! ہمیں رمضان نصیب فرما، اے اللہ! ہمیں صحت و عافیت اور امن و امان کے ساتھ رمضان کے دن دیکھنا نصیب کر، اے کریم اے رحیم اور اے مَنَّان!
دوسرا خطبہ
بے انتہا اور بے پایاں تعریف اس اللہ کے لیے ہے جو ہدایت کی تمنا کرنے والے کو ہدایت دیتا ہے، تقویٰ اختیار کرنے والے کو عذاب سے بچاتا ہے اور اپنی رضا کے متمنی کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور نہ ہی اس کے سوا کوئی سچا معبود ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سردار محمد ﷺاللہ کے بندے اور اس کے پیغمبر ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ ﷺپر، آپ ﷺکی آل پر، آپ ﷺکے صحابہ پر اور آپ ﷺکے نقشِ قدم پر چلنے والے ہر آدمی پر رحمتیں، برکتیں اور سلامتی نازل کرے۔
اے اہل اسلام! اللہ سے ڈرو، اس کے ڈر کو اپنے دل پر حاوی رکھو، اس کی فرمانبرداری کرو اور اس کی نافرمانی سے بچو۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کا ساتھ دو۔‘‘(التوبہ:119)
حرمین شریفین کی انجمن رویتِ ہلال کو ایک اعلیٰ اور شرعی کام کے لیے تیار کر دیا گیا ہے، ایک ایسا کام جس سے دل اطمینان پاتے ہیں، اتحاد کی فضا پیدا ہوتی ہے اورقرآن و سنت کی رہنمائی میں چلنے کا موقع ملتا ہے۔
دین اور فلکیات کے علم سے وابستہ کچھ لوگ رمضان کے آغاز یا عدمِ آغاز کے حوالے سے شک اور انتشار پھیلاتے ہیں۔ مختلف ذرائع ابلاغ اور اجتماعی رابطے کی ویب سائٹوں کے ذریعے ایسا ہر سال ہوتا ہے جس سے انتشار پھیلتا ہے، اختلاف پیدا ہوتا ہے اور لوگوں کے دلوں میں شبہات جنم لیتے ہیں۔
اس لیے اس تباہ کن روش اور مذموم فعل سے بچو جو عقل و حکمت ا ور مصلحت کے منافی ہے اگر کوئی شخص اپنی رائے یا اجتہاد کا اظہار کرنا چاہتا ہو تو اسے چاہیے کہ اس کے لیے شرعی ضوابط کا خیال رکھے اور انتشار، شک اور بے چینی نہ پھیلائے۔
ایسے مسلمان جو غیر مسلم ملکوں میں رہائش پذیر ہیں، اگر ایک ہی بستی یا ایک شہر میں رہتے ہوں، یا ان کے شہر ایک دوسرے کے اس قدر قریب ہوں کہ ان سب کا مطلع ایک ہی ہو تو انہیں چاہیے کہ رمضان کے آغاز اور اختتام کے لیے اور عید کے لیے اتحاد کا راستہ اپنائیں اور اختلاف اور تفرقہ بازی سے بچیں جس سے ان کے روزوں اور عیدوں میں فرق آئے۔ اور یہ کام ان لوگوں کا ہے جو ان میں سے اہل علم و دانش اور معاملہ فہم ہوں۔
رہبر و رہنما اور شفیع الوریٰ پر درود و سلام پڑھو۔ جس نے آپ ﷺپر ایک بار درود پڑھا، اللہ اس پر دس بار رحمت نازل کرے گا۔
اے اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ﷺپر رحمتیں اور سلامتی نازل فرما اور اے اللہ! آپ ﷺکے چاروں خلفاء، آپﷺ کی ساری آل، تمام صحابہ کرام اور تاقیامت ان کے نقش قدم پر چلنے والوں کو اپنی رضا عطا فرما۔ اے ارحم الراحمین! ان کے ساتھ ساتھ اپنے فضل و کرم اور احسان سے ہمیں بھی اپنی رضا سے شاد کام فرما۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں