47

چائلڈ میرج: ایک قابل ِ بحث موضوع یا مغالطہ؟-مفتی سید عدنان کاکاخیل

شادی کے لیے عمر کی حد طے کرنے کا بل پارلیمنٹ میں پیش کرنے کے بعد سے اس مسئلے پر گرما گرم بحث ہورہی ہے ۔ مسٹر اعتزاز احسن نے اپنے کالم میں مذکورہ بل کی حمایت میں دلائل دئیے ہیں۔ تاہم فاضل مضمون نگار نے بل کی خوبیوں اور خامیوں کو زیر ِبحث لانے ،ا ور اس پر شریعت کی پوزیشن واضح کرنے کی بجائے اپنے دلائل کے حق میں صرف یہ کہا کہ مسٹر جناح نے 1929 ء میں پیش کیے گئے ایک بل کی حمایت کی تھی، لیکن مسٹر احسن نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ کیا موجودہ بل اور وہ بل جس کی مسٹر جناح نے اُس وقت حمایت کی تھی، بالکل ایک جیسے ہیں ؟ در حقیقت مسٹر جناح اُس وقت کے بر ِ صغیر میں مختلف مذاہب اور رسوم ورواج کے ماننے والوں کے درمیان کسی قسم کی جبری شادیوں کے خلاف بات کررہے تھے ۔ اُن کا موضوع کم عمری کی شادی نہیں تھا، جس کی اسلام اجازت دیتا ہے ۔ چنانچہ فاضل مضمون نگار نے جان بوجھ کر غلط حوالہ پیش کیا ہے ۔ ہم سب جانتے ہیں کہ بہت سے اہم امور پر مسٹر جناح کی سوچ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تبدیلی آئی تھی۔ چنانچہ یہ سمجھنا حماقت ہوگی کہ وہ اپنی زندگی میں آخر تک اسی سوچ کے ساتھ جڑے رہے تھے ۔ کیا وہ کبھی ہندومسلم اتحاد کے بہت پرعزم داعی نہیں تھے ؟ اور کیا اُنھوں نے بعد میںاس تصور کی بھرپور مخالفت نہیں کی تھی؟ مزید یہ کہ اعتزاز احسن نے مسٹر
جناح کو دیدہ یا دانستہ ایسے شخص کے طور پر پیش کیا ہے جن کے افعال اُن کے عقائد سے لگّا نہیں کھاتے تھے ۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ مسٹر جناح نے ایک سولہ سالہ(کچھ روایتوں کے مطابق اٹھارہ سالہ۔ادارہ) لڑکی سے شادی کی، اور پھر دوبارہ جبکہ وہ زندگی کی چالیس سے زائد بہاریں دیکھ چکے تھے، ایک ایسی عورت سے شادی کی جو اُن سے عمر میں نصف تھی ؟ تو وہ کس طرح ایسے عمل کو ظالمانہ، توہین آمیز، غیر انسانی اور شیطانی قرار دے سکتے ہیں جب کہ وہ خود اس کا ارتکاب کرچکے تھے ؟ مسٹر جنا ح کے بدترین دشمن بھی اُن کے قول وفعل میں تضاد نہیں تلاش کرسکے ، جس کی مسٹر احسن نے کوشش کی ہے ۔ گمان یہی ہے کہ مسٹر جناح کاسیاق و سباق سے ہٹ کر حوالہ دیا گیا ہے، جیسا کہ سیکولر لبرلز اکثر کرتے ہیں۔ وہ جان بوجھ کر اس حقیقت کو نظر انداز کرنا پسند کرتے ہیں کہ مسٹر جناح نے زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنے کے لیے ہی حاصل کیا گیا ہے ۔ جہاں تک یہ بات کہ ان معاملات پر اسلام کیا کہتا ہے، تو ہم اسلامی احکامات کے لیے اسلامی اسکالرز اور اسلامی مکتب ہائے فکر کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اس مسئلے پر شریعت کیا کہتی ہے، یہ مختصراً درج ذیل ہے۔بچوں کی شادی کی اجازت کا معاملے پر مختلف مکاتب ہائے فکر میں کوئی اختلاف نہیں۔ اس کی وجہ قرآنی آیات کی مختلف ا سکالرز کی تشریح ہے ۔ ان اسکالرز نے قرآن ِپاک کی شرح لکھی ہے ۔ مزید یہ کہ غیر متنازع اور متواتر احکامات سے پتہ چلتا ہے کہ حضور ِ پاکﷺ اور اُن کے بہت سے اصحاب ؓ نے چھوٹی عمر کی بچیوں سے نکاح کیا، حالانکہ ابھی وہ بلوغت کی عمر تک بھی نہیں پہنچی تھیں، لیکن ازدواجی تعلقات اُس وقت قائم کیے گئے جب وہ بلوغت کی عمر کو پہنچ گئیں۔ چنانچہ ان لبرلز کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ کم عمر ی کی شادی کو ظالمانہ اور گھنائونا فعل قرار دے کر وہ کسی شرعی عالم کے عام سے مسئلے کی نہیں، قرآن اور سنت کی تعلیمات پر اعتراض کررہے ہیں۔ اس نکتے کی اسلامی دنیا کے مشہور اسکالر، مفتی محمد تقی عثمانی نے اپنی کتاب ، ’’ہمارے عائلی مسائل ‘‘ میں وضاحت کی ہے ۔ مفتی صاحب قرآن مجید کا حوالہ دیتے ہیں، 65:4 ’’ اور تمہاری عورتوں میں، جنہیں حیض کی امید نہ رہی، اگرتمہیں کچھ شک ہو تو اُن کی عدت تین ماہ ہے ، اور اُن کی جنہیں ابھی حیض نہ آیا ہو۔۔۔‘‘ گو یا یہ بات واضح ہوگئی کہ قرآن بلوغت سے پہلے لڑکی کی طلاق کا ذکر کررہا ہے۔ طلاق کے لیے شادی ضروری ہے ۔ا س کا مطلب ہے کہ قرآن بلوغت سے پہلے شادی کی بھی حمایت کرتا ہے ، بشرطیکہ لڑکی کا ولی رضا مند ہو۔ حضور پاکﷺ کے دور میں ایسی شادیوں کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔ خود آپ ﷺ کی حضرت عائشہ ؓ سے، اور حضرت سلمہؓ کی حضرت حمزہ ؓ کی بیٹی سے شادی چند ایک مثالیں ہیں۔ یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اﷲ پاک لڑکی کو بلوغت سے پہلے ولی کی اجازت سے ، اور بلوغت کے بعد اپنی مرضی سے شادی کی اجازت دیتے ہیں۔لیکن شادی کے بعد ازدواجی تعلقات کے لیے بلوغت لازمی ہے ۔ لڑکی کے پاس شادی کے لیے اقرار یا انکار کا حق ہے، اگر ولی اُس کے والد کے علاوہ کوئی اور شخص ہے ۔ والد بھی اس صورت میں جب وہ صاحب ِکردار شخص ہو، اور یقین ہو کہ وہ اپنی بیٹی کے مفادات کا تحفظ کرے گا۔ اگر وہ کوئی مفاد پرست شخص ہے ، اور اُس نے کسی دنیاوی لالچ میں اپنی بیٹی کاہاتھ کسی کے ہاتھ میں دے دیا ہے تو لڑکی کے پاس شادی سے انکار کا حق موجود ہے ۔ اس کے پاس ایک مسلمان جج کے ذریعے رشتے کی منسوخی کا حق بھی موجود ہے ۔ اگر وہ ابتدائی اقرار کے بعد رشتہ ختم کرنا چاہے تو وہ خلع کا حق بھی رکھتی ہے ۔اسلام یہ سیفٹی والو فراہم کرتا ہے ، جو کہ اخلاقی طور پر صحت مند معاشرے کے لیے کافی ہیں۔ جاہلانہ رسم ورواج اور بداعمالیوں کی اسلام میں کوئی جگہ نہیں۔ ان مسائل کا قدرتی حل شریعت کے احکامات کا مکمل اور مخلصانہ نفاذ ہے ۔ بحث کا ماحصل یہ ہے کہ ہماری تمام تر خرابیوں کا حل اﷲ تعالیٰ کی مکمل اطاعت ، اور زندگی کے ہر شعبے میں شریعت کی تعلیمات پر عمل کرنے میں ہے ، نہ کہ شرعی قوانین کو کانٹ چھانٹ کر معاشرے کے لیے قابل ِقبول بنانے میں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں